Monday, 3 September 2018

کس کی اطاعت نہ کرو

" کس کی اطاعت نہ کرو"
قرآن کریم میں حکم ربی ہے کہ
(وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ۔ہَمَّازٍ مَّشَّائ بِنَمِیْمٍ۔مَنَّاعٍ لِّلْخَیْْرِ مُعْتَدٍ أَثِیْمٍ۔عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ۔                        ﴿القلم:۱۰،۱۳﴾
‘‘ہرگز اطاعت نہ کرو کسی ایسے شخص کی جو بہت قسمیں کھانے والا، بے وقعت آدمی ہے، طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے، بھلائی سے روکتا ہے، ظلم وزیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہوتا ہے، سخت بداعمال ہے، جفا کار ہے، اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے۔’‘
اس آیت میں جو عیب ذکر کئے گئے ہیں ۔
١ ۔ بہت قسمیں کھانے والا  ۔ عام طور پر یہ جھوٹے شخص کی نشانی بھی ہوتی ہے ، مکاری کا بہترین طریقہ بھی ہے کہ قسم کھا کر یقین دلایا جائے ۔ ایسے شخص کی بات سننے ، اس پر یقین کرنے اور اس پر عمل کرنے سے منع فرمایا گیا ۔
٢- بے وقعت آدمی ۔ بے وقعت آدمی سے مراد مال و زر کی کمی نہیں بلکہ اخلاقی انحطاط ہے ۔ اخلاقیات  اور کردار سے عاری شخص کی بات ماننے ، سننے اور اسکی اطاعت سے روکا گیا ہے ۔
٣ ۔ بھلائی سے روکنے والا ۔ بھلائی کا موضوع تفصیل طلب ہے کیونکہ بھلائی کا دائرہ انسان کے بیشمار شعبہ ہائے زندگی پر محیط ہے ، اختصار کے ساتھ ہر وہ فعل جس سے انسان اور معاشرے کو فائدہ پہنچے بھلائی ہے ۔ انسان اور معاشرے کو ہونے والے فوائد کے راستے میں کوئی بھی رکاوٹ بننا ، بھلائی سے روکنے کے ضمن ہی میں ہے ۔ آج معاشرے میں ایسے بیشمار لوگ ہیں اور انکی اطاعت سے روکا گیا ہے ۔
٤ ۔ طعنہ زنی اور چغلخوری کرنے والا ۔ یہ دونوں عیب انسانی کردار کی بد ترین سطح ہے ۔ ہر کم ظرف اور بد طینت شخص میں دونوں عیب موجود ہوتے ہیں ۔ اور ایسا شخص معتبر نہیں ہوتا ۔ یہ المیہ اسوقت ہمارے معاشرے میں عروج پر ہے ۔
٥ ۔ جفا کار اور ظلم و زیادتی میں حد سے گذر جانے والا ۔ کسی کے بنیادی حقوق کو سلب کر لینا ، کسی کی عزت نفس کو پامال کرنا ، اور غیر اخلاقی طور پر کسی پر حاوی ہونے کی کوشش کرنا ، ظلم اور زیادتی کے ذمرے میں آتا ہے ۔ ایسے افراد کی اطاعت نہ کرنے کا حکم ہے ۔
٥ ۔ بداصل ۔ تمام کردار باختگی کے ساتھ اگر کوئی شخص ایسے گروہ ، قبیلے یا مزاج سے تعلق رکھتا ہے ۔ جو انکی روایات رہی ہوں تو اس شخص کی اطاعت سے روکا گیا ہے ۔ اصل سے مراد حسب اور نسب بھی ہے ۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ ، اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے کہ کس وضاحت سے رہنمائی فرمائی کہ ہم کس کس شخص کی اطاعت سے انکار کریں ۔ مگر بد قسمتی کہ ہم نے نہ ان رہنما اصولوں کو اختیار کیا ، نہ سمجھنے کی کوشش کی اور نہ ہمیں سمجھایا گیا ۔ آج ہمارے دنیاوی رہنماوں میں اکثریت ہے ، جو ان تمام مذکورہ برائیوں کا مجموعہ ہیں ۔ جن کی اطاعت سے اللہ نے منع کیا ، ہم نے انکی اطاعت کو ایمان کا درجہ دے رکھا ہے ۔ نتیجہ سامنے ہے ۔
آزاد ھاشمی
٣ ستمبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment