Saturday, 15 June 2019

وہ کون تھا

" وہ کون تھا "
وہ عمر رسیدہ ، غریب ریہڑی پہ بچوں کے کھلونے بیچنے والا تھا ۔ چند ماہ پہلے وہ بازار کے کونے پہ ریہڑی لگانے لگا تھا ۔ غربت بھی اسکے چہرے کے وقار اور شخصیت کو نہیں چھپا سکی تھی ۔ مسکرا کر سلام کرنے میں پہل کرنا اسکا معمول تھا ۔ چھوٹا ہو یا بڑا وہ سب کو سلام کرتا ۔  ہر روز ایک لمبی سی گاڑی اسکے پاس آکر رکتی ، ایک خوش لباس نوجوان گاڑی سے اترتا ، ریہڑی پہ لگی چیزوں کو صاف کرتا ، بابا جی کو کچھ کھانے کو دیتا اور چلا جاتا ۔ اس نوجوان کے دو پولیس گارڈ بھی ساتھ ہوتے ، جس سے یہ اندازہ ہوتا کہ وہ کوئی سرکاری افسر ہے ۔ لوگ چہ میگوئیاں کرتے ۔ کہ یہ ریہڑی والا کوئی ایجنسی کا آدمی ہے ۔ کسی کو جرات نہ تھی کہ اس سے پوچھ لیتا کہ وہ کون ہے ۔ آخر ایک روز ریہڑی سے کچھ دور چند معززین نے اس نوجوان کو روک کر ماجرا دریافت کیا ۔
" میں سیشن جج ہوں . مگر جو بھی ہوں انکی وجہ سے ہوں ۔ میرا ان سے کوئی دنیاوی رشتہ نہیں ۔ میرے والدین ایک حادثے میں چل بسے ، اسوقت میری عمر چھ سال تھی ۔ اور میری بہن کی عمر بارہ سال ۔ اللہ کے سوا ہمارا کوئی سہارا نہیں تھا ۔  انہوں نے اس ریہڑی کی کمائی سے ہمیں پڑھایا بھی اور میری بہن کی شادی بھی کی ۔ میری جب جاب لگی تو انہوں نے مجھے بلایا اور کہا ۔ 
بیٹا ! تم پر ایک قرض ہے ۔ وعدہ کرو کہ ادا کرو گے ۔ قرض یہ  ہے کہ تم ایک بچے کو پڑھاو گے اور ایک بہن کی شادی کرو گے ۔
میں اب تین بچوں کو پڑھا رہا ہوں اور دو بہنوں کی شادی کر چکا ہوں ۔
مگر اصل بات یہ ہے کہ بابا جی کی ریہڑی آج بھی کسی بے سہارا کا سہارا ہے ۔ جو یہ کبھی کسی کو نہیں بتاتے ۔
انکے اپنے بچے ، صاحب روزگار ہیں ۔ انکی تمام ضروریات وہ پوری کرتے ہیں ۔ ہر کوشش کے باوجود  وہ ان سے یہ دھندہ نہیں چھڑا سکے ۔ جب وہ ضد کرتے ہیں تو باباجی کسی دوسری جگہ ریہڑی لگا
لیتے ہیں ،  جہاں کوئی شناسا  نہ ہو ۔ اور کہتے ہیں اللہ نے میری ذمہ داری لگائی ہے میں پوری کر کے رہوں گا ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی

Wednesday, 12 June 2019

بیمثال انقلاب ، فتح مکہ

" بیمثال انقلاب . فتح مکہ "
وہ کونسا ستم تھا جو مکہ کے خود سر , سرکش , متکبر اور کینہ پرور سرداران مکہ نے اللہ کے نبی پر , اللہ کے نبی کی معاونت کرنے والوں پر اور اللہ کی وحدانیت پر ایمان لانے والوں پر نہیں آزمایا . زمین تنگ کر دی گئی , گھر بار چھین لیا , اور اسی پر اکتفا نہیں کیا , کئی کار زار سجا ڈالے . کفر اپنی شیطنت اور خباثت پر آخری حد تک پہنچ چکا تھا . وہ گھڑی قریب , جب ایک انوکھا انقلاب آنے والا تھا . رمضان کی سولہ تاریخ کو آ پہنچی . جب سرور کائنات , نہایت سادگی سے مکہ میں داخل ہوئے . سرداران مکہ کے جگر کانپ رہے تھے , ایک ایک کو اپنے ظلم یاد آرہے تھے . ابو سفیان کو بھی پسینہ چھوٹ رہا تھا , ھندہ کو بھی موت کا خوف کپکپا رہا تھا . کسی سرکش میں جرات نہیں تھی کہ سر اٹھائے اور تلوار سونت کر باہر نکلے , مبازرت کی دعوت دے , اپنے قبیلے کا رعب جمائے . فاتح , وہی تھا جو یتیم تھا , جس کی کمر پر اونٹ کی اوجھڑی ڈالی جاتی تھی , جسے طائف کے آوارہ بچے پتھر بھی مارتے تھے اور تضحیک بھی کرتے تھے . جسے تین سال تک محسور رکھا گیا .
دنیا میں کون ایسا فاتح ہو گا , جو مفتوحہ علاقے میں سادگی سے داخل ہو . اور اعلان کرے . سب کو امان دے اور دشمن کے گھر میں پناہ لینے والے کو بھی امان دے . تلوار اپنے میان سے نکالے بغیر مکہ کا فتح ہو جانا . مفتوح لوگوں کی نہ کوئی سرزنش , نہ کوئی انتقام . عفو و درگذر . کیسا عظیم فاتح کیسی عظیم فتح . رحمت اور سخا کا بہتا دریا .
انقلاب بھی معمولی نہ تھا , دنیا کا سب سے بڑا اور منفرد انقلاب . اندھیرے روشنی میں تبدیل , اللہ کے گھر سے سارے بت ختم , نہ کوئی جبر کہ وہی مکہ میں ریے گا جو اسلام لائے گا . ہر کسی کو کھلی آزادی کہ اپنے اپنے مذہب پر قائم رہنا چاہے تو آزادی سے رہے . نہ کسی جائیداد ضبط , سب کچھ ویسے کا ویسا . گمراہی کی جگہ ہدایت ہی ہدایت .
سولہ رمضان , تاریخ کے ایک انقلاب کا دن .
کاش ! ہم مسلمان , بیسیوں ایام منانے والے اپنے ایام سے بھی اگاہی رکھیں .
ازاد ھاشمی

Tuesday, 11 June 2019

جو دینا ہے ، جلد دے دو

" جو دینا ہے ، جلد دے دو "
" بیٹا ! جو آپ کسی کو دیتے ہو ، وہ آپکا ہوتا ہی نہیں ۔ وہ اللہ نے صرف آپ کی جیب میں کسی کی امانت رکھی ہوتی ہے ۔ کبھی مت سوچنا کہ تم نے اپنے مال میں سے کچھ بانٹا ہے ۔ تم وسیلہ تھے اور تم پر اللہ کا احسان تھا کہ تمہیں وسیلہ بنایا . وہ یہ ذمہ داری کسی اور کو بھی دے سکتا تھا ۔ صرف امانت لوٹانے پہ کسی زعم میں مت آ جانا "
بابا جی ! بڑے پیارے انداز میں سمجھا رہے تھے ، حالانکہ انہیں  ہر بات دو ٹوک اور سخت لہجے میں کہنے کی عادت ہے ۔
"  بیٹا ہم لوگوں کی عادت ہے کہ خیرات اور صدقہ اسوقت کرتے ہیں ، جب کسی الجھن ،  مصیبت یا مشکل سے دوچار ہو جاتے ہیں ۔ کبھی سوچتے ہی نہیں کہ تقویٰ تک پہنچنے کیلئے اپنے مال میں سے خرچ کرنا لازم ہے ۔ احسان کرتے ہیں حاجتمندوں پر ، چند سکے انکی ہتھیلی پر رکھ کر ۔ حالانکہ ان چند سکوں سے نہ انکی ضرورت پوری ہوتی ہے ، نہ شکم سیری ۔ اپنے پھٹے پرانے کپڑے ، بچا ہوا کھانا اور ضرورت سے زائد چیزیں بانٹنا کوئی خیرات نہیں ۔  مذاق ہے غریب کی غربت کا ، اسکی مفلسی کے زخم کو تازہ کرنے کی انجانی کوشش ہے ۔ حاجتمند کو اسکے سوال سے پہلے دینا اور اس طریقے سے دینا جیسے قرض کی ادائیگی کر رہے ہو ۔  احسن طریقہ ہے ۔ انتظار مت کرو کہ کوئی حاجتمند تمہارا دروازہ کھٹکھٹا کے بھیک مانگے ۔ مت انتظار کرو کہ عید آئے تو فطرہ ادا کرو گے ۔ جلدی دے دو تاکہ غریب بھی اپنے بچوں کی عید کا سامان کر لے ۔ فطرے کی رقم کا استفسار مت کرو ، دو جتنا دے سکتے ہو " 
بابا جی ! آج اس موضوع پر کیوں زور دے رہے تھے ۔ میری سمجھ سے باہر تھا ۔
" بیٹا ! پتہ ہے ہم غربت کی لکیر پر کیوں کھڑے ہیں ۔ ہم نے اپنے اپنے ہاتھ باندھ رکھے ہیں ۔ اگر آج ہر کوئی ہاتھ کھول دے تو نہ غربت رہے گی نہ پریشانی ۔ ہم توکل سے دور ہو گئے ہیں اور حرص کو قریب کر لیا ہے ۔ آج اپنے اپنے ہاتھ کھول دیں ، پھر دیکھیں چند دنوں میں فقیر نظر آنا بند ہو جائیں گے "
بابا جی کی بات میں وزن تھا
ازاد ھاشمی

Sunday, 9 June 2019

اللہ رحمتیں بانٹ رہا ہے ۔

" اللہ رحمتیں بانٹ رہا ہے "
" جو بدبخت روزہ نہیں رکھتا , اللہ کے غضب  کو آواز دیتا ہے . روز قیامت ایسا عذاب ملے گا , جو کئی سالوں  پر محیط ہو گا . اللہ کے غضب  سے ڈرو اے مسلمانوں  "
سپیکر پر آواز گونج رہی تھی . کوئی علامہ روزہ داری کی تلقین فرما رہے تھے . ادھر بابا جی تلملاتے ہوئے کہہ رہے تھے .
" اس ملا نے اپنے پیار کرنے والے رب کو اتنا جابر بنا دیا ہے , کبھی بولتا ہی نہیں کہ  اللہ کے  95 نام امید اور یقین پر ہیں ۔ ارے اللہ کو کیا ضرورت تھی کہ بہانے تلاش کرے , ہمیں جہنم میں ڈالنے کے ۔ وہ  تو تلاش رہا ہے  کہ اس چندرے کو جنت تو دینی ہے ۔ کوئی چھوٹی سی نیکی کرے اور اسے بخشوں " 
بابا جی ! کہہ رہے تھے .
" ارے وہ تو رحمتوں کے دروازے کھولے رکھتا ہے کہ کسی بھی وقت بھٹکا ہوا , خفت کے دو آنسو بہائے اور وہ حکم دے کہ اسکے سارے گناہ معاف کر دو .
ارے اولاد کتنی ہی غلطیاں کیوں نہ کر لے . ایک بار شرمندگی کے ساتھ ماں سے لپٹ جائے تو ماں سینے سے لپٹے بچے کو معاف کرنے میں دیر نہیں کرتی . میرا اللہ تو سات ماوں سے کہیں زیادہ پیار کرنے والا ہے . اس نے توبہ کا در ہمیشہ کھول رکھا ہے . وہ پلٹ آنے والے کو ایک پل میں معاف فرما دیتا ہے . "
" کیا اچھا ہوتا اگر ملا یہ اعلان کرتا , یہ خوشخبری دیتا انسانوں  کو , کہ لوٹ آو اللہ کی طرف . وہ تم سب کو فلاح کیطرف روز پانچ بار بلاتا ہے . عقل سے کام لو . وقت ہے فائدہ اٹھا لو . یہ روزہ رحمت کیطرف بلاوہ ہے , اس بلاوے کو سنو , کیا پتہ پھر یہ بلاوا آنے سے پہلے آخری سانس آجائے "
باباجی کا فلسفہ کبھی کبھی عجیب ہوتا ہے مگر بات دل کو لگتی ہے . کیا کریں گے اگر توبہ  سے پہلے سانس رک گئی . اللہ کی رحمت کا پیغام سنانے سے دل میں نیکی کا جذبہ پیدا ہونا فطری ہے . ہمارے مبلغین کو اللہ کی رحمتوں کو بیان کرکے اللہ کے احکامات کی طرف بلانا ہو گا . نماز , روزہ , حج , زکوات سب امتحان نہیں , رحمتیں بانٹنے کے بہانے ہیں . لوٹ لو رحمتیں , جتنی لوٹ سکو . 
ازاد ھاشمی