" بھارت کا واویلا "
مشاہدات کی نظر سے دیکھا جائے تو جب کبھی کوئی گلی محلے کا "کن ٹٹا " کسی شریف شہری کے ہاتھوں اپنی درگت بنوا بیٹھتا ہے تو اپنے بھرم کو قائم رکھنے کا ہر ممکن جتن کرتا ہے ۔ کچھ ایسی ہی صورت حال بھارتی میڈیا پر نظر آ رہی ہے ۔ بھارت بہتر سال سے مقبوضہ کشمیر میں ہر جتن آزما چکا ہے کہ کشمیریوں کو انکے حق کی آواز بلند کرنے سے روک لے ۔ جبر کا ہر حربہ ناکام ہوا اور اب تیسری نسل ، اس جبر کی عادی ہو چکی ہے ۔ انہیں نہ زندگی سے پیار ہے اور نہ موت سے خوف ۔ ایسی نسل کو کوئی بھی نام دے لو ، دہشت گرد کہہ دو ، باغی بول دو ۔ کچھ فرق نہیں پڑتا ۔ اب بھارت ، اپنے گھر کی آگ سے ہمارے گھر جلانے نکلا تھا ۔ سوئے ہوئے کا گلا کاٹ دینا بہادری نہیں ، بزدلی کی علامت ہوتی ۔ اور اس کوشش میں اپنی ناک کٹوا بیٹھنا ، خفت کی انتہا ہے ۔ یہ وہ خفت ہے جس سے بھارتی میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے ۔ اکہتر کی جنگ نے ، بھارت کو سورما کیسے بنا دیا ۔ اسکے عوامل آج کی صورت حال سے قطعی مختلف تھے ۔ ہماری سیاسی بساط کمزور تھی ، جس بنا پر ہم شکست سے دوچار ہوئے ۔ اتفاق سے اکہتر کی جنگ میں ، مجھے بیدیاں اور پڈھانہ سیکٹر پر ملک کی خدمت کا موقع ملا ۔ میں نے دیکھا کہ بھارت کے سورما پائلٹ ، کس بلندی سے بم گراتے تھے اور کس سرعت سے بھاگ جاتے تھے ۔ جبکہ ہمیں نہ ائیر ڈیفنس کی مدد میسر تھی اور نہ اینٹی ائیر کرافٹ کو فائر کرنے دیا جا رہا تھا ۔ کیوں ؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ مگر اب ایسا نہیں ۔ اب نیچے آئیں گے تو اینٹی ائیر کرافٹ بھون دے گی ، اوپر رہ کر زور آزامائیں گے تو آئیر ڈیفنس ٹکڑے کر دے گا ۔ جیسا کہ ثابت ہو گیا ۔ بھارت اس سے اگاہ ، اسلئے زیادہ زور واویلا کرنے پر لگا دیا ہے ۔
اسوقت بھارت کو دو بڑے امتحان درپیش ہیں ۔ پنجاب میں سکھ ، کیونکہ بھارت میں مرکزی حکومت نے صوبائی حکومت سے بالا بالا ہندو خاندانوں کو پنجاب کے اندر پچیس ایکڑ شاملات کی زمین فی خاندان دینا شروع کر رکھی ہے ۔ بالکل ایسے ہی جیسے کشمیر میں ہندووں کو آباد کیا گیا تھا ۔ سکھوں کی سیاسی طاقت توڑنے کا حربہ آزمایا جا رہا ہے ۔ جسے سکھوں نے محسوس کر لیا ہے اور وہ با خبر ہیں ۔ دوسرا مذہبی جنون نے جو گولڈن ٹیمپل پر کیا ، وہ گہرا زخم سکھ کبھی نہیں بھول پائے ۔ اب یہ سکھ آبادی پاکستان کے بارڈر کے ساتھ ساتھ جاتی ہے ۔ بھارتی فوجی کاروائی کی صورت میں بہت بڑا اپ سیٹ خارج از امکان نہیں ۔ بالکل اسی طرح ، جیسے مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان میں کیا ۔ کشمیر میں پہلے سے آگ بھڑک رہی ہے ۔ یہ دو بڑے محاذ بھارتی فوج کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔ پاکستان ، نہ پینسٹھ کی طرح بے خبر ہے اور نہ اکہتر کیطرح مجبور ۔
بھارتی واویلا ، صرف اعصابی جنگ جیتنے کی کوشش ہے اور کچھ نہیں ۔ اس کوشش میں اپنے اعصاب شل کر رہا ہے ۔ مثل مشہور ہے کہ " جو بھونکتے ہیں کاٹتے نہیں " اور اگر کاٹنے کی حماقت کر بیٹھے تو دانت تڑوا بیٹھیں گے ۔ انشاء اللہ ۔
آزاد ھاشمی
یکم مارچ ٢٠١٩
Saturday, 2 March 2019
بھارت کا واویلا
برآمدات اور قومی رویہ
" برآمدات اور قومی رویہ "
بحیثیت ایک ذمہ دار شہری کے ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں کہ ہمارے ذمہ وہ کونسے فرائض ہیں ، جن سے ہم پہلو تہی کرتے ہیں ۔ حکمرانوں کی فرائض سے غفلت پر تنقید زیادہ آسان اور قطعی بے سود ہے ، بد قسمتی سے ہمارے قائدین ، اہم معاملات سے یا تو بے خبر ہوتے ہیں یا ارادی طور پر غور نہیں کرتے ۔اور ہم نے ان پر تنقیدی مشق آزمائی کو فرض سمجھ رکھا ہے ۔
اس تحریر کے پیچھے ، ایک ایسا شرمناک پہلو ہے ، جو ہماری حب الوطنی ، دیانت ، وطن سے اخلاص پر چبھتا ہوا سوال ہے ۔ اللہ کا خاص کرم ہے کہ بہت ساری فصلیں ، پھل اور سبزیاں ، جس معیار کی پاکستان میں اگتی ہیں اس معیار کی پوری دنیا میں نہیں ہیں ۔ میرا یہ موضوع چاول ہے ۔ ہم دنیا کا بہترین چاول " باسمتی " اگاتے ہیں ۔ مگر ہمارا باسمتی چاول اسوقت " تھائی لینڈ " کے گھٹیا چاول سے کم قیمت پر بھی بیچنا مشکل ہو رہا ہے ۔ کیوں ؟ ہمارا باسمتی چاول " بھارت " کے تاجر بیچتے ہیں اور اپنے برانڈ سے بیچتے ہیں ۔ مگر ہمارے تاجر اسی باسمتی کو اپنے برانڈ سے بیچتے ہیں تو " فارمولا چاول " بنا کر بیچتے ہیں ۔ یہ " فارمولا " کیا تکنیک ہے ؟ شاید بہت کم لوگ اگاہ ہونگے ۔ یہ اندازہ لگانا کہ باسمتی کے اندر کتنی مقدار میں گھٹیا چاول " کھپ " سکتا ہے ۔ فارمولا کہلاتا ہے ۔ یعنی ہمارا تاجر ملاوٹ کو فارمولا کہتے کہتے اس حالت کو پہنچ گیا ہے کہ اب عالمی منڈیاں پاکستانی برانڈ سے اجتناب کرتی ہیں ۔
میں اسوقت " گھانا ۔ مغربی افریقہ " میں ہوں ۔ دو بار یہی مشاہدہ ہوا کہ پاکستانی چاول مارکیٹ میں آیا ، بیگ پر باسمتی لکھا ہوا تھا اور اندر انتہائی ناقص چاول تھا ۔ آج ایک پاکستانی دوست سے ملاقات ہوئی ، موصوف انٹر کانٹیننٹل میں اچھی جاب پر ہیں ۔ وہ بتا رہے تھے کہ انکے ایک جرمن دوست نے انہیں بہت سارے دوستوں میں انتہائی شرمندہ کیا ۔ انکے فون میں پاکستان کے برانڈ کے چاول کی تصویریں تھیں جو وہ یورپ میں استعمال کرتے ہیں ۔ مگر وہی برانڈ گھانا میں خریدا گیا اور ایک پاکستانی تاجر سے خریدا ، تو اسکے اندر مرغیوں کو کھلانے والا چاول پیک تھا ۔
سوال یہ ہے کہ اس تاجر کو محب وطن کہنا چاہئے یا وطن دشمن ؟ اس کا احتساب کس کی ذمہ داری ہے؟ کیا یہ تماشا ہم پاکستانیوں کو دیکھتے رہنا چاہئے ؟ سوال یہ ہے کہ میری اور آپکی کیا ذمہ داری ہے؟
آزاد ھاشمی
٢ مارچ ٢٠١٩
Wednesday, 27 February 2019
جب ماں مر جائے
" جب ماں مر جائے "
مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد محترم اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے ۔ ( اللہ غریق رحمت کرے ) تو میری چھوٹی بہنیں ماں سے لپٹ کر رو رہی تھیں ۔ چھوٹا بھائی بہت کم عمر تھا وہ ایک طرف کھڑا رونے کی وجہ سے بے خبر تھا ۔ میں ماں کے سامنے کھڑا بت تھا ۔ ماں نے مجھے گلے سے لگایا اور بولیں ۔
" تو کیوں خاموش ہے ۔ تو بھی رو لے ۔ اصل میں تیرا باپ مر گیا ہے ۔ ان کا باپ تو ابھی زندہ ہے "
ماں کے یہ الفاظ میری زندگی کا وہ راستہ تھا جو مجھے اختیار کرنا تھا ۔ پھر میں نے اپنے بہنوں اور بھائی کو باپ بن کر پالا ، پڑھایا اور زندگی کی ہر ضرورت پوری کی ۔ خود ایک یتیم کی زندگی جیتا رہا ۔
پھر وہ ماں ، جو میری ڈھارس ، میرا حوصلہ اور میری رہنماء تھی ۔ اس جہان سے کوچ کر گئیں ۔ ( اللہ غریق رحمت کرے ) ۔ میں پردیس میں رو رہا تھا ۔ یقین کرنا چاہتا تھا کہ میرے چھوٹے حوصلہ تو نہیں ہار گئے ۔ مجھے میری بہنیں کہنے لگیں ۔
" بھائی جان ! ماں آپکی مر گئی ہے ۔ ہماری ماں ابھی زندہ ہے "
باپ بن کر پالنا مشکل نہیں لگا تھا ، ماں بن کر سایہ کرنے میں ناکامی کا احساس ہو رہا ہے ۔ یہ وہ کردار ہے جو ماں ہی نبھا سکتی ہے کوئی دوسرا رشتہ نہیں ۔ میری پگلی بہنیں ہمیشہ یہی کہتی ہیں ۔
" اللہ ہماری ماں کو سلامت رکھے ۔ اور آپکی ماں کو جنت نصیب کرے "
ماں کی جگہ پر کرنا شاید میرے حوصلے اور ہمت سے بڑا امتحان ہے ۔ اللہ سے اس ہمت اور حوصلے کی دعا کرتا رہتا ہوں مگر ناکام ہوں ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ فروری ٢٠١٩
کس کی اطاعت نہ کرو
" کس کی اطاعت نہ کرو"
قرآن کریم میں حکم ربی ہے کہ
(وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ۔ہَمَّازٍ مَّشَّائ بِنَمِیْمٍ۔مَنَّاعٍ لِّلْخَیْْرِ مُعْتَدٍ أَثِیْمٍ۔عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ۔ ﴿القلم:۱۰،۱۳﴾
‘‘ہرگز اطاعت نہ کرو کسی ایسے شخص کی جو بہت قسمیں کھانے والا، بے وقعت آدمی ہے، طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے، بھلائی سے روکتا ہے، ظلم وزیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہوتا ہے، سخت بداعمال ہے، جفا کار ہے، اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے۔’‘
اس آیت میں جو عیب ذکر کئے گئے ہیں ۔
١ ۔ بہت قسمیں کھانے والا ۔ عام طور پر یہ جھوٹے شخص کی نشانی بھی ہوتی ہے ، مکاری کا بہترین طریقہ بھی ہے کہ قسم کھا کر یقین دلایا جائے ۔ ایسے شخص کی بات سننے ، اس پر یقین کرنے اور اس پر عمل کرنے سے منع فرمایا گیا ۔
٢- بے وقعت آدمی ۔ بے وقعت آدمی سے مراد مال و زر کی کمی نہیں بلکہ اخلاقی انحطاط ہے ۔ اخلاقیات اور کردار سے عاری شخص کی بات ماننے ، سننے اور اسکی اطاعت سے روکا گیا ہے ۔
٣ ۔ بھلائی سے روکنے والا ۔ بھلائی کا موضوع تفصیل طلب ہے کیونکہ بھلائی کا دائرہ انسان کے بیشمار شعبہ ہائے زندگی پر محیط ہے ، اختصار کے ساتھ ہر وہ فعل جس سے انسان اور معاشرے کو فائدہ پہنچے بھلائی ہے ۔ انسان اور معاشرے کو ہونے والے فوائد کے راستے میں کوئی بھی رکاوٹ بننا ، بھلائی سے روکنے کے ضمن ہی میں ہے ۔ آج معاشرے میں ایسے بیشمار لوگ ہیں اور انکی اطاعت سے روکا گیا ہے ۔
٤ ۔ طعنہ زنی اور چغلخوری کرنے والا ۔ یہ دونوں عیب انسانی کردار کی بد ترین سطح ہے ۔ ہر کم ظرف اور بد طینت شخص میں دونوں عیب موجود ہوتے ہیں ۔ اور ایسا شخص معتبر نہیں ہوتا ۔ یہ المیہ اسوقت ہمارے معاشرے میں عروج پر ہے ۔
٥ ۔ جفا کار اور ظلم و زیادتی میں حد سے گذر جانے والا ۔ کسی کے بنیادی حقوق کو سلب کر لینا ، کسی کی عزت نفس کو پامال کرنا ، اور غیر اخلاقی طور پر کسی پر حاوی ہونے کی کوشش کرنا ، ظلم اور زیادتی کے ذمرے میں آتا ہے ۔ ایسے افراد کی اطاعت نہ کرنے کا حکم ہے ۔
٥ ۔ بداصل ۔ تمام کردار باختگی کے ساتھ اگر کوئی شخص ایسے گروہ ، قبیلے یا مزاج سے تعلق رکھتا ہے ۔ جو انکی روایات رہی ہوں تو اس شخص کی اطاعت سے روکا گیا ہے ۔ اصل سے مراد حسب اور نسب بھی ہے ۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ ، اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے کہ کس وضاحت سے رہنمائی فرمائی کہ ہم کس کس شخص کی اطاعت سے انکار کریں ۔ مگر بد قسمتی کہ ہم نے نہ ان رہنما اصولوں کو اختیار کیا ، نہ سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہمیں سمجھایا گیا ۔ آج ہمارے دنیاوی رہنماوں میں اکثریت ہے ، جو ان تمام مذکورہ برائیوں کا مجموعہ ہیں ۔ جن کی اطاعت سے اللہ نے منع کیا ، ہم نے انکی اطاعت کو ایمان کا درجہ دے رکھا ہے ۔ نتیجہ سامنے ہے ۔
آزاد ھاشمی
جنگ اور محاذ
" جنگ اور محاذ "
پاکستان کا وجود ، بھارت کے لئے ہمیشہ ایک ڈراونا خواب رہا ۔ ہندو نہیں چاہتا کہ مسلمان کبھی اتنا طاقتور ہو جائے کہ وہ پھر سے بھارت پر چڑھائی کے قابل ہو سکے ۔ یہ وہ خوف ہے جو دشمنی کی اصل بنیاد ہے ۔ اور اس خوف کے لئے " ہندو " نے کیا نہیں کیا ؟ اور کون کون سا محاذ کھول رکھا ہے ؟ ہم پہلے بھی بے خبر تھے اور آج بھی بے خبر ہیں ۔ ہمارے نزدیک صرف متصادم ہو کر ایک دوسرے پر آگ برسانا ہی جنگ ہے ۔ معلوم نہیں ہم کبھی سنجیدہ قوم بھی بن سکیں گے یا صرف مفروضوں پر ہی چلتے رہیں گے ۔ پلوامہ کا واقعہ ہندو ذہن کا تراشیدہ کھیل ہے ، جسے وہ پاکستان کو عدم استحکام کیلئے استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ ہمارے نوجوان ، بزرگ اور عام شہری اسے طنز و مزاح سمجھ کر " جگت بازی " میں لگ چکے ہیں ۔ یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ہمارے لئے بھارت اور اسکی عسکری قوت بے معنی سی چیز ہے ۔ ہم نے ایسی ہی حماقتیں کیں اور ہمیشہ اسی زعم میں رہے کہ ہندو بزدل ہے ، جب چاہیں گے مسل دیں گے ۔ اسی زعم میں اپنے نوے ہزار جری فوجی " جنگی قیدی " بنتے دیکھے ۔ ہمارے جنرل جس بے بسی کے عالم میں ہتھیار ڈالتے دکھائے گئے ہیں وہ ہماری جرات اور منصوبہ سازی پر سوال بن چکا ہے ۔ ہمیں یہ حزیمت اسی بھارت کے ہاتھوں اٹھانی پڑی تھی ، جسے ہم پھسپھسی فوج سمجھتے ہیں ۔ ہمیں وہ حقائق جاننے اور یاد رکھنے کی ضرورت ہے ، جو ہماری شکست کا باعث بنے ۔ ہمارے کچھ قائدین اسوقت بھی دشمن کے ایجنٹ تھے ، آج بھی ہیں ۔ ہمارے قائدین اسوقت بھی اپنے اپنے اقتدار کی رسہ کشی میں الجھے ہوئے تھے ، آج بھی الجھے بیٹھے ہیں ۔ قوم اسوقت بھی چھتوں پر چڑھ کر نعرے لگارہی تھی ، آج بھی لگا رہی ہے ۔ سفارتی طور پر ہم اسوقت بھی کمزور تھے ، آج بھی کمزور ہیں ۔ ہمارے جنگی ساز و سامان کی اسوقت بھی کمی نہیں تھی ، ہمارے جوان اور فوجی افسر پیشہ ورانہ لحاظ سے آج کے افسران سے کہیں بہتر تھے ، کیونکہ وہ جنگ کے تجربات سے گذرے تھے ۔ بھارت صرف گولہ بارود کے محاذ پر متحرک نہیں بلکہ اس نے پاکستان کے خلاف بیشمار محاذ کھول رکھے ہیں جیسا کہ بھارت نے سفارتی جنگ چھیڑ رکھی ہے ، اور بہت کامیابی سے جیت رہا ہے ۔ کیا یہ تعجب نہیں کہ ہمارے کئی سیاسی رہنماء انکی زبان بولتے ہیں ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ حسین حقانی نے سفارتکار ہو کر ملکی مفادات کے خلاف کام کیا ۔ کیا ہم دنیا میں دوست بنانے میں کامیاب ہوئے یا دشمن بنانے میں ۔ کیا اس محاذ پر ہم پسپائی کی صورت حال سے دوچار نہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اس محاذ پر ہم پہلے سے کہیں زیادہ شکست خوردہ ہیں ۔ کونسا ملک ہے جہاں ہمارا سفارتکار ، بھارتی سفارتکار سے زیادہ فعال ہے؟
اقتصادیات اور تجارت ایک دوسرا محاذ ہے ۔ جس پر بھارت نے نہایت کامیابی سے ہمیں عالمی تجارتی منڈیوں سے نکال باہر کیا ۔ ہماراچاول اپنی بوریوں میں بھرا اور پوری مارکیٹ پر قبضہ جما لیا ۔ ایسا کیوں ہوا؟ اسکے متحرکات کیا ہیں ؟ کسی نے سوچا؟ میڈیا پہ سارا کلچر ہندو کا ہے ۔ اب پاکستان کے بیشتر اردو بولنے میں ہندی لہجہ اختیار کرتے ہیں ۔ ہم انکے تہوار ، اپنے تہوار سمجھ کر مناتے ہیں ۔ کیا اس سے ہماری شناخت دھندلا نہیں گئی؟ کتنے پاکستانی ہیں جو بھارت کی فلموں سے اعراض کرتے ہیں ؟
جب سے پاکستان وجود میں آیا ، کتنے سیاستدان ایسے گذرے ہیں جو بھارت کے سیاستدانوں کے ہم پلہ تھے؟ قائداعظم کے بعد ، سوائے بھٹو کے کتنے ہیں جو بھارتی وزراء اعظم کے ہم پلہ تھے ۔ یہ بار بار مارشل لاء کیوں لگی ، صرف اسلئے کہ ہمارے سیاسی میدان کے پہلوان کمزور تھے ۔ یہ روایت بھارت میں کیوں نہیں چل سکی ؟ گویا سیاسی عقل و شعور کے محاذ پر بھی ہم ہارتے نظر آتے ہیں ۔ وہاں سینکڑوں خداوں کے پرستار ، قومی نظرئیے پہ ایک رہے اور یہاں ایک اللہ کو ماننے والے سینکڑوں الگ الگ راہوں پر چل نکلے ۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ہمارا سیاستدان ملکی مفاد سے ہٹ کر سوچتا ہے ، اس کی ترجیح اسکی سیاسی پارٹی اور اپنی ذات ہوتی ہے اور یہی وہ المیہ ہے جس کے پاس ہم ڈیم نہیں بنا سکے ۔ ہمارے سیاستدانوں کی اکثریت ایسی ہے جو کسی نہ کسی طور ، کسی نہ کسی بیرونی طاقت کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ ہمارے جرنیل ، ہمارے بیورو کریٹ اور ہمارے اعلیٰ افسران کی اکثریت ریٹائرمنٹ کے بعد ملک سے چلے جاتے ہیں ۔ ہمیں کئی سیاستدان دوسرے ممالک کی شہریت اعزاز سمجھ کر قبول کرتے ہیں ۔ کیا یہ سب بھارت میں ہماری طرح رائج ہے ۔ بھارت کے کتنے وزیر اعظم ہیں جو دوسرے ممالک میں جا کر اعلان کرتے ہیں کہ ہم کرپٹ قوم ہیں ؟
ایسے بیشمار محاذ ہیں جو ہمیں تنزلی کیطرف دھکیل رہے ہیں ۔ اس پر توجہ کی بجائے " لطیفہ گوئی " کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ، حماقت نہیں تو کیا ہے ؟ حماقت کے نصیب میں شکست ہوتی ہے ۔ دانائی فتح کیطرف لے جاتی ہے ۔ ہمیں جنگ جیتنا ہے تو سارے محاذوں پر لڑنا ہو گا ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ فروری ٢٠١٩
سیاست اور ہم
" سیاست اور ہم "
آج اگر ہم اپنا اپنا محاسبہ کرنے بیٹھیں ، تو ہم ایک لٹے پٹے قافلے کے ہم رکاب ہیں ۔ ہمیں جو کرنا تھا ، جو فرض تھا ، جس میں فلاح تھی ، جس پر اللہ راضی تھا ۔ سب کچھ چھوڑ دیا ، سب کچھ بھلا دیا ۔ اخلاقیات ختم ہوئی ، ایک دوسرے کا احترام نا پید ہوا ۔ گھر گھر میں الگ الگ نظریات نے جنم لیا ۔ ہم سب نے جن رہنماوں کی تقلید میں راہ نجات پانا تھا ، انکو فراموش کردیا ۔ دنیا کے بھوکے ، اقتدار کے حریص اور عمل کی منحرف شخصیات کو راہنماء مان لیا ۔ یہ تمام سیاسی پنڈت اور مذہب کا کھلواڑ کرنے والے ملا ، ہمارے الگ الگ رہنماء ہیں ۔ ہم یہی سمجھ رہے ہیں کہ انہی کی پیروی کریں گے تو منزل ملے گی ۔ جبکہ ایک خائن ، ایک زانی ، ایک شرابی اور ایک جھوٹا جس منزل پہ لے جائے گا ۔ وہ منزل یقینی فلاح کی منزل نہیں ہو گی ۔ اللہ کے ذکر سے لوگ غافل ہوگئے ، سیرت النبی کی محفلیں ختم ہوئیں ، اللہ کے محبوب بندوں کے تذکرے رک گئے ۔ اب جہاں بیٹھو ، جسے سنو ، بس سیاست ہی سیاست ، ۔غیبت ، بہتان اور تہمت کی بنیاد پر جو بھی کہا جائے وہ عیب ہے اور یہ عیب سیاست کہلاتا ہے ۔ تعجب اسوقت ہوتا ہے جب ایک محنت کش ، مجبور اور غربت کا مارا ، اپنے بچوں کے نان نفقے کی خبر چھوڑ کر سیاسی پنڈت کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے ۔ جو مسلمان ہو کر بھی اپنے دین کی ابجد سے نا آشنا ہیں ، وہ پوری دنیا کی تاریخ ازبر کئے بیٹھے ہیں ۔ ہر شخص سیاست پر پوری قوت سے منسلک ہے ۔ جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں وہ قومی سیاست پر بولے جا رہے ہیں ۔ دیہاتوں کے غرباء اپنے اپنے علاقے کی سیاست میں الجھے ہیں ۔ جن کو دوچار لفظ انگریزی آتی ہے وہ بین القوامی سیاست پر تبصرے کر رہے ہیں ۔ حد یہ ہے کہ ہم لوگ اپنی اولاد کی ضروریات سے غافل ہوگئے ہیں ۔ آپ سیاسی جلسے اور جلوسوں کو دیکھ لیں کہ کون لوگ نعرے لگا رہے ہوتے ہیں ۔ جن کے بچوں کے پاس سکول کی کتابیں تک میسر نہیں ہوتیں ۔ وہ احمق دھرنوں میں بیٹھے نظر آئیں گے ۔
اس سیاست کا ستیا ناس ہو ، اس نے پوری قوم کو مفلوج کر ڈالا ہے ۔ لوٹ لیا ہے اس سیاست نے ۔
کبھی جائزہ لو تو اپنی حماقت پہ رونا آئے گا ۔
آزاد ھاشمی
دشمن کی شناخت
" دشمن کی شناخت "
ہر پاکستانی کی سوچ پر ایک نہ مٹنے والی تحریر نقش ہے کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے ۔ ہم جب بھی سوچتے ہیں ، تو اسی انداز سے کہ ہمارے ساتھ جو بھی برائی ہوتی ہے ، وہ بھارت کیوجہ سے ہے ۔ افغانستان بھارت کا ساتھی بن چکا ہے اور ہمارا دشمن ہے ۔ ایران بھی ہمارے دشمنوں کی فہرست میں آگیا ہے ۔ اسرائیل سے تو ابدی دشمنی ہے کہ وہ ہمارے دین کا دشمن ، ہمارے نبیؐ کا دشمن ۔ کچھ ایسی ہی کیفیت امریکہ کے بارے میں بھی ہے ۔ ہماری پختہ سوچ ہے کہ یہ وہ دشمن ہیں جو ہر وقت ہماری بربادی کیلئے عمل پیرا رہتے ہیں ۔ یہ سوچ اسقدر پختہ ہے جیسے ایمان کا حصہ ہو ۔ اس فکر کو ہم نے اعصاب پر اسقدر مسلط کر رکھا ہے کہ ہم اس سے باہر نکل کر سوچتے ہی نہیں ۔ درست ہے کہ مذکورہ تمام طاقتیں ہمیں زک پہنچا کر خوش بھی ہوتی ہیں اور ہمارے خلاف کسی نہ کسی منصوبے پر مصروف بھی رہتی ہیں ۔ بھارت کی دشمنی کی وجہ تو سمجھ آتی ہے ، اسرائیل بھی ابدی دشمن ہے ، امریکہ اپنی تھانیداری کے تسلط کیلئے متحرک رہتا ہے ، مگر ایران اور افغانستان سے پرکاش کی کوئی ٹھوس وجہ بھی نہیں اور حقائق بھی مختلف ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ مجیب الرحمان غدار تھا ، یہ کبھی نہیں سوچا کہ اسکی غداری کے حقائق اور اسباب کیا تھے ، وجوہات کیا تھیں ، وہ بھارت کی گود میں کب سے بیٹھا تھا ، ایوب حکومت میں پکڑا اور پھر بے قصور بنا کر چھوڑ دیا گیا ۔ تو کیا اسوقت کے حکمرانوں نے وطن دشمنی نہیں کی تھی کہ ایک غدار کو کسی مصلحت کے ساتھ چھوڑ دیا گیا ۔ بھٹو پر بھی یہی تاثر دیا جاتا ہے کہ ملک ٹوٹنے میں اسکا بہت ہاتھ تھا ۔ بینظیر پر بھی الزام ہے کہ اس نے بھارت کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے سکھوں کی فہرست بھارت کو دی تھی جو خالصتان بنانا چاہتے تھے اور اس میں اعتزاز احسن بھی ملوث تھا ۔ نواز شریف تین بار وزیراعظم رہا اور بالآخر پاکستان سے دہشت گرد ثابت کرنے پر تل گیس ۔ اور اعلان کرنے لگا کہ ہم بھارت میں دہشت گردی کے حالات پیدا کرتے ہیں ۔ ایک وزیراعظم کا یہ اعلان تو مصدقہ تصدیق ہے ۔
سوال یہ ہے کہ ہماری " انٹیلیجنس ایجینسیاں " کہاں رہتی ہیں کہ انہیں خبر ہی نہیں ہوتی کہ ہمارے دشمن کا دوست تین بار وزیراعظم بن گیا ۔ یہ پتہ اسوقت چلا جب اس نے کھلے عام ملکی راز ، جس کا امانت دار تھا ، سر عام بولنے شروع کر دئیے ۔ یہ خبر پہلے کیوں نہیں ہوئی کہ بیشتر اس سے کہ وہ اہم راز اگلے ، گرفت مضبوط کر لی جاتی ۔ اب ہمارا موجودہ وزیر اعظم جگہ جگہ اعلان کرتا پھرتا ہے کہ ہم بد دیانت قوم ہیں ۔ ہم چور اور لٹیرے ہیں ۔ ہمارے سارے رہنما چور تھے ۔ کیا یہ وطن دشمنی ہی کا ایک انداز نہیں ۔ جب ایک گھر کا سربراہ شہر میں شور مچاتا پھرے کہ میرے گھر والے بد دیانت ہیں ، چور اور کرپٹ ہیں تو اس گھر کا تاثر کیا ہو گا ۔ لوگ اس گھر کو کس نظر سے دیکھیں گے ۔
کیا جو لوگ ، وطن کی دولت کو اپنی سمجھ کر دوسرے خطوں میں سرمایہ کاری کرتے پھر رہے ہیں ، انہیں وطن دوست کہا جاسکتا ہے ؟ کیا جو لوگ اپنے اختیارات کو اپنی ذات کے مفادات کیلئے استعمال کر رہے ہیں ، وہ وطن دشمن نہیں ؟ کیا وہ اہلکار جو وطن سے ہونے والی کرپشن کو جانتے ہیں اور محض اسلئے خاموش ہیں کہ انکے مفادات کو زک پہنچتی ہے ، وطن دشمن نہیں ؟ کیا وہ دانشور جو حقائق چھپا کر خاموش ہیں ، وطن دشمن نہیں ؟
المیہ یہی ہے کہ ہم نے صرف بھارت کو وطن دشمن مان لیا کہ وہ ہمارے لوگوں کو غداری پر اکساتا ہے ۔ یہ نہیں سوچا کہ آخر ہمارے لوگ ہی غداری پر آمادہ کیوں ہو جاتے ہیں ۔ کیا بھارت کا وار زیادہ کارگر ہے یا غدار بننے والے پاکستانی کا ؟
بھارت ہمارا کھلا دشمن ہے ، اسکا کوئی بھی وار روکا جا سکتا ہے مگر وہ جو منافقت کے ساتھ ہمارے ساتھ بیٹھے وار پر وار کئے جا رہے ہیں ، وہ اصل دشمن ہیں ۔ مشرقی پاکستان میں ہماری شکست کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مورچے میں ساتھ بیٹھا ہوا فوجی "مکتی باہنی" کا کارندہ تھا ۔ وگرنہ شاید شکست کا سامنا نہ ہوتا ۔ دیکھنا ہو گا کہ آخر وہ کیا اسباب ہیں ، جو ہمارے اعلیٰ افسران کے ریٹائر ہوتے ہی انکو امریکہ اور برطانیہ خوش آمدید کہہ دیتے ہیں ؟ دشمن کو فتح کرنے کیلئے اندر کے دشمن کی شناخت ضروری ہے ۔ جس پر نہ کبھی غور ہوا اور نہ کبھی عمل ۔
آزاد ھاشمی
٢٣ فروری ٢٠١٩
میٹھا زہر
" میٹھا زہر "
جب بھی جمع تفریق کرنے بیٹھو گے تو کچھ سمجھ نہیں آئے گا کہ ہم نے اپنی تہذیب ، تمدن ، سوچ اور معیار زندگی یوں تبدیل کر لیا ہے کہ شاید کبھی اپنے اسلاف کی راہ پر نہیں چل سکیں گے ۔ اب شاید کبھی صلاح الدین ایوبی ، محمد بن قاسم ، طارق بن زیاد اور سلطان ٹیپو جیسا کردار پیدا نہیں ہوگا ۔ ہم دین کی حدود سے نکل بھاگے ہیں اور نہایت تیزی سے مذہب اور دین کی مخالف سمت کو دوڑے جا رہے ہیں ۔ نہ پیچھے مڑ کر دیکھ رہے ہیں اور نہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ہم کو خبر ہی نہیں رہ گئی کہ جس منزل کیطرف گامزن ہیں ، وہ ایک لق و دق سراب ہے ، صحرا ہے , حقیقت میں کوئی منزل نہیں ۔ ایسا کیوں ہوا ؟ اور ایسے کس نے کیا ؟
دراصل ہماری رگوں میں آہستہ آہستہ اثر کرنے والا میٹھا زہر اتارا گیا ۔ سب سے پہلے دیہات کی پینسٹھ فیصد آبادی کو تعلیم سے دور رکھا گیا ۔ ٹاٹ اور درختوں کے سائے میں ایسی تعلیم دی گئی کہ دیہات سے صرف میکینک ، کلرک ، سپاہی ، مزدور اور چھوٹے چھوٹے پیشہ ور پیدا ہوتے رہیں ، آج بھی دیہاتوں کے سکول اسی معیار پر قائم ہیں ۔ شہروں میں روساء کے بچے ، بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھتے رہے تاکہ حکمرانی انکے گھر کی لونڈی بنی رہے ۔ غریب کا بچہ ، شہر میں بھی اسی گھسے پٹے نظام تعلیم سے جڑا بیٹھا ہے اور اسکی منزل وہی چوتھے درجے کی ملازمت یا چھوٹی موٹی دوکان ہوتی ہے ۔ امراء کے نالائق بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے ہوتے ہوئے ، اعلیٰ تعلیم کیلئے یورپ چلے جاتے ہیں اور واپس آکر بیورو کریٹ یا سیاسی پنڈت بن بیٹھتے ہیں ، جہاں سے سیدھے اقتدار کی کرسیوں پر براجمان ہو جاتے ہیں ۔ اب جدید تعلیمی اداروں کا راج ہے ، جہاں ہر ممکن کوشش جاری ہے کہ بچے مغربی سوچ کے ساتھ جوان ہوں ، مذہب اور دین کی اقدار سے ناواقف ہوں ۔ اگر دیانتداری سے مشاہدہ کیا جائے تو آج ہمارے بیورو کریٹ ، سیاست دان اور ہر محکمے کے اعلیٰ افسران یہی جدیدیت کی پنیری ہے۔ جو انگریز کی قیادت کو اپنا مشن بنائے بیٹھے ہیں ۔
"گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے گی صدا لا الہ الا اللہ "
آزاد ھاشمی
٢٤ فروری ٢٠١٩