Wednesday, 27 February 2019

دشمن کی شناخت

" دشمن کی شناخت "
ہر پاکستانی کی سوچ پر ایک نہ مٹنے والی تحریر نقش ہے کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے ۔  ہم جب بھی سوچتے ہیں ، تو اسی انداز سے کہ ہمارے ساتھ جو بھی برائی ہوتی ہے ، وہ بھارت کیوجہ سے ہے ۔ افغانستان بھارت کا ساتھی بن چکا ہے اور ہمارا دشمن ہے ۔ ایران بھی ہمارے دشمنوں کی فہرست میں آگیا ہے ۔ اسرائیل سے تو ابدی دشمنی ہے کہ وہ ہمارے دین کا دشمن ، ہمارے نبیؐ کا دشمن ۔ کچھ ایسی ہی کیفیت امریکہ کے بارے میں بھی ہے ۔ ہماری پختہ سوچ ہے کہ یہ وہ دشمن ہیں جو ہر وقت ہماری بربادی کیلئے عمل پیرا رہتے ہیں ۔ یہ سوچ اسقدر پختہ ہے جیسے ایمان کا حصہ ہو ۔ اس فکر کو ہم نے اعصاب پر اسقدر مسلط کر رکھا ہے کہ ہم اس سے باہر نکل کر سوچتے ہی نہیں ۔ درست ہے کہ مذکورہ تمام طاقتیں ہمیں زک پہنچا کر خوش بھی ہوتی ہیں اور ہمارے خلاف کسی نہ کسی منصوبے پر مصروف بھی رہتی ہیں ۔ بھارت کی دشمنی کی وجہ تو سمجھ آتی ہے ، اسرائیل بھی ابدی دشمن ہے ،  امریکہ اپنی تھانیداری کے تسلط کیلئے متحرک رہتا ہے ، مگر ایران اور افغانستان سے پرکاش کی کوئی ٹھوس وجہ بھی نہیں اور حقائق بھی مختلف ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ مجیب الرحمان غدار تھا ، یہ کبھی نہیں سوچا کہ اسکی غداری کے حقائق اور اسباب کیا تھے ، وجوہات کیا تھیں ، وہ بھارت کی گود میں کب سے بیٹھا تھا ، ایوب حکومت میں پکڑا اور پھر بے قصور بنا کر چھوڑ دیا گیا ۔ تو کیا اسوقت کے حکمرانوں نے وطن دشمنی نہیں کی تھی کہ ایک غدار کو کسی مصلحت کے ساتھ چھوڑ دیا گیا ۔ بھٹو پر بھی یہی تاثر دیا جاتا ہے کہ ملک ٹوٹنے میں اسکا بہت ہاتھ تھا ۔ بینظیر پر بھی الزام ہے کہ اس نے بھارت کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے سکھوں کی فہرست بھارت کو دی تھی جو خالصتان بنانا چاہتے تھے اور اس میں اعتزاز احسن بھی ملوث تھا ۔ نواز شریف تین بار وزیراعظم رہا اور بالآخر پاکستان سے دہشت گرد ثابت کرنے پر تل گیس  ۔ اور اعلان کرنے لگا کہ ہم بھارت میں دہشت گردی کے حالات پیدا کرتے ہیں ۔ ایک وزیراعظم کا یہ اعلان تو مصدقہ تصدیق  ہے ۔ 
سوال یہ ہے کہ ہماری " انٹیلیجنس ایجینسیاں " کہاں رہتی ہیں کہ انہیں خبر ہی نہیں ہوتی کہ ہمارے دشمن کا دوست تین بار وزیراعظم بن گیا ۔ یہ پتہ اسوقت چلا جب اس نے کھلے عام ملکی راز ، جس کا امانت دار تھا ، سر عام بولنے شروع کر دئیے ۔ یہ خبر پہلے کیوں نہیں ہوئی کہ بیشتر اس سے کہ وہ اہم راز اگلے ، گرفت مضبوط کر لی جاتی ۔ اب ہمارا موجودہ وزیر اعظم جگہ جگہ اعلان کرتا پھرتا ہے کہ ہم بد دیانت قوم ہیں ۔ ہم چور اور لٹیرے ہیں ۔ ہمارے سارے رہنما چور تھے ۔ کیا یہ وطن دشمنی ہی کا ایک انداز نہیں ۔ جب ایک گھر کا سربراہ شہر میں شور مچاتا پھرے کہ میرے گھر والے بد دیانت ہیں ، چور اور کرپٹ ہیں تو اس گھر کا تاثر کیا ہو گا ۔ لوگ اس گھر کو کس نظر سے دیکھیں گے ۔ 
کیا جو لوگ ، وطن کی دولت کو اپنی سمجھ کر دوسرے خطوں میں سرمایہ کاری کرتے پھر رہے ہیں ، انہیں وطن دوست کہا جاسکتا ہے ؟ کیا جو لوگ اپنے اختیارات کو اپنی ذات کے مفادات کیلئے استعمال کر رہے ہیں ، وہ وطن دشمن نہیں ؟ کیا وہ اہلکار جو وطن سے ہونے والی کرپشن کو جانتے ہیں اور محض اسلئے خاموش ہیں کہ انکے مفادات کو زک پہنچتی ہے ، وطن دشمن نہیں ؟ کیا وہ دانشور جو حقائق چھپا کر خاموش ہیں ، وطن دشمن نہیں ؟
المیہ یہی ہے کہ ہم نے صرف بھارت کو وطن دشمن مان لیا کہ وہ ہمارے لوگوں کو غداری پر اکساتا ہے ۔ یہ نہیں سوچا کہ آخر ہمارے لوگ ہی غداری پر آمادہ کیوں ہو جاتے ہیں ۔ کیا بھارت کا وار زیادہ کارگر ہے یا غدار بننے والے پاکستانی کا ؟
بھارت ہمارا کھلا دشمن ہے ، اسکا کوئی بھی وار روکا جا سکتا ہے مگر وہ جو منافقت کے ساتھ ہمارے ساتھ بیٹھے وار پر وار کئے جا رہے ہیں ، وہ اصل دشمن ہیں ۔ مشرقی پاکستان میں ہماری شکست کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مورچے میں ساتھ بیٹھا ہوا فوجی "مکتی باہنی" کا کارندہ تھا ۔ وگرنہ شاید شکست کا سامنا نہ ہوتا ۔ دیکھنا ہو گا کہ آخر وہ کیا اسباب ہیں ، جو ہمارے اعلیٰ افسران کے ریٹائر ہوتے ہی انکو امریکہ اور برطانیہ خوش آمدید کہہ دیتے ہیں ؟ دشمن کو فتح کرنے کیلئے اندر کے دشمن کی شناخت ضروری ہے ۔ جس پر نہ کبھی غور ہوا اور نہ کبھی عمل ۔
آزاد ھاشمی
٢٣ فروری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment