Monday, 22 May 2017

بس کر دو مولانا

" بس کر دو مولانا "
آج مولانا طارق جمیل کی ایک کلپ دیکھی سوشل میڈیا پہ ۔ جناب فرماتے ہیں ۔
" حضرت عیسیٰ ع کے پاس کوئی گھر نہیں ، ایک روز سخت بارش ہو رہی تھی کہ آپ کو ایک کمرہ نظر آیا ۔ آپ پناہ لینے کے لئے اندر داخل ہوئے تو اندر ایک شیر بیٹھا تھا ۔ آپ نے اللہ سے شکایت کی ۔ اے اللہ تیرے شیر کو گھر اور تیرے عیسیٰ کو گھر بھی نہیں ۔ اللہ نے فرمایا ۔ اے عیسیٰ میں جنت میں تیرا چار سو حوروں شادی کروں گا اور  ایک ہزار سال تک تیرا ولیمہ کروں گا ۔ "
میں ذاتی طور پر حضرت کی اس کاوش پر انکا مداح ہوں کہ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اسلام کے پیغام کو پھیلانے کی کوشش میں لگے ہیں ۔ اچھا عمل ہے جس نے انکے ان گنت پیروکار بنا دئے ۔ کئی بار ایسا ہوا کہ وہ ایسی روایات بتاتے ہیں ، جن سے اسلام کی ہمہ گیری کی بجائے قدامت پرستی نظر آتی ہے ۔ آج کی یہ داستان کے من گھڑت ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا ۔ حضرت جس محنت  سے ایسی بے بنیاد کہانیاں  تلاش کرتے ہیں اور لوگوں تک پہنچانے کا اہتمام کرتے ہیں ، اس سے آدھی محنت سے قران کے رموز پر غور کیا کریں اور اسے لوگوں تک پہنچائیں تو زیادہ اہم ہو گا ۔ کیونکہ موجودہ سائینسی دور میں ، اسلام کے مخالفین کے سوالوں کا درست جواب ہو گا ۔ یہ کہانی ، میں نے اپنی چونسٹھ سال کی عمر میں پہلی بار سنی ہے ۔ شاید میری طرح بے شمار لوگوں نے بھی پہلی بار سنی ہو گی ۔
خدارا ایسی تمام کہانیاں ، جن کی ضرورت نہیں اور جنکا کوئی اسلامی ثبوت نہیں ، اللہ کی ذات پر افتراء ہے ۔ مہربانی کریں ، اسلام میں پہلے ہی بے شمار ، بے بنیاد قصے داخل کئے جا چکے ہیں ۔ جن کو لوگ ایمان بنائے بیٹھے ہیں ۔ از راہ کرم سادہ اور کم علم لوگوں پر رحم کریں ۔ حکایتیں اور روایتیں عام کرنا فرض نہیں قران کو عام کرنا فرض ہے ۔ حکم ہے قران خود بھی سیکھو اور دوسروں کو بھی سکھاو۔
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment