Wednesday, 17 July 2019

مجھے کچھ نہیں کہنا

" مجھے کچھ نہیں کہنا "
ملزم پر الزام تھا کہ اس نے گاوں کے معتبر اور نہایت اثر و رسوخ والے نمبر دار کو قتل کیا ہے ۔ عدالت میں گواہی دینے والوں نے اسکا جرم ثابت کر دیا تھا اور وہ خود بھی کچھ نہیں بول رہا تھا ۔ گاوں ایک ریاست کیطرح ہوتے ہیں ، جہاں ایک طبقہ محنت مزدوری سے پیٹ پالتا ہے اور گاوں کے زمیندار انہیں " کمی " کہتے ہیں ۔ کٹہرے میں کھڑا " بوٹا نائی " بھی اسی کمی برادری کا فرد تھا ۔ اسے چند لمحوں میں " پھانسی " کی سزا ہونے کی پکی امید تھی ۔ پورے کیس اور جرح کے درمیان جب بھی عدالت میں پوچھا گیا ۔
" تم اپنی صفائی میں کچھ تو بولو "
تو اس نے ایک ہی جملہ دہرایا ۔
" مجھے کچھ نہیں کہنا ہے ۔ مجھے عدالت کے انصاف کا نہیں اللہ کے انصاف کا انتظار ہے "
آج بھی یہی جواب تھا ۔ فیصلہ سنانے سے پہلے جج اپنے چیمبر جاتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔
" بوٹے ! تم سوچ لو اور کچھ کہنا ہے تو کہہ ڈالو "
بوٹے نے لمبی آہ کھینچی اور بولا ۔
" ایک بات ہی کہنا باقی ہے "
جج اس حیرانی سے دوبارہ کرسی پہ بیٹھ گیا کہ شاید بوٹا نائی کچھ بولے اور وہ سنائی جانے والی سزا میں تخفیف کرے ۔
" جج صاحب ! یہ سارے گواہ جو میرے خلاف گواہی دے گئے ہیں ، سب خوفزدہ تھے کہ کل کو ان کے ساتھ بھی وہی ہوگا ، جو بوٹے نائی کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ سب جانتے ہیں کہ چودہری سے میری کوئی دشمنی نہیں تھی ۔ میری اوقات کہاں تھی کہ گاوں کے بادشاہ کو قتل کر دیتا "
بوٹا نائی پھر خاموش ہو گیا ۔ آنکھوں میں آنسووں کی برسات تھی اور ہونٹ کپکپا رہے تھے ۔ شاید کچھ کہنا چاہتا تھا مگر جذبات کے دباو میں کہہ نہیں پا رہا تھا ۔
" تم یہ کہہ رہے ہو کہ تم نے قتل نہیں کیا " جج نے سوال کیا ۔
" جی میں یہی کہہ رہا ہوں ۔ مگر اب جو کہنا ہے وہ کچھ اور ہے ۔ مجھے پتہ ہے کہ مجھ غریب پر آپ کیوں یقین کریں گے ، میرے اپنے گاوں والے تو میرے خلاف گواہ بن گئے ۔ وہ سب جو بوٹا نائی کو بچپن سے جانتے تھے ، انہوں نے مجھے قاتل ثابت کر دیا ہے ۔ تو آپ میری بات پہ یقین کیوں کریں گے ۔ "
وہ تسلسل کے ساتھ روئے جا رہا تھا ۔
" ایک عرض ہے " وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا ۔
" میرے بچوں کا کوئی سہارا نہیں ، میری پھانسی کے بعد یہ گاوں والے انکا جینا حرام کر دیں گے ۔ ان سے چھت بھی چھین لی جائے گی اور پاوں سے زمین بھی نکال لیں گے ۔ کوئی ایسا بندوبست کر دیں جج صاحب کہ میرے بچے قاتل کی اولاد کا کلک ماتھے پہ لگانے سے بچ جائیں ۔ کوئی ایسا قانون ڈھونڈھیں کہ انہیں وہ سب مل سکے جو انکا حق ہے "
جج کرسی پہ بے جان بت کیطرح بیٹھا ، اس کشمکش میں تھا کہ وہ اندھے قانون کا سہارا لے یا وہ فیصلہ لکھے جو حقیقت پر مبنی ہے ۔
" جج صاحب ! میں بے قصور ہوں ۔ میرا قصور صرف اتنا ہے کہ جب یہ قتل ہوا ، میں وہاں موجود تھا ۔ کسی نے نہیں سوچا کہ چوہدری پستول کی گولی سے قتل ہوا ، وہ پستول کہاں گیا ؟ جج صاحب وہ چوہدری کے چھوٹے بیٹے کے پاس ہے ۔ اس نے گولی کیوں ماری ؟ میں غریب زبان نہیں کھول سکا اور نہ ہی کھول سکتا ہوں ۔ ہم بے بس لوگوں کی زبان گروی ہوتی ہے جج صاحب ۔ ہم غلام ابن غلام پیدا ہوتے ہیں اور غلام اولاد چھوڑ کر پھانسیوں پہ چڑھ جاتے ہیں ۔ آپ کی مجبوری ہوگی کہ میرے گلے میں پھندہ ڈال دیں ۔ مگر میرا فیصلہ اوپر والے کے پاس ہے ۔ مجھے اور کچھ نہیں کہنا جج صاحب "
آزاد ھاشمی
١٦ جولائی ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment