Sunday, 28 April 2019

انصاف کرنے والے بنو

" انصاف قائم کرنے والے بنو "
کتاب مبین میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا ۔
" اے ایمان والو! انصاف قائم کرنےوالے ، اللہ کی خاطر گواہی دینے والے بنو ۔ چاہے وہ گواہی تمہارے اپنے خلاف پڑتی ہو ، یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ۔ وہ شخص ( جس کے خلاف گواہی دی جا رہی ہو ) امیر یا غریب ، اللہ دونوں کا خیر خواہ ہے ۔ لہذا اپنی نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرنا جو تمہیں انصاف کرنے سے روکتی ہو ۔ اگر تم تروڑ مروڑ کرو گے یا پہلو بچاو گے تو اللہ تمہارے کاموں سے با خبر ہے ۔ سورہ نساء ١٣٥ "
قرآن پاک کے احکامات کا واضع فلسفہ برائی کا خاتمہ ہے ۔ کیونکہ اللہ اپنی مخلوق کی بھلائی چاہتا ہے ۔ یہ شیطان ہے جو انسان کو طرح طرح کی الجھنوں میں دیکھنا چاہتا ہے ۔ اس آیت کریمہ میں واضع حکم ہے کہ تم تمام ایمان والے انصاف کرنے والے بنو ۔ انصاف ، برائی اور اچھائی کو الگ الگ کرنے کا نام ہے ۔ اس میں اگر ایک تلچھٹ کی بھی آمیزش باقی رہ جائے گی تو انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہو گا ۔ سزا اور جزا اسکے بعد کا عمل ہے ۔ انصاف چونکہ معاشرتی خوشحالی ، امن اور بھلائی کی ضمانت ہوتا ہے ۔ اسلئے اللہ نے واضع حکم صادر فرمایا کہ تم اہل ایمان ، گواہی دیتے وقت کسی رشتہ داری ، ذاتی مفادات ، تعلق اور مصلحت کا شکار ہوئے بغیر گواہی دیا کرو تاکہ انصاف کا عمل ضرورت کے تقاضے پورے کر سکے ۔ یہ گواہی اگر تمہاری اپنی ذات کے خلاف بھی ہو تو دریغ مت کرنا ۔ تمہارے والدین کے خلاف جائے تو بھی حق کے ساتھ گواہی دینا ۔ امیر غریب کا تفاوت بھی مت رکھنا ۔ ساتھ ہی تنبیہہ بھی فرما دی ۔ یہ مت سوچنا کہ تمہیں کوئی دیکھ نہیں رہا ۔ اگر تروڑ مروڑ کرو گے ، یا تکنیکی گواہی دو گے تو اللہ تمام صورت حال سے با خبر ہے ۔
اللہ کے کسی بھی حکم سے انکار یا فرار کفر ہوتا ہے ۔ اسلئے ہمیں ذہن میں رکھنا چاہئیے کی گواہی میں جھول اللہ کے حکم کی سرتابی ہے ۔
دین سے اگاہی کے انحطاط نے ہمیں کفر کے کنارے لا کھڑا کیا ہے ۔ برائی کو چھپانے کو نظریہ ضرورت کا نام دیا جاتا ہے ۔ برائی پہ خاموش رہنے کو مصلحت کہا جاتا ہے ۔ کسی کے جرم کو اس لئے قبول کر لیا جائے کہ اس نے کبھی ایک نیکی کی تھی ۔یہ انصاف بھی نہیں اور اس گواہی کا انکار بھی ہے ، جسکی قران میں وضاحت فرمائی گئی ۔ قرآن کے احکامات کو واضع نہ کیا گیا تو برائی بڑھتی رہے گی ۔ ہم سب کا فرض ہے کہ قرآن کو سمجھنے کی ہر ممکن کوشش کریں ۔
آزاد ھاشمی
٢٨  اپریل ٢٠١٨