Friday, 26 May 2017

لیڈر اور حواری

اگر ہم سیاستدانوں اور انکے حواریوں کا بغور جائزہ لیں , انکے بیانات , الزامات , ذاتی معاملات پر کیچڑ اچھالنے اور بحث و تمحیص میں ہونے والی گفتگو , سوشل میڈیا پر کارٹون اور تصاویر کی نمائش دیکھیں تو لگتا ہے کہ سب کے سب گلی محلوں کے غنڈے ہیں - تہذیب نام کی کوئی بھی شے انکے پاس سے نہیں گزری -
لیڈر کسی بھی قوم کی شناخت ہوا کرتے ہیں ,
تہذیبی اقدار کے امین ہوتے ہیں , آنے والی نسلوں کو رہنمائی دینے کا اہتمام کرتے ہیں ,
قوم میں شعور دیتے ہیں -
یہ ہمارے لیڈر کیا دے رہے ہیں - ہماری نسلوں کے لئے کونسی فصل بو رہے ہیں - یہ جو کر رہے ہیں , اسے کوئی بھی زی شعور ,وطن اور قوم کی خدمت نہیں کہہ سکتا -
اس پر طرہ یہ کہ ہر لیڈر نے صحافت کی منڈی سے صحافی خرید رکھے ہیں , دانشور بھی شو کیسوں میں سجے پڑے ہیں , جو اچھے دام دے گا ,اسی کے افعال کو سراہیں گے -
اسے کون ترقی کہے گا - مغربی تہذیب کے پجاری تو جو کر رہے ہیں , انکو کون روکے گا , مگر زبان اور الزام تراشی کا جو انداز مذہبی لوگوں نے بھی اپنا لیا ہے , وہ بھی شائستگی کی حدود سے باہر ہے - ایسے لگتا ہے کہ لیڈر مداری ہو گیے ہیں اور قوم تماش بین - روز  ایک  نیا  مداری ایک نئی ڈگڈگی بجانے آ جاتا ہے اور ہم دیہات کے چھوٹے بچوں کی طرح بھاگ کھڑے ہوتے ہیں , کہ تماشا دیکھیں گے - آج جتنے بھی لیڈر ہیں گھوم پھر کے سب کی خواہش کرسی ہے اور سب کے سب لبرل , سیکولر اور مغربی تہذیب کے لئے کوشاں ہیں , کچھ مذھب کے لبادے میں انہی کی پشت پر کھڑے ہیں - ہم اس دلدل میں گھستے جا رہے ہیں - اور سمجھ رہے ہیں کہ ترقی کی منزل یہی ہے - حالانکہ یہ اخلاقیات , تہذیب اور تمدن کی موت کی طرف جانے والی راہ ہے -
ہوش کرنے کی ضرورت ہے.
شکریہ
آزاد ہاشمی

کیا ایسے اسباب ہیں

آخر وہ کیا ایسے اسباب ہیں , جو مذہبی جماعتوں کو مل بیٹھنے نہیں دیتے -
یہ ایک عام سا سوال ہے , جسے کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں سوچتا - حالانکہ اس سوال کے پیچھے بہت سے حقائق ہیں , جو امت مسلمہ میں انتشار کا سبب ہیں - آج کی ساری دہشت گردی اسی سوال کے جواب میں چھپی ہوئی ہے - دنیا میں جہاں جہاں بھی مسلمان رسوائی کا شکار ہیں , وہ بھی اسی وجہ سے ہیں , جو اس سوال کا جواب ہے -
ہمارے یہ سب مذہبی لیڈر , مسلمان ملکوں کے سربراہ  اور علماء , کافروں سے , ملحدوں سے , مشرکوں سے تو تعلقات تو استوار کر لیتے ہیں - جو ہمارے نبی پاک کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں , یا جو ان توہین کرنے والوں کو سپورٹ کرتے ہیں , ان سے مراسم رکھتے ہیں -
مگر الله کی توحید کو ماننے والے , نبی پاک کی نبوت کے پیروکار , قران کو اپنا نظام ماننے والے مسلمان بھائیوں سے اختلافات کی خلیج کو کم کرنے کی کوشش نہیں کرتے -
کیا ہمارے ان مذہبی رہنماؤں کی یہ ڈگر , کہ فروعی بحثوں سے مسلمان بھائیوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا ڈالا - عبادت گاہوں کو سیاسی اکھاڑے بنا ڈالا  , اسلام دوستی ہے یا اسلام دشمنی ہے -
اور جو کوئی بھی مسلمانوں میں اختلافات کی پزیرائی کرتا ہے , وہ اسلام کی خدمت کے نام پر دھوکہ کرتا ہے , وہ کوئی بڑا لیڈر ہے , بہت بڑا عالم دین ہے , بہت بڑی مذہبی جماعت ہے یا کوئی بھی ہے - ہمیں اپنے ان دشمنوں کو پہچان لینا چاہیے -
یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قران پاک میں کہا گیا ہے - یہ اصلاح کرنے والے نہیں فساد پھیلانے والے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کر رہے ہیں -
الله ان کو ہدایت دے اور ہمیں بھی ان دشمنوں سے محفوظ رکھے -
آمین
آزاد ہاشمی

کھلا تضاد

کھلا تضاد "
کچھ لوگ اس بات پر بہت فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے جمہوریت کے لئے قربانیاں دیں ۔ کچھ جمہوریت کی آبیاری میں جان دے بیٹھے  ۔ کچھ مذہب کے لبادے میں بھی جمہوریت کو بچانے کی بھر پور کوشش میں ہیں ۔
کوئی مفکر بتا سکتا ہے کہ ہمارے دین کا ، ایمان کا ، کیا تعلق ہے اس نظام حکومت سازی میں ۔ 
ہماری پارلیمنٹ ، ہماری عدلیہ ، انتظامیہ ، تمام اعلیٰ افسران ، بیورو کریسی حلف تو قرآن پہ اٹھاتے ہیں ، عملی طور پر پیروی اسلام کے منافی   قواید و ضوابط کی کرتے ہیں ۔  عدالتوں کے تمام قوانین ، دستور کی ساری شقیں ، بنکوں کا سارا نظام ، اداروں کے تمام طریقے اسلامی نظام سے قطعی مطابقت نہیں رکھتے ۔ کیا اسلامی مملکت کے لئے  صرف اسلامی لکھدینا کافی ہے یا اسلام کے ضوابط اپنانا ضروری ہے۔ 
ہم اپنے قول و فعل میں  کھلے تضاد کا شکار ہیں ۔
سمجھ نہیں آتا کہ اتنے زیادہ کھلے تضاد کے باوجود ہم کیسے سمجھ لیتے  ہیں کہ اللہ سے دعائیں مانگنے پر قبولیت ہمارا حق ہے ۔
کیا اس منافقت کے روپ میں ہمارا وہی حشر نہیں ہونا چاہئے تھا جو ہو رھا ہے ۔ یہ چور اچکوں کی حکمرانی ہمارا مکافات عمل نہیں ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

Tuesday, 23 May 2017

وہ کون تھا

" وہ کون تھا "
وہ عمر رسیدہ ، غریب ریہڑی پہ بچوں کے کھلونے بیچنے والا تھا ۔ چند ماہ پہلے وہ بازار کے کونے پہ ریہڑی لگانے لگا تھا ۔ غربت بھی اسکے چہرے کے وقار اور شخصیت کو نہیں چھپا سکی تھی ۔ مسکرا کر سلام کرنے میں پہل کرنا اسکا معمول تھا ۔ چھوٹا ہو یا بڑا وہ سب کو سلام کرتا ۔  ہر روز ایک لمبی سی گاڑی اسکے پاس آکر رکتی ، ایک خوش لباس نوجوان گاڑی سے اترتا ، ریہڑی پہ لگی چیزوں کو صاف کرتا ، بابا جی کو کچھ کھانے کو دیتا اور چلا جاتا ۔ اس نوجوان کے دو پولیس گارڈ بھی ساتھ ہوتے ، جس سے یہ اندازہ ہوتا کہ وہ کوئی سرکاری افسر ہے ۔ لوگ چہ میگوئیاں کرتے ۔ کہ یہ ریہڑی والا کوئی ایجنسی کا آدمی ہے ۔ کسی کو جرات نہ تھی کہ اس سے پوچھ لیتا کہ وہ کون ہے ۔ آخر ایک روز ریہڑی سے کچھ دور چند معززین نے اس نوجوان کو روک کر ماجرا دریافت کیا ۔
" میں سیشن جج ہوں . مگر جو بھی ہوں انکی وجہ سے ہوں ۔ میرا ان سے کوئی دنیاوی رشتہ نہیں ۔ میرے والدین ایک حادثے میں چل بسے ، اسوقت میری عمر چھ سال تھی ۔ اور میری بہن کی عمر بارہ سال ۔ اللہ کے سوا ہمارا کوئی سہارا نہیں تھا ۔  انہوں نے اس ریہڑی کی کمائی سے ہمیں پڑھایا بھی اور میری بہن کی شادی بھی کی ۔ میری جب جاب لگی تو انہوں نے مجھے بلایا اور کہا ۔ 
بیٹا ! تم پر ایک قرض ہے ۔ وعدہ کرو کہ ادا کرو گے ۔ قرض یہ  ہے کہ تم ایک بچے کو پڑھاو گے اور ایک بہن کی شادی کرو گے ۔
میں اب تین بچوں کو پڑھا رہا ہوں اور دو بہنوں کی شادی کر چکا ہوں ۔
مگر اصل بات یہ ہے کہ بابا جی کی ریہڑی آج بھی کسی بے سہارا کا سہارا ہے ۔ جو یہ کبھی کسی کو نہیں بتاتے ۔
انکے اپنے بچے ، صاحب روزگار ہیں ۔ انکی تمام ضروریات وہ پوری کرتے ہیں ۔ ہر کوشش کے باوجود  وہ ان سے یہ دھندہ نہیں چھڑا سکے ۔ جب وہ ضد کرتے ہیں تو باباجی کسی دوسری جگہ ریہڑی لگا
لیتے ہیں ،  جہاں کوئی شناسا  نہ ہو ۔ اور کہتے ہیں اللہ نے میری ذمہ داری لگائی ہے میں پوری کر کے رہوں گا ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی 

Monday, 22 May 2017

انعامات ربی اور شکر

" انعامات ربی اور شکر "
مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا ، اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے سسکیوں سے روئے جا رہا تھا ۔ وہ اس محلے میں کئی سال سے  موسمی پھل  بیچ رہا تھا ۔ اپنے کام میں مگن رہنا اسکا معمول تھا ۔ گم سم سی طبیعت ، سکوت اور ٹھہراو والی عادت سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا چکا تھا ۔ بچے بوڑھے سب اسکے دوست تھے ۔
اسے اسقدر گڑگڑاتا دیکھ کر میں اسکے قریب ہو گیا ۔ وہ چند جملے بار بار دھرا رہا تھا ۔
" اے میرے پیارے اللہ ۔ مجھے معاف کر دے ۔ میں تیری بے شمار نعمتوں کا شکر نہیں کر پاتا ۔ میری اس خطا کو معاف کر دینا ۔ دنیا کے دھندھوں میں لگ جاتا ہوں اور تیری ذات کو بھول جاتا ہوں " 
میں حیران بھی تھا اور پشیمان بھی ۔ اتنی سی بات پہ اتنی گریہ زاری ۔ کیا ہے اس بیچارے کے پاس ۔ پھل بیچتا ہے ، کبھی بک جاتے ہیں کبھی سڑ جاتے ہیں ۔ ایک چھوٹی سی کٹیا میں ٹوٹی ہوئی کھاٹ ۔ نہ پنکھا نہ فرج ۔ پھر بھی یہ کس نعمت کے شکر نہ کرنے پہ پشیمان ہے ۔ اس نے جیسے ہی دعا ختم کی ۔ مجھے دیکھا اور مسکرایا ۔
" اپنے اللہ کو راضی کر رہا تھا " وہ ایسے بول رہا تھا جیسے میں نے اسے اپنی  چغلی کرتے پکڑ لیا ہو ۔ میں اپنی ہنسی روکنے کا جتن کر رہا تھا ۔
" محترم کس نعمت کا ذکر کر رہے تھے آپ اللہ پاک سے "
" بیٹا ! اللہ کی نعمتوں کا شمار پوچھ رہے ہو ۔ میں رات کو سویا تھا اور صبح پھر اٹھ گیا ۔ کیا یہ کم نعمت ہے ۔ سانس چل رہی ہے ، قدموں پر کھڑا ہوں ، پینے کو ملتا ہے ، جینے کو ملتا ہے ۔ کیا یہ نعمت نہیں ۔ بول سکتا ہوں ، سن سکتا ہوں ، دیکھ سکتا ہوں ، کیا یہ نعمتیں نہیں ۔ بیٹا غور تو کرو کہ اللہ نے انسان کو کس کس نعمت سے نواز رکھا ہے ۔ دولت ، گھر ، کار تو نعمتیں نہیں ، یہ تو انسان کے امتحان کے سامان ہیں ۔ اللہ دیتا ہے اور دیکھتا ہے کہ انسان اسے یاد بھی رکھتا ہے کہ نہیں ۔ یہ تو آزمائش ہے بیٹا "
بابا کی بات مجھے ندامت کی طرف دھکیل رہی تھی ۔ میں اپنی سوچ کو حماقت سمجھ رہا تھا ۔ میرے ہنسنے کی حس ختم ہو گئی اور فکر ہو گئی کہ میں کہاں کھڑا ہوں ۔ کبھی غور ہی نہیں کیا کہ نعمتیں کیا ہیں اور آزمائشیں کیا ۔
آنسووں سے بھیگی ہوئی داڑھی ، بھی ایک نعمت تھی ، جس میں اللہ کی رضا کا پانی تھا ۔ وہ مسکراتا ہوا چل دیا اور میں روتا ہوا کھڑا رہ گیا ۔
ازاد ہاشمی

بس کر دو مولانا

" بس کر دو مولانا "
آج مولانا طارق جمیل کی ایک کلپ دیکھی سوشل میڈیا پہ ۔ جناب فرماتے ہیں ۔
" حضرت عیسیٰ ع کے پاس کوئی گھر نہیں ، ایک روز سخت بارش ہو رہی تھی کہ آپ کو ایک کمرہ نظر آیا ۔ آپ پناہ لینے کے لئے اندر داخل ہوئے تو اندر ایک شیر بیٹھا تھا ۔ آپ نے اللہ سے شکایت کی ۔ اے اللہ تیرے شیر کو گھر اور تیرے عیسیٰ کو گھر بھی نہیں ۔ اللہ نے فرمایا ۔ اے عیسیٰ میں جنت میں تیرا چار سو حوروں شادی کروں گا اور  ایک ہزار سال تک تیرا ولیمہ کروں گا ۔ "
میں ذاتی طور پر حضرت کی اس کاوش پر انکا مداح ہوں کہ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اسلام کے پیغام کو پھیلانے کی کوشش میں لگے ہیں ۔ اچھا عمل ہے جس نے انکے ان گنت پیروکار بنا دئے ۔ کئی بار ایسا ہوا کہ وہ ایسی روایات بتاتے ہیں ، جن سے اسلام کی ہمہ گیری کی بجائے قدامت پرستی نظر آتی ہے ۔ آج کی یہ داستان کے من گھڑت ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا ۔ حضرت جس محنت  سے ایسی بے بنیاد کہانیاں  تلاش کرتے ہیں اور لوگوں تک پہنچانے کا اہتمام کرتے ہیں ، اس سے آدھی محنت سے قران کے رموز پر غور کیا کریں اور اسے لوگوں تک پہنچائیں تو زیادہ اہم ہو گا ۔ کیونکہ موجودہ سائینسی دور میں ، اسلام کے مخالفین کے سوالوں کا درست جواب ہو گا ۔ یہ کہانی ، میں نے اپنی چونسٹھ سال کی عمر میں پہلی بار سنی ہے ۔ شاید میری طرح بے شمار لوگوں نے بھی پہلی بار سنی ہو گی ۔
خدارا ایسی تمام کہانیاں ، جن کی ضرورت نہیں اور جنکا کوئی اسلامی ثبوت نہیں ، اللہ کی ذات پر افتراء ہے ۔ مہربانی کریں ، اسلام میں پہلے ہی بے شمار ، بے بنیاد قصے داخل کئے جا چکے ہیں ۔ جن کو لوگ ایمان بنائے بیٹھے ہیں ۔ از راہ کرم سادہ اور کم علم لوگوں پر رحم کریں ۔ حکایتیں اور روایتیں عام کرنا فرض نہیں قران کو عام کرنا فرض ہے ۔ حکم ہے قران خود بھی سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھاو۔
ازاد ہاشمی