" مسلمان کہاں رہتے ہیں "
بابا جی نے پکوڑوں کو نکالتے ہوئے , میری طرف بہت غور سے دیکھا . جب میں نےجذباتی انداز میں کہا.
" بیت المقدس ہم مسلمانوں کا ہے . ہم لے کے رہیں گے . "
بابا جی مسکرائے اور میرے کندھے پہ ہاتھ دباتے ہوئے بولے .
" اگر یہی جذبہ رہا تو تم اکیلے بیت القدس آزاد کرا لو گے . بس ڈٹے رہو ."
مجھے محسوس ہوا کہ بابا جی نے میرا مذاق اڑایا ہے .
" میں اکیلا نہیں ہوں . یہ سارے مسلمانوں کی آواز ہے "
بابا جی نے قہقہہ لگایا اور بولے
" بیٹا یہ مسلمان کہاں رہتے ہیں . کیا اس بستی میں بھی مسلمان ہیں "
مجھے یقین ہو گیا کہ لوگ سچ ہی کہتے ہیں . بڑھاپے میں عقل چلی جاتی ہے اور بوڑھا بندہ بچوں والی حرکتیں کرتا ہے . میں سمجھا کہ بات ختم کرنا ہی مصلحت ہے . سو میں نے بات نہیں بڑھائی .
" جب مسلمانوں کا سراغ مل گیا , بیت المقدس خود مل جائیگی . ابھی تو سنی ملتے ہیں , شیعہ ملتے ہیں , وہابی ملتے ہیں . اب تو بریلوی اور دیوبندی بھی ملتے ہیں . اور تو مجھے نام بھی یاد نہیں . کوئی مانتا ہی نہیں کہ سب مسلمان ہیں . سب ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں . بس یہی روگ ہے جس کا علاج ممکن نہیں . اسی روگ سے بیت المقدس چھن رہا ہے . نعروں اور جلوسوں سے کام نہیں بننے والا . شیرازے کو سمیٹنے سے کام بنے گا بیٹا . اس پر دھیان دو ."
بابا جی یہ کہہ کر پکوڑے تلنے لگے اور میں سوچنے لگا کہ بات تو سچ ہے .
ازاد ھاشمی
Friday, 8 December 2017
مسلمان کہاں رہتے ہیں
کیوں لکھتا ہوں
" کیوں لکھتا ہوں "
چند محترم دوست پوچھتے ہیں کہ میں روز کیوں نئے نئے موضوعات پر لکھنے بیٹھ جاتا ہوں . خصوصی طور پر سیاسی تنقید اور مذہبی موضوعات پر لکھنے سے کیا حاصل ہوتا ہے . خواہ مخواہ اپنا وقت ضائع کیوں کرتا ہوں . چہکتے مہکتے موضوعات لکھنے کی بجائے مایوسی اور اداسی کا انتخاب کیوں کرتا ہوں . چند سیاسی جماعتوں پر تنقید کیوں کرتا ہوں . ایسے بہت سارے سوال پوچھے جاتے ہیں . تو جناب جواب کی چند سطور پیش ہیں ...
انسان کی زندگی کا کوئی تو ایسا مقصد ہو کہ جس سے کوئی اصلاح کا پہلو نکلے , کوئی خدمت کا عنصر شامل ہو . مزاح اور چہکتے شگوفے چھوڑنے میں بھی کوئی برائی نہیں اگر ان میں کوئی اصلاح ہو . میں نے بھی زندگی میں انسانوں کی خدمت کرنے کا ایک عزم اپنے دل میں پال رکھا تھا . دین کی خدمت میں بھی فروعات سے توجہ ہٹا کر حقیقت کی طرف راغب کرنے کی سعی بھی ایک مقصد زندگی تھا . مگر میرے لئے یہ دونوں کام ممکن نہیں ہو پا رہے . صحت کا اشارہ ہے کہ میرے پاس وقت بہت کم ہے . اسی خوف سے قلم لیکر بیٹھ جاتا ہوں . اللہ نے جتنا علم اور شعور بخشا ہے , اسی کے مطابق لکھتا ہوں اور سچ لکھنے پر توجہ رکھتا ہوں . یہ سوچتا ہوں کی شاید کوئی ایک سطر ایسی لکھی جائے جس سے بھلائی کا کوئی پہلو نکل آئے . اور یہی سطر میری فلاح کا سبب بن جائے . اپنے دل کی تسکین کیلئے یہ کوشش جاری رکھے بیٹھا ہوں . معذرت خواہ ہوں ان دوستوں سے جن کے مزاج پر میری تحریر گراں گزرتی ہے .
ازاد ھاشمی
سیاست اور عبادت
" سیاست اور عبادت "
ایک رائے قائم کی جا رہی ہے اور ذہنوں کو تبدیل کرنے کی کوشش جاری ہے کہ سیاست عبادت ہے . اس خیال کی تخلیق کیسے شروع ہوئی اور اسکو پکا کرنے کا جہاد کون لوگ کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں . اسکے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا . اس نظرئیے کو پروان چڑھنے سے روکنے کیلئے کوئی مذہبی سکالر میدان میں نہیں آیا . شاید مذہبی قایدین کے پاس ابھی کافر کافر کرنے سے فرصت نہیں .
عبادت کا مفہوم کیا ہے , اسکا دائرہ کتنا وسیع ہے . یہ سب واضع کرنا مذہبی سکالرز پر لازم ہے .
عبادت اللہ کی عبدیت کے عملی اظہار کا نام ہے . اللہ کی عبدیت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ نے جس کام کا حکم دیا , اسے من و عن , بغیر کسی تحقیق اور ترمیم کے تسلیم کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے . جس کام اور فعل سے روکا , بلا چوں و چراں رکا جائے . حقوق اللہ اور حقوق العباد کا پورا خیال رکھا جائے , جیسے حکم ہوا . یعنی غلامی صرف اللہ کی اختیار کی جائے تو یہ عبدیت کا عملی مظاہرہ ہے اور یہی عبادت ہے .
سیاست , کو کیسے اللہ کی عبدیت کہا جا رہا ہے . ادراک سے بالکل باہر ہے . سیاست حکمرانی تک پہنچنے کے داو پیچ کا نام ہے . حکمرانی پر پہنچ کر بنی نوع انسان کی خدمت تو ڈیوٹی ہے , تکمیل ہے ان وعدوں کی جو عوام سے کئے جاتے ہیں , ہر گز عبادت نہیں کہلائے گی . سیاست کے کھیل کو عبادت سے جوڑ کر عبادت کا تصور مہمل بنانے کی کوشش کے علاوہ کچھ نہیں . دنیا کا حصول انسانی فطرت کی تسکین ہے اور اقتدار اس کی آخری منزل . عبادت صرف اور صرف اللہ کو راضی کرنے کا نام ہے . سیاست کے کھیل میں جھوٹ , چغلی , بہتان , مکر اور فریب اصل گر ہیں . اور یہ سارے وہ افعال ہیں جس سے اللہ راضی نہیں بلکہ ناراض ہوتا ہے .
کیسے ممکن ہے کہ اللہ کی عبدیت کو اور اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کی جدوجہد کو ایک ہی مان لیا جائے .
ازراہ کرم سیاسی مفکرین مذہبی اقدار کے ساتھ یہ مذاق نہ کریں .
ازاد ھاشمی
بیچارہ جاوید ھاشمی
" بیچارہ جاوید ہاشمی "
سیاست کی بیماری بھی بہت عجیب ہے . حواس تو اوائل ہی میں چھین لیتی ہے اور کردار کو آہستہ آہستہ زنگ آلود کرتی رہتی ہے . خودداری کی سخت دشمن یہ بیماری , بڑے بڑے طرم خانوں کو بھی اپنے سے نیچ لوگوں کے سامنے دو زانو کر ڈالتی ہے . شرم اور حیا کو چاٹ جاتی ہے . مریض کو ایک زعم میں مبتلا کر دیتی ہے کہ قوم اور ملک کا اسی پر انحصار ہے . مجھے جناب جاوید ھاشمی صاحب کو دیکھ کر بہت ترس آتا ہے . بیچارہ زمانہ طالبعلمی میں لیڈری کے مرض کا شکار ہوا . جس جماعت نے لیڈری کا چسکا لگایا . اسکے ساتھ پرواز سست دکھائی دی , پھر یکے بعد دیگرے جماعتوں کو بدلنا شروع کیا . کہیں بھی اور کسی نے بھی وہ خواب پورے نہیں کئے جو محترم دیکھتے تھے . جسم نے ساتھ چھوڑا , شعلہ بیانی کرنے والی زبان لکنت زدہ ہو گئی , کانپتے ہاتھوں اور لرزتی ٹانگوں سے بھی پبلک میں کودنے کا عمل جاری رکھا . نئے پاکستان کی بنیادیں بھی ڈال دیں اور بادشاہت سے کراہت بھی کی . پھر اسی بادشاہت میں لوٹ کر عاقبت سنوارنے کو واپسی بھی کر لی .
میری سدھ بدھ اس " عروج , زوال اور عروج " کو تو نہیں پہنچ سکی . شاید قوم کو سمجھ آ جائے اور جناب کو بابا جمہوریت کا لقب عطا کردے . یا "باغی بہادر " کی پگڑی پہنا دی جائے .
قوم اس بے چارے کی حالت پر ترس کھا کر اب کچھ تو ایسا کردے کہ وہ سکون سے اگلے سفر کیلئے کچھ اکٹھا کرنے میں لگ جائے . آہ ! بیچارہ جاوید ھاشمی .
ازاد ھاشمی
جسٹس صاحب کی بے باقی
" جسٹس صاحب کی بے باقی"
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئی ایس آئی کے نمائندے سے استفسار کیا کہ
"آپ اپنی رپورٹ میں سے کوئی ایک لفظ ایسا بتادیں جو اخبارات میں رپورٹ نہ ہوچکا ہو؟ جو چینلز والے نہ بتاچکے ہوں۔ آپ پر ریاست کے وسائل خرچ ہوتے ہیں، آپ اس ملک کی سب سے طاقتور ایجنسی ہیں جبکہ آپ کو یہ نہیں پتا کہ دھرنے کو لیڈ کرنے والوں کے ایڈریس کیا ہیں "
سوال تو درست ہے اور بہت جرات مندانہ موقف بھی . ہم تو اسے ایمان بنا بیٹھے ہیں کہ ہماری ایجینسی دنیا کی بہترین ایجینسی ہے . آئی ایس آئی کے بارے میں کوئی بھی جرات غداری ہوتی ہے . حیرانی کی کیا بات ہے کہ وہ میڈیا کی معلومات پر اپنا لائحہ عمل تیار کرتے ہیں . ان کے پاس وقت ہی کب ہے کہ تحقیقات کرتے پھریں . ضرب عصب اور ردالفساد کے بعد ٹوٹی کمر والے دہشت گردوں کی کامیاب کاروائیاں ایجینسی پر پہلے ہی سوالیہ نشان بن گئ ہیں . اب آپ نے بھی نئے نئے سوال کر ڈالے ہیں . اگر انکی معلومات پر عام پبلک نے سوال اٹھانا شروع کر دئیے تو ہماری بہادر فوج کا مورال بھی متاثر ہو گا اور ایجینسی کے افسران کو طیش بھی آئے گا . پھر وہ بھی کہیں گے کہ یہ بلڈی سویلین کیسے کیسے سوال اٹھاتے ہیں . دھرنے کے قائدین کے اڈریس تو بہت کٹھن کام بھی ہے اور اتنا ضروری بھی نہیں . اسکے لئے اتنی بڑی ایجینسی اپنا وقت کیوں برباد کرے . جناب جسٹس صاحب آپ کو اتنے سوال نہیں اٹھانے چاہئیے تھے . ویسے بھی ایک لاکھ اسی ہزار پولیس کی نفری جو پنجاب کی حکمران فورس ہے , پولیس سے بھی پوچھیں کہ آپ کی کیا ذمہ داریاں ہیں .آپ کیوں ملکی سرحدوں کی حفاظت والوں کو ان مسائل میں الجھا رہے ہیں . آپ اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کر کے پولیس کو بلا لیں اور ایسی ہی کلاس لیں . اس سے کم از کم آئی ایس آئی کا بھرم تو قائم رہے گا . کیونکہ یہ بھرم ہماری ڈھارس بھی ہے اور بیرونی دشمن کے لئے خوف بھی . اسے زندہ رہنا چاہئیے .
ازاد ھاشمی
دوسری جسارت
" دوسری جسارت "
جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آئی بی اور آئی ایس آئی سے پوچھتے ہیں .
"کیا اس ملک میں عدالتیں بند ہوگئی ہیں؟ "
یہ ادارہ جسے آپ عدالت کہتے ہیں , اسی روز بند ہوگئی تھیں , جب وکیل اور جج چیمبر میں فیصلے کرنے لگے تھے . جب جج کو پلاٹ ملنا شروع ہوئے تھے . جب غریب کی چوری ہر جیل اور امیر کی لوٹ مار پر صوابدیدی اختیارات استعمال ہونے لگے تھے . جب نظریہ ضرورت کی بیماری لگی تھی . کیا آپ کو خبر نہیں کہ عدالتوں کا نظام کیسا ہے . کیا ایک کمرہ جس میں بڑی سی کرسی پہ بیٹھا انسان , اپنے سامنے بیٹھے لوگوں کو کھانسنے بھی نہ دے . کیا اس کمرے کو عدالت کہتے ہیں .
محترم اور سوال کرتے ہیں .
"اگر کوئی ایسا معاملہ ہے بھی تو عدالتوں سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر کوئی قانون غلط بھی بن جائے تو عدالتیں اس کی تشریح اور فیصلے کے لیے موجود ہیں"
کیا آپ قوم کو بتائیں گے کہ وہ عدالتیں کہاں رہتی ہیں جو غلط قانون کی تشریح کرکے اسے ٹھیک کرواتی ہیں . جناب یہ قانون کی ساری کتابیں تو انگریز بنا گیا . اس میں کتنی باتیں اور کتنے اصول , میرے اور آپکے ایمان سے متصادم ہیں . کیا کبھی کسی عدالت نے ان کی تشریح کی اور انکو درست کرانے کا نوٹ لکھا . یہ تو وہی عدالتیں ہیں نا , جس میں ایک عام انسان کو دن میں سینکڑوں بار " می لارڈ , می لارڈ " کہہ کے بلایا جاتا ہے . کیا ہم مسلمانوں کی ایمان میں عام انسان ہمارا لارڈ یعنی آقا ہو سکتا ہے . ذرہ جرات فرمائیں اور صرف اس ایک روایت کو ختم کروا دیں . کیا آپ کے سامنے جتنے لوگ بیٹھتے ہیں , آپ انکے آقا ہیں . نہیں جناب . ایسا کچھ نہیں . آپکا جوش خطابت قابل تحسین ہے . آپکی جرات قابل تعریف ہے کہ آپ آئی ایس آئی اور ایف بی آئی کے آقاوں کے سامنے ڈٹ کر سوال پہ سوال کرتے رہے . یہ تھوڑا سا ابال آیا ہو گا اور اب تک ختم بھی ہو گیا ہو گا . شاید کوئی ڈانٹ بھی پڑی ہوگی اب تک . کاش آپ اتنے آزاد ہوتے کہ جو سوچتے وہ کر بھی لیتے اور کروا بھی لیتے . یہ تو ڈنڈا تھا کہ ممبر رسول پر بیٹھ کر ایک شخص اخلاقیات کا مذاق بھی اڑاتا رہا اور رستے بھی روک کر بئٹھا رہا . وگرنہ بیچارے اپاہج مولوی کی کون سنتا . کونسی عدالت تھی جو اسمبلی میں من پسند قانون بننے کو روکتی .
(بقیہ جسارتیں جاری ہیں)
ازاد ھاشمی
جسارت کا پہلا حصہ
" جسارت کا پہلا حصہ "
جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئی بی اور آئی ایس آئی سے پوچھتے ہیں .
" قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ ڈنڈے سے اپنی بات منوائی جائے؟ "
محترم جسٹس صاحب , چونکہ عدل کی کرسی پر بیٹھے ہیں . انہیں یقینی طور پر معلوم ہو گا کہ جہاں عدالتیں ناکارہ ہو جائیں وہاں ڈنڈے کا راج ہو جاتا ہے . یہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا . یہ سب عدالتوں کا کیا دھرا ہے اور آج یہ نوبت ہے کہ " آرڈر آرڈر " پر کمرہ
عدالت میں ہو کا عالم ہو جایا کرتا تھا . اب جلسوں میں , اخبارات میں , سوشل میڈیا پر جج ننگے کر دئیے جاتے ہیں . ابھی تو لوگ سمجھنے لگے ہیں کہ کون کیا ہے .
پھر جسٹس صاحبان پوچھتے ہیں .
" ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں۔ کیا ہم نے اسلام اور قرآن پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے؟ "
جناب جسٹس صاحبان ! کیا آپ وثوق سے کہہ سکتے ہیں , کہ.جس ملک کا میں عوام ہوں اور آپ
جسٹس ہیں . یہاں کونسا قانون , کونسا دستور , کونسا حکومتی نظام اسلامی ہے . کیا آپ حلفیہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ اسلامی دستور پر فیصلے کرتے ہیں یا انگریز کے قانون پر . کیا آپ وکلاء کی مہارت پر وہ فیصلے نہیں کر دیتے جن کو آپ اصولی طور پر غلط سمجھتے ہیں . کیا آپ سالہا سال فیصلے لٹکا کر اسلامی طرز انصاف کی نفی نہیں کرتے . کیا آپ کا طرز گواہی اسلام کا طرز شہادت ہے . جناب ! اگر یہ ملک اسلامی ہو جاتا تو سارے مسائل ختم ہوگئے ہوتے . یہ جمہوریہ تو ہے مگر اسلامی نہیں .
(بقیہ سوالوں کا جواب جاری ہے )
ازاد ھاشمی
اتنا ظلم مت کرو
" اتنا ظلم مت کرو "
ہم اللہ کے کرم کا جتنا بھی شکر ادا کریں . اسکی ایک رحمت کا شکر ادا نہیں کر سکتے کہ اس نے ہمیں مسلمان امت میں پیدا کیا . مگر ہم کیا کر رہے ہیں اور کس رستے پہ چل نکلے ہیں . چند روز پہلے تحریک تحفظ ختم نبوت , کے زعماء نے , بالخصوص امیر تحریک نے جو زبان استعمال کی , وہ کسی بھی طور ایک عالم دین کو زیب نہیں دیتی . یہ آغاز ہے اس بے لگامی کا کہ جب ہر کوئی اس لہجے کو جائز سمجھ لے گا . پھر آہستہ آہستہ یہ ہماری روایت بن جائیگا . یہ طریقہ کسی بھی باشعور انسان کو اچھا نہیں لگے گا . ایک روز تو محترم نے یہاں تک کہہ دیا کہ صحابہ کرام تو آپ صل اللہ علیہ وسلم کے پیشاب سے شفا حاصل کرتے تھے . یہ علم انہیں کہاں سے ملا , کونسی حدیث کو اس سے جوڑا گیا . تعجب یہ نہیں کہ انہوں نے ایسا کیوں کہا , تعجب یہ ہے کہ اس بیان پر کوئی مفتی , کوئی مدرس , کوئی فقیہہ اور نہ ہی میڈیا کو ذرہ برابر تلملاہٹ ہوئی . کئی گدی نشینوں نے بھی سنا مگر کسی ایک نے اسے خرافات نہیں کہا . ایسی بے شمار کہانیاں مولانا طارق جمیل بھی مذہب کا اور تبلیغ کا حصہ بنا رہے ہیں . لیکن انکا طرز تکلم مہذب ہوتا ہے اسلئے سمجھ آنے تک روایت اپنی جڑیں مضبوط کر لیتی ہے .
آج عید میلاد النبی پر باقاعدہ نوجوانوں کو بیہودہ ڈانس کرتے دیکھا گیا .
خدارا اللہ کے پاک حبیب کی مناسبت سے ایسی بیہودگی مت پھیلاو . اتنا ظلم نہ کرو کہ اللہ تمہیں بھی معتوب کر ڈالے . میلاد النبی کی عید , خوشی اور عقیدت کا اظہار حدوداللہ کے اندر رہ کر کرو . حمد کرو , ذکر کرو , اسوہ رسول کی محفلیں منعقد کرو , خوش لباسی کرو . ہر وہ خوشی کرو جو آپ کی شان کے مطابق ہو . راگ , رنگ , ڈھول تماشا آپ کی عظمت کی نفی ہے .
ازاد ھاشمی