Friday, 8 December 2017

جسارت کا پہلا حصہ

" جسارت کا پہلا حصہ "
جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آئی بی اور آئی ایس آئی سے پوچھتے ہیں .
" قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ ڈنڈے سے اپنی بات منوائی جائے؟  "
محترم جسٹس صاحب , چونکہ عدل کی کرسی پر بیٹھے ہیں . انہیں یقینی طور پر معلوم ہو گا کہ جہاں عدالتیں ناکارہ ہو جائیں وہاں ڈنڈے کا راج ہو جاتا ہے . یہی کچھ ہمارے ساتھ ہوا . یہ سب عدالتوں کا کیا دھرا ہے اور آج یہ نوبت ہے کہ " آرڈر آرڈر " پر کمرہ
عدالت میں ہو کا عالم ہو جایا کرتا تھا . اب جلسوں میں , اخبارات میں , سوشل میڈیا پر جج ننگے کر دئیے جاتے ہیں . ابھی تو لوگ سمجھنے لگے ہیں کہ کون کیا ہے .
پھر جسٹس صاحبان پوچھتے ہیں .
" ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں۔ کیا ہم نے اسلام اور قرآن پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے؟ "
جناب جسٹس صاحبان ! کیا آپ وثوق سے کہہ سکتے ہیں , کہ.جس ملک کا میں عوام ہوں اور آپ
جسٹس  ہیں . یہاں کونسا قانون , کونسا دستور , کونسا حکومتی  نظام اسلامی ہے . کیا آپ حلفیہ کہہ سکتے ہیں کہ  آپ اسلامی دستور پر فیصلے کرتے ہیں یا انگریز کے قانون پر . کیا آپ وکلاء کی مہارت پر وہ فیصلے نہیں کر دیتے جن کو آپ اصولی طور پر غلط سمجھتے ہیں . کیا آپ سالہا سال فیصلے لٹکا کر اسلامی طرز انصاف کی نفی نہیں کرتے . کیا آپ کا طرز گواہی اسلام کا طرز شہادت ہے . جناب ! اگر یہ ملک اسلامی ہو جاتا تو سارے مسائل ختم ہوگئے ہوتے . یہ جمہوریہ تو ہے مگر اسلامی نہیں .
(بقیہ سوالوں کا جواب جاری ہے )
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment