Saturday, 2 March 2019

بھارت کا واویلا

" بھارت کا واویلا "
مشاہدات کی نظر سے دیکھا جائے تو  جب کبھی کوئی گلی محلے کا "کن ٹٹا "  کسی شریف شہری کے ہاتھوں اپنی درگت بنوا بیٹھتا ہے تو اپنے بھرم کو قائم رکھنے کا ہر ممکن جتن کرتا ہے ۔ کچھ ایسی ہی صورت حال بھارتی میڈیا پر نظر آ رہی ہے ۔ بھارت بہتر سال سے مقبوضہ کشمیر میں ہر جتن آزما چکا ہے کہ کشمیریوں کو انکے حق کی آواز بلند کرنے سے روک لے ۔ جبر کا ہر حربہ ناکام ہوا اور اب تیسری نسل ، اس جبر کی عادی ہو چکی ہے ۔ انہیں نہ زندگی سے پیار ہے اور نہ موت سے خوف ۔ ایسی نسل کو کوئی بھی نام دے لو ، دہشت گرد کہہ دو ، باغی بول دو ۔ کچھ فرق نہیں پڑتا ۔ اب بھارت ، اپنے گھر کی آگ سے ہمارے گھر جلانے نکلا تھا ۔ سوئے ہوئے کا گلا کاٹ دینا بہادری نہیں ، بزدلی کی علامت ہوتی ۔ اور اس کوشش میں اپنی ناک کٹوا بیٹھنا ، خفت کی انتہا ہے ۔ یہ وہ خفت ہے جس  سے بھارتی میڈیا نے آسمان  سر پر اٹھا رکھا ہے ۔ اکہتر کی جنگ نے ، بھارت کو سورما کیسے بنا دیا ۔ اسکے عوامل آج کی صورت حال سے قطعی مختلف تھے ۔ ہماری سیاسی بساط کمزور تھی ، جس بنا پر ہم شکست سے دوچار ہوئے ۔ اتفاق سے اکہتر کی جنگ میں ، مجھے بیدیاں اور پڈھانہ سیکٹر پر ملک کی خدمت کا موقع ملا ۔ میں نے دیکھا کہ بھارت کے سورما پائلٹ ، کس بلندی سے بم گراتے تھے اور کس سرعت سے بھاگ جاتے تھے ۔ جبکہ ہمیں نہ ائیر ڈیفنس کی مدد میسر تھی اور نہ اینٹی ائیر کرافٹ کو فائر کرنے دیا جا رہا تھا ۔ کیوں ؟ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ مگر اب ایسا نہیں ۔ اب نیچے آئیں گے تو اینٹی ائیر کرافٹ بھون دے گی ، اوپر رہ کر زور آزامائیں  گے تو آئیر ڈیفنس ٹکڑے کر دے گا ۔ جیسا کہ ثابت ہو گیا ۔ بھارت اس سے اگاہ ، اسلئے زیادہ زور واویلا کرنے پر لگا دیا ہے ۔
اسوقت بھارت کو دو بڑے امتحان درپیش ہیں ۔ پنجاب میں سکھ ، کیونکہ بھارت میں مرکزی حکومت نے صوبائی حکومت سے بالا بالا ہندو خاندانوں کو پنجاب کے اندر پچیس ایکڑ شاملات کی زمین فی خاندان دینا شروع کر رکھی ہے ۔ بالکل ایسے ہی جیسے کشمیر میں ہندووں کو آباد کیا گیا تھا ۔ سکھوں کی سیاسی طاقت توڑنے کا حربہ آزمایا جا رہا ہے ۔ جسے سکھوں نے محسوس کر لیا ہے اور وہ با خبر ہیں ۔ دوسرا مذہبی جنون نے جو گولڈن ٹیمپل پر کیا ، وہ گہرا زخم سکھ کبھی نہیں بھول پائے ۔ اب یہ سکھ آبادی پاکستان کے بارڈر کے ساتھ ساتھ جاتی ہے ۔ بھارتی فوجی کاروائی کی صورت میں بہت بڑا اپ سیٹ خارج از امکان نہیں ۔ بالکل اسی طرح ، جیسے مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان میں کیا ۔ کشمیر میں پہلے سے آگ بھڑک رہی ہے ۔ یہ دو بڑے محاذ بھارتی فوج کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔ پاکستان ، نہ پینسٹھ کی طرح بے خبر ہے اور نہ اکہتر کیطرح مجبور ۔
بھارتی واویلا ، صرف اعصابی جنگ  جیتنے کی کوشش ہے اور کچھ نہیں ۔ اس کوشش میں اپنے اعصاب شل کر رہا ہے ۔ مثل مشہور ہے کہ " جو  بھونکتے ہیں کاٹتے نہیں " اور اگر کاٹنے کی حماقت کر بیٹھے تو دانت تڑوا بیٹھیں گے ۔ انشاء اللہ ۔
آزاد ھاشمی
یکم مارچ ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment