" کیوں لکھتا ہوں "
چند محترم دوست پوچھتے ہیں کہ میں روز کیوں نئے نئے موضوعات پر لکھنے بیٹھ جاتا ہوں . خصوصی طور پر سیاسی تنقید اور مذہبی موضوعات پر لکھنے سے کیا حاصل ہوتا ہے . خواہ مخواہ اپنا وقت ضائع کیوں کرتا ہوں . چہکتے مہکتے موضوعات لکھنے کی بجائے مایوسی اور اداسی کا انتخاب کیوں کرتا ہوں . چند سیاسی جماعتوں پر تنقید کیوں کرتا ہوں . ایسے بہت سارے سوال پوچھے جاتے ہیں . تو جناب جواب کی چند سطور پیش ہیں ...
انسان کی زندگی کا کوئی تو ایسا مقصد ہو کہ جس سے کوئی اصلاح کا پہلو نکلے , کوئی خدمت کا عنصر شامل ہو . مزاح اور چہکتے شگوفے چھوڑنے میں بھی کوئی برائی نہیں اگر ان میں کوئی اصلاح ہو . میں نے بھی زندگی میں انسانوں کی خدمت کرنے کا ایک عزم اپنے دل میں پال رکھا تھا . دین کی خدمت میں بھی فروعات سے توجہ ہٹا کر حقیقت کی طرف راغب کرنے کی سعی بھی ایک مقصد زندگی تھا . مگر میرے لئے یہ دونوں کام ممکن نہیں ہو پا رہے . صحت کا اشارہ ہے کہ میرے پاس وقت بہت کم ہے . اسی خوف سے قلم لیکر بیٹھ جاتا ہوں . اللہ نے جتنا علم اور شعور بخشا ہے , اسی کے مطابق لکھتا ہوں اور سچ لکھنے پر توجہ رکھتا ہوں . یہ سوچتا ہوں کی شاید کوئی ایک سطر ایسی لکھی جائے جس سے بھلائی کا کوئی پہلو نکل آئے . اور یہی سطر میری فلاح کا سبب بن جائے . اپنے دل کی تسکین کیلئے یہ کوشش جاری رکھے بیٹھا ہوں . معذرت خواہ ہوں ان دوستوں سے جن کے مزاج پر میری تحریر گراں گزرتی ہے .
ازاد ھاشمی
Friday, 8 December 2017
کیوں لکھتا ہوں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment