قرآن مجید اور علم و حکمت(8 )
موجودہ سائنسی دور کا سب سے اہم موضوع ، یہ تلاش کرنا ہے کہ آسمان کی وسعتوں میں چمکنے والے ستارے حقیقت میں کیا ہیں ۔ چونکہ سائنس اصولی طور پر نظریات کے ارد گرد گھومنے والی تحقیق ہے ۔ سب سے زیادہ واضع نظر آنے والا ستارہ چاند ہے اور دنیا کے بیشمار امور چاند سے جڑے ہوئے ہیں ، ایام ،
ماہ و سال کا حساب ، سمندروں میں مد و جذر کا ربط وغیرہ ۔ اس لئے انسان نے پہلی سعی چاند تک رسائی کیلئے ہی کی ۔ تا حال مفروضوں کے سوا کوئی مثبت پیش رفت نہیں کہ چاند کے سفر سے کوئی نتیجہ اخذ کر لیا گیا ہے یا نہیں ۔
فلکی طبیعیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ فلک جو کچھ نظر آتا ہے وہ ’’بگ بینگ‘‘ یعنی عظیم دھماکا ہونے کے باعث ہے ، جس کا نتیجہ کہکشانوں کی شکل میں ظاہر ہوا۔ پھر یہ کہکشانیں تقسیم ہو کر ستاروں، سیاروں، سورج، چاند وغیرہ کی صورت میں آئیں۔
قرآن اس مفروضے پر فرماتا ہے کہ
’’اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین ایک اکائی کی شکل میں جڑے ہوئے تھے پس ہم نے ان کو پھاڑ کر جدا کر دیا “
سائنس کی تحقیق اور قرآن کی آیت میں واضع مماثلت ہے ۔ سائنسی تحقیق چونکہ اتنی قدیم نہیں اور فلکیات کا مفروضہ قرآن کے نزول کے بعد کا ہے ، اسلئے کہنا درست ہے کہ سائنس کا یہ تخیل قرآن کی آیت پر قائم ہے -
آزاد ھاشمی
یکم اکتوبر ٢٠١٨
Tuesday, 2 October 2018
قرآن مجید اورعلم و حکمت (8)
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment