" اسلامی نظام کیوں اور کیسے (17)
جمہوری نظام کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں کردار اہم نہیں ہوتا ، ووٹ اہم ہوتا ہے ۔ جبکہ زندگی کے بہترین نظام اور درست فیصلوں کیلئے کردار لازمی جزو ہے ۔ ایک شخص جس کے اعصاب پر شہوت اور نشہ سوار ہو گا ، وہ اپنی ذہنی حالت کے تحت ہی فیصلہ کرے گا۔ اسلام کے نظام میں کردار اہم ہے ۔
باب العلم حضرت علیؑ فرماتے ہیں ۔
"دیکھو خبردار نیک اوربدکردار تمہارے نزدیک یکساں نہیں نہ ہونےپائیں کہ اس طرح نیک کرداروں میں نیکی سے بددلی پیدا ہوگی اوربدکرداروں میں بدکرداری کا حوصلہ پیدا ہوگا "
گویا بد کردار کا انتخاب بدکرداری کو فروغ کا سبب ہوتا ہے ۔ حکمران اپنے کردار کی وجہ سے اپنے ارد گرد جن لوگوں کو ذمہ داریاں دے گا ، وہ بھی عام طور پر ملتے جلتے کردار کے حامل ہونگے ۔ جمہوریت کا ایک ثمر یہ بھی ہے کہ حکومتی امور میں اکثر و بیشتر وہی لوگ شامل رہتے ہیں جو گذشتہ بد طینت حکومتوں کا حصہ رہے ہوتے ہیں ۔ ہمارے ہاں یہ امر نہایت شدت سے سامنے آیا ہے ۔
حضرت علیؑ نے فرمایا
"بدترین وزراء وہ لوگ ہیں کہ جو پہلے برے لوگوں کے وزیرتھے اوران کے گناہوں میں شریک تھے پس ایسا نہ ہو کہ ایسے افراد تمہارے ہم راز بن جائیں کیونکہ گناہگاروں کے یاورتھے اورظالم لوگوں کی مدد کرنے والے تھے پس تم ایسے افراد تلاش کرو جو فکری حوالے سے قوی اورمعاشرے میں جانی پہچانی شخصیات ہوں جنہوں نے کسی ظالم کی مددنہیں کی ایسے لوگ تیری نسبت مھربان تر ہوں گے ۔۔ان کو اپنی نجی اورسرکاری محفلوں میں دعوت کرو"
آزاد ھاشمی
١٦ جولائی ٢٠١٩
---- جاری ہے ۔ ملاحظہ ہو قسط ١٨ ۔۔
Wednesday, 17 July 2019
اسلامی نظام کیوں اور کیسے (17)
مجھے کچھ نہیں کہنا
" مجھے کچھ نہیں کہنا "
ملزم پر الزام تھا کہ اس نے گاوں کے معتبر اور نہایت اثر و رسوخ والے نمبر دار کو قتل کیا ہے ۔ عدالت میں گواہی دینے والوں نے اسکا جرم ثابت کر دیا تھا اور وہ خود بھی کچھ نہیں بول رہا تھا ۔ گاوں ایک ریاست کیطرح ہوتے ہیں ، جہاں ایک طبقہ محنت مزدوری سے پیٹ پالتا ہے اور گاوں کے زمیندار انہیں " کمی " کہتے ہیں ۔ کٹہرے میں کھڑا " بوٹا نائی " بھی اسی کمی برادری کا فرد تھا ۔ اسے چند لمحوں میں " پھانسی " کی سزا ہونے کی پکی امید تھی ۔ پورے کیس اور جرح کے درمیان جب بھی عدالت میں پوچھا گیا ۔
" تم اپنی صفائی میں کچھ تو بولو "
تو اس نے ایک ہی جملہ دہرایا ۔
" مجھے کچھ نہیں کہنا ہے ۔ مجھے عدالت کے انصاف کا نہیں اللہ کے انصاف کا انتظار ہے "
آج بھی یہی جواب تھا ۔ فیصلہ سنانے سے پہلے جج اپنے چیمبر جاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔
" بوٹے ! تم سوچ لو اور کچھ کہنا ہے تو کہہ ڈالو "
بوٹے نے لمبی آہ کھینچی اور بولا ۔
" ایک بات ہی کہنا باقی ہے "
جج اس حیرانی سے دوبارہ کرسی پہ بیٹھ گیا کہ شاید بوٹا نائی کچھ بولے اور وہ سنائی جانے والی سزا میں تخفیف کرے ۔
" جج صاحب ! یہ سارے گواہ جو میرے خلاف گواہی دے گئے ہیں ، سب خوفزدہ تھے کہ کل کو ان کے ساتھ بھی وہی ہوگا ، جو بوٹے نائی کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ سب جانتے ہیں کہ چودہری سے میری کوئی دشمنی نہیں تھی ۔ میری اوقات کہاں تھی کہ گاوں کے بادشاہ کو قتل کر دیتا "
بوٹا نائی پھر خاموش ہو گیا ۔ آنکھوں میں آنسووں کی برسات تھی اور ہونٹ کپکپا رہے تھے ۔ شاید کچھ کہنا چاہتا تھا مگر جذبات کے دباو میں کہہ نہیں پا رہا تھا ۔
" تم یہ کہہ رہے ہو کہ تم نے قتل نہیں کیا " جج نے سوال کیا ۔
" جی میں یہی کہہ رہا ہوں ۔ مگر اب جو کہنا ہے وہ کچھ اور ہے ۔ مجھے پتہ ہے کہ مجھ غریب پر آپ کیوں یقین کریں گے ، میرے اپنے گاوں والے تو میرے خلاف گواہ بن گئے ۔ وہ سب جو بوٹا نائی کو بچپن سے جانتے تھے ، انہوں نے مجھے قاتل ثابت کر دیا ہے ۔ تو آپ میری بات پہ یقین کیوں کریں گے ۔ "
وہ تسلسل کے ساتھ روئے جا رہا تھا ۔
" ایک عرض ہے " وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا ۔
" میرے بچوں کا کوئی سہارا نہیں ، میری پھانسی کے بعد یہ گاوں والے انکا جینا حرام کر دیں گے ۔ ان سے چھت بھی چھین لی جائے گی اور پاوں سے زمین بھی نکال لیں گے ۔ کوئی ایسا بندوبست کر دیں جج صاحب کہ میرے بچے قاتل کی اولاد کا کلک ماتھے پہ لگانے سے بچ جائیں ۔ کوئی ایسا قانون ڈھونڈھیں کہ انہیں وہ سب مل سکے جو انکا حق ہے "
جج کرسی پہ بے جان بت کیطرح بیٹھا ، اس کشمکش میں تھا کہ وہ اندھے قانون کا سہارا لے یا وہ فیصلہ لکھے جو حقیقت پر مبنی ہے ۔
" جج صاحب ! میں بے قصور ہوں ۔ میرا قصور صرف اتنا ہے کہ جب یہ قتل ہوا ، میں وہاں موجود تھا ۔ کسی نے نہیں سوچا کہ چوہدری پستول کی گولی سے قتل ہوا ، وہ پستول کہاں گیا ؟ جج صاحب وہ چوہدری کے چھوٹے بیٹے کے پاس ہے ۔ اس نے گولی کیوں ماری ؟ میں غریب زبان نہیں کھول سکا اور نہ ہی کھول سکتا ہوں ۔ ہم بے بس لوگوں کی زبان گروی ہوتی ہے جج صاحب ۔ ہم غلام ابن غلام پیدا ہوتے ہیں اور غلام اولاد چھوڑ کر پھانسیوں پہ چڑھ جاتے ہیں ۔ آپ کی مجبوری ہوگی کہ میرے گلے میں پھندہ ڈال دیں ۔ مگر میرا فیصلہ اوپر والے کے پاس ہے ۔ مجھے اور کچھ نہیں کہنا جج صاحب "
آزاد ھاشمی
١٦ جولائی ٢٠١٩