"جرنیلوں کی مہربانیاں "
فوج کی تعظیم کی ایک دیوانگی ہوا کرتی تھی ۔ بچپن میں جب فوجی کانوائے گزرتا تھا تو گاوں کے سارے بچے ، بوڑھے سڑک کے کنارے کھڑے انہیں سلیوٹ کرتے تھے ۔ ١٩٧١ میں مجھے ذاتی مشاہدہ ہوا کہ جنگ کے تیسرے دن ہمیں وردی اور کیما فلاج ہی میں لاہور بھاٹی گیٹ آنا پڑا ۔ لوگوں کی محبت اور ولولہ کا یہ حال تھا کہ ہمارے گلے ہاروں سے لاد دئیے جاتے ، ہم وہ پھول اتارتے تو دوسرے پہنا دئیے جاتے ۔ پیار کا وہ سماں زندگی کی بہترین یادداشت ہے ۔
قوم کسی فوجی کے بارے میں کچھ ناگوار بات سننا ہی نہیں چاہتی تھی ۔ پاکستان دو لخت ہوا ، جنرل نیازی نے ہتھیار ڈال دئیے ، پھر بھی قوم نے کوئی رد عمل نہیں دکھایا ۔ پھر آہستہ آہستہ ، فوج کھسکتے کھسکتے شہروں میں گھس گئی ۔ یہاں سے احترام میں کمی آنا شروع ہوئی ۔ لوگوں کو یہ پتہ چلنے لگا کہ یہ تو ہماری طرح کے غرض پرست لوگ ہیں ۔
ایوب نے سندھ طاس میں پانی کے وسائل گنوا دئیے ، قوم خاموش تھی ۔ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی کردار کشی کی ، قوم خاموش تھی ۔ وجہ خوف نہیں ، احترام تھا جو ١٩٦٥ میں فوج نے کمایا ۔ سقوط ڈھاکہ اور نوے ہزار فوجیوں کا ہتھیار ڈالنا ، ذلت آمیز تھا ۔ کیونکہ مورچے میں بیٹھا ہوا فوجی یلغار کرنے والے فوجی سے زیادہ محفوظ ہوتا ہے ۔ ایسی حالت میں ، ایک فوجی کیلئیے دس بیس دشمن فوجی مار دینا عام سی بات ہے ۔ ہتھیار ڈالنے کی بجائے لڑائی ہوتی تو کئی لاکھ دشمن جہنم واصل ہوتے ۔ آج تک دشمن کے زخم تازہ رہتے ۔ یہ دوسرے جنرلز کی ایک اور مہربانی تھی کہ جیت کی بجائے ہزیمت برداشت کر لی ۔ قوم کا رد عمل ، پھر بھی مثبت تھا ۔ ضیاءالحق ، تہجد گذار جنرل ۔ اللہ اور رسولؐ کا شیدائی ۔ روس سے لڑتا لڑتا ، تین بڑے مسائل پیدا کر گیا ۔ ایک افغان مہاجرین کو امان دی ، جو ایک درد سر بن رہی ہے ۔ دوسرا سندھ سے بھٹو کے جیالوں کے مقابلے میں کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا اور تیسرا پنجاب میں " مغل شہنشاہوں " کا راستہ صاف کر دیا ۔ جو آج ایسی درد سر ہے کہ پوری قوم مخمصے میں پڑی ہوئی ہے کہ اب اسکا کیا حل کرے ۔ انہوں نے حکمرانی اپنے باپ کی وراثت سمجھ لی ۔ یہ تحفہ بھی جرنیل ہی نے دیا ۔ پرویز مشرف کو پتہ چلا اور آج وہ کہتا ہے کہ اس کردار کا مجھے اسی وقت پتہ تھا ۔ چھوڑا اسلئیے کہ قوم کو اصل حقیقت سامنے آ جائے ۔ ارے صاحب ، قوم کے دشمن کا پتہ چلتے ہی اسکا سر کچلنا فوجی کی شناخت ہے ۔ آپ قوم سے کیوں کھیلتے رہے ۔ اب بھی وہ تمام جرنیل جو مصلحت سے کام لئے جا رہے ہیں اور ننگ قوم وطن ، دندناتے ہوئے ملک دشمنی کا اظہار کرتے پھر رہے ہیں ۔ اکثر سیاستدان اسی طرح کی زبان استعمال کر رہے ہیں ، جس سے ملکی سالمیت کو خطرات پیش آ سکتے ہیں ۔ فوج کا جنرل اپنے پیشے سے ہٹ کر اقدامات کرے گا ، تو یقینی طور پر اسکے خلاف رائے عامہ بھی ہموار ہو گی ۔ آج قوم جس صورت حال سے دوچار یے ، اس میں کچھ فوجی جنرلوں کا ہاتھ بھی ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٤ مئی ٢٠١٨
Tuesday, 22 May 2018
جرنیلوں کی مہربانیاں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment