Friday, 25 January 2019

پہلی وحی کا نزول 2

پہلی وحی کا نزول (2)
پہلی وحی کا تسلسل اس حقیقت کا بین ثبوت ہے ، کہ یہ ایسا سبق نہیں جو کسی نو آموز اور نا خواندہ کو پڑھایا جا رہا ہے ۔ بلکہ یہ ایک دستور ہے جس کی ہر ہر شق پر پوری اگاہی دی جا رہی ہے ۔ انسان کی فطرت اور مزاج پر ، نہایت اختصار میں بتایا گیا کہ
کَلَّاۤ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَیَطۡغٰۤی ۙ
" ہرگز نہیں! انسان تو یقینا سر کشی کرتا ہے"
اَنۡ رَّاٰہُ اسۡتَغۡنٰی
" اس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز خیال کرتا ہے۔"
مگر اس اختصار میں بتایا جا رہا کہ آپؐ کو سونپی جانے والی ذمہ داری کسقدر کٹھن ہے ۔
کیونکہ جب انسان وسائل پر قابو پا لیتا ہے تو خود کو بے نیاز سمجھ کر سر کشی پر آمادہ ہو جاتا ہے ۔ ایسے انسان کی اصلاح اور سر کشی سے روکنا ، نا ممکنات کی حد تک مشکل ہے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ انسان کتنا بھی خودسر ہو جائے ، ایک روز
اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجۡعٰی
" یقینا آپ کے رب کی طرف ہی پلٹنا ہے۔"
آپ کی نبوت اور رسالت کی ذمہ داری کے یہ ابتدائی مشکل ترین پہلو ہیں  ، جس کی اصلاح کی ذمہ داری سونپی جا رہی ہے  ۔  وحی دوسرے انبیاء پر نازل ہوئی ، صحائف اور الہامی کتابیں دوسرے رسولوں کو بھی دئیے گئے ۔ اب چونکہ کامل دین کے نازل کرنے کا مرحلہ تھا ،
جس وجہ سے آپ پر وحی کا نزول اور دین کی تشریح کا انداز بھی پہلے انبیاء اور رسولوں سے مختلف تھا ۔  اب ایک قوم ، یا ایک امت کی اصلاح تک نبوت کی حد قائم نہیں کی جا رہی تھی ، جیسے پہلے رسولوں پر کی گئی ۔  اب اس رسالت کی حد دنیا کے وجود تک کے تمام انسانوں کیلئے تھی ۔
----- جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢٣ جنوری ٢٠١٩

Wednesday, 23 January 2019

پہلی وحی کا نزول

پہلی وحی کا نزول (1)
"اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الَّذِیۡ خَلَقَ ۚ "
اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلی وحی کا  رسولؐ کو مخاطب کرتے ہوئے پہلا پیغام تھا ۔
" پڑھیے! اپنے پروردگار کے نام سے جس نے خلق کیا ."
تو رسولؐ کے سامنے کوئی کتاب نہیں رکھی گئی ۔ کوئی تحریر نہیں تھی کہ جسے پڑھنے کا حکم دیا جا رہا تھا ۔ کوئی لکھے ہوئے حروف یا الفاظ نہیں تھے ۔
بلکہ کائنا ت کی کھلی تخلیق کے مشاہدے اور علم کی بات شروع کی گئی ۔  پہلا باب اس کائنات کے خالق کی تخلیق کا مطالعہ تھا , فکر کی دعوت تھی ، سوچنے کا رخ تھا ۔
دوسرا باب " خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ عَلَقٍ ۚ"
اور دوسرا باب کائنات کی اس مخلوق کے بارے میں تھا  ، جسے اشرف المخلوقات بنایا گیا  ۔ کہ اس تخلیق کا پہلا مرحلہ ، خون کے ایک لوتھڑے سے شروع ہوتا ہے ،  جو انسان کے تفاخر کی نفی ہے ۔ مگر  اس تخلیق کو کیا حسن ملا ،  کیا شکل دی گئی اور یہ کیسے ہوا ۔ یہ تیسرا باب ہے کہ
"اِقۡرَاۡ وَ رَبُّکَ الۡاَکۡرَمُ "
بتایا جا رہا ہے کہ یہ تیرے رب کے کرم کیوجہ سے ہوا ۔ ورنہ انسان کی حیثیت کچھ  نہ تھی ۔  پھر اس انسان کو عروج کیطرف کیسے لے جایا گیا ، فرمایا
الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالۡقَلَمِ ۙ
جس نے قلم کے ذریعے سے تعلیم دی۔
عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ یَعۡلَمۡ ؕ
اس نے انسان کو وہ علم سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔
وحی کی تعلیم کا یہ انداز  محض ظاہری حواس کے ذریعے سے اگاہی دینا نہیں بلکہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اخذ کرانا تھا ۔ جب یہ پیغام حضورؐ کو ملا تو اسکی
تصدیق آپ ؐ کے دل نے کی ہے۔ مَا کَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰی (نجم:11) ’’جوکچھ دیکھا تھا اس کی دل نے تکذیب نہیں کی۔‘‘ لہٰذا یہ کہنا کہ رسول کریمؐ پر نزول وحی اور نبوت کی تصدیق  ورقہ بن نوفل سے لی  گئی ہے، درست نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٢٢ جنوری ٢٠١٩

Tuesday, 22 January 2019

قل ہو اللہ آحد

"قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ "
قرآن کی بلاغت ہے کہ ایک ایک لفظ میں ، ایک مفصل پیغام ہے ، واضع حکم ہے ۔
" قل " کا لفظی معنی "کہہ دو " ہے مگر اصل پیغام یہ ہے کہ ہر قاری پر لازم قرار دیا گیا کہ وہ اس بات کی اشاعت کرے ۔  تبلیغ کرے ۔ اگاہی دے ۔ کہ " اللہ آحد ہے "
اَحَدٌ : اس ’’ ایک‘‘ کے لیے استعمال ہوتا ہے جو کثرت کو قبول نہ کرے۔  اسلام میں توحید بنیادی ایمان کی حیثیت رکھتا ہے ۔ یوں کہہ لیں کہ اللہ کی وحدانیت اسلام کی اساس ہے ۔ ایمان کے لئے لازم ہے کہ ہم اللہ کو اسکی ذات میں اور صفات میں " آحد " مانیں ۔
اَللّٰہُ الصَّمَدُ
وہ ذات  جس کے سب محتاج ہیں اور وہ کسی کا محتاج نہیں  ۔ احتیاج ضرورت کی شکل ہے ۔ کائنات میں جس کی بھی تخلیق ہوئی وہ کسی نہ کسی عمل کے تحت ہوئی اور جو کچھ موجود ہے اسے قائم رہنے کیلئے کچھ نہ کچھ درکار ہے،  یہ احتیاج ہے اور یہ محتاجی ہے ۔ اللہ کی ذات واحد ذات ہے جو اس سب سے بے نیاز ہے ۔  چونکہ وہ بے نیاز ہے اسلئے اسے اپنی ذات کیلئے کسی تخلیقی عمل کی قطعی ضرورت نہیں ۔
لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَ لَمۡ یُوۡلَدۡ ۙ
"نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا"
اللہ کی ذات اور صفات میں چونکہ کوئی تخلیقی احتیاج شامل نہیں  اسلئے پیدائش کا عمل اور پیدائش کے عمل سے گذرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ باقی کائنات میں کوئی بھی ایسا نہیں جسکی ذات کسی نہ کسی عمل کی محتاج نہ ہو۔  اسلئے قرآن کہتا ہے
وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ
" اور کوئی بھی اس کا ہمسر نہیں ہے۔"
چونکہ سورہ کا آغاز " قل " سے کیا گیا تو ہر اس شخص پر لازم ہو گیا جو ایمان لایا اور جس نے اسلام قبول کیا کہ ہم اللہ کی ان تمام صفات کی اشاعت کریں ، اگاہی دیں اور تبلیغ کریں ۔ ان صفات کی ضد میں کی جانے والی ہر کوشش کی نفی کریں ۔
آپ کی دعاوں کا طالب
آزاد ھاشمی
٢١ جنوری ٢٠١٩

Monday, 21 January 2019

بد بخت

" بد بخت "
اللہ رحیم و کریم نے اسے صبر کے اعلیٰ درجے تک نواز رکھا ہے ۔ وہ ایک صابر اور شاکر دل کی مالک ماں ہے ۔ تکلیف کی انتہا میں بھی کبھی اظہار کرتے نہیں دیکھا تھا ۔ مجھے یاد ہے کہ جب کمر کی درد سے حرکت کرنا بھی مشکل ہو رہا تھا ۔ تب بھی باورچی خانے میں کچھ نہ کچھ کر رہی ہوتی تھیں ۔ کبھی پیٹ بھر کے کھانا نہ کھانا عادت بن چکی تھی ۔ بیٹے اپنے اپنے گھروں میں ہر آسائش سے لطف اٹھا رہے ہیں  ، اور یہ ماں گرمی میں تنگ سے گھر میں زندگی گذار رہی ہے ،  اور کبھی شکایت کا ایک لفظ زبان پہ نہیں لاتیں ۔ وہ دن بھی یاد ہے جب بیٹے نے ماں کو " جھوٹی " ثابت کر دیا تھا ، تاکہ پسند کی شادی کر سکے ۔ مگر اس فرشتہ صفت خاتون کی زبان گنگ ہو کر رہ گئی ،  بیٹے کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے تکتی رہی تھی ۔ بچوں کی ہر بے اعتنائی کی پردہ داری کرنے والی یہی ماں ، فون پر بلک بلک کر رو رہی تھی ۔
" دیکھنا بیٹا ! ایک دن میرا صبر ان بد بختوں کا کڑا امتحان بن جائے گا "
جب ایک ماں اپنی اولاد کے بارے میں ایسے کہے گی تو یہ اسکے دکھ کی انتہا ہوگی ۔
" میرے جسم میں جان باقی نہیں رہی ۔ بیماری نے معذور کر دیا ہے ۔ پچھلے کئی روز سے خون تھوک رہی ہوں ۔ کم بخت کہتے ہیں ، ہمارے پاس کچھ نہیں اور تین روز پہلے ہزاروں روپے لگا کر بچی کی سالگرہ کی ہے ۔ "
وہ ایک چھوٹے معصوم بچے کیطرح چیخ کر رو رہی تھی ۔
" میں نے بھی قسم کھا لی ہے ، مر جاوں گی مگر ان کم بختوں سے کبھی دوائی نہیں مانگوں گی ۔ ایک نے گھر خرید لیا ہے اور دوسرے نے کار ۔ مگر جب میں مرنے لگتی ہوں تو خیراتی ہسپتال لے جاتے ہیں "
وہ سامنے والے کی بات سنے بغیر  اپنا دکھ کہے جا رہی تھیں ۔
" بیٹا ! ڈیڑھ سال سے میں یہ سب تم سے کہنا چاہتی تھی ۔ آج ہمت کر کے کہہ رہی ہوں ۔ میرا راز رکھنا ۔ اب میں اپنی اولاد کا بھرم کیسے رکھوں ؟ دل بہت بوجھل تھا ۔ سوچا کہ جی بھر کے رو لوں "
سر کی چادر بھی آنسووں کو سمیٹنے میں ناکام ہو گئی ۔
" یہ نمازیں بھی پڑھتے ہیں ، عمرے بھی کرتے ہیں ، قرآن بھی باقاعدگی پڑھتے ہیں ۔ لیکن دیکھنا ، اللہ یہ سب انکے منہ پہ  دے مارے گا "
ماں اپنے بطن سے جنم لینے والی اولاد کیلئے ایسا بول رہی ہو تو اسکا کرب انتہا پر ہوتا ہے  ۔
" بیٹا ! انکی بلیوں کے علاج کیلئے ہر ہفتے دو ہزار روپیہ جاتا ہے اور روز پانچ سو کی خوراک آتی ہے ، میرے لئے دوائی کے پیسے نہیں ۔ سترہ بلیوں کو پال رہے ہیں اور ایک ماں دوائی کو ترس رہی ہے ۔ کہتے ہیں بلیوں  کے خیال رکھنے کا بہت اجر ہے"
اس نے آنسووں کے سیلاب کو بہانے کا پختہ ارادہ کر رکھا تھا ۔
میں سن رہا تھا ۔ میرے منہ سے بے اختیار نکلا
" اے اللہ ! ایسی بد بخت اولاد کسی کو نہ دے "
آزاد ھاشمی
١٨ نومبر ٢٠١٩

انسانوں سے گفتگو

"وَ قُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا"
اللہ سبحانہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ
جب بھی انسانوں سے بات کرو تو احسن طریقے سے کرو ۔ گفتگو کا انداز ہر انسان کی شخصیت اور مزاج کا پیمانہ ہوتا ہے ۔ ایک بد کلام شخص فطری طور پر اچھے کردار کا حامل نہیں ہوتا ۔ کیونکہ بد اخلاقی سے پیش  آنے والے کی طبیعت  پر تکبر کا غلبہ ہوتا ہے۔ اللہ کا ہر حکم اہم ہے ۔ اور جس بھی حکم کی تاکید کی گئی ہے وہ اتنا ہی اہم ہے اور اس سے سرکشی اتنی ہی قابل گرفت ہے ۔
  قرآن میں متعدد مقامات پر حسنِ گفتار کی تاکید ہوئی ہے کیونکہ حسنِ گفتار میں بھلائی ہے ،  جبکہ بدکلامی سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خوش کلامی میں احترام آدمیت ملحوظ رہتا ہے۔ اس لیے قرآنی تعلیمات میں  احترام آدمیت کو مادی قدروں سے زیادہ اہمیت دی گئی ۔
ارشاد باری ہے: قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّ مَغۡفِرَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ صَدَقَۃٍ یَّتۡبَعُہَاۤ اَذًی ۔
خوش کلامی اور درگزر اس خیرات سے بہتر ہیں جس کے بعد ایذاء دی جائے۔
اس حکم کی تعمیل ہر مسلمان پر فرض ہے ، اور شاید غلط نہیں کہ اکثریت اس سے غافل بھی ہے ۔ اس پر عمل سے روز مرہ کے بیشتر معاملات آسان ہو جائیں گے ۔
آزاد ھاشمی
١٩ جنوری ٢٠١٩