" بھوک ہی بھوک "
" بابا جی ! کل میرے گھر میں افطاری ہے ، قریباً سو احباب ہونگے ۔ مجھے سموسے اور پکوڑے چاہئیں ، کتنے پیسے دے جاوں "
میں نے پوچھا ، بابا جی نے میری طرف دیکھا اور سوالیہ نظروں سے مسکرائے ۔
" کتنے پیسے دے سکتے ہو " مجھے ایسے لگا ، جیسے بابا جی نے میری توہین کی ہے ۔ مجھے ایک عرصے سے جانتے ہوئے بھی یہ سوال بے محل اور تضحیک تھی ۔
میں نے اصل قیمت سے زیادہ پیسے نکالے اور بابا جی کے سامنے رکھ دئیے ۔ بابا جی نے پیسے اٹھائے اور مجھے دیتے ہوئے بولے ۔
" وہ سامنے سڑک کے اس پار اس بوڑھی عورت کو دے دو ۔ کل آ کر اپنے سموسے پکوڑے لے جانا ۔ میری پریشانی تم نے حل کر دی ۔ افطاری کا وقت قریب تھا اور میرے پاس اتنے پیسے جمع نہیں ہو رہے تھے . اب بیچاری چند دن سحری اور افطاری کی فکر سے آزاد ہو جائے گی ."
میرے جسم میں ٹھنڈی سی لہر دوڑ گئی ۔
" وہ کون ہے آپکی " میرے منہ سے بے اختیار سوال نکلا ۔ بابا جی تپ گئے ۔
" وہ میری ماں ہے ، بیٹی ہے اور بہن ہے ۔ تم پیسے والے کیا جانو ، رشتے کیا ہوتے ہیں ۔ جنہیں انسانیت کی پہچان نہیں رہی انہیں رشتوں کا بھرم کیسے ہو گا . پچھلے تین گھنٹے سے کھڑی ہے ، نہ مانگ رہی ہے اور نہ کوئی دے رہا ہے ۔ تم لوگ بھوکا رہنے کو روزہ سمجھتے ہو اور پیٹ بھرے رشتوں کو افطار کرا کے سمجھتے ہو ثواب کما لیا ۔اگر روزہ رکھ کے بھی احساس نہیں جاگا تو یہ روزہ نہیں ، صرف بھوک ہے بھوک "
میں بوجھل قدموں سے اس بڑھیا کی طرف جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا ، اپنے ایمان کا وزن کر رہا تھا ۔ یہ میرے ہاتھ میں پیسے میرے نہیں تھے بابا جی کے تھے ۔ میرے پیسے تو رشتوں کو استوار کر رہے تھے ۔ بابا جی کے پیسے اللہ کی رضا کو حاصل کرنے جا رہے تھے ۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس بڑھیا میں ماں ، بہن اور بیٹی مجھے کیوں دکھائی نہیں دی ۔ اے کاش میں بھی بابا جی کی آنکھ سے دیکھتا ۔ اے کاش تمام صاحبان حیثیت بھی اسی آنکھ کے مالک ہوتے ۔ اے کاش ، کے ساتھ بیشمار تمنائیں میرا پیچھا کر رہی تھیں ۔
ازاد ہاشمی
29 مئی 2017
Saturday, 26 May 2018
بھوک ہی بھوک
Friday, 25 May 2018
قرآن کی سورتیں اور معنے
*قرآن کی سورتوں کے نام، مع مطلب*
۲- سورۂ بقرہ (گائے )
۳- سورۂ آل عمران (عمران کی اولاد)
۴- سورۂ نساء (عورتیں)
۵- سورہ ٔمائدہ (دسترخوان)
۶- سورہ ٔانعام (جانور، مویشی)
۷- سورہ ٔ اعراف (بلندیاں)
۸- سورۂ انفال (اموال غنیمت)
۹- سورۂ توبہ (معافی)
۱۰- یونس (ایک پیغمبر کا نام)
۱۱- سورۂ ہود (ایک پیغمبر کا نام)
۱۲- سورہ ٔ یوسف ( ایک پیغمبر کا نام)
۱۳- سورۂ رعد ( بادل کی گرج)
۱۴- ابراہیم ( ایک پیغمبر کا نام)
۱۵- سورۂ الحجر(ایک مقام کا نام)
۱۶- سورۂ نحل (شہد کی مکھی)
۱۷- سورہ ٔٔبنی اسرائیل (حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد)
۱۸- کہف (غار)
۱۹- سورۂ مریم (عیسی علیہ السلام کی والدہ کا نام)
۲۰- سورۂ طٰہ (حروف تہجی کے دو حروف)
۲۱- سورۂ انبیاء (اللہ کے پیغمبر، نبی کی جمع)
۲۲- سورۂ حج (زیارت)
۲۳- سورۂ مومنون (ایمان والے لوگ)
۲۴- سورۂ نور (روشنی )
۲۵- سورہ فرقان (حق و باطل میں امتیاز کرنے والی چیز)
۲۶- سورۂ شعراء (شاعر کی جمع)
۲۷- سورہ نمل ( چیونٹی)
۲۸- سورہ قصص (قصے، سچے واقعات)
۲۹- سورہ ٔ عنکبوت ( مکڑی)
۳۰- سورۂ روم (روم)
۳۱- سورہ لقمان (ایک صالح بزرگ کا نام)
۳۲- سورۂ سجدہ (جھکنا، سجدہ کرنا)
۳۳- سورہ ٔ احزاب (حزب : گروہ ، جمع : احزاب، جنگ)
۳۴- سورۂ سبا ( ایک قوم )
۳۵- سورۂ فاطر (پیدا کرنےوالا)
۲۶- سورۂ یسین (رسول کا نام)
۳۷- سورہ صافات ( صف بستہ )
۳۸- سورۂ ص (حروف تہجی کا ایک حرف)
۳۹- سورہ زمر ( گرورہ در گروہ)
۴۰- سورۂ مومن ( ایمان والا)
۴۱- سورہ حم (حروف تہجی کے حروف)
۴۲- سورہ ٔ شوری ( صالح و مشورہ)
۴۳- سورہ زخرف (سونا)
۴۴- سورہ دخان ( دھواں)
۴۵- سورہ جاثیہ ( گٹھنوں کے بل گرے ہوئے ہونا)
۴۶- سورہ االحقاف ( ایک جگہ کا نام)
۴۷- سورہ محمد (پیغمبر اسلام حضرت محمد ص کا نام مبارک)
۴۸- سورہ فتح (جیت، کامیابی)
۴۹- سورہ حجرات (حجرے ، کمرے)
۵۰- سورۂ ق (حروف تہجی کاایک حرف )
۵۱- سورۂ ذاریات ( گرد اڑانے والی ہوا)
۵۲- سورۂ طور ( ایک پہاڑ کا نام)
۵۳- سورہ نجم (ستارہ)
۵۴- سورہ قمر (چاند)
۵۵- سورہ رحمن (بہت زیادہ رحم فرمانے والا ، اللہ تعالی کے اسمائے حسنی)
۵۶- سورہ واقعہ (قیامت)
۵۷- سورہ حدید (لوہا)
۵۸- سورہ مجادلہ (بحث ، تکرار ، جھگڑا)
۵۹- سورہ حشر (جمع ہونا، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا، قیامت)
۶۰- سورہ ممتحنہ (امتحان لینے والی)
۶۱- سورہ صف (صف بستہ)
۶۲- سورہ جمعہ (دنوں میں سے ایک مبارک دن)
۶۳- سورہ منافقون ( منافق لوگ)
۶۴- سورہ تغابن (خسارہ سے دو چار ہونا)
۶۵- سورہ طلاق (آزاد کرنا، طالق دینا)
۶۶- سورہ تحریم (حرام کر دینا)
۶۷- سورہ ملک (بادشاہی)
۶۸- سورہ قلم (قلم)
۶۹- سورہ حاقہ (حقیقت، قیامت)
۷۰- سورہ معارج (بلندیاں)
۷۱- سورہ نوح (ایک پیغمبر کا نام)
۷۲- سورہ جن ( آگ سے پیدا کردہ ایک مخلوق)
۷۳- سورہ مزمل (چادر لپیٹنے واال)
۷۴- سورہ مدثر (چادر اوڑھنے واال)
۷۵- سورہ قیامت (یقینا قائم ہونے الی، قیامت)
۷۶- سورہ ٔ الدھر(بنی آدم)
۷۷- سورہ ٔمرسالت (ہوائیں)
۷۸- سورہ نبأ (اہم خبر)
۷۹- سورہ نازعات (کھینچنے والیاں، ہوا کی صفت)
۸۰- سورہ عبس (تیوری چڑھانا)
۸۱- سورہ ٔ تکویر (لپیٹنا )
۸۲- سورہ الانفطار( دراڑ)
۸۳- سورہ المطففین (ناپ تول میں کمی)
۸۴-سورہ الانشقاق ( شق ہونا )
۸۵- سورہ البروج ( آسمانی برج )
۸۶- سورہ الطارق ( چمکتا تارا )
۸۷-سورہ الاعلیٰ ( اعلی )
۸۸- سورہ الغاشیہ ( آنے والی آفت )
۸۹- سورہ الفجر ( فجر)
۹۰-سورہ البلد ( شہر)
۹۱-سورہ الشمس ( سورج )
۹۲-سورہ الیلل ( رات)
۹۳ -سورہ الضحیٰ ( دن کو اجالا)
۹۴-سورہ الشرح ( سکون قلب )
۹۵- سورہ التین ( انجیر )
۹۶-سورہ العلق ( جمع ہوا خون )
۹۷-سورہ القدر ( قدر)
۹۸-سورہ البیان ( واضح قسم)
۹۹-سورہ الزلزلہ ( زلزلہ)
۱۰۰-سورہ العادیات ( سر پٹ دوڑنے والے گھوڑے)
۱۰۱-سورہ القارعہ ( کھڑکھڑابے والی)
۱۰۲-سورہ التکاثر ( کثرت کی خواہش )
۱۰۳-سورہ العصر ( دور عصر )
۱۰۴-سورہ الھمزہ ( ریب جوئی والا)
۱۰۵-سورہ الفیل ( ہاتھی)
۱۰۶-سورہ القریش ( قریش )
۱۰۷-سورہ الماعون ( عام استعمال کی چیزیں )
۱۰۸-سورہ الکوثر ( حوض کوثر)
۱۰۹-سورہ الکافرون (کافر)
۱۱۰-سورہ النصر (مدد)
۱۱۱- سورہ لہب( آگ کے شعلے)
۱۱۲-سورہ الاخلاص (وحدانیت)
۱۱۳- سورہ الفلق ( صبح)
۱۱۴-سورہ الناس (انسان،لوگ)
Wednesday, 23 May 2018
قارون کا غرق ہونا
قارون کا غرق ہونا۔۔۔۔
قارون حضرت موسی علیہ السلام کے چچا کا بیٹا تھا۔
یہ بہت خوش آواز تھا۔ تورات بڑی خوش الحالی سے پڑھتاتھا۔ اس لئے اسے لوگ منور کہتے تھے۔
یہ چونکہ بہت مالدار تھا ،اس لئے اللہ کو بھول بیٹھا تھا۔قوم میں عام طور پر جس لباس کا دستور تھا اس نے اس سے بالشت بھر نیچا بنوایا تھا جس سے اس کا غرور اور تکبر اور اس کی دولت ظاہر ہو۔
اس کے پاس اس قدر مال تھا کہ اس کے خزانے کی کنجیاں اٹھانے پر قوی مردوں کی ایک جماعت مقرر تھی۔
اس کے بہت سے خزانے تھے ہر خزانے کی کنجی الگ تھی جو بالشت بھر کی تھی۔
قوم کے بزرگوں نے قارون کو نصیحت کی کہ اتنا اکڑا مت کرو تو قارون نے جواب دیا کہ میں ایک عقلمند، زیرک، دانا شخص ہوں اور اسے اللہ بھی جانتاہے،اسی لئے اس نے مجھے دولت دی ہے۔
قارون ایک دن نہایت قیمتی پوشاک پہن کر رزق برق عمدہ سواری پر سوار ہوکر اپنے غلاموں کو آگے پیچھے بیش بہا پوشاکیں پہنائے ہوئے لے کر بڑے ٹھاٹھ سے اتراتا ہوا نکلا،اس کا یہ ٹھاٹھ باٹھ اور یہ زینت و تجمل دیکھ کر دنیا داروں کے منہ میں پانی بھر آیا اور کہنے لگے کاش ہمارے پاس بھی اس جتنا مال ہوتا یہ تو بڑا خوش نصیب ہے اور بڑی قسمت والا ہے۔
قارون اس طمطراق سے نکلا وہ سفید قیمتی خچر پر بیش بہا پوشاک پہنے تھا۔
اس وقت ادھر حضرت موسی علیہ السلام خطبہ پڑھ رہے تھے،
بنواسرائیل کا مجمع تھا سب کی نگاہیں اس کی دھوم دھام پر لگ گئیں ۔
حضرت موسی علیہ السلام نے اس سے پوچھا اس طرح کیسے نکلے ہو؟اس نے کہا ایک فضیلت اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے۔
اگر تمہارے پاس نبوت ہے تو میرے پاس عزت ؤ دولت ہے اگر آپ کو میری فضیلت میں شک ہے تو میں تیارٰ ہوں آپ اللہ سے دعا کریں دیکھ لیجئے اللہ کس کی دعا قبول کرتاہے ۔
آپ علیہ السلام اس بات پر آمادہ ہوگئے اور اسے لےکرچلے حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا۔
اب پہلے دعا کروں یا تو کرے گا قارون نے کہا میں کروں گا اس نے دعا مانگی لیکن قبول نہ ہوئی حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے سے دعا کی یا اللہ زمین کو حکم کر جو میں کہوں مان لے۔
اللہ نےموسی علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور وحی آئی میں نے زمین کو تیری اطاعت کا حکم دے دیا ہے ۔
حضرے موسی علیہ السلام نے یہ سن زمین سے کہا:
"اے زمین اسے اور اس کے لوگوں کو پکڑ لے وہیں یہ لوگ اپنے قدموں تک زمین میں دھنس گئے،
پھر مونڈھوں تک ،پھر فرمایا اس کے خزانے اور اس کے مال بھی یہیں لے آؤ اسی وقت قارون کے تمام خزانے آگئے۔
حضرت موسی نے اپنے ہاتھ کے اشارے سےقارون کو اسکے خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیا۔
زمین جیسی تھی ویسی ہوگئی "
Tuesday, 22 May 2018
بیچارہ جاوید ھاشمی
" بیچارہ جاوید ھاشمی "
کہتا ہے ۔
" ہمارے پیسوں پر نوکری کرتے ہیں ، ہمیں آنکھیں دکھاتے ہیں ۔ ہم پر ہی حکومت کرتے ہیں ۔ دنیا میں جیسا ہوتا ہے ویسے کرنا ہوگا ۔ سویلین حکومت کے آگے سر جھکانا ہو گا ۔ سویلین حکومت کو سلیوٹ مارنا ہو گا "
کسی چوہے نے شراب پی لی تھی ، ترنگ میں آ کر بولنے لگا ، بلی کو ہمارے حضور پیش کیا جائے ۔
کچھ ایسا ہی مغالطہ جاوید ھاشمی کو ہو گیا ہے ۔ اسکا بیان ایک آرڈر کیطرح ہے ، جیسے وہ صاحب اختیار ہے ۔ خیر ! یہ ایک الگ موضوع ہے کہ ایسا لہجہ دماغ کا انتشار ہوتا ہے ۔
جناب فوج کو مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ
" ہمارے پیسوں پر نوکری کرتے ہیں "
ارے محترم یہی تو غلط فہمی ہے کہ قوم کے پیسے کو تم سیاستدانوں نے اپنا پیسہ سمجھ لیا ہے ۔ تم نے ساری عمر جو ٹیکس دیا ہوگا ، اسمبلی میں بیٹھ کر ایک ماہ میں وصول کر لیا ہوگا ۔ تم لوگ تو ملک کے پیسے کو چاٹ رہے ہو ۔ فوج کی تنخواہ تو قوم دیتی ہے جو ایک ایک لقمے پر ٹیکس کٹواتی ہے ۔ تم تو اس ٹیکس پر عیاشی کرتے ہو ۔ صاحب بہادر کو شکایت ہے کہ
" ہم پر حکومت کرتے ہو اور ہمیں آنکھیں دکھاتے ہو "
چونکہ تم لوگوں کو حکومت کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا ، اسلئے انہیں بار بار آنا پڑتا ہے ۔ ایک جنرل بننے میں ایک عمر لگتی ہے ۔ کئی جان جوکھوں کے مرحلوں سے گذرنا پڑتا ہے ۔ سینے پہ گولی کھانے کا حوصلہ پیدا کرنا پڑتا ہے ۔ اور ایک سیاستدان بننے کیلئے کیا محنت چاہئیے ۔ کس قابلیت کی ضرورت ہے؟ کیسا کردار کافی ہے ؟
صاحب بہادر کی آرزو ہے
" دنیا میں جیسا ہوتا ہے ویسے کرنا ہوگا ۔ سویلین حکومت کے آگے سر جھکانا ہو گا ۔ سویلین حکومت کو سلیوٹ مارنا ہو گا"
دنیا میں کونسا ملک ہے ، جہاں کے سیاستدان پورے کا پورا ملک لوٹتے ہیں اور فوج انکو سلیوٹ مارتی ہے ۔ میری معلومات میں تو بہت سارے ملکوں میں تو وطن لوٹنے والوں کو گولی مار دی جاتی ہے ۔ یا پھر عمر بھر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ دنیا کے اس قاعدے کلئیے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ۔
محترم ! اب زندگی کے آخری دنوں میں ، اللہ کے سامنے معافی تلافی کیلئے گڑگڑائیں ۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کے سفر آخرت میں ایک اور جھگڑا کھڑا ہو جائے کہ محترم مسلم لیگی تھے ، جماعتئے تھے یا انصافئے تھے ۔
آزاد ھاشمی
١٥ مئی ٢٠١٨
دشمن کی چال
" دشمن کی چال "
کسی بھی قوم کو فتح کرنے کیلئے سب سے خطرناک ہتھیار یہ ہوتا ہے کہ اس قوم کو اعصابی طور پر اتنا الجھا دیا جائے کہ وہ فیصلہ کرنے کی اہلیت کھو بیٹھے ۔ یہ وہ ہتھیار ہے جو کسی بھی ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے ۔
آج ہم اسی جنگ کی کیفیت میں ہیں ۔ ایسی صورت میں دانشمندی یہ نہیں کہ دشمن کی چال کے تحت اپنے اعصاب کو خلفشار میں جھونک دیں ۔ دانشمندی یہ ہے کہ باہمی اتفاق اور یگانگت سے ان اسباب کا قلع قمع کریں ، جو ہمارے اعصاب پر سوار ہو چکے ہیں ۔
یہ ایک انتہائی خطرناک تحریک ہے ، جسے ہم نے روکنا ہے ۔ ایک قوم بن کر ، ایک وجود بن کر ۔ وہ تمام لوگ ، خواہ وہ سیاسی قائدین ہیں ، خواہ وہ بکے ہوئے صحافی ہیں ، خواہ وہ دشمن کے ایجنٹ ہیں جو افراتفری کی فضا بنانے پر تلے ہیں ۔ ان سب کے ارادوں کو ختم کرنا ، ناکام کرنا اور ہر اس ادارے کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا ، ہماری ذمہ داری ہے ۔ جو ادارے اس حملے کے سامنے سینہ تانے کھڑے ہیں ۔ ان اداروں پر مثبت یا منفی تنقید بد اثرات مرتب کر سکتی ہے ۔
میدان میں لڑتا ہوا سپاہی ، اس مدبر ، عالم اور زاہد سے لاکھ درجے بہتر ہے جو طاغوت کے خوف سے عبادت کرنے حجرے میں دبکا بیٹھا ہے ۔ جو جان ہتھیلی پہ رکھے ، محاذ پر بیٹھا ہے ، وہ بہتر جانتا ہے کہ وار کب کرنا ہے اور وار کیسے روکنا ہے ۔ ہمیں صرف اسکا حوصلہ ٹوٹنے سے بچانا ہے ۔ جو بھی دانشور ، سیاسی جنون میں اس ضرورت سے بے خبر ہے ، وہ دشمن کی یلغار کا ہی ایک حصہ ہے ۔ اس کی حوصلہ شکنی وطن اور قوم کی اصل خدمت ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٤ مئی ٢٠١٨
جرنیلوں کی مہربانیاں
"جرنیلوں کی مہربانیاں "
فوج کی تعظیم کی ایک دیوانگی ہوا کرتی تھی ۔ بچپن میں جب فوجی کانوائے گزرتا تھا تو گاوں کے سارے بچے ، بوڑھے سڑک کے کنارے کھڑے انہیں سلیوٹ کرتے تھے ۔ ١٩٧١ میں مجھے ذاتی مشاہدہ ہوا کہ جنگ کے تیسرے دن ہمیں وردی اور کیما فلاج ہی میں لاہور بھاٹی گیٹ آنا پڑا ۔ لوگوں کی محبت اور ولولہ کا یہ حال تھا کہ ہمارے گلے ہاروں سے لاد دئیے جاتے ، ہم وہ پھول اتارتے تو دوسرے پہنا دئیے جاتے ۔ پیار کا وہ سماں زندگی کی بہترین یادداشت ہے ۔
قوم کسی فوجی کے بارے میں کچھ ناگوار بات سننا ہی نہیں چاہتی تھی ۔ پاکستان دو لخت ہوا ، جنرل نیازی نے ہتھیار ڈال دئیے ، پھر بھی قوم نے کوئی رد عمل نہیں دکھایا ۔ پھر آہستہ آہستہ ، فوج کھسکتے کھسکتے شہروں میں گھس گئی ۔ یہاں سے احترام میں کمی آنا شروع ہوئی ۔ لوگوں کو یہ پتہ چلنے لگا کہ یہ تو ہماری طرح کے غرض پرست لوگ ہیں ۔
ایوب نے سندھ طاس میں پانی کے وسائل گنوا دئیے ، قوم خاموش تھی ۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی کردار کشی کی ، قوم خاموش تھی ۔ وجہ خوف نہیں ، احترام تھا جو ١٩٦٥ میں فوج نے کمایا ۔ سقوط ڈھاکہ اور نوے ہزار فوجیوں کا ہتھیار ڈالنا ، ذلت آمیز تھا ۔ کیونکہ مورچے میں بیٹھا ہوا فوجی یلغار کرنے والے فوجی سے زیادہ محفوظ ہوتا ہے ۔ ایسی حالت میں ، ایک فوجی کیلئیے دس بیس دشمن فوجی مار دینا عام سی بات ہے ۔ ہتھیار ڈالنے کی بجائے لڑائی ہوتی تو کئی لاکھ دشمن جہنم واصل ہوتے ۔ آج تک دشمن کے زخم تازہ رہتے ۔ یہ دوسرے جنرلز کی ایک اور مہربانی تھی کہ جیت کی بجائے ہزیمت برداشت کر لی ۔ قوم کا رد عمل ، پھر بھی مثبت تھا ۔ ضیاءالحق ، تہجد گذار جنرل ۔ اللہ اور رسولؐ کا شیدائی ۔ روس سے لڑتا لڑتا ، تین بڑے مسائل پیدا کر گیا ۔ ایک افغان مہاجرین کو امان دی ، جو ایک درد سر بن رہی ہے ۔ دوسرا سندھ سے بھٹو کے جیالوں کے مقابلے میں کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا اور تیسرا پنجاب میں " مغل شہنشاہوں " کا راستہ صاف کر دیا ۔ جو آج ایسی درد سر ہے کہ پوری قوم مخمصے میں پڑی ہوئی ہے کہ اب اسکا کیا حل کرے ۔ انہوں نے حکمرانی اپنے باپ کی وراثت سمجھ لی ۔ یہ تحفہ بھی جرنیل ہی نے دیا ۔ پرویز مشرف کو پتہ چلا اور آج وہ کہتا ہے کہ اس کردار کا مجھے اسی وقت پتہ تھا ۔ چھوڑا اسلئیے کہ قوم کو اصل حقیقت سامنے آ جائے ۔ ارے صاحب ، قوم کے دشمن کا پتہ چلتے ہی اسکا سر کچلنا فوجی کی شناخت ہے ۔ آپ قوم سے کیوں کھیلتے رہے ۔ اب بھی وہ تمام جرنیل جو مصلحت سے کام لئے جا رہے ہیں اور ننگ قوم وطن ، دندناتے ہوئے ملک دشمنی کا اظہار کرتے پھر رہے ہیں ۔ اکثر سیاستدان اسی طرح کی زبان استعمال کر رہے ہیں ، جس سے ملکی سالمیت کو خطرات پیش آ سکتے ہیں ۔ فوج کا جنرل اپنے پیشے سے ہٹ کر اقدامات کرے گا ، تو یقینی طور پر اسکے خلاف رائے عامہ بھی ہموار ہو گی ۔ آج قوم جس صورت حال سے دوچار یے ، اس میں کچھ فوجی جنرلوں کا ہاتھ بھی ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٤ مئی ٢٠١٨
پہلا روزہ
" پہلا روزہ "
کئی سال سے وہ اسی جگہ ریہڑھی پر سموسے بیچ رہا تھا ۔ اللہ نے اسکے ہاتھ میں ذائقہ دے رکھا تھا ۔ ہر کوئی اس سے ہی سموسے خریدنے کو ترجیح دیتا ۔ آج رمضان کا پہلا دن تھا ۔ اس نے ریہڑھی پر بینر لگا رکھا تھا ۔
" پورا رمضان کا آرڈر بک ہے ۔ آپ ساتھ والی ریہڑھی سے سموسے ، پکوڑے خرید لیں "
میری دوستی پرانی تھی ۔ یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ یہی ریہڑھی تو اس کی ضروریات کی کفیل ہے ، پھر اس بینر کا کیا سبب ہے ۔ چونکہ وہ فارغ بیٹھا تھا ، اگر آرڈر ہوتا تو مصروفیت بھی ہوتی ۔
" بابا جی ! یہ کیا ہے ۔ اگر آرڈر تھا تو چولہا کیوں بند کر رکھا ہے اور تیل بھی ٹھنڈا پڑا ہے "
بابا جی ، حسب معمول مسکرائے ۔
" یار ! دراصل میرا دل کر رہا ہے کہ اس رمضان پہ آرام کروں ۔ یہ میرا ایک بھائی ، میری کمی پوری کرے گا ۔ بہت ذائقہ ہے اسکے ہاتھ میں " مجھے ایسے لگا جیسے بابا جی کو ساتھ والی ریہڑھی سے جلن ہوئی ہے ۔
" دیکھ بیٹا ! یہ جو میرا بھائی ہے نا ۔ بہت ضرورت مند ہے ۔ اسکے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔ چند روز پہلے اسکی نوکری چھوٹ گئی ہے ۔ یہ میرے پاس مشورے کیلئے آیا تھا ۔ کہ وہ کیا کرے ۔ میں نے اسے کہا ہے کہ میرے ساتھ پکوڑوں اور سموسوں کی ریہڑھی لگا لو ۔ میرے بہت سارے گاہک تمہیں مل جائیں گے ۔ اسی رمضان میں کام چل جائے گا ۔ "
مجھے بابا جی کا فلسفہ ہضم نہیں ہوا ۔
" تو آپ کا نان نفقہ کیسے چلے گا ؟ یہ تو خودکشی ہے "
میری بات سن کر بابا جی ، پھر ہنسے ۔
" تمہیں نان نفقے کی فکر ہوگی ۔ مجھے نہیں ہے ۔ میرا نان نفقہ تو اسوقت بھی مل رہا تھا ، جب میں رونے کے سوا کچھ نہیں جانتا تھا ۔ ان چڑیوں اور پرندوں نے کونسی پکوڑوں کی ریہڑھیاں لگا رکھی ہیں ۔ نان نفقے کی فکر سے آزاد ہوکر بھی سب کچھ پا رہے ہیں ۔ میری ضرورتیں محدود ہیں ۔ پوری ہو جائیں گی ۔ اسے میری مدد کی ضرورت تھی "
بابا جی کا اطمینان دیکھ کر عجیب سا لگ رہا تھا ۔
" یار جی ! ان بابو جی کیلئے ایک درجن سموسے بنا دو ۔ ودھیا والے " بابا جی نے نئے ریہڑھی بان کو آرڈر دیا ۔ اسکے چہرے پر چمک ابھری ۔
" دیکھ اسکی خوشی ۔ مجھے اسکی خوشی دیکھ کر کتنا اطمینان ملتا ہے ۔ تو سوچ بھی نہیں سکتا "
"محنت اسکی ، روزگار اسکا اور منافع میرا ۔ یہ خوشی میرا منافع ہے جو زندگی بھر نہیں کمایا تھا ۔ آج کما رہا ہوں "
بابا جی کے چہرے پر جلن کے آثار تک نہیں تھے ۔ جو خوشی کی چمک , میں نے انکی آنکھوں میں آج دیکھی تھی ، پہلے کبھی نہیں۔
" یار ایسے لگ رہا ہے کہ میں نے آج پہلا روزہ رکھا ہے اور پہلی افطاری کروں گا ۔ "
باباجی ، مسکراتے ہوئے بولے ۔
آزاد ہاشمی
٢٢ مئی ٢٠١٨
آٹے کا تھیلا ، گھی کا ڈبہ
" آٹے کا تھیلا ، گھی کا ڈبہ "
حاتم طائی کی رسم سخاوت آج تک جاری ہے ۔ عید ، تہوار اور رمضان میں غریب پرور لوگ ، میدان میں آجاتے ہیں ۔ صاف ستھرے ، کلف زدہ لباسوں میں ملبوس ، بڑی بڑی گاڑیوں سے اتر کر ، چند ذہنی غلاموں کے نعروں کی گونج میں ، قطار میں بیٹھی چند بیوگان ، چند جھکی کمر والے بوڑھے ، چند یتیم بچے ، چند اپاہج ، گرد آلود ، پسینے کی بدبو سے " مہکتے " لباس اور چہروں پہ موت کی زردی والے یہ ضرورت مند ، گھنٹوں دھوپ میں ، گرمی میں اور یخ بستہ سردی میں انتظار کرتے ہیں ۔
پھر ان قسمت کے مارے لوگوں کو ، حاتم طائی کے وارثان ، ایک تھیلا آٹا ، ایک ڈبہ گھی ، ایک کلو چینی اور اور سو دو سو روپے کا بند لفافہ تھما دیتے ہیں ۔ گویا انکی بقیہ زندگی کا راشن مکمل ہوا ۔ اپنی تصویریں ان بے بس چہروں کے ساتھ اخبارات اور دیگر تشہیری ذرائع سے عام ہو جاتی ہیں ۔ کیا یہ " دان " زکوٰة تھی ،خیرات تھی یا انتخابی کاروائی ۔ جو کچھ بھی تھا ، انسان کی تحقیر کا بہترین طریقہ ہے ۔ کیا یہ خیرات لینے والے اور خیرات دینے والے دونوں ایک طرح کے گوشت پوست کے انسان نہیں ہوتے ۔ ان مجبور لوگوں کو قدرت نے ایسا نہیں بنایا ۔ یہ کسمپرسی اللہ کیطرف سے نہیں ملی ۔ یہ سب ان خیرات کا مذاق کرنے والوں کیوجہ سے ہے ۔ ان غریبوں کا استحصال انہی امراء نے کیا ۔ ان کے حصے کا اناج ان ذخیرہ اندوزوں نے چھین رکھا ہے ۔ یہ ذمہ داری ہے حکمرانوں کی کہ ان مفلوک الحال لوگوں کو وسائل فراہم کریں تاکہ وہ بھی وقار سے جی سکیں ۔
اگر اسلام کے اصولوں پر عمل کیا جائے تو اسوقت زکوٰة اتنی بنتی ہے کہ کوئی مانگنے والا ہاتھ باقی نہیں رہتا ۔ معاشرتی زندگی میں اگر ہمسایہ بھوکا سو گیا تو خوشحال ہمسائے کی ساری رات کی عبادت بھی قبول نہیں ۔ اگر کسی ایک کو سحر پہ پیٹ کیلئے کچھ نہ ملا تو پورے قرب و جوار کا کوئی روزہ قبولیت نہیں پائے گا ۔ یاد رہے کہ روزہ اسی احساس کے جگانے کا نام ہے ۔ افطاریوں کے بڑے بڑے دستر خوان سے اللہ کو کچھ غرض نہیں ۔ اگر احساس نہیں جاگا تو ایک ماہ کی فاقہ کشی ہے ، روزہ داری نہیں ۔ ایک تھیلا آٹا نہ رمضان کیلئے کافی ہے نہ ہی اس سے عید منائی جا سکتی ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢١ مئی ٢٠١٨
Monday, 21 May 2018
اے اللہ میرے وطن کی حفاظت فرما
" اے اللہ ! میرے وطن کی حفاظت فرما "
اے قادر مطلق ! یہ وطن تیرے دین کے نام پہ حاصل کیا تھا ۔ تو جانتا کہ کتنے لوگ اس پر قربان ہوئے ، تو جانتا ہے کہ کتنے معصوموں کو برچھیوں پہ پرویا گیا ۔ کتنی عصمتیں تار تار ہوئیں ۔ تو نے اپنے کلمے سے وارفتگی بھی دیکھی ۔ یہ سب قربانیاں دینے والے بے بس لوگ تھے ۔ جو تھا وہ بھی لٹا کر یہاں آئے تھے ۔ آنکھوں میں ایک خواب سجا کر کہ یہ دھرتی پاک لوگوں کی ہو گی ۔ یہ امید لے کر کہ یہاں تیرا نام گونجے گا ۔ یہاں سب تیری اور تیرے رسولؐ کی اطاعت کریں گے ۔
اے قادر مطلق ! تو دیکھ رہا ہے ، کہ وطن لٹیروں ، بدکاروں ، شرابیوں اور گناہ کبیرہ کے رسیا لوگوں کے ہاتھ میں آگیا ہے ۔ تیرے بندے کمزور ہیں ، ناتواں ہیں ، بے بس ہیں ، مجبور ہیں اور مظلوم ہیں ۔ کچھ کر بھی نہیں سکتے ۔ سمجھ بھی نہیں آتا کہ یہ بے بس لوگ کیا کریں ۔ لٹتا وطن دیکھ دیکھ کر کڑھتے ہیں ۔ ہاتھ ملتے ہیں ۔ آہیں بھرتے ہیں ۔ اگر کوئی بد نصیب بول اٹھتا ہے تو اسکی عزت نیلام ہو جاتی ہے ۔ کسی مقابلے میں مار دیا جاتا ہے ۔
اے اللہ ! اگر تونے ان بے کسوں کی مدد نہ کی ، اس ملک کی رکھوالی نہ کی ، تو تیرے نام پہ بننے والا یہ ملک ، اقتدار کے حریص تباہ کر دیں گے ۔
ہم بے بسوں کی مدد فرما ۔ اے رحم کرنے والے ، اے کرم کرنے والے ، اے حافظ و ناصر ، اس بے بس قوم کی حفاظت فرما ۔ میرے ملک کو نوچنے والے ان بھیڑیوں سے نجات دلا دے ۔ اگر یہ اصلاح کے قابل ہیں تو انکی اصلاح فرما ۔ اگر یہ ہدایت کے اہل ہیں تو انکی ہدایت فرما ۔ اگر یہ پوری طرح گمراہ ہیں تو ان سے ملک کو ، قوم کو چھٹکارہ دلا ۔ جیسا تو نے موسےؑ کو فرعون سے دلایا تھا ۔
اے اللہ ! قبول فرما
آزاد ھاشمی
١٨ مئی ٢٠١٨