Monday, 10 September 2018

عمران خان کے نام

" عمران خان کے نام "
اللہ سبحانہ تعالیٰ سے آپکے نیک ارادوں کی تکمیل کی دعا کرتا ہوں ۔
آپ نے جس چیلنج کو قبول کیا ہے وہ آپکی جرات کا ثبوت ہے ۔ مشکل کام کیلئے مشکل اور درست فیصلے نا گزیر ہوتے ہیں ۔ آپ نے جن بنیادی غلطیوں سے آغاز کیا ہے وہ آپکی آنے والی مشکلات میں یقینی اضافہ لگ رہی ہیں ۔ جنگ لڑنے کیلئے کارگر ہتھیار بھی ضروری ہوتے ہیں ، صرف جذبے ، دعائیں اور نعرے کام نہیں کرتے ۔ آپ نے شاید سوچنا شروع کر دیا ہے کہ جو بھانت بھانت کے لوگ اکٹھے کر کے آپ نے انتخاب جیتا ہے ۔ وہ آپ کے ارادوں کی تکمیل میں معاونت کریں گے ۔ یہ وہی پیشہ ور لوگ ہیں یا پیشہ ور سیاستدانوں کی اولاد ہیں جنہوں نے بھٹو کے ارادوں کا پھندہ بنا کر اسکے گلے میں ڈالا ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو بینظیر کے قتل پر روئے بھی اور قاتل کے ساتھ کھڑے بھی ہوئے ۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے نواز شریف کو سمحھایا کہ چندہ اکٹھا کرو اور کشکول بھر کے سنبھال لو ، مشکل میں کام آئے گا ۔ یہ گر بتاتے ہیں اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے ملک لوٹتے ہیں ۔ آپ نے یونیورسٹی بنائی ، کینسر ہسپتال بنایا ، خوب فنڈ جمع کئے اور سمجھ لیا کہ اب ملک کے سارے کام بھی فنڈز سے کر لو گے ۔ یہ سیاسی بچپن ہے ۔ انحراف ہے ان وعدوں کا جو قوم سے کئے ۔ آپ نے کہا تھا ، میں لوٹا ہوا
" دھن " واپس لاوں گا ۔ اگر یہ سچ تھا تو فنڈز کی کیوں ضرورت پڑی ؟ تمہارے ملک میں زمین میں خزانے ہیں ، جو ہمیں دنیا کے کنٹرولر نکالنے نہیں دیتے ، اسطرف توجہ کیوں نہیں دی جا رہی ؟ ملک کی ساری صنعت برباد ہے ۔ کیوں؟ اسے کیوں نہیں سوچ رہے ۔؟ ہم ہر ضرورت کی چیز درآمد کر رہے ہیں ، جو ہم ملک میں بنا سکتے ہیں ، اس پر فیصلے کیوں نہیں کئے جا رہے ؟ ہم ٹیکس کے نظام کیوجہ سے اپنی مصنوعات کو بین الاقوامی منڈی میں نہیں لا سکتے ، ادھر فیصلوں کا اعلان کیوں نہیں؟ ہم زرعی ملک ہو کر ، اشیائے خورد و نوش کیوں درآمد کر رہے ہیں ؟ اسکا کیا سوچا کہ کھاد پر مزید مہنگائی لادی جا رہی ہے ۔ ٹیوب ویل بجلی سے چلتے ہیں ، بجلی مہنگی ہو گی تو کسان کیا کرے گا ؟ بجلی بھی بڑھے گی تو مہنگائی کیسے رکے گی ؟ کیا سب کچھ چندوں سے چلے گا ؟  محترم وزیراعظم صاحب ! یہ قوم دیوانہ ہے ، جب ملک کیلئے مانگو گے ، یہ جان بھی دیں گے ۔ اور دیتے رہتے ہیں ۔ اس دیوانگی کے ساتھ پہلے جیسا کھلواڑ مت کرو ۔ یہ تمہیں مسیحا مان رہے ہیں ، انکا اعتماد مت توڑو ۔ آپ شلوار قمیض پہنو یا تین ، چار ، پانچ سوٹ اوپر نیچے پہن لو ،ملک کو کچھ فرق نہیں پڑے گا ۔ بس فیصلے کرو اور اپنے ارد گرد کا گند صاف کرو ۔ ابھی تک آپ نے اناڑیوں کی ٹیم بنا لی ہے ۔ جو اچھا آغاز نہیں ہے ۔ ملک اور کرکٹ میں فرق برقرار رکھو ۔ کرکٹ ہار جائے ، دوبارہ جیتی جا سکتی ہے ۔ ملک ہار جائے دوبارہ نہیں بنتے ۔ مورال ٹوٹ جائے تو شکست مقدر بن جاتی ہے ۔ قوم پہ رحم کرو ۔
اللہ کرے یہ سمع خراشی آپ کے پلے پڑ جائے یا آپ کے پلے پڑنے دی جائے ۔
آزاد ھاشمی
٨ ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment