" طلقاء کا بیٹا "
کربلا کے پر آشوب اور کرب و ابتلاء کے بعد اسیران کربلا ، رسیوں سے بندھے ہاتھوں ، سروں سے اتری چادروں ، خاک سے اٹے چہروں اور طویل سفر کی تھکان سے پسے ہوئے ، یزید بد بخت کے دربار میں لائے گئے ۔ یہ اسیر کوئی کڑیل جوان جنگجو نہیں تھے ۔ کہ جنکو اس اذیت سے گزارنا فاتح اپنی شان تصور کرے ۔ ایک بیمار جوان جو چلنے کی سکت بھی نہیں رکھتا تھا ، اور باقی خواتین اور بچے ۔ خواتین بھی اس آل سے جن کے سر کا بال بھی ننگا نہ ہوتا تھا ۔ آج اپنے بالوں کی چادریں اپنے چہروں پہ ڈالے لائی جا رہی تھیں ۔ اس قافلے کی قیادت بیمار قافلہ نہیں بلکہ شیر خدا کی بیٹی کر رہی تھی ۔ وہ اللہ کا شیر جسے خیبر میں رسولؐ خدا نے " ادرکنی یا علی" کہہ کر آواز دی ۔ آج سالار قافلہ ایک اقتدار کے بھوکے اور تکبر و رعونت کے مریض ، جو بغض اور کینہ کا پروردہ تھا ، رسیوں سے جکڑے کھڑی تھیں ۔
حسینؑ کا سر یزید کے سامنے رکھا تھا ۔
یزید بن معاویہ نے زبعری کے اشعار پڑھ کر امام حسین علیہ السلام کے قتل کو اپنے لئے باعث فخر قرار دیا اور کہا کہ کاش جنگ بدر میں مارے جانے والے میرے اجداد زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ میں نے کیا کارنامہ سرانجام دیا ہے؛ تو سالار قافلہ زینب بنت علی(س) نے فرمایا:
أَ مِنَ الْعَدْلِ يَابْنَ الطُّلَقاءِ! تَخْدِيرُكَ حَرائِرَكَ وَ إِمائَكَ، وَ سَوْقُكَ بَناتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَ سَلَّم سَبايا؛
ترجمہ: اے طلقاء (آزاد کردہ غلاموں) کے بیٹے کیا یہ انصاف ہے کہ تو نے اپنی مستورات اور لونڈیوں کو پردے میں بٹها رکھا ہوا ہے اور رسول زادیوں کو اسیر کرکے پھرا رہا ہے"
آج تاریخ کا ورق ورق گواہ ہے کہ یزید کیلئے اس ندامت کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ سوائے اسکے کہ آل رسولؐ پر مشق ستم اور سخت کردے ۔ جو اس نے کر ڈالی ۔ انجام کیا ہوا ؟ جن کو کربلا سے شام تک بازار بازار گھمایا گیا ، آج انکی عزت و توقیر کا کوئی ثانی نہیں ۔ اور جس نے بادشاہی کے زعم میں یہ سب کیا ، آج صبح و شام لعنت و ملامت کا مستحق ٹھہرایا جاتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
یکم ستمبر ٢٠١٨
Saturday, 8 September 2018
طلقاء کا بیٹا
قرآن مجید اور علم و حکمت (3)
" قرآن مجید اور علم و حکمت(3) "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے بہت سارے موضوعات کو بھی چند آیات کے اندر اسطرح بیان فرمایا ہے کہ انسان کیلئے تحقیق کی نئی نئی راہیں مقرر فرما دیں ۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ؛
" زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو یہ سب تہماری طرح کے معاشروں میں ہیں "
یعنی پرند اور چرند بے لگام زندگی نہیں گذارتے انکے بھی معاشرے ہیں ، گروہ ہیں اور ایک نظم و ضبط ہے ۔ خالق کی ہر تخلیق کو کسی نہ کسی طرح کا ربط دیا گیا ہے ۔ قرآن میں بیان کئے گئے قاعدے پر آج انسان نے جتنی بھی تحقیق کی اسے قرآن کی صداقت کے ثبوت ملے ہیں ۔ قرآن میں اگاہی دی کہ
" کیا ان لوگوں نے کھبی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کس طرح مسخر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کس نے انکو تھام رکھا ہے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔"
ایک اور آیت مبارکہ میں
فرمایا
" یہ لوگ اپنے اوپر اُڑنے والے پرندوں کو پر پھیلاتے اور سیکٹرتے نہیں دیکھتے؟ رحمان کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو۔ وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔"
ان آیات سے قانون فطرت کیطرف اشارہ ہے ۔ انسان دیکھتا ہے کہ ایک پرندہ اپنی پرواز کے دوران تسخیر کے عمل سے گذرتا ہے ۔ سائنس اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پرندے اپنی بقاء اور نسل کی ترویج کیلئے ہزاروں میل کا سفر کرکے ایک خطے سے دوسرے خطے کیطرف نقل مکانی کرتے ہیں ۔ سفر کا کٹھن ہونا ، سمت کا تعین کرنا ، سفر کے اوقات کا حساب رکھنا ، پرندے کی اپنی عقل اور شعور کے تحت نہیں ہے بلکہ اس قانون فطرت کے تحت ہے جو قدرت نے انکے لئے طے کر رکھا ہے ۔ قرآن نے انسان کو بنیاد فراہم کر دی کہ وہ پرندوں کی معاشرت پر ، انکی تسخیر کے عمل پر تحقیق کرے ۔ ہزارہا انواع و اقسام کے جانور اور پرندوں پر تحقیق ہر روز ایک نیا باب کھول دیتی ہے ۔ یہ صرف قران کا اعجاز ہے کہ تحقیق کا لمبا سفر چند آیات میں بیان کرکے انسان کی رہنمائی کر دی ۔
۔۔۔۔۔ (جاری ہے )۔۔۔۔۔۔
آزاد ھاشمی
٨ اگست ٢٠١٨
Friday, 7 September 2018
امام حسینؑ کی امامت
" امام حسینؑ کی امامت "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اسلامی سال کا اختتام ایک عظیم شہادت سے فرمایا اور مسلمانوں پر فرض کر دیا کہ وہ اس سنت کو ہر سال اگر استطاعت رکھتے ہیں تو ایک بار دہرائیں ۔
اسی اسلامی سال کا آغاز بہتر ٧٢ عظیم تر شہادتوں سے ہوا ، جسے کئی مسلمان ، مسالک کی بحث میں بھلانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔
اور کچھ ایمان والے شہید کربلا کی امامت کو ایمان کہتے ہیں اور اس امامت کی تقلید اعلان کرتے ہیں ۔
سلام ہے ایسے مسلمانوں پر ۔
حسینؑ ابن علیؑ کی امامت دین کے ابلاغ تک محدود نہیں تھی ، دین کے بچاو تک ہے ۔ اسماعیلؑ اور ابراہیمؑ کی قربانی تمثیل میں بہا ہوا خون تھا کہ ابراہیمؑ کو انبیاء میں بلند مقام ملا ، اور امامت ملی ۔ حسینؑ کا خون عملی طور پر کربلا کی زمین پر بہا ، اور امامت کا وہ درجہ ملا جو کسی دوسرے کو نصیب نہیں ۔
حسینؑ کی امامت کیا ہے؟ حسینؑ کی تعلیم کیا ہے؟ حسینؑ کا پیغام کیا ہے؟ یہ ہے وہ اصل فکر جس پر غور کرنے ، عمل کرنے اور یاد رکھنے سے اس امامت کے مقلد ہونے کا حق ادا ہوتا ہے ۔
مذہب کا لبادہ اوڑھے ، اقتدار کا حریص شخص ، اپنے کھیل تماشے کی عادت کے ساتھ ملوکیت کو فروغ دے کر ، اسلام کی تعلیم کو رخ موڑنا چاہتا تھا ۔ طاقت بھی رکھتا تھا ، حرص بھی اسکی گھٹی میں تھی ، کینہ اسکے خون میں تھا اور اسی کی روش کے پیرہن میں ایک فوج اسکے ساتھ تھی ۔ اتنی طاقت نہ کسی دوسرے کے پاس تھی اور نہ کوئی ایسا تھا کہ اسکے سامنے کھڑا ہو سکے ۔ اسوقت امامت کا جو حق حسینؑ ابن علیؑ نے ادا کیا ، وہ حسینؑ ہی کی شان ہے ۔ پھر حسینؑ نے امامت کا حق اسطرح ادا کیا ۔
ایسی نماز پڑھی کہ قیامت تک نماز کو قیام مل گیا ۔
ایسا سجدہ کیا کہ سجدوں کا تقدس محفوظ ہوگیا ۔
امام نے بتا دیا کہ اگر کوئی اللہ کے دین سے ہٹ کر اپنی بادشاہت کی بنیاد رکھنا چاہے ، تو اسے روکنے کیلئے چھ ماہ کے معصوم کا خون بھی دینا پڑے تو دریغ مت کرو ۔ اپنے خون کے رشتے ، جانثار ساتھی اور اپنی جان بھی نچھاور کرنی پڑے تو اللہ کی رضا پر قربان کر دو ۔ خنجر گردن پر ہو تو بھی
"سبحان ربی العلیٰ "
کہنا مت بھولو ۔ یہ تھی انوکھی تبلیغ اور بے مثل امامت جو امام حسینؑ نے کی ۔
اے امام حسین ؑ کی امامت میں کھڑے ہونے والو !
کیا امام کی تعلیم پر پہرہ دے رہے ہو؟ کیا امام کی رضا کی تلاش کر رہے ہو؟ اپنا احتساب کرتے رہنا ۔
یزید کی راہ شیطان کی راہ تھی ۔ اس پر چل نکلے تو امام حسینؑ سے تعلق نہیں منافقت ہوگی ۔ اور یقین کر لینا کہ امام سے تعلق توڑے بیٹھے ہو یا جوڑے بیٹھے ہو ۔
آزاد ھاشمی
٧ ستمبر ٢٠١٨
قران مجید اور علم و حکمت2
" قرآن مجید اور علم و حکمت (2)"
سائنس اس دور کا وہ مضمون ہے جو زندگی کے ہر شعبہ پر محیط ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ سائنس تخیل اور نظریات کی بنیاد پر قائم ہے ۔ یہ نظریات اور ان پر تجربات سے ہونے والے نتائج ایک خاص مدت تک اپنی افادیت برقرار رکھتے ہیں اور وقت کے ساتھ ان میں تبدیلی ناگزیر ہوتی ہے ۔
قرآن چونکہ ایک دائمی علم ہے ، اس میں تبدیلی نہیں ہوتی ، ہاں اس سے وقت کی ضرورت کے مطابق تحقیق کرنے سے رہنمائی ملتی ہے ۔ ہم قران پاک کو سائنس کی کتاب نہیں کہہ سکتے ، ہاں البتہ دنیا کے ہر شعبہ میں تحقیق ، حکمت اور رہنمائی کا منبع کہہ سکتے ہیں ۔ قرآن نظریات پیش نہیں کرتا بلکہ سائنس کے اصول دیتا ہے ، جس پر وقت کی ضرورت کے مطابق نتائج اخذ کئے جاتے ہیں ۔
قرآن مجید میں چھ ہزار چھ سو چھتیس آیات ہیں، جن میں ایک ہزار سے زیادہ سائنس کے متعلق ہیں، جو سائنس کے اصول وضع کرتی ہیں ۔
سائنس کے ان علوم کو علم نباتات ، حیوانیات ، طبیعات ، کیمسٹری ، جیالوجی ، علم طب وغیرہ وغیرہ کو دیکھتے ہیں کہ قرآن نے کس احسن انداز سے پیش کیا ۔
۔۔۔جاری ہے ۔۔۔
آزاد ھاشمی
٦ ستمبر ٢٠١٨
Thursday, 6 September 2018
حرام اور حلال
" حرام اور حلال "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے خنزیر ، شراب ، شرک ، جوا ، زنا ، مردہ جانور ، ایسے جانور جن پر اللہ کا نام لئے بغیر ذبح کیا ہو ، سود ، ناحق قتل وغیرہ پر حرام ہونے کی حد قائم کر دی ۔ جسے اللہ نے حرام کیا ، وہ حرام ہے اور جسے حلال کیا وہ حلال ہے ۔ اللہ نے جس عمل سے منع کیا اور ہم نے نہیں مانا ، یہ اللہ کے حکم سے سرکشی ہے ، کفر ہے اور انکار ہے ۔ اللہ کے حکم سے سرکشی کرنے والا کافر اور انکار کرنے والا منکر ہے ۔ اس پیمانے پر جائزہ لیا جائے تو ہم ایمان کی شرائط پوری کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں ۔ اس میں علماء کا بہت عمل دخل ہے کہ انہوں نے صرف ان موضوعات پر مشق جاری رکھی ، جو فروعی تھے ۔ اصولی موضوعات سے
بے خبر رکھا ۔ خنزیر کو ایسا حرام قرار دیا کہ اسکا نام لینے سے زبان کو ناپاک سمجھتے ہیں ، جس جگہ خنزیر پکایا جائے اس جگہ کو اور اس برتن کو ناپاک سمجھتے ہیں ۔ شراب ، جوا اور زنا ، معاشرے میں عام سی بات بن کر رہ گئی ۔ جبکہ یہ معاشرتی گناہ تھے اور ان گناہوں نے معاشرہ بگاڑ کر رکھ دیا ۔ شرابی ، زانی اور جواری ان گناہوں پر شرمندگی کی بجائے اسے شان سمجھتے ہیں ۔ دستور میں بہت سارے معاملات زیر بحث لائے جاتے ہیں مگر قانون سازوں نے نہ ان پر کوئی سخت قانون سازی کا بل پیش کیا اور نہ کسی نے اس پر تحریک چلائی ۔ ہم ناحق قتل کو بسا اوقات جہاد کا نام دے لیتے ہیں ۔ اللہ نے سود کو اپنے اور اپنے رسولؐ کے ساتھ کھلی جنگ قرار دیا ، ہماری معیشت سود پر ہے ۔ کون مسلمان ہے جو کسی نہ کسی طرح سود کی لعنت سے منسلک نہیں ؟
اللہ نے واضع طور پر بتا دیا کہ یہود و نصاریٰ اور سارے کافر آپس میں دوست ہیں اور تمہارے دشمن ہیں ، ہم نے اس پر یقین نہیں کیا ؟ اور کفار سے گہرے رشتے استوار کئے ۔ یہ کھلا کھلا اللہ کی اطاعت سے انکار نہیں تو اسے کیا نام دیا جائے گا ۔ شرک ایسا گناہ ، جس کی نہ اس دنیا میں معافی اور نہ آخرت میں ۔ ہم کتنے ایسے افعال کرتے ہیں جو شرک کے زمرے میں آتے ہیں ؟ ہمارا اپنا ایک نظام تھا ، ایک دستور تھا ، اپنا فلسفہ تھا ، اپنے قانون اور قاعدے تھے ۔ ہم نے سب چھوڑ رکھے ہیں ۔ یہودی کا نظام معیشت ، عیسائیت کا نظام تعلیم اور قانون ، یہودی کا نظام حکومت ، کون سوچتا ہے کہ حلال کیا ہے اور حرام کیا ۔ اللہ اور اسکے رسولؐ کی ماننا حلال اور نہ ماننا حرام ہے ۔
کیا ہم اسطرف سوچیں گے ؟ یا یونہی فروعات میں پڑے رہیں گے ۔
آزاد ھاشمی
٦ ستمبر ٢٠١٨
Wednesday, 5 September 2018
قرآن مجید اور علم و حکمت
"قرآن مجید اور علم و حکمت(1)"
دنیا میں بیشمار کتابیں لکھی گئیں ۔ الہامی کتب بھی نازل ہوئیں ، صحیفے بھی اور علم و رشد کی بیشمار کتابیں دنیا کی نظروں سے گذریں ۔ واحد کتاب ، جسے آفاقی کتاب ہونے کا اعزاز ہے ، وہ قرآن کریم ہے ۔ کسی بھی کتاب کا دیباچہ اس کتاب کی افادیت کا نچوڑ ہوتا ہے ۔ قرآن کا دیباچہ سات آیت پر مشتمل اور ہر رخ کا ایسا مدلل اظہار کہ آج تک ایسے دیباچے کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی ۔ اللہ کے اختیار ، قدرت ، شان اور قوت کا اظہار ۔ بندوں کیلئے رہنمائی کی طلب کا طریقہ ۔ برائی اور برے لوگوں کے راستے سے اجتناب ، دعا اور بخشش ایک ساتھ ۔ انسان کی بھلائی کیلئے واضع راستہ اسطرح بیان کیا گیا کہ جتنا پڑھنے والے کا شعور ہوگا ،
اتنی راہ اور ہدایت کھلتی جائے گی ، ایک عام قاری کو بھی سمجھ آجائے اور ایک فلسفی بھی مکمل استفادہ کر سکے ۔جیسے جیسے شعور بڑھے گا ویسے ویسے مفہوم کھلتا جائے گا ۔ واحد کتاب جو دعویٰ کرتی ہے کہ اس میں کوئی " ریب " نہیں ۔ کوئی نقص نہیں ۔
ایک مکمل کتاب جو علوم بناتات پر پورا احاطہ کرتی ہو ، وہ ایک مخصوص علم کی کتاب تو ہو سکتی ہے مگر پورے علوم جس کی انسان کو ضرورت ہے ۔ اس کتاب سے پورے نہیں ہوتے ۔ وہ کتاب شعبہ طب کے طالبعلم کیلئے بے سود ہے ۔
صرف قرآن واحد کتاب ہے ، جو ہر علم پر مکمل احاطہ کرتی ہے ۔ قرآن بنی نوع انسان کو یہ چیلنج کرتا ہے کہ
"اس جیسی کتاب بنا کر دکھاو "
آئیے کہ قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ قرآن سے جدید دور کی علمی ضروریات کیسے پوری ہوتی ہیں
۔۔( جاری ہے )۔۔۔
آزاد ھاشمی
٦ ستمبر ٢٠١٨
Tuesday, 4 September 2018
میرا نبی اور سائنس
" میرا نبیؐ اور سائنس "
کائنات کا وجود کب سے ہے اور کب تک رہے گا ۔ حقیقت صرف اللہ کی ذات جانتی ہے ۔ سائنس کے اعداد و شمار میں زمین کی تخلیق کا عرصہ لاکھوں سال پر محیط ہے ۔ انسان کی تخلیق پر بھی سائنسی اندازے بیشمار ہیں ۔ سائنس کا وجود نظریات پر بتدریج تبدیلی کا شکار رہتا ہے ، اسلئیے سائنس کے اعداد و شمار پر یقین بھی ممکن نہیں ۔ ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے جو بھی ملا ، اسے نہ تاریخ جھٹلا پائی اور نہ سائنس ۔ وقت کے ساتھ ساتھ سائنس نے قرآن اور ہادئ کائنات کے بتائے گئے حقائق کی تائید کی ۔ یہ آپؐ کی نبوت کی صداقت کی دلیل ہے کہ
ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﻮﺩە ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺐ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮎ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ تاریخ کی ترتیب و تدوین بھی مفقود تھی ۔ اسوقت کی ترقی یافتہ اقوام بھی ضروری علوم سے بخوبی اگاہی نہیں رکھتی تھیں ۔ یہی سبب تھا کہ کسی بھی نبی کی تعلیم مستند حالت میں موجود نہیں رہی ۔ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺻﺤﺮﺍﺯﺩە ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮑﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻟﺞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، لہو لعب میں غرق معاشرہ ، جسے دنگا فساد اور شراب و مستی کے سوا کوئی دوسری بات مرغوب ہی نہیں تھی ۔ وہاں وسائل کی انحطاط سے نبرد آزما ، ایک یتیم ہدایت کی روشنی پھیلائے ، ﺍور وہ کہے جو سائنس آج کہہ رہی ہے ۔
" ﻭﺍﺷﻤﺲ ﻭﺍﻟﻘﻤﺮ ﺑﺤﺴﺒﺎﻥ " ( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺁﯾﺖ ۵ )
ﺳﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ میں کہے ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ ۔
ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ " ﺑﯿﻨﮭﻤﺎ ﺑﺮﺯﺥ ﻻ ﯾﺒﻐﯿٰﻦ " ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺮﺯﺥ ( Barrier ) ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ " ۔ ( ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺁﯾﺖ ٢٠ )
جہاں ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻟﭩﮑﮯ ﮨﻮﮰ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ اور وہ کہے " ﻭﮐﻞ ﻓﯽ ﻓﻠﮏ ﯾﺴﺒﺤﻮﻥ " ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺗﯿﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ( ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ ﺁﯾﺖ ۴٠ )
ﺟﺐ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﻮ ﺳﺎﮐﻦ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە کہے " ﻭﺍﻟﺸﻤﺲ ﺗﺠﺮﯼ ﻟﻤﺴﺘﻘﺮﻟﮭﺎ " ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻘﺮﺭﺷﺪە ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺠﺎﻧﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﭼﻼ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ( ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ ﺁﯾﺖ ٣٨
ﺟﺐ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻣﺪ ﺁﺳﻤﺎﻥ ( ﭼﮭﺖ ) ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە کہے ﯾﮧ ﭘﮭﯿﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ " ﻭﺍﻧﺎ ﻟﻤﻮﺳﻌﻮﻥ " ( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺬﺭﯾﺎﺕ، ﺁﯾﺖ ۴٧ )
سائنس آج بھی نظام کائنات میں کسی ایسے نقص کی تلاش میں ہے ، جس
میں تغیر و تبدل کی ضرورت ہو اور انسان اسے بہتر کر سکے ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ عظیم ہستی ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺘﺎدﯾﺎ " ﻣﺎﺗﺮﯼ ﻓﯽ ﺧﻠﻖ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﻣﻦ ﺗﻘٰﻮﺕ " ﺗﻢ ﺭﺣﻤٰﻦ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻭٴ ﮔﮯ۔ ( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﻤﻠﮏ ﺁﯾﺖ ٣ )
ان سائنسی رازوں پر تفصیل ممکن نہ ہونے کے باعث ، یہ راز ہیں جو ہمارے نبیؐ کی عظمت کو کائنات کے ہر ذی روح سے منفرد اور اعلیٰ مقام دیتے ہیں ۔ یہ وہ علوم ہیں جو قرآن کو " لا ریب " کتاب کرتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٤ ستمبر ٢٠١٨
مطلب کا جہاد
" مطلب کا جہاد "
مسلمانوں کی بقاء ، اسلام کی احیاہ اور امن کی ابتداء کیلئے جہاد فرض ہوا ۔
جہاد ، فساد کی راہ میں رکاوٹ ۔
جہاد گمراہی کے خاتمے کی تحریک ۔
جہاد ، ظلمت میں روشنی پھیلانے کی سعی ۔
احکامات ربی پر نفس کو لگانا جہاد ۔
نہی المنکر ، امر بالمعروف کی کوشش جہاد ۔
جہاد ، علم کا نام اور امن کا پیغام تھا۔
جہاد بالقلم ، بالعلم ، بالعمل اور بالسیف ہے ۔ ہم نے قلم چھوڑ دیا ، علم سے بغاوت کردی ، عمل سے کنارہ کش ہو گئے ۔ بس تلوار تھام لی ۔ اور جہاد کو تلوار کے ساتھ نتھی کر دیا ۔ جہاں تلوار اٹھانے کی ضرورت پڑی وہاں رستہ بدل لیا ۔ اور جہاں ضرورت نہیں تھی اور جہاں مقابلے میں کمزور نظر آیا ۔ وہاں اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور خون بہا دیا ۔ اپنے کلمہ گو بھائیوں کو فروعی مسائل پر مار دینا ۔ جہاد بنا دیا ۔ مسالک کی جنگ میں مار دینا جہاد ہو گیا اور جب دنیا عالم میں کفر نے لیبیا کو روند ڈالا ، عراق کو تباہ کر دیا ، شام میں خون بہایا جا رہا ہے ، اب برما میں مسلمان کاٹے جا رہے ہیں ۔ سارے مفتیوں ، عالموں اور فلسفیوں کی گھگھی بندہی ہوئی ہے ۔ حلق خشک ہو رہے ہیں ۔ شعلے اگلنے والی زبانیں سوکھ رہی ہیں ۔ سیاستدان گونگے اور بہرے ہیں ، تمام مسلمان حکمران محلوں میں دبکے بیٹھے ہیں ۔ ان ملاوں نے اگر علم اور عمل پر جہاد کی تلقین کی ہوتی ، تو آج صورت حال مختلف ہوتی ۔ اب نہ تلواریں کام آرہی ہیں ، نہ ملت اسلامیہ کی طاقت کا کوئی فائدہ ہے ۔ اب کافروں کے سامنے دوزانو بیٹھے ہیں ۔ بھیک مانگ رہے ہیں مسلمانوں کی جان بخشی کی ۔ سفارتی مدد کیلئے جھولی پھیلا رہے ہیں ۔ مسلمانوں کو مسلمان پناہ نہیں دے رہے تو کافروں کا ہاتھ کون روکے گا ۔ سوشل میڈیا پہ چند دنوں کے بعد ، ان برما کے مسلمانوں کے خلاف ، کئی لبرل میدان میں کود پڑیں گے اور ثابت کر دیں گے کہ ان مظلوموں کے حق میں بولنا دہشت اور بد امنی کو ہوا دینا ہے ۔ اگر علم ،
قلم اور عمل سے جہاد جاری رہتا تو پوری امت اسلامیہ ایک ہوتی ۔ جس نے کہا کہ اب تلوار سے زیادہ ضرورت علم اور قلم کی ہے، وہ معتوب ہوا ۔ کافر بنا اور ایک کونے میں کر دیا گیا ۔ آج عملی ترقی اسی نے کی جس نے علم ، قلم اور عمل کو سیڑھی بنایا ۔ اگر قلم کام کرتا رہتا ، تو علم بڑھتا رہتا ۔ ہم اپنے حقوق کی حفاظت سیکھ لیتے ۔ ہم اپنے خلاف سازشوں کو وقت سے پہلے پہچان لیتے ۔ تلوار کی ضرورت بھی نہ ہوتی اور اپنی کند تلواروں پر حزیمت بھی نہ اٹھاتے ۔ برما کے گرد عالمی طاقتوں کی اٹھائی ہوئی فصیل گرانا بھی ممکن نہیں اور ان مظلوموں کی دادرسی بھی فرض ہے ۔ راستہ ڈھونڈھیں ۔ اپنے اپنے مطلب کے جہاد سے باہر نکل کے ۔ حقیقی جہاد کی تعلیم کے ساتھ ، حکم کے ساتھ اور عمل کے ساتھ ۔
آزاد ھاشمی
3 ستمبر 2017
Monday, 3 September 2018
ماں! اب تھک جاتا ہوں
" ماں ! اب تھک جاتا ہوں "
زندگی کے نشیب و فراز کبھی میرے حوصلوں کو شکست نہ دے سکے ۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ بغیر تھکن محسوس کئے ، زندگی کیسے گذر گئی ۔ مجھے کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ میرے قدموں میں یہ استقامت کیوں رہی ۔ مجھے یاد ہے جب میرے والد محترم ( اللہ غریق رحمت فرمائے ) ذمہ داریوں کا پہاڑ میرے کندھوں پر چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی کے پاس چلے گئے ۔ نہ وسائل کا سہارا تھا اور نہ کندھے اتنے مضبوط تھے کہ بوجھ امتحان دکھائی نہ دیتا ۔ یاد ہے جب رشتوں کی رسیاں ٹوٹنا شروع ہوئیں تو گبھراہٹ نہیں ہوتی تھی ۔ میں اکیلا نہیں تھا ، ایک مضبوط ، شفقت بھرا ہاتھ میری پشت پہ تھا ۔ مجھے مسائل کی دھوپ کی کوئی فکر نہیں تھی ، ایک ٹھنڈی چھاوں میرے سر پر سایہ کئے رہتی تھی ۔ یخ بستہ سردی میرے ننگے جسم پر اثر نہیں کرتی تھی کہ مجھے ماں کی آغوش کی گرمی میسر تھی ۔ ایک طویل عمر اس سکون سے گذر گئی کہ پتہ ہی نہیں چلا کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں ۔ میں چونسٹھ سال کی عمر میں بھی جوان ہی رہا ۔ اس روز چند لمحوں میں ، مجھ پر قیامت گزری گئی جب میری بیٹی نے روتے ہوئے کہا ۔
" ابو ! دادی جان ہمیں چھوڑ کر چلی گئیں " یوں لگا کہ مجھے ان لمحوں نے بے بسی کی دلدل میں ڈال دیا ہے ۔ میں چند لمحوں میں بوڑھا ہو گیا ۔ بہت ہمت کی کہ جیسے جی رہا تھا ، ویسے ہی جیتا رہوں ۔ مگر کامیابی نہیں ملی ۔ جب بھی کسی ماں کو بچوں سے پیار کرتے دیکھتا ہوں تو بلک بلک کر رونے کو دل کرتا ہے ۔ کبھی آنسو روک لیتا ہوں ، کبھی روک نہیں پاتا ۔ بہت دل کرتا ہے کہ ماں کو بتاوں ۔
" امی جان ! اب بہت تھک جاتا ہوں ۔ ہمت نہیں رہی کہ زمانے کے ساتھ بھاگ سکوں ۔ اب آپکا بیٹا بوڑھا ہو گیا ہے " پھر سوچتا ہوں ، ماں کو آزردہ کیوں کروں اور کونے میں بیٹھ کے رو لیتا ہوں ۔
آزاد ھاشمی
٤ ستمبر ٢٠١٨
کس کی اطاعت نہ کرو
" کس کی اطاعت نہ کرو"
قرآن کریم میں حکم ربی ہے کہ
(وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ۔ہَمَّازٍ مَّشَّائ بِنَمِیْمٍ۔مَنَّاعٍ لِّلْخَیْْرِ مُعْتَدٍ أَثِیْمٍ۔عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ۔ ﴿القلم:۱۰،۱۳﴾
‘‘ہرگز اطاعت نہ کرو کسی ایسے شخص کی جو بہت قسمیں کھانے والا، بے وقعت آدمی ہے، طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے، بھلائی سے روکتا ہے، ظلم وزیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہوتا ہے، سخت بداعمال ہے، جفا کار ہے، اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے۔’‘
اس آیت میں جو عیب ذکر کئے گئے ہیں ۔
١ ۔ بہت قسمیں کھانے والا ۔ عام طور پر یہ جھوٹے شخص کی نشانی بھی ہوتی ہے ، مکاری کا بہترین طریقہ بھی ہے کہ قسم کھا کر یقین دلایا جائے ۔ ایسے شخص کی بات سننے ، اس پر یقین کرنے اور اس پر عمل کرنے سے منع فرمایا گیا ۔
٢- بے وقعت آدمی ۔ بے وقعت آدمی سے مراد مال و زر کی کمی نہیں بلکہ اخلاقی انحطاط ہے ۔ اخلاقیات اور کردار سے عاری شخص کی بات ماننے ، سننے اور اسکی اطاعت سے روکا گیا ہے ۔
٣ ۔ بھلائی سے روکنے والا ۔ بھلائی کا موضوع تفصیل طلب ہے کیونکہ بھلائی کا دائرہ انسان کے بیشمار شعبہ ہائے زندگی پر محیط ہے ، اختصار کے ساتھ ہر وہ فعل جس سے انسان اور معاشرے کو فائدہ پہنچے بھلائی ہے ۔ انسان اور معاشرے کو ہونے والے فوائد کے راستے میں کوئی بھی رکاوٹ بننا ، بھلائی سے روکنے کے ضمن ہی میں ہے ۔ آج معاشرے میں ایسے بیشمار لوگ ہیں اور انکی اطاعت سے روکا گیا ہے ۔
٤ ۔ طعنہ زنی اور چغلخوری کرنے والا ۔ یہ دونوں عیب انسانی کردار کی بد ترین سطح ہے ۔ ہر کم ظرف اور بد طینت شخص میں دونوں عیب موجود ہوتے ہیں ۔ اور ایسا شخص معتبر نہیں ہوتا ۔ یہ المیہ اسوقت ہمارے معاشرے میں عروج پر ہے ۔
٥ ۔ جفا کار اور ظلم و زیادتی میں حد سے گذر جانے والا ۔ کسی کے بنیادی حقوق کو سلب کر لینا ، کسی کی عزت نفس کو پامال کرنا ، اور غیر اخلاقی طور پر کسی پر حاوی ہونے کی کوشش کرنا ، ظلم اور زیادتی کے ذمرے میں آتا ہے ۔ ایسے افراد کی اطاعت نہ کرنے کا حکم ہے ۔
٥ ۔ بداصل ۔ تمام کردار باختگی کے ساتھ اگر کوئی شخص ایسے گروہ ، قبیلے یا مزاج سے تعلق رکھتا ہے ۔ جو انکی روایات رہی ہوں تو اس شخص کی اطاعت سے روکا گیا ہے ۔ اصل سے مراد حسب اور نسب بھی ہے ۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ ، اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے کہ کس وضاحت سے رہنمائی فرمائی کہ ہم کس کس شخص کی اطاعت سے انکار کریں ۔ مگر بد قسمتی کہ ہم نے نہ ان رہنما اصولوں کو اختیار کیا ، نہ سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہمیں سمجھایا گیا ۔ آج ہمارے دنیاوی رہنماوں میں اکثریت ہے ، جو ان تمام مذکورہ برائیوں کا مجموعہ ہیں ۔ جن کی اطاعت سے اللہ نے منع کیا ، ہم نے انکی اطاعت کو ایمان کا درجہ دے رکھا ہے ۔ نتیجہ سامنے ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ ستمبر ٢٠١٨