" دوسری جسارت "
جسٹس مشیر عالم اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آئی بی اور آئی ایس آئی سے پوچھتے ہیں .
"کیا اس ملک میں عدالتیں بند ہوگئی ہیں؟ "
یہ ادارہ جسے آپ عدالت کہتے ہیں , اسی روز بند ہوگئی تھیں , جب وکیل اور جج چیمبر میں فیصلے کرنے لگے تھے . جب جج کو پلاٹ ملنا شروع ہوئے تھے . جب غریب کی چوری ہر جیل اور امیر کی لوٹ مار پر صوابدیدی اختیارات استعمال ہونے لگے تھے . جب نظریہ ضرورت کی بیماری لگی تھی . کیا آپ کو خبر نہیں کہ عدالتوں کا نظام کیسا ہے . کیا ایک کمرہ جس میں بڑی سی کرسی پہ بیٹھا انسان , اپنے سامنے بیٹھے لوگوں کو کھانسنے بھی نہ دے . کیا اس کمرے کو عدالت کہتے ہیں .
محترم اور سوال کرتے ہیں .
"اگر کوئی ایسا معاملہ ہے بھی تو عدالتوں سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر کوئی قانون غلط بھی بن جائے تو عدالتیں اس کی تشریح اور فیصلے کے لیے موجود ہیں"
کیا آپ قوم کو بتائیں گے کہ وہ عدالتیں کہاں رہتی ہیں جو غلط قانون کی تشریح کرکے اسے ٹھیک کرواتی ہیں . جناب یہ قانون کی ساری کتابیں تو انگریز بنا گیا . اس میں کتنی باتیں اور کتنے اصول , میرے اور آپکے ایمان سے متصادم ہیں . کیا کبھی کسی عدالت نے ان کی تشریح کی اور انکو درست کرانے کا نوٹ لکھا . یہ تو وہی عدالتیں ہیں نا , جس میں ایک عام انسان کو دن میں سینکڑوں بار " می لارڈ , می لارڈ " کہہ کے بلایا جاتا ہے . کیا ہم مسلمانوں کی ایمان میں عام انسان ہمارا لارڈ یعنی آقا ہو سکتا ہے . ذرہ جرات فرمائیں اور صرف اس ایک روایت کو ختم کروا دیں . کیا آپ کے سامنے جتنے لوگ بیٹھتے ہیں , آپ انکے آقا ہیں . نہیں جناب . ایسا کچھ نہیں . آپکا جوش خطابت قابل تحسین ہے . آپکی جرات قابل تعریف ہے کہ آپ آئی ایس آئی اور ایف بی آئی کے آقاوں کے سامنے ڈٹ کر سوال پہ سوال کرتے رہے . یہ تھوڑا سا ابال آیا ہو گا اور اب تک ختم بھی ہو گیا ہو گا . شاید کوئی ڈانٹ بھی پڑی ہوگی اب تک . کاش آپ اتنے آزاد ہوتے کہ جو سوچتے وہ کر بھی لیتے اور کروا بھی لیتے . یہ تو ڈنڈا تھا کہ ممبر رسول پر بیٹھ کر ایک شخص اخلاقیات کا مذاق بھی اڑاتا رہا اور رستے بھی روک کر بئٹھا رہا . وگرنہ بیچارے اپاہج مولوی کی کون سنتا . کونسی عدالت تھی جو اسمبلی میں من پسند قانون بننے کو روکتی .
(بقیہ جسارتیں جاری ہیں)
ازاد ھاشمی
Friday, 8 December 2017
دوسری جسارت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment