Saturday, 8 June 2019

افطار پہ گفتگو

" افطار اور خیالات "
بابا جی گم سم میز کے کونے میں بیٹھے ، آسودہ حال دوستوں کی گفتگو بڑے انہماک سے سن رہے تھے ۔ دنیا بھر کی معیشت پر روشن خیال تبصرے ، ملکی حکمرانوں کے کرتوت ، کھیل کے میدان میں ملک کے ہیرو کھلاڑیوں کی بے بسی اور  شکست در شکست پر آراء ، پٹرول پر عالمی سیاسی اثرات اور ایسے ہی بے شمار تبصرے ۔  ہمسایہ ملکوں کی موجودہ ضرورت بھی زیر بحث تھی ۔ ان ساری عالمی معلومات پر عبور دیکھ کر انسان کا مرعوب ہو جانا کچھ عجیب بھی نہیں ۔ جو بھی بولنا شروع کرتا وہ اسکی طرف دیکھنے لگتے ۔ مجھے بابا جی کی کم علمی پر ترس آرہا تھا ۔ کاش وہ بھی کچھ پڑھ لکھ جاتے تو جس کرب سے گذر رہے تھے ، نہ گزرتے ۔ شرمندگی کا ایک احساس نظر آرہا تھا بے چارے کے چہرے پہ ۔ وہ اس محفل میں سکول میں آنے والے پہلے بچے کیطرح تھا ۔ جو بولنا تو چاہتا ہے مگر کیا بولے نہیں جانتا ۔ 
" بابا جی ! آپ کیوں خاموش ہیں ۔ کچھ تو بولیں " جیسے ہی دو لمحے خاموشی ہوئی اور نئے موضوع کا وقفہ ہوا ۔ میں نے بابا جی کو اس مشکل سے نکالنے کی کوشش کی ۔
" کیا کہوں بیٹا جی ، میرے پاس اتنا علم ہوتا تو میں پکوڑے نہیں بناتا ۔ ہم پرانے زمانے کے غریب لوگ ، بولیں گے بھی تو کیا بولیں گے ۔ میں تو صرف یہ سمجھتا ہوں کہ محفل کا موضوع اہتمام کی مناسبت سے ہونا زیادہ بہتر ہے ۔ یہ افطار کا اہتمام تھا ، زیادہ بہتر ہوتا ہم اللہ اور اللہ کے رسول کے احکامات کی باتیں کرتے ۔ روزے کے فلسفے پہ گفتگو ہوتی ، روزے کی مقصدیت پر بات کرتے ۔ یہ دنیا کے جھمیلوں میں کیا رکھا ہے ۔ یہ سارے موضوعات کا کس کو فائدہ ہے ، کیا اصلاح کا پہلو ہے اس ساری معلومات میں ۔  بیٹا ! میں پکوڑے بیچنے والا اس سے زیادہ کیا سوچ  لوں گا ، کیا بول لوں گا ۔  ہمیں دنیا کی چکا چوند عارضی لگتی ہے ، آخرت کی فکر لازم اور ابدی لگتی ہے ۔ اور ہم اس سوچ سے باہر آہی نہیں سکتے اور آنا بھی نہیں چاہتے ۔ دوست بول رہے ہیں میں سن رہا ہوں  - ہو سکتا ہے انکی قیمتی آراء سے انسانیت کی بھلائی کی راہ نکل آئے ، ہو سکتا ہے عالمی معیشت بہتر ہو جائے ، ہو سکتا ہے بین الاقوامی سطح پر کوئی نئی راہ کھل جائے . پھر بھی اللہ کی رضا ڈھونڈھنے کی باتیں ہوتیں تو زیادہ مناسب تھیں " 
پتہ نہیں ، بابا جی کے لفظوں میں کیا جادو تھا ۔ میں بھی سوچنے لگا کہ افطار کی دعوت کو افطار سے منسوب ہی ہونا بہتر ہے ۔ حالات حاضرہ پر تبصرے اپنی مناسبت سے اچھے لگتے ہیں ۔
شکریہ
ازاد ھاشمی

Friday, 7 June 2019

حیران کن

99 دلچسپ اور حیرت انگیز معلومات
1۔آپ خواب میں صرف ان چہروں کو دیکھتے ہیں جنھیں آپ جانتے ہیں۔
2۔سونے کی جتنی زیادہ کوشش کریں نیند آنے کے چانس اتنے ہی کم ہیں۔
3۔کی بورڈ کی آخری لائن میں موجود بٹنوں سے آپ انگلش کا کوئی لفظ نہیں لکھ سکتے ۔
4۔انسانی دماغ ستر فیصد وقت پرانی یادوں یا مستقبل کی سنہری یادوں کے خاکے بنانے میں گزارتا ہے۔
5۔پندرہ منٹ ہنسنا جسم کے لیے اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا دو گھنٹے سونا۔
6۔کسی بھی بحث کے بعد پچاسی فیصد لوگ ان تیزیوں اور اپنے تیز جملوں کو سوچتے ہیں جو انھوں نے اس بحث میں کہے ہوتے ہیں۔
7۔ A nut for a jar of tuna
انور تم مت رونا
ایسا جملہ ہے جس میں اسے دائیں سے پڑھ لیں یا بائیں سے ۔ایک ہی بات بن سکتی ہے صرف کچھ سپیس کو درست کرلیں تو۔۔۔۔
8۔ فلاسفی میں ایک لمحے کا مطلب ہوتا ہے نوے سیکنڈ
9۔سردی کی کھانسی میں چاکلیٹ کھانسی کے سیرپ سے پانچ گنا زیادہ بہتر اثر دکھاتی ہے۔
10۔جتنی مرضی کوشش کر لیں جو مرضی کر لیں آپ یہ یاد نہیں کر سکتے آپ کا خواب کہاں سے شروع ہوا تھا۔
11۔کوئی بھی جذباتی دھچکا پندرہ یا بیس منٹ سے زیادہ نہیں ہوتا اس کے بعد کا جذباتی وقت آپ کی "اوور تھنکنگ " یعنی اس کے بارے میں زیادہ سوچنے کی وجہ سے ہوتا ہے جس سے آپ خود کو زخم لگاتے ہیں۔۔
12۔ عام طور پر آپ اپنے آپ کو آئینے میں حقیقت سے پانچ گنا زیادہ حسین دیکھتے ہیں۔ یا سمجھتے ہیں۔
13۔ سائنس کے مطابق نوے فیصد لوگ اس وقت گھبرا جاتے ہیں جب انھیں یہ میسج آتا ہے
"کچھ پوچھوں آپ سے"
Can I Ask you a question
میں بھی اکثر آپ کا یہ مسیج پڑھ کر چونک سا جاتا ہوں۔کہ معلوم نہیں کیا پوچھنا چاہتا ہے۔
14۔ زمین سے سب سے نزدیک ستارہ سورج ہے جو زمین سے 93 ملین میل دور واقع ہے
15۔ مکھی ایک سیکنڈ میں 32 مرتبہ اپنے پر ہلاتی ہے
16۔ دنیا کے 26 ملکوں کو سمندر نہیں لگتا
17۔ مثانے میں پتھری کو توڑنے کا خیال سب سے پہلے عرب طبیبوں کو آیا تھا
18۔ گھوڑا، بلی اور خرگوش کی سننے کی طاقت انسان سے زیادہ ہوتی ہے، یہ کمزور سے کمزور آواز سننے کے لیے اپنے کان ہلا سکتے ہیں
19۔تیل کا سب سے پہلا کنواں پینسلوینیا امریکا میں 1859ء میں کھودا گیا تھا
20۔ کچھوا، مکھی اور سانپ بہرے ہوتے ہیں
21۔ تاریخ میں القدس شہر پر 24 مرتبہ قبضہ کیا گیا
22۔ دنیا کا سب سے بڑا پارک کنیڈا میں ہے
23۔ہٹلر برلن کا نام بدل کر جرمینیا رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا
24۔ دنیا میں سب سے زیادہ پہاڑ سوئٹزر لینڈ میں پائے جاتے ہیں
25۔دنیا کے سب سے کم عمر والدین کی عمر 8 اور 9 سال تھی، وہ 1910ء میں چین میں رہتے تھے۔
26۔ تمام پھلوں اور سبزیوں کی نسبت تیز مرچ میں وٹامن سی کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
27۔اللہ تعالی نے سب سے پہلا دن ایتوار (اتوار) بنایا تھا۔( بائبل میں ایسا ہی لکھا ہے اور شائد قرآن اور حدیث اس بارے میں خاموش ہے۔مجھے لگتا ہے جمعہ پہلا دن تھا۔واللہ اعلم)
28-فرعونوں کے زمانے کے مصر میں ہفتہ 10 دن کا ہوتا تھا
29۔تتلی کی چکھنے کی حس اس کے پچھلے پاؤں میں ہوتی ہے
30-دنیا کی سب سے طویل جنگ فرانس اور برطانیہ کے درمیان ہوئی تھی، یہ جنگ 1338ء کو شروع ہوئی تھی اور 1453 کو ختم ہوئی تھی، یعنی یہ 115 سال جاری رہی تھی
31-قطبِ شمالی کے آسمان سے سال کے 186 دن تک سورج مکمل طور پر غائب رہتا ہے
32۔ٹھنڈا پانی گرم پانی سے زیادہ ہلکا ہوتا ہے۔ کیمسٹری
33۔دنیا کے ہر شخص کی اوسط فون کالز کی تعداد 1140 ہے
34-وہیل کی اوسط عمر 500 سال ہوتی ہے۔
35-فرانس کے اٹھارہ بادشاہوں کا نام لوئیس تھا
36-دنیا پر سب سے پہلا گھر کعبہ معظمہ ہی بنایا گیا تھا۔
37-ربڑ کے زیادہ تر درخت جنوب مشرقی ایشیا میں پائے جاتے ہیں
38-اگر موٹے گلاس میں گرم مشروب ڈال دیا جائے تو پتلے گلاس کی نسبت اس کے ٹوٹنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں
39-انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے جسم میں 300 ہڈیاں ہوتی ہیں جو بالغ ہونے تک صرف 206 رہ جاتی ہیں۔ چھوٹی ہڈیاں مل کر بڑی ہڈیوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔
40-اٹھارویں صدی میں کیچپ بطور دواء استعمال ہوتا تھا
41۔ کوے کی بھی اوسط عمر پانچ سو سال تک ہوتی ہے۔
42۔اٹھارہ مہینوں کے اندر دو چوہے تقریباً 1 ملین اپنے ساتھی پیدا کر لیتے ہیں۔
43۔ انسانوں کے برعکس بھیڑ کے چار معدہ ہوتے ہیں اور ہر معدہ انہیں خوراک ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔
50۔ مینڈک کبھی بھی اپنی آنکھیں بند نہیں کرتا، یہاں تک کہ سوتے ہوئے بھی آنکھیں کھلی رہتی ہیں۔
51۔ شارک کے جسم میں کوئی ایک بھی ہڈی نہیں ہوتی۔
52 ۔جیلی فش کے پاس دماغ نہیں ہوتا۔
53۔ پینگوئن اپنی زندگی کا آدھا حصہ پانی میں گزارتے ہیں اور آدھا زمین (خشکی) پر
54۔ گلہری پیدا ہوتے وقت اندھی ہوتی ہے۔
55۔ کموڈو، چھپکلی کی لمبی ترین قسم ہے۔ جس کی لمبائی تقریباً 3 میٹر تک ہوتی ہے۔
56۔کینگرو پیچھے کی جانب نہیں چل سکتے۔
57۔ دنیا میں سب سے بڑا انڈہ شارک دیتی ہے۔
58۔دنیا میں سب سے ذہین جانور ایک پرندہ ہے، جسے انگریزی میں گرے پیرٹ اور اردو میں خاکستری طوطا کہا جاتا ہے۔
59۔ دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن گوگل روزانہ اربوں انسانوں کو ان کی مطلوبہ معلومات اور ویب سائٹس ڈھونڈ کر دیتا ہے۔ یہ سرچ انجن اسقدر پیچیدہ اور بڑی مقدار میں ڈیٹا اور معلومات کو اربوں انسانوں تک پہنچاتا ہے کہ اس کی طاقت اور رفتار کو دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
60۔ پینگوئین ایک ایسا جانور ہے جو نمکین پانی کو میٹھے پانی میں تبدیل کرسکتا ہے۔
61۔ گولڈ فش کو اگر کم لائٹ میں پکڑا جائے تو یہ اپنا رنگ کھودیتی ہے۔
62۔ جیلی فش کے سر کو Bell کہا جاتا ہے۔
63۔ ایک مرغی سال میں اوسطاً 228انڈے دیتی ہے۔
64۔ بلیاں اپنی زندگی کا 66 فیصد حصہ سو کر گزارتی ہیں۔
65۔ جھینگے کا خون بیرنگ ہوتا ہے لیکن جب یہ آکسیجن خارج کرتا ہے تو اسکا رنگ نیلا ہوجاتا ہے۔
66۔ بیل نیچے کے بجائے اوپر کی طرف زیادہ تیزی سے دوڑتے ہیں۔
67۔ ہاتھی کے دانتوں کو دنیا کے سب سے بڑے دانت ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
68۔ دنیا کے سب سے چھوٹے لال بیگ کا سائز صرف 3 ملی میٹر ہے۔
69۔ شارک کے دانت ہر ہفتے گرتے ہیں۔
70۔ دریائی گھوڑا ایک ہی وقت میں دو مختلف سمت میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
71۔ برفانی ریچھ 25 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے اور ہوا میں 6فٹ کی بلندی تک چھلانگ لگاسکتا ہے۔
72۔ ایک ٹائیگر کی دم اس کے جسم کی کل لمبائی کی ایک تہائی تک بڑھ سکتی ہے۔
73۔ مچھلی کسی چیز کا ذائقہ چکھنے کیلئے اپنی دم اور پنکھ استعمال کرتی ہے۔
74۔ ڈریگن فلائی کی 6 ٹانگیں ہوتی ہیں لیکن وہ پھر بھی نہیں چل سکتی۔
75۔ ایسی سفید بلیاں جو نیلی آنکھوں والی ہوتی ہیں عام طور پر وہ بہری ہوتی ہیں۔
76۔ افریقی ہاتھیوں کے 4 دانت ہوتے ہیں۔
77۔ زرافہ جمائی نہیں لے سکتا۔
78۔ ایک گونگا مستقل 3 سال سونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
79۔دنیا میں صرف ایک دن میں اوسطا 55ارب مشروبات استعمال کی جاتی ہیں
80۔ شاہد آفریدی نے جب تیز ترین سنچری کا ریکارڈ بنایا تو وہ بھارتی سٹار سچن ٹنڈولکر کا بیٹ استعمال کررہے تھے۔
81۔کیا آپ اللہ کی قدرت کے مظہر" انسانی جسم "کے متعلق یہ حیرت انگیز بات جانتے ہیں۔کہ انسانی جسم میں موجود خون کی نالیوں کی مجموعی لمبائی 60 ہزارمیل کے برابر ہے۔
82۔سام سانگ کوریائی زبان کے دو لفظوں کا مجموعہ ہے سام اورسانگ ۔سام کا مطلب" تین" اور سانگ کا مطلب "ستارے "ہے۔ یعنی تین ستارے
83۔سمندر کی زیادہ سے زیادہ گہرائی تقریبا11 کلومیڑ (10923میڑ )ہے
84۔دنیا میں بانوے فیصد لوگ گوگل کا استعمال اپنے اسپیلنگ چیک کرنے کے لئے کرتے ہیں۔اور پاکستان میں 80 فیصد لوگ گوگل کا استعمال اس لئے کرتے ہیں کہ پتہ چل سکے انٹرنیٹ چل رہا ہے کہ نہیں۔
85۔مینڈک کی زبان میں تین گنا بڑا شکار دبوچنے کی طاقت ہوتی ہے
86۔ اب تک کا خطرناک ترین ہوائی حادثہ 1977 میں ہوا ۔اور اس حادثے میں583 لوگ موت کا شکار ہوئے تھے۔
87۔افریکی ہاتھی دنیا کا تیسرا سب سے وزنی جانور ہے۔۔ اس کا وزن 13000 کلو گرام تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
88 ۔ دنیا کی تقریباً آدھی آبادی صرف پانچ ممالک چین، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا میں رہتی ہے
89۔ نابینا افراد ہماری طرح خواب نہیں دیکھتے۔
90۔ مچھلی کی آنکھیں ہمیشہ کھلی رہتی ہیں کیونکہ اس کے پپوٹے نہیں ہوتے۔
91۔ الو وہ واحد پرندہ ہے جو اپنی اوپری پلکیں جھپکتا ہے۔ باقی سارے پرندے اپنی نچلی پلکیں جھپکاتے ہیں۔
92۔کیا آپ بحیرہ مردار کے متعلق یہ دلچسپ بات جانتے ہیں کہ اگر آپ اس سمندر میں گر بھی جائیں تو بھی آپ اس میں نہیں ڈوبیں گے۔
93۔ پاکستان کا "مکلی قبرستان، ٹھٹھہ " جو کے مسلمانوں کا سب سے بڑا قبرستان ہے۔جہاں ایک ہی جگہ پر لاکھوں مسلمان دفن ہیں ۔یہ قبرستان 6 میل کے طویل ایریا میں پھیلا ہوا ہے۔
94۔عدد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا نوٹ زمبابوے نے 2009 میں جاری کیا تھا جو کہ 100ٹریلین ڈالر یعنی100 کھرب زمبابوے ڈالرکا تھا۔
95۔ کیا آپ شیروں کے بارے یہ دلچسپ بات جانتے ہیں کہ شیر کے بچے جب اپنے والدین کو کاٹتے ہیں تو وہ اکثر رونے کی ایکٹنگ کرتے ہیں۔
96۔کیا آپ جانتے ہیں کہ قادوس نامی پرندہ اڑتتے اڑتے بھی سو جاتا ہے یا سو سکتا ہے۔
97۔بچھو چھے دن تک اپنا سانس روک سکتا ہے۔بچھو پانی کی تہہ میں سانس نہیں لے سکتا لہذا وہ اپنا سانس روک لیتا بھلے اسے چھے دن وہاں پڑا رہنے دو۔ وہ سانس نہیں لے گا لیکن زندہ رہے گا۔
98۔ایک روسی خاتون "مسٹرس وسیلائیو "کے ایک ہی خاوند سے چالیس سال کے دورانیے میں یعنی سنہ1725ء سے 1765ءکے عرصہ کے دوران 69 بچے پیدا ہوئے
99۔مراکش کے سلطان إسماعيل بن الشريف ابن النصر جس نے مراکش پر 1672ء سے 1727ء تک 55 سال حکومت کی تھی ۔ اس کے مختلف بیویوں اور باندیوں (کنیزوں) سے 525 بیٹے اور 342 بیٹیاں تھیں.....!!!

Sunday, 2 June 2019

اسلامی نظام کیوں اور کیسے؟ 15

"اسلامی نظام کیوں اور کیسے ؟ (15)
یہ واضع کرنے کیلئے شوریٰ کیلئے کھلی چھٹی نہیں ہے کہ جس کو چاہے سربراہ مملکت منتخب کر لے ۔ بلکہ اسے لازم ہے کہ ان شرائط پر انتخاب کرے ، جو مقرر ہیں ۔ ہم نے ابھی تک چھ ایسی صفات کا ذکر کیا ہے ، جو سربراہ کے کردار کا لازم حصہ ہیں ۔ چند مزید کا تذکرہ درج ذیل ہے ۔
٧۔ حسن سابقہ
اگر کسی کا ماضی اس کے برے اعمال ،ظلم وستم ،خیانت اورفریب کو آشکارکرنے والا ہے تو وہ رہبری اورقیادت کے لائق نہیں ہے۔   ایسے افراد تلاش کرو جو فکری حوالے سے قوی اورمعاشرے میں جانی پہچانی شخصیات ہوں جنہوں نے کسی ظالم کی مددنہیں کی ایسے لوگ تیری نسبت مھربان تر ہوں گے ۔
کیا خیال جمہوریت میں رکھا جاتا ہے ؟
٨۔ سادگی کے ساتھ زندگی بسر کرنا
پر تعیش زندگی کا خواب دیکھنے والا ، یا ایسے ماحول کا عادی شخص ،  جب بھی اقتدار کی کرسی پہ بیٹھے گا اور حکومتی وسائل اسکی دسترس میں آ جائیں گے تو وہ ہر معاملے میں اسراف سے کام لے گا ۔ اسلام میں سربراہ مملکت کیلئے اس سے متضاد طریقہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ سادگی اور قناعت پسندی کی حامل شخصیت کو ترجیح دی جاتی ہے ، کیونکہ رہبری اورحکمرانی کے عہدے کو قبول کرنے سے ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے جس کیلئے لازم ہے کہ  وہ نچلے طبقہ کی طرح زندگی گزارے تاکہ  ان کے درد کو سمجھ سکے اورپھران کی مشکلات کو دورکرنے کی کوشش کرسکے ۔
٩۔ :شجاعت  اورپایداری
رہبر کی صفات میں سے جس کی اپنی جگہ پر بہت اہمیت ہے شجاعت اورمستحکم ارادہ ہے ۔ کیونکہ شجاعت ایسی خوبی ہے جو کسی دباو کے تحت مصلحت اندیشی سے روکتی ہے ۔
اسی طرح اگر حکمران اوررہبر مستحکم ارادہ کا مالک ہوگا تواپنی حکمرانی اورحکومت کے تمام ایام اورخصوصا مشکل دنوں میں اپنی پالیسیوں کو واضح اوربلاروک ٹوک جاری کرسکتا ہے جس کااچھا اثر نہ صرف عوام پر پڑے گا بلکہ اس کے حکومتی ڈھانچہ میں بھی کوئی تزلزل پیدا نہیں ہوگا ۔
۔۔۔ جاری ہے ۔۔ قسط ١٦ ملاحظہ ہو ۔۔
آزاد ھاشمی
یکم جون ٢٠١٩