" دین اور مذہب"
دین اور مذہب دو الگ الگ مفہوم کے لفظ ہیں ۔ جسے سمجھنے میں کوتاہی نے دونوں لفظوں کو ایک جیسے مفہوم کے تابع کر دیا ہے ۔ دراصل دین سے مراد ایک مکمل نظام زندگی ہے جو تمام پہلووّں پر حاوی ہو۔ یہ ایک وسیع دائرہ عمل کا لفظ ہے ۔
جبکہ "مذہب" شرعی عبادات اور احکامات سے متعلق رہنمای فراہم کرتا ہے۔
قرآن مجید میں اسلام کے لیے لیے "دین" کا لفظ کم و بیش 79 بار استعمال ہوا ۔ سورہ الصف میں فرمان ربی ہے ۔
" وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اسے اور تمام مذاہب پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین ناخوش ہوں۔ "
یعنی اللہ کے محبوب نبیؐ کو ایک دین اور ہدایت دے کر بھیجا گیا ہے ، جو ہر مذہب پر غالب ہے ۔
سورہ آل عمران میں فرمایا ۔ کہ اللہ کے نزدیک اصل دین صرف اسلام ہے ۔ گویا دین ایک راستہ ہے جو عملی زندگی پر محیط ہے ، صرف عبادات تک محدود نہیں ۔
دین میں معیشت، معاشرت،سیاست الغرض وہ سب کچھ شامل ہے جو انسانی ضرورت ہے ۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ دین ایک جامع اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے "نظام زندگی" سے متعلق قواعد و ضوابط وضع کئے گئے ہیں اور یہ معاشرتی رہنمائی کیلئے ہے۔ جبکہ مذہب ذاتی زندگی کی عبادات اور احکامات ربی کی اطاعت کا درس ہے اور ان عبادات و احکامات کی شرعی رہنمائی ہے ۔
اللہ جس کتاب کو بار بار دین فرماتا ہے اسے ہم اپنی معاشرت کا صرف اس حد تک حصہ بنائے بیٹھے ہیں ، کہ یہ کتاب دعاوں اور ثواب کا خزانہ ہے ۔ جبکہ یہ ایک دستور ہے اور بطور دستور ہم نے اسے نہ مانا ہے اور نہ سمجھا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٦ اکتوبر ٢٠١٨
Saturday, 6 October 2018
دین اور مذہب
Friday, 5 October 2018
بہتر ہے کہ توبہ کر لیں
" بہتر ہے ، توبہ کر لیں "
ہم سب نے مل کر ، اللہ سبحانہ تعالی کے نظام کو حجروں میں قید کر دیا ۔ وہ نظام جو امن و امان کی ضمانت ہے ۔ وہ نظام جو کسی ذی روح کے حقوق پر قد غن نہیں لگنے دیتا ۔ وہ نظام جس کی ایک ایک شق کا ضامن خالق و مالک خود ہے ۔ جو قرآن زندگی کے اصولوں کا رہنما تھا اسے ثواب کی کتاب بنا کر ، خوبصورت غلاف چڑھا کر طاقوں میں رکھ ڈالا ۔ اسوہ حسنہ سے لاکھوں احادیث بنا ڈالیں ، اور ان پر کئی مسالک تشکیل کردئیے ، مسلمان ایک اکائی تھی ایک امت تھی ، اسے شیعہ ، سنی ، اہلحدیث ،دیوبندی اور نہ جانے کیا کیا نام دے ڈالے ۔ اس تفریق نے آسان کر دیا کہ اسلام کے نظام سے انحراف کر لیا جائے ۔
جمہوریت سے دل جوڑ لئے ۔ انگریز کو تہذیب کا سرچشمہ مان لیا اور اسی تہذیب میں داخل ہونے کے جتن کرنے لگے ۔ حد ہو گئی کہ جن سے توقع تھی کہ اللہ سبحانہ تعالی کے نظام کیلئے جہاد کریں گے ، انہوں نے جمہوریت کو دین مان لیا اور رات دن جمہوریت کی آبیاری شروع کر دی ۔ بڑے بڑے دیندار اسی جمہوریت کی راہ پر چل کر لٹیرے بن گئے ۔
ایسے لگتا ہے ، جیسے خالق اکبر نے ہمیں گمراہوں کے حوالے کر دیا ہے اور ہم گمراہوں کے نقش قدم پر نہ صرف چلنے لگے ہیں بلکہ انکی تقلید کر رہے ہیں ۔ اللہ سے توبہ کر لینی چاہئیے کہ ہم اسی راستے پر پلٹنا چاہتے ہیں ، جو ہمارا اصل ہے اور جو فلاح کا راستہ ہے ۔ اللہ کریم ہے ، وہ ضرور سنے گا اور ضرور مدد فرمائے گا ۔
آزاد ھاشمی
٥ اکتوبر ٢٠١٨
Thursday, 4 October 2018
قرآن مجید اور علم و حکمت9
قرآن مجید اور علم و حکمت(9 )
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
’’اور آسمانی کائنات کو ہم نے بڑی قوت کے ذریعہ سے بنایا اور یقیناً ہم (اس کائنات کو) وسعت اور پھیلاؤ دیتے جا رہے ہیں‘‘
ماہر طبیعیات نے اس امر کا مشاہداتی ثبوت فراہم کیا ہے کہ تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے دور ہٹ رہی ہیں، جس کا مطلب یہ ہوا کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ یہ بات آج مسلمہ سائنسی حقائق میں شامل ہے۔
غور فرمائیے کہ قرآن پاک کے کائنات کے پھیلنے کو اس وقت بیان فرما دیا ہے جب انسان نے دوربین تک ایجاد نہیں کی تھی، اس کے باوجود کچھ ذہن یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن پاک میں فلکیاتی حقائق کا موجود ہونا کوئی حیرت انگیز بات نہیں کیونکہ عرب اس علم میں بہت ماہر تھے۔ فلکیات میں عربوں کی مہارت کی حد تک تو ان کا خیال درست ہے لیکن اس نکتے کا ادراک کرنے میں وہ ناکام ہوچکے ہیں کہ فلکیات میں عربوں کے عروج سے بھی صدیوں پہلے ہی قرآن پاک کا نزول ہو چکا تھا۔ اور عربوں کا سارا علمی ادراک قرآن کی تعلیمات کا مرہون ہے ۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ سائنس کا ہر نظریہ قرآن کی تعلیم سے جنم لیتا ہے اور سائنسدان اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٤ اکتوبر ٢٠١٨
Tuesday, 2 October 2018
قرآن مجید اورعلم و حکمت (8)
قرآن مجید اور علم و حکمت(8 )
موجودہ سائنسی دور کا سب سے اہم موضوع ، یہ تلاش کرنا ہے کہ آسمان کی وسعتوں میں چمکنے والے ستارے حقیقت میں کیا ہیں ۔ چونکہ سائنس اصولی طور پر نظریات کے ارد گرد گھومنے والی تحقیق ہے ۔ سب سے زیادہ واضع نظر آنے والا ستارہ چاند ہے اور دنیا کے بیشمار امور چاند سے جڑے ہوئے ہیں ، ایام ،
ماہ و سال کا حساب ، سمندروں میں مد و جذر کا ربط وغیرہ ۔ اس لئے انسان نے پہلی سعی چاند تک رسائی کیلئے ہی کی ۔ تا حال مفروضوں کے سوا کوئی مثبت پیش رفت نہیں کہ چاند کے سفر سے کوئی نتیجہ اخذ کر لیا گیا ہے یا نہیں ۔
فلکی طبیعیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ فلک جو کچھ نظر آتا ہے وہ ’’بگ بینگ‘‘ یعنی عظیم دھماکا ہونے کے باعث ہے ، جس کا نتیجہ کہکشانوں کی شکل میں ظاہر ہوا۔ پھر یہ کہکشانیں تقسیم ہو کر ستاروں، سیاروں، سورج، چاند وغیرہ کی صورت میں آئیں۔
قرآن اس مفروضے پر فرماتا ہے کہ
’’اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا “
سائنس کی تحقیق اور قرآن کی آیت میں واضع مماثلت ہے ۔ سائنسی تحقیق چونکہ اتنی قدیم نہیں اور فلکیات کا مفروضہ قرآن کے نزول کے بعد کا ہے ، اسلئے کہنا درست ہے کہ سائنس کا یہ تخیل قرآن کی آیت پر قائم ہے -
آزاد ھاشمی
یکم اکتوبر ٢٠١٨
Monday, 1 October 2018
پرندے اور انسان
" پرندے اور انسان "
پچھلے سات آٹھ سال سے ایک حیرت انگیز تجربہ ہو رہا ہے ۔ مجھے اس عرصے میں کئی بار سکونت تبدیل کرنا پڑی ۔ یہاں عام طور پر نماز فجر کی اذان کا وقت پانچ بجے کے آس پاس رہتا ہے ۔ غیر اسلامی ملک ہونے کی وجہ سے مساجد کی تعداد بہت کم ہے ، خصوصی طور پر غیر مسلم اکثریت کے علاقوں میں بہت دور دور تک مسجد نہیں ہوتی ۔ ان علاقوں میں فجر کا وقت معلوم ہونا دشوار ہو جاتا ہے اور نیند کا غلبہ نماز میں کوتاہی لاتا ہے ۔ میرا مشاہدہ ہے عین اذان کے وقت ایک چھوٹی سی چڑیا ، اس تیز آواز سے بولنا شروع کر دیتی ہے ، ایسے لگتا ہے کہ اللہ نے اسکی ذمہ داری لگا دی ہے کہ فجر کے وقت جہاں جہاں اذان کی آواز نہیں جاتی ، تمہیں مسلمانوں کو جگانا ہے ۔ وہ چڑیا ایک تسلسل کے ساتھ بولتی رہتی ہے تا وقتیکہ کہ نماز کا وقت مکمل نہ ہو جائے ۔ پھر سارا دن اسکی آواز سنائی نہیں دیتی ۔ یہ تو خالق و مالک رب ہی جانتا ہے کہ وہ اسوقت کیا کہتی ہے ۔ رب کی کیا حمد بیان کرتی ہے ۔ اسی طرح مرغ سوا چار بجے کے قریب اذان شروع کرتا ہے ۔ گویا اسکی ذمہ داریوں میں شامل ہے کہ تہجد کے وقت کا اعلان کرنا ہے ۔
جب سوچتا ہوں تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ ہم اشرف المخلوقات ہو کر بھی اپنے فرائض سے غافل ہیں اور یہ جانور ہو کر بھی کس پابندی سے اپنے فرض کو نبھاتے ہیں ۔
اللہ کریم کے ان تمام فضل و کرم پر غور کی جائے تو شکر ادا کرنا ممکن نہیں کہ وہ اپنے رسولؐ کی امت سے کتنا پیار کرتا ہے اور اسی رسولؐ کی امت کسقدر بے خبر ہے کہ اپنے رب کیلئے دن میں پانچ بار اسکی پاک ذات کے سامنے جھکنے کا وقت نہیں ۔ انسان کتنا بے خبر ہے کہ جہاں اصل ٹھکانا ہے وہاں کیلئے کوئی اسباب ساتھ نہیں اور جہاں رہنا ہی نہیں وہاں محلات کی تیاری میں لگا ہے ۔ مجھے کئی بار اپنے احتساب سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ چڑیا مجھ سے بہتر ہے جو اپنے فرض میں کبھی کوتاہی نہیں کرتی اور نہ کبھی چند ثانیے کی دیر کرتی ہے ۔ اسکے ہاتھ میں نہ گھڑی بندھی ہے اور نہ اسے وقت کا سبق پڑھایا گیا ۔ اسے اپنے فرض کی کتنی فکر ہے کہ آندھی ہو بارش ہو ، گرمی ہو سردی ہو ، وہ عین وقت پہ آواز لگا دیتی ہے ۔
میرا اللہ کتنا کریم ہے کہ میرے اعمال کی درستگی کیلئے چڑیا کو پابند کر رکھا ہے کہ مجھ سے غفلت نہ ہو جائے ۔
آزاد ھاشمی
٣٠ ستمبر ٢٠١٨
Sunday, 30 September 2018
آخر کیوں نہیں
" آخر کیوں نہیں "
ہم سیاست پہ لکھیں ، مسالک پر لکھیں ، شعر و شاعری کریں ، لطیفے لکھیں ، اپنے اپنے خاندانی پس منظر لکھیں ، ارسطو ، جبران ، عمر خیام ، عمارتوں کی شان میں لکھیں ، اداکاروں کی تصویریں جوڑیں ، پیروں فقیروں کی کرامات لکھیں ۔ سب ٹھیک ، سب جائیز ۔
جیسے ہی اہل بیت پہ لکھو ، کربلا کے مظالم کی بات کرو ، یزید کے ظلم کا تذکرہ کرو ، کربلا کے شہدا کے عزم پہ قلم اٹھاو ، کچھ مذہبی محقق میدان میں کود پڑتے ہیں ۔ جیسے انکے بزرگوں کی شان میں گستاخی ہونے جا رہی ہے ۔ احادیث کے حوالوں سے ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یزید نے کوئی ظلم ہی نہیں کیا ۔عشرہ مبشرہ کا تذکرہ چھڑ جاتا ہے ۔ اب تو چند محقق یہاں تک لکھنے لگے ہیں کہ حسین علیہ السلام کا یہ سفر ایک حکومت کے خلاف بغاوت تھی اسلیے یزید حق پر تھا ۔ کچھ تو اہل بیت کو ماننے سے انکار کی حد تک پہنچ گئے ہیں ۔
بات صرف اتنی ہے کہ جس کا جس سے واسطہ ہوتا ہے ، وہ اسی کی طرف داری کرتا ہے ۔ جن کو یزید کا تعلق عزیز ہے وہ اپنا تعلق جاری رکھیں ، اور جو غم حسین کو اپنی متاع عزیز سمجھتے ہیں انکو کرنے سے نہ کوئی روک سکا نہ کوئی روک پائے گا ۔
حق پر کون تھا ، آج تک نہ تاریخ جھٹلا سکی اور کوئی دلیل ۔ اہل بیت کی عظمت ہر اس دل میں ھے جس میں ایمان کی معمولی سی رمق بھی باقی ہے ۔
شکریہ
آزاد ھاشمی
30 ستمبر 2016
قرآن مجید اور علم و حکمت 7
قرآن مجید اور علم و حکمت(٧ )
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا کہ
" اور ہم نے آسمان سے پانی برسایا اور اس میں ہم نے مختلف اقسام کے پودوں کے جوڑے پیدا کیے جو ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں۔"
آج سے چودہ سو سال پہلے کونسی سائنس ہے جس نے یہ بتایا تھا کہ پودوں میں بھی نر اور مادہ ہوتے ہیں ۔ قرآن کا یہ دعویٰ آج سائنس تو الگ ہے ، عام مشاہدے میں آتا ہے کہ کچھ پودے پھل نہیں لاتے اور کچھ پھل لاتے ہیں ۔ پپیتا ایسا پودا ہے جسے ہر کوئی پہچان لیتا ہے کہ نر ہے یا مادہ ۔ نہ صرف پودے بلکہ پھلوں میں ، پھولوں میں ، ایک ہی پھول کی پنکھڑیوں میں نر اور مادہ کی تحقیق عام ہے ۔ اللہ نے فرمایا ۔
" اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے ہیں۔"
سائنس نے قرآن کے اس دعوی کی تحقیق کے بعد تسلیم کیا اور اس کے واضع عمل کو پیش کیا کہ پھل کسطرح پھول سے پیدا ہوتا ہے ۔ ایک ہی پھول کے اندر معمولی ریشے کسطرح ملاپ کے عمل سے گذرتے ہیں۔
آزاد ھاشمی
٣٠ ستمبر ٢٠١٨