" افطار اور خیالات "
بابا جی گم سم میز کے کونے میں بیٹھے ، آسودہ حال دوستوں کی گفتگو بڑے انہماک سے سن رہے تھے ۔ دنیا بھر کی معیشت پر روشن خیال تبصرے ، ملکی حکمرانوں کے کرتوت ، کھیل کے میدان میں ملک کے ہیرو کھلاڑیوں کی بے بسی اور شکست در شکست پر آراء ، پٹرول پر عالمی سیاسی اثرات اور ایسے ہی بے شمار تبصرے ۔ ہمسایہ ملکوں کی موجودہ ضرورت بھی زیر بحث تھی ۔ ان ساری عالمی معلومات پر عبور دیکھ کر انسان کا مرعوب ہو جانا کچھ عجیب بھی نہیں ۔ جو بھی بولنا شروع کرتا وہ اسکی طرف دیکھنے لگتے ۔ مجھے بابا جی کی کم علمی پر ترس آرہا تھا ۔ کاش وہ بھی کچھ پڑھ لکھ جاتے تو جس کرب سے گذر رہے تھے ، نہ گزرتے ۔ شرمندگی کا ایک احساس نظر آرہا تھا بے چارے کے چہرے پہ ۔ وہ اس محفل میں سکول میں آنے والے پہلے بچے کیطرح تھا ۔ جو بولنا تو چاہتا ہے مگر کیا بولے نہیں جانتا ۔
" بابا جی ! آپ کیوں خاموش ہیں ۔ کچھ تو بولیں " جیسے ہی دو لمحے خاموشی ہوئی اور نئے موضوع کا وقفہ ہوا ۔ میں نے بابا جی کو اس مشکل سے نکالنے کی کوشش کی ۔
" کیا کہوں بیٹا جی ، میرے پاس اتنا علم ہوتا تو میں پکوڑے نہیں بناتا ۔ ہم پرانے زمانے کے غریب لوگ ، بولیں گے بھی تو کیا بولیں گے ۔ میں تو صرف یہ سمجھتا ہوں کہ محفل کا موضوع اہتمام کی مناسبت سے ہونا زیادہ بہتر ہے ۔ یہ افطار کا اہتمام تھا ، زیادہ بہتر ہوتا ہم اللہ اور اللہ کے رسول کے احکامات کی باتیں کرتے ۔ روزے کے فلسفے پہ گفتگو ہوتی ، روزے کی مقصدیت پر بات کرتے ۔ یہ دنیا کے جھمیلوں میں کیا رکھا ہے ۔ یہ سارے موضوعات کا کس کو فائدہ ہے ، کیا اصلاح کا پہلو ہے اس ساری معلومات میں ۔ بیٹا ! میں پکوڑے بیچنے والا اس سے زیادہ کیا سوچ لوں گا ، کیا بول لوں گا ۔ ہمیں دنیا کی چکا چوند عارضی لگتی ہے ، آخرت کی فکر لازم اور ابدی لگتی ہے ۔ اور ہم اس سوچ سے باہر آہی نہیں سکتے اور آنا بھی نہیں چاہتے ۔ دوست بول رہے ہیں میں سن رہا ہوں - ہو سکتا ہے انکی قیمتی آراء سے انسانیت کی بھلائی کی راہ نکل آئے ، ہو سکتا ہے عالمی معیشت بہتر ہو جائے ، ہو سکتا ہے بین الاقوامی سطح پر کوئی نئی راہ کھل جائے . پھر بھی اللہ کی رضا ڈھونڈھنے کی باتیں ہوتیں تو زیادہ مناسب تھیں "
پتہ نہیں ، بابا جی کے لفظوں میں کیا جادو تھا ۔ میں بھی سوچنے لگا کہ افطار کی دعوت کو افطار سے منسوب ہی ہونا بہتر ہے ۔ حالات حاضرہ پر تبصرے اپنی مناسبت سے اچھے لگتے ہیں ۔
شکریہ
ازاد ھاشمی
Saturday, 8 June 2019
افطار پہ گفتگو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment