Monday, 21 January 2019

انسانوں سے گفتگو

"وَ قُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا"
اللہ سبحانہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ
جب بھی انسانوں سے بات کرو تو احسن طریقے سے کرو ۔ گفتگو کا انداز ہر انسان کی شخصیت اور مزاج کا پیمانہ ہوتا ہے ۔ ایک بد کلام شخص فطری طور پر اچھے کردار کا حامل نہیں ہوتا ۔ کیونکہ بد اخلاقی سے پیش  آنے والے کی طبیعت  پر تکبر کا غلبہ ہوتا ہے۔ اللہ کا ہر حکم اہم ہے ۔ اور جس بھی حکم کی تاکید کی گئی ہے وہ اتنا ہی اہم ہے اور اس سے سرکشی اتنی ہی قابل گرفت ہے ۔
  قرآن میں متعدد مقامات پر حسنِ گفتار کی تاکید ہوئی ہے کیونکہ حسنِ گفتار میں بھلائی ہے ،  جبکہ بدکلامی سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خوش کلامی میں احترام آدمیت ملحوظ رہتا ہے۔ اس لیے قرآنی تعلیمات میں  احترام آدمیت کو مادی قدروں سے زیادہ اہمیت دی گئی ۔
ارشاد باری ہے: قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّ مَغۡفِرَۃٌ خَیۡرٌ مِّنۡ صَدَقَۃٍ یَّتۡبَعُہَاۤ اَذًی ۔
خوش کلامی اور درگزر اس خیرات سے بہتر ہیں جس کے بعد ایذاء دی جائے۔
اس حکم کی تعمیل ہر مسلمان پر فرض ہے ، اور شاید غلط نہیں کہ اکثریت اس سے غافل بھی ہے ۔ اس پر عمل سے روز مرہ کے بیشتر معاملات آسان ہو جائیں گے ۔
آزاد ھاشمی
١٩ جنوری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment