"قرآن مجید اور علم و حکمت(1)"
دنیا میں بیشمار کتابیں لکھی گئیں ۔ الہامی کتب بھی نازل ہوئیں ، صحیفے بھی اور علم و رشد کی بیشمار کتابیں دنیا کی نظروں سے گذریں ۔ واحد کتاب ، جسے آفاقی کتاب ہونے کا اعزاز ہے ، وہ قرآن کریم ہے ۔ کسی بھی کتاب کا دیباچہ اس کتاب کی افادیت کا نچوڑ ہوتا ہے ۔ قرآن کا دیباچہ سات آیت پر مشتمل اور ہر رخ کا ایسا مدلل اظہار کہ آج تک ایسے دیباچے کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی ۔ اللہ کے اختیار ، قدرت ، شان اور قوت کا اظہار ۔ بندوں کیلئے رہنمائی کی طلب کا طریقہ ۔ برائی اور برے لوگوں کے راستے سے اجتناب ، دعا اور بخشش ایک ساتھ ۔ انسان کی بھلائی کیلئے واضع راستہ اسطرح بیان کیا گیا کہ جتنا پڑھنے والے کا شعور ہوگا ،
اتنی راہ اور ہدایت کھلتی جائے گی ، ایک عام قاری کو بھی سمجھ آجائے اور ایک فلسفی بھی مکمل استفادہ کر سکے ۔جیسے جیسے شعور بڑھے گا ویسے ویسے مفہوم کھلتا جائے گا ۔ واحد کتاب جو دعویٰ کرتی ہے کہ اس میں کوئی " ریب " نہیں ۔ کوئی نقص نہیں ۔
ایک مکمل کتاب جو علوم بناتات پر پورا احاطہ کرتی ہو ، وہ ایک مخصوص علم کی کتاب تو ہو سکتی ہے مگر پورے علوم جس کی انسان کو ضرورت ہے ۔ اس کتاب سے پورے نہیں ہوتے ۔ وہ کتاب شعبہ طب کے طالبعلم کیلئے بے سود ہے ۔
صرف قرآن واحد کتاب ہے ، جو ہر علم پر مکمل احاطہ کرتی ہے ۔ قرآن بنی نوع انسان کو یہ چیلنج کرتا ہے کہ
"اس جیسی کتاب بنا کر دکھاو "
آئیے کہ قرآن مجید کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ قرآن سے جدید دور کی علمی ضروریات کیسے پوری ہوتی ہیں
۔۔( جاری ہے )۔۔۔
آزاد ھاشمی
٦ ستمبر ٢٠١٨
Wednesday, 5 September 2018
قرآن مجید اور علم و حکمت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment