" اسلامی نظام ، آسان ترین نظام "
ایک ابہام سا پھیلا دیا گیا ہے کہ اسلامی نظام کو لاگو کرنے میں ، بہت سارے مسائل ہیں ، جس میں مسالک سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ یہ کسی حد تک درست ہے کہ علماء اپنے اپنے مسالک کی بالادستی چاہتے ہیں اور یہی لوگ نظام کو اتنا مشکل بنا دیتے ہیں ۔ کہ اکثر کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں ۔
ہم نے بحیثیت قوم ایک سوچ بنا لی ہے ، کہ اسلام کو سمجھنے کیلئے مولوی کے سامنے گھٹنے ٹیکنا لازمی ہے ۔ دوسری سوچ ہمارے ذہنوں میں یہ بٹھا دی گئی ہے ، کہ قرآن کو از خود سمجھنے کی کوشش گمراہی کیطرف لے جاتی ہے ۔ ہم خوفزدہ ہو کر مولوی کے مرہون ہوگئے ۔ اب یہ تاثر ہماری ذہنوں پر مسلط کردیا گیا کہ اسلام کے نظام کو نافذ کرنے کیلئے بہت دشواریاں ہیں ۔ بہت سارے منفی پہلو ہیں جو اسلام کے نظام کیلئے رکاوٹ ہیں ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر اسلام فعال نظام ہوتا تو آج تک کامیاب کیوں نہ ہوا ۔ جسکی ایک دلیل صحابہؓ کے ادوار کی باہمی چپقلش ، پھر خلافت کے اموی ، عباسیہ اور عثمانیہ ادوار کی ناکامی کو اسلامی نظام کی خامی سمجھ لیا گیا ہے ۔ یہ حقیقت ہمیشہ چھپائی گئی کہ اسلام کے نظام کا مختصر عرصہ کیا تھا اور اسکے نتائج کیا تھے ۔ معاویہ کے اقتدار سے ملوکیت نے پنجے گاڑھ دئیے اور پھر ملوکیت ہی ملوکیت کا دور دورہ رہا ۔ اسلام کے نظام اور اسلام کی اصل تعلیم کے ساتھ کیا ہوا ، یہ الگ بحث ہے ۔
یہاں دیکھنا یہ ہے کہ آخر کسی بھی حکومت کا نظام ہوتا کیا ہے ؟
ہر حکومت کے نظام کا اصل مدعا یہ ہوتا ہے کہ عوام کو مساویانہ وسائل دئیے جائیں ، جس میں ہر کوئی اپنی استطاعت سے اپنی اپنی منصوبہ بندی احسن طریقے سے کر سکے ۔ ہر کسی کو انصاف اور عدل میسر ہو تاکہ کوئی دوسرا کسی کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ نہ ڈال سکے ۔ جرم کی سزا مساوی ہو اور ایسی ہو کہ جرم رک جائے ۔ معیشت بہتر ہو کہ ہر شہری خوشحال زندگی گذار سکے ۔ حکمرانی پر کوئی ایسا نہ آئے ، جو اسکے اہل نہ ہو ۔ یہ وہ شعبہ جات ہیں ، جو حکومت کے نظام کی اساس ہوتے ہیں ۔ ان تمام امور میں اسلام سے بہتر اور آسان کوئی دوسرا راستہ نہیں ۔ حدود کا نفاذ واضع ہے کہ ہر مسلک پر اسکے مطابق لاگو کر دی جائیں ۔ حکمران کا انتخاب اور اسکی اہلیت کی شرائط واضع ہیں ۔ شوریٰ کی شرائط واضع ہیں ، معیشت کے طریقے واضع ہیں ۔ کسی ایک میں بھی کوئی ابہام نہیں ۔ اگر اخلاص سے کام لیا جائے تو اسلام کے نظام کیلئے صرف ایک حکم کی ضرورت ہے ۔ کہ
" آج سے مملکت پاکستان پر اللہ کی حاکمیت ہے ، تمام امور اللہ کے حکم کے مطابق چلیں گے ۔ ہر شہری کو وہ حقوق حاصل ہیں ، جن کا تعین اسلام میں موجود ہے ۔ آج سے اسلامی حدود لاگو ہیں ۔ آج سے حکومت کے وسائل زکوٰة ، عشر اور خمس ہیں ۔ آج سے شوریٰ کے تحت نظام حکومت چلے گا ۔ آج سے حکمران کی وہی شرائط ہیں جو اللہ نے وضع کی ہیں وغیرہ "
ہم نے جب بھی سوچا ، کمیٹیاں بنا کر وقت گذارنے کا بہانہ ڈھونڈھا ۔ کبھی خلوص نیت سے اقدامات نہیں کئے ۔ وگرنہ اسلام کا نظام کب کا لاگو ہوتا۔ آزاد ھاشمی
٢١ مئی ٢٠١٨
Monday, 21 May 2018
اسلامی نظام۔ آسان ترین نظام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment