Tuesday, 22 May 2018

پہلا روزہ

" پہلا روزہ "
کئی سال سے وہ اسی جگہ ریہڑھی پر سموسے بیچ رہا تھا ۔ اللہ نے اسکے ہاتھ میں ذائقہ دے رکھا تھا ۔ ہر کوئی اس سے ہی سموسے خریدنے کو ترجیح دیتا ۔ آج رمضان کا پہلا دن تھا ۔ اس نے ریہڑھی پر بینر لگا رکھا تھا ۔
" پورا رمضان کا آرڈر  بک ہے ۔ آپ ساتھ والی ریہڑھی سے سموسے  ، پکوڑے خرید لیں "
میری دوستی پرانی تھی ۔ یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ یہی ریہڑھی تو اس کی ضروریات کی کفیل ہے ، پھر اس بینر کا کیا سبب ہے ۔ چونکہ وہ فارغ بیٹھا تھا ، اگر آرڈر ہوتا تو مصروفیت بھی ہوتی ۔
" بابا جی ! یہ کیا ہے ۔ اگر آرڈر تھا تو چولہا کیوں بند کر رکھا ہے اور تیل بھی ٹھنڈا پڑا ہے "
بابا جی ، حسب معمول مسکرائے ۔
" یار ! دراصل میرا دل کر رہا ہے کہ اس رمضان پہ آرام کروں ۔ یہ میرا ایک بھائی ، میری کمی پوری کرے گا ۔ بہت ذائقہ ہے اسکے ہاتھ میں " مجھے ایسے لگا جیسے بابا جی کو ساتھ والی ریہڑھی سے جلن ہوئی ہے ۔
" دیکھ بیٹا ! یہ جو میرا بھائی ہے نا ۔ بہت ضرورت مند ہے ۔ اسکے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔ چند روز پہلے اسکی نوکری چھوٹ گئی ہے ۔ یہ میرے پاس مشورے کیلئے آیا تھا ۔ کہ وہ کیا کرے ۔ میں نے اسے کہا ہے کہ میرے ساتھ پکوڑوں اور سموسوں کی ریہڑھی لگا لو ۔ میرے بہت سارے گاہک تمہیں مل جائیں گے ۔ اسی رمضان میں کام چل جائے گا ۔ "
مجھے بابا جی کا فلسفہ ہضم نہیں ہوا ۔
" تو آپ کا نان نفقہ کیسے چلے گا ؟ یہ تو خودکشی ہے "
میری بات سن کر بابا جی ، پھر ہنسے ۔
" تمہیں نان نفقے کی فکر ہوگی ۔ مجھے نہیں ہے ۔ میرا نان نفقہ تو اسوقت بھی مل رہا تھا ، جب میں رونے کے سوا کچھ نہیں جانتا تھا ۔ ان چڑیوں اور پرندوں نے کونسی پکوڑوں کی ریہڑھیاں لگا رکھی ہیں ۔ نان نفقے کی فکر سے آزاد ہوکر بھی سب کچھ پا رہے ہیں ۔ میری ضرورتیں محدود ہیں ۔ پوری ہو جائیں گی ۔ اسے میری مدد کی ضرورت تھی "
بابا جی کا اطمینان دیکھ کر عجیب سا لگ رہا تھا ۔
" یار جی ! ان بابو جی کیلئے ایک درجن سموسے بنا دو ۔ ودھیا والے " بابا جی نے نئے ریہڑھی بان کو آرڈر دیا ۔ اسکے چہرے پر چمک ابھری ۔
" دیکھ اسکی خوشی ۔ مجھے اسکی خوشی دیکھ کر کتنا اطمینان ملتا ہے ۔ تو سوچ بھی نہیں سکتا "
"محنت اسکی ، روزگار اسکا اور منافع میرا ۔ یہ خوشی میرا منافع ہے جو زندگی بھر نہیں کمایا تھا ۔ آج کما رہا ہوں "
بابا جی کے چہرے پر جلن کے آثار تک نہیں تھے ۔ جو خوشی کی چمک , میں نے انکی آنکھوں میں آج دیکھی تھی ، پہلے کبھی نہیں۔
" یار ایسے لگ رہا ہے کہ میں نے آج پہلا روزہ رکھا ہے اور پہلی افطاری کروں گا ۔ "
باباجی ، مسکراتے ہوئے بولے ۔
آزاد ہاشمی
٢٢ مئی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment