" اصل محرک کون "
ہمارا قومی المیہ عدل کا فقدان ہے ۔ جس معاشرے سے عدل و انصاف اٹھ جائے اس معاشرے کی موت قریب ہو جایا کرتی ہے ۔ طاقتور بے لگام ہو جاتے ہیں ، کمزور ظلم سہنے کے عادی اور با شعور لوگ بزدل ہو جاتے ہیں ۔ ہم یہ سمجھ نہیں پا رہے کہ اس برائی کا اصل محرک کون ۔
عدالتیں ، پولیس ، بیورو کریسی یا حکمران ۔
اگر معمولی فکر سے سوچا جائے تو اصل محرک عوام نام کی مخلوق ہے ، جو اس حد تک بے حس ہو گئی ہے کہ ہرظلم ، نا انصافی اور زیادتی کو برداشت کر لیتی ہے ۔ اس کبوتر کی طرح جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے کہ بلی اسے نہیں دیکھ پائے گی ۔ یا ہرنوں کے اس غول کی طرح جو اپنے ساتھی کو نوچتے ہوئے درندوں کو دور کھڑے دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔
پولیس کے راشی اور بد دیانت اہلکار اور افسران ، عدل فروش اور بزدل جج ، ماہر قانون دان اور سیاست کے طاقتور رہنما ، یہ سمجھ کر جبر و زیادتی کا ساتھ دیتے ہیں ، کہ انہیں طاقت کا کمال ہمیشہ رہے گا ۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ جنگل میں بھی بڑے سے بڑا درندہ ایک روز جنگلی کتوں کی خوراک بن جایا کرتا ہے ۔ اگر قانون کی بالا دستی رہے تونسلیں محفوظ ہو جایا کرتی ہیں ۔ ورنہ ایک روز داروغہ شہر بھی بگڑے نظام کے ہاتھوں مارا جاتا ہے ۔
ہم نے اس حقیقت کو کئی بار دیکھا مگر کبھی سبق نہیں سیکھا ۔
اگر یہ کہا جائے کہ مبہم قانون ، اختیارات کا من مانا اطلاق بھی بہت بڑا سبب ہے ۔ تو غلط نہ ہو گا ۔
صرف اور صرف ایک راستہ جو ان سب کمزوریوں کا مکمل حل ہے ، وہ اسلام کا بے لچک قانون ہے ۔ ہمیں اپنی اور اپنی نسلوں کی بقاء چاہئے تو اسے ہی اختیار کرنا ہو گا ۔ شکریہ
آزاد ھاشمی
20 اکتوبر 2016
Saturday, 20 October 2018
اصل محرک کون
Friday, 19 October 2018
رب العٰلمین، رحمت العٰلمین
" رب العٰلمین ، رحمت العٰلمین "
تمام جہانوں کا رب ، اللہ سبحانہ تعالیٰ کی صفت اور شان میں جو بات کہی گئی ہے وہ " ربوبیت " ہے ۔ رب کیلئے جو اصطلاح یا ترجمہ استعمال کیا جاتا ہے ، وہ ہے پالنے والا یا پھر پیدا کرنے والا ۔ یہ ترجمہ ربوبیت کے مفہوم کا ایک رخ تو کہا جا سکتا ہے مگر واضع ترجمہ نہیں ہے ۔ کیونکہ جب عالمین کی بات ہوتی ہے تو پوری کائنات کو اسکے محور پر قائم رکھنا ، اسکو چلانا اور اسے مکمل و منظم رکھنا ، اصل ضرورت ہے ۔ یہ سارا نظام برقرار رکھنے والے کے لئے " رب " کی صفت بولی گئی ہے ۔ یہ کائنات کتنی وسیع ہے ، کب سے ہے اور کب تک رہے گی ، اس کے وجود سے پہلے اور اسکے وجود کے اختتام کے بعد ، اس کائنات میں کتنی مخلوق ہے ، کتنی گذر گئی اور کتنی گزر جائیگی ۔ کتنی تبدیلیاں آئیں اور کتنی آئیں گی ۔ یہ سب شمار سے باہر ہے ۔ اس سب کا " رب " اللہ سبحانہ تعالیٰ ہے ۔ کیونکہ وہی اسے قائم رکھے ہوئے ہے ۔ عالمین کی وسعت سے اللہ کی ربوبیت کو الفاظ کے احاطے میں لانا ، انسانی شعور سے بہت بعید ہے ۔
یہی عالمین کا لفظ ، اللہ کے حبیبؐ کیلئے " رحمتہ العٰلمین " کی صورت میں پکارا جاتا ہے ۔ گویا جب نظام کائنات کی ترتیب و تکمیل ہوئی ، اسی وقت سے " رحمت " کا آغاز ہوا ۔ اللہ کی عطا اور محبت کا اندازہ کیسے لگایا جائے کہ جہاں جہاں پر اللہ کی ربوبیت ہے ، جب سے ہے اور جب تک رہے گی ، جس جس مخلوق پر اور جس جس پر رہے گی ، کائنات سے پہلے بھی تھی اور کائنات کے بعد میں بھی رہے گی اس سب پر " رحمت العٰلمین " کی رحمت بھی شامل ہے ، شامل تھی اور شامل رہے گی ۔
شعور کو جتنا بھی وسعت پر لے جایا جائے ، جیسے اللہ کی ربوبیت کا احاطہ نہیں ویسے ہی اللہ کے حبیبؐ کی رحمت کا احاطہ ممکن نہیں ۔
اللہ نے اپنی محکم و بلیغ کتاب میں آپؐ کو مخاطب فرمایا کہ
" آپ کو رسول بنا کر بھیجا گیا "
اس سے تصدیق ہوتی ہے کہ آپ کا وجود ، اس بشری تخلیق سے پہلے موجود تھا ۔ کب سے تھا ؟ رحمتہ العٰلمین ہونے سے واضع ہوتا ہے کہ جب سے " ربوبیت " ہے تب سے " رحمت " ہے ۔
اس مقام کا ادراک ممکن ہی نہیں ، جہاں آپؐ فائز ہیں اور ہم بشریت کے تقاضوں پر سوچ میں پڑے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٨ اکتوبر ٢٠١٨
Thursday, 18 October 2018
کیا یہ فساد ہے؟
" کیا یہ فساد ہے؟ "
تعجب ہوتا ہے جب کوئی ایسا تاریخی حوالہ لکھا جائے ، جو آل رسولؐ کے حق میں دلیل پیش کرتا ہو ، تو کچھ محقق درس دینے لگتے ہیں ۔ کہ اس قسم کی تحریریں فساد پھیلاتی ہیں ۔ عوام میں نفرتیں بڑھتی ہیں اور لکھنے والے دین میں پھوٹ ڈالتے ہیں ۔
آخر آل رسولؐ پر جو مظالم ہوئے ، ان کو عوام کی آگاہی کیلئے بیان کرنا ، فساد کیسے ہو جاتا ہے ؟ حقائق کیا تھے ، انکو عام کرنا تو اصلاح ہوتی ہے تاکہ فرسودہ تاریخی حوالوں کا پردہ چاک ہو ۔ اسلام کی تاریخ کو اسی خاموشی نے مشکوک بنا دیا ۔ بنو امیہ جو چاہتے لکھواتے رہے اور حق بولنے والوں کو قید و بند میں رکھ کر انکی آواز کو دباتے رہے ۔ زہر دے کر مارتے رہے ۔ جو علم کے وارث تھے ، انہیں عقوبت خانوں میں ڈال دیا اور متوازن امامت کی ترویج کر ڈالی ۔ کیا اس کا اظہار کرنا فساد کہلائے گا یا وہ فساد تھا جس نے اسلام کو مسالک کی بھینٹ چڑھا دیا ۔ آج یہ ہی فیصلہ نہیں ہو پا رہا کہ کونسی بات رسولؐ نے کہی اور کون سی حدیث رسولؐ سے منسوب کر دی گئی ۔ یہ ہے فساد کہ ۔رسولؐ نے کہا ہی نہیں اسے بھی حدیث کا درجہ دے دیا گیا ۔ اسکی بنیاد کس عرصے میں رکھی گئی ، بتانے پر فساد کا الزام موزوں ہے؟
قرآن صاف حکم دیتا ہے کہ ناحق قتل کرنے والا ایسا جہنمی ہے ، جو ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور اس پر سے عذاب کم نہیں ہوگا ۔ ہم نے بہتر بیگناہوں کو قتل کرنے والے کو جنتی ثابت کر ڈالا ہے اور دلیل میں اسی رسولؐ کی احادیث کو ثبوت بنا ڈالا ، جس رسولؐ کی اولاد ظلم کا شکار ہوئی ۔
مسلمانوں کی ایک سلطنت کو دو حصوں میں کس نے تقسیم کیا ؟ کیا یہ عمل فساد نہیں تھا ۔ اس کی بنیاد کا ذمہ دار کون ہوا ۔ اگر بتایا جائے تو فساد اور اگر خاموش رہا جائے تو ایک روز باطل سر چڑھ کر بولے گا ۔ حق یہی ہے کہ وہ جانا جائے ، جو درست ہے ۔ جو سچ ہے اور اس کو فساد کہہ کر چشم پوشی مزید ابہام پیدا کر رہی ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٧ اکتوبر ٢٠١٨
Wednesday, 17 October 2018
رسول پاکؐ کے نعلین
" رسول پاک کے نعلین "
نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم سے وارفتگی کا اظہار کچھ نعلین رسول کو ماتھے پہ لگا کر کرتے ہیں , کچھ دل کے اوپر سجا کر . اپنی اپنی عقیدت کا اپنا اپنا اظہار اور اپنا اپنا طریقہ ہے . سوال کی گنجائش نہیں کہ وہ کیوں ایسا کرتے ہیں . کرنا چاہئے یا نہیں . محض بحث کو طول دینا لا حاصل بھی ہے اور تضادات کو ہوا دینا بھی . اس میں دوسری رائے نہیں کہ اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جگہ مل جائے تو یہ ایک بخت کی علامت ہے . اس کے لئے وہ عمل اپنانا زیادہ احسن ہے جو اللہ کے رسول کا اسوہ حسنہ کا حصہ رہا ہے . ہر اس ذات سے محبت کرنا جس سے آپ صل اللہ علیہ وسلم کو محبت تھی , ہر اس شخص سے نفرت کرنا جس سے آپ کی ذات نالاں تھی . آپ کے معمولات زندگی میں ہمسائے کی خبر گیری بہت اہم تھی . یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنا آپ کا پسندیدہ عمل تھا . غیبت , حق تلفی , دروغ گوئی سے آپ کو نفرت تھی . والدین سے احسان سے پیش آنے کا ہمیشہ تا کید فرماتے رہے . آپ نے خصوصی طور پر اس بات کا حکم دیا کہ اگر کسی مسلمان کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان کو تکلیف پہنچے تو وہ ہم میں سے نہیں . معاشرتی برائیوں سے روکا بھی اور روکنے کا حکم بھی دیا .
کیا ایسی بے شمار خوبیوں , جن سے آپ کی ذات پاک آراستہ تھی , ان کی تقلید بھی ہم کرتے ہیں کہ نہیں . یہ محاسبہ زیادہ اہم ہے . اللہ کے پاک حبیب صل اللہ علیہ وسلم کا قرب پانے کیلئے آپ کی محبت کو دل میں بسانا زیادہ اہم ہے . اس طرف توجہ نہیں کی تو سب ریا ہے , تصنع ہے , بناوٹ ہے اور خود فریبی ہے . ہمارا کردار بولے کہ ہم اللہ کے حبیب کی اطاعت سے سرشار ہیں , تو اصل کمال یہی ہے . یہی مطلوب و مقصود ہے .
ازاد ھاشمی
16 اکتوبر 2018
Tuesday, 16 October 2018
معاویہ کے بعد کیا ہوا (4)
" معاویہ کے بعد کیا ہوا( ٤ )"
یہ واضع تاریخی حقائق ہیں کہ یزید نے کربلا میں بھی بیس سے چالیس ہزار کا لشکر سو کے قریب افراد پر مشتمل قافلہ حسینؑ کے مقابلے میں بھیجا ۔ بلاوجہ جنگی حالات پیدا کر دینا یزید کے خاص ہنر تھے ۔ یہی کام یزید نے مدینہ پر لشکر کشی کیلئے کیا ۔ اسوقت مدینہ میں باقاعدہ نہ کوئی فوج مرتب تھی اور نہ کوئی قیادت ایسی تھی جو یزید کے خلاف صف آراء ہو جاتی ۔
مسلم بن عقبہ، یزید کے حکم پر بارہ ہزار آدمیوں کے لے کر مدینہ کی جانب روانہ ہوا۔
اس لشکر کو ملنے والے احکامات میں ایک حکم یہ بھی تھا کہ جنگ میں کامیابی کی صورت میں تین روز تک قتل عام جاری رکھنا اور مال و اسباب لوٹنا۔
مدینہ پہنچنے پر اہل مدینہ یزید کی اطاعت قبول کرنے کا کہا گیا جو اہل مدینہ کو قبول نہیں تھا ۔
عبدالرحمٰن بن عوف اور عبد اللہ بن نوفل سمیت کئی اکابرین شہید ہوئے۔ مسلم نے فتح حاصل کرنے کے بعد یزید کے حکم کے مطابق قتل و غارت گری کی اور یہ سلسلہ تین دن تک جاری رہا۔ اس واقعے میں 306 شرفائے قریش و انصار اور دیگر قبائل کے آدمی کام آئے۔ تین دن کے بعد باقی ماندہ لوگوں سے بیعت کرنے پر اصرار کیا گیا۔ ان سے جبراً بیعت لی گئی اور انکار کی صورت میں قتل کر دیا جاتا۔
آزاد ھاشمی
١٦ اکتوبر ٢٠١٨
میرا نبیؐ اور سائنس
" میرا نبیؐ اور سائنس "
کائنات کا وجود کب سے ہے اور کب تک رہے گا ۔ حقیقت صرف اللہ کی ذات جانتی ہے ۔ سائنس کے اعداد و شمار میں زمین کی تخلیق کا عرصہ لاکھوں سال پر محیط ہے ۔ انسان کی تخلیق پر بھی سائنسی اندازے بیشمار ہیں ۔ سائنس کا وجود نظریات پر بتدریج تبدیلی کا شکار رہتا ہے ، اسلئیے سائنس کے اعداد و شمار پر یقین بھی ممکن نہیں ۔ ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے جو بھی ملا ، اسے نہ تاریخ جھٹلا پائی اور نہ سائنس ۔ وقت کے ساتھ ساتھ سائنس نے قرآن اور ہادئ کائنات کے بتائے گئے حقائق کی تائید کی ۔ یہ آپؐ کی نبوت کی صداقت کی دلیل ہے کہ
ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﻮﺩە ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﺐ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮎ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﺟﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ تاریخ کی ترتیب و تدوین بھی مفقود تھی ۔ اسوقت کی ترقی یافتہ اقوام بھی ضروری علوم سے بخوبی اگاہی نہیں رکھتی تھیں ۔ یہی سبب تھا کہ کسی بھی نبی کی تعلیم مستند حالت میں موجود نہیں رہی ۔ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺻﺤﺮﺍﺯﺩە ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮑﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻟﺞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، لہو لعب میں غرق معاشرہ ، جسے دنگا فساد اور شراب و مستی کے سوا کوئی دوسری بات مرغوب ہی نہیں تھی ۔ وہاں وسائل کی انحطاط سے نبرد آزما ، ایک یتیم ہدایت کی روشنی پھیلائے ، ﺍور وہ کہے جو سائنس آج کہہ رہی ہے ۔
" ﻭﺍﺷﻤﺲ ﻭﺍﻟﻘﻤﺮ ﺑﺤﺴﺒﺎﻥ " ( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺁﯾﺖ ۵ )
ﺳﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ میں کہے ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﮯ ﭘﺎﺑﻨﺪ ﮨﯿﮟ ۔
ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﮔﮩﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ " ﺑﯿﻨﮭﻤﺎ ﺑﺮﺯﺥ ﻻ ﯾﺒﻐﯿٰﻦ " ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﺮﺯﺥ ( Barrier ) ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﺎﺑﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﮰ ﮨﮯ " ۔ ( ﺳﻮﺭۃ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺁﯾﺖ ٢٠ )
جہاں ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﻟﭩﮑﮯ ﮨﻮﮰ ﭼﺮﺍﻍ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ اور وہ کہے " ﻭﮐﻞ ﻓﯽ ﻓﻠﮏ ﯾﺴﺒﺤﻮﻥ " ﯾﻌﻨﯽ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺗﯿﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ( ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ ﺁﯾﺖ ۴٠ )
ﺟﺐ ﺳﻮﺭﺝ ﮐﻮ ﺳﺎﮐﻦ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە کہے " ﻭﺍﻟﺸﻤﺲ ﺗﺠﺮﯼ ﻟﻤﺴﺘﻘﺮﻟﮭﺎ " ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﻘﺮﺭﺷﺪە ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺍﻧﺠﺎﻧﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺳﮯ ﭼﻼ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ( ﺳﻮﺭە ﯾٰﺴﯿﻦ ﺁﯾﺖ ٣٨
ﺟﺐ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺟﺎﻣﺪ ﺁﺳﻤﺎﻥ ( ﭼﮭﺖ ) ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻭە کہے ﯾﮧ ﭘﮭﯿﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ " ﻭﺍﻧﺎ ﻟﻤﻮﺳﻌﻮﻥ " ( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﺬﺭﯾﺎﺕ، ﺁﯾﺖ ۴٧ )
سائنس آج بھی نظام کائنات میں کسی ایسے نقص کی تلاش میں ہے ، جس
میں تغیر و تبدل کی ضرورت ہو اور انسان اسے بہتر کر سکے ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ عظیم ہستی ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺘﺎدﯾﺎ " ﻣﺎﺗﺮﯼ ﻓﯽ ﺧﻠﻖ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﻣﻦ ﺗﻘٰﻮﺕ " ﺗﻢ ﺭﺣﻤٰﻦ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺟﮕﮧ ﻓﺮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﻭٴ ﮔﮯ۔ ( ﺳﻮﺭە ﺍﻟﻤﻠﮏ ﺁﯾﺖ ٣ )
ان سائنسی رازوں پر تفصیل ممکن نہ ہونے کے باعث ، یہ راز ہیں جو ہمارے نبیؐ کی عظمت کو کائنات کے ہر ذی روح سے منفرد اور اعلیٰ مقام دیتے ہیں ۔ یہ وہ علوم ہیں جو قرآن کو " لا ریب " کتاب کرتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
٤ ستمبر ٢٠١٨
Monday, 15 October 2018
اللہ کے قانون سے بغاوت
" اللہ کے قانون سے بغاوت "
اللہ نے قرآن کو " دین " کی کتاب کہہ کر متعارف کرایا ۔ اس میں ہر علم کو کماحقہ بیان کیا اور انسان کو وہ راستہ دکھایا جو مکمل فلاح ہے ، امن ہے ، ہدایت ہے ۔ مگر انسان اپنے محدود علم ، متزلزل سوچ اور بے ہنگم خیالات کو اللہ کے قرآن سے متوازی قانون کی شکل میں لا کر اس پر بضد ہے کہ اسکا نظام ضرورت کے عین مطابق ہے اورانسانی حقوق کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے ۔ یہی وہ خرابی ہے جس سے معاشرے میں فلاح کی بجائے خرابی ہے ، امن کی بجائے بد امنی ہے ، زور آور معتبر ہے اور برائی کی جڑیں بہت گہرائی تک چلی گئی ہیں ۔ اللہ کا حکم ہے ۔
" ان کے درمیان اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے کرو "
وہ لوگ جو قرآن کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں ، ان پر یہ قانون لاگو ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے معاشرتی مسائل کے تمام فیصلے قرآن کے مطابق کریں ۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو حکم ربی ہے
" پس جو کوئی اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی لوگ کافر ہیں."
اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے نہ کرنا ، معمولی لغزش نہیں ۔ اسے سہل لینا انتہائی سنگین جرم ہے ، ایسا نہ کرنے والا کفر کا مرتکب ہے ۔ حکم ربی ہے کہ جو لوگ اجتہاد کے نام پر ، منطق اور فلسفے کی بنیاد پر یا کسی بھی دوسری دلیل سے انسانی ذہن سے تشکیل دئیے جانے والے قانون کو لاگو کرتے ہیں ۔ یہ اللہ کے فیصلوں میں دخل اندازی ہے اور شرک تصور ہوتا ہے ۔
"اور اللہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا"
اب بحیثیت مسلمان ، ہمیں دیکھنا ہے اور فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اللہ کے حکم سے کس حد سر کشی کے مرتکب ہیں؟
آزاد ھاشمی
١٦ اکتوبر ٢٠١٨
Sunday, 14 October 2018
معاویہ کے بعد کیا ہوا (3)
معاویہ کے بعد کیا ہوا( ٣ )"
یزید کو اس سے کوئی واسطہ نہیں تھا کہ مسلمانوں کے درمیان خونریزی کے اسلام پر کیا اثرات مرتب ہونگے ۔ باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ مطلق العنان بادشاہ بننے پر عمل پیرا تھا . امام حسینؑ کی شہادت کے بعد وہ یقین کر چکا تھا کہ اب اسکے راستے کی رکاوٹیں کچھ اہمیت نہیں رکھتیں ۔ بنو امیہ کی سلطنت میں جتنی وسعت ممکن ہے ، کر لینی چاہئے ۔ اس نے ارادے کی تکمیل کیلئے مدینہ پر چڑھائی کر دی ۔ بہت سارے مکاتب فکر کے لوگ اس پر قائل ہیں کہ یہ سارے مظالم یزید کی اپنی صوابدید تھے ، معاویہ کو مورد الزام ٹھہرانا درست انداز فکر نہیں ہے ۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ مدینہ پر جس شامی فوج نے چڑھائی کی وہ معاویہ ہی کی ترتیب دی گئی سپاہ تھی ، جو یزید کو وراثت میں ملی تھی اور یہ سارے احداف معاویہ نے مرنے سے پہلے یزید کو باور کرا دئیے تھے ۔ یزید تو عنان حکومت سنبھال لینے کے بعد گدھوں اور بندروں سے کھیلتا تھا ۔ وہ تو اسی راہ پر چلتا رہا جو وصیت میں دکھائی گئی ۔
یزید نے اس افسوسناک واقعہ ، جو 63ھ میں پیش آیا اور واقعۂ حرہ کہلاتا ہے۔ یزید کی بھیجی ہوئی افواج نے دس ہزار سے زائد افراد کو شہید کیا۔ خواتین کی بے حرمتی کی گئی اور تین دن تک مسجد نبوی میں نماز نہ ہو سکی۔ اس لشکر کشی کی بنیاد صرف یہ خدشہ تھی کہ کہیں اہل مدینہ اور مکہ یزید کے راستے کی رکاوٹ نہ بن جائیں ۔ کیونکہ مدینہ میں بہت سارے صحابہ کی اولاد موجود تھی اور یزید کی بیعت کو اسلام کے مطابق نہیں سمجھتے تھے ۔ یہ واضع تھا کہ یزید کی خلافت اسلامی اصولوں کے متضاد ہے اور یہ جبر کی حکومت ہے ۔ مدینہ اور مکہ کے لوگ معاویہ کی اس ہٹ دھرمی سے نالاں تھے کہ اس نے اپنے کردار باختہ بیٹے کو خلیفہ بنا کر اسلام کے نظام سے انحراف کیا ہے ۔ یہاں بھی یزید اور بنو امیہ کے مورخ لکھتے ہیں کہ اس صورتحال میں یزید سلطنت اسلامیہ میں کشت و خون نہیں چاہتا تھا اور اہل مدینہ کو سمجھانے کے لیے نرم رویہ اختیار کرنا چاہتا تھا ، مگر اہل مدینہ کی ہٹ دھرمی اور اموی خاندان کے افراد کو مدینہ سے نکال دینے کی بنا پر یزید کو مدینہ پر فوج کشی کرنا پڑی ۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ یزید ایسے حالات از خود پیدا کیا کرتا تھا ، جس سے اسے لشکر کشی کا جواز مل سکے ، کیونکہ اسکے پاس مربوط فوج اور جنگجو تھے ، جب کہ اہل مدینہ کے پاس ایسے نہ تو وسائل تھے اور نہ ارادے ۔
---جاری ہے ۔۔۔
آزاد ھاشمی
١٥ اکتوبر ٢٠١٨
معاویہ کے بعد کیا ہوا (2)
معاویہ کے بعد کیا ہوا ( ٢ )"
یزید نے کربلا کے بعد ، درندگی کا وہ مظاہرہ کیا ، جو شیطان کو خوش کرنے کا اعلیٰ نمونہ تھا ۔ یزید اور اسکے لشکر نے ثابت کر دیا کہ وہ شیطنت کے اصل وارث ہیں ۔ لاشوں کو پامال کرنا ، سر کاٹ کے نیزوں پہ چڑھا دینا ، خواتین اور معصوم بچوں کو رسیوں سے باندھ کر بازاروں میں سے گذارنا ۔ اس سب کے پیچھے کینہ اور بغض تو تھا ہی ، اسکے ساتھ دہشت کا وہ سماں باندھنا بھی مقصود تھا کہ یزید کی حکمرانی کیخلاف کوئی آواز بلند نہ ہو سکے ۔ معاویہ نے جو ہم خیال لوگ جمع کر رکھے تھے ، جن کو مراعات سے نواز رکھا تھا ، وہ یزید کے ہر حکم کے تابع تھے ۔ یزید جو کہتا وہ کرنے میں پس و پیش نہیں کرتے ۔
جب خستہ حالت میں افرادِ اہلِ بیت کوفہ پہنچے تو ابن زیاد نے انتہائی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا ، امام حسین کا کٹا ہوا سر ابن زیاد کے سامنے پڑا تھا اور ہر خاص و عام کو محل میں داخل ہونے کی اجازت تھی۔ تاکہ لوگ دیکھ سکیں کہ اگر نبیؐ کے نواسے کا یہ حال کیا جا سکتا ہے تو دوسروں کے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے ۔ ابن زیاد سر مبارک کو دیکھ کر آپ کے لبوں پر بار بار چھڑی مارتا اور مسکراتا۔ صحابی رسول زید بن ارقم وہاں ایک کونے میں موجود تھے ان سے رہا نہ گیا تو فرمایا "ان لبوں سے چھڑی ہٹا لو۔ اللّٰہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللّٰہ ان ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتے تھے۔" یہ کہہ کر وہ رونے لگے۔ یہ سن کر ابن زیاد کے غضب کی کوئی حد نہ رہی بولا۔ ’’اللہ تعالٰیٰ دونوں آنکھیں رلائے۔ واللہ ! اگر تو بوڑھا ہو کر سٹھیا نہ گیا ہوتا اور تیری عقل نہ ماری گئی ہوتی تو میں تیری گردن اڑا دیتا‘‘ یہ دیکھ کر زید بن ارقم مجلس سے اٹھتے ہوئے کہہ گئے کہ "اے لوگوں.! آج کے بعد تم غلام بن گئے کیونکہ تم نے رسول اللّٰہ کے لخت جگر کو قتل کیا اور ابن زیاد کو اپنا حاکم بنایا جو تمہارے نیک لوگوں کو قتل کرتا اور شریروں کو نوازتا ہے۔"
یہ غلامی کا وہ طوق تھا جو معاویہ نے اہل کوفہ کو پہنا دیا تھا ۔ حریت کو اسطرح پامال کیا کہ کسی کی جرات نہیں تھی کہ بنو امیہ کے خلاف سوچ بھی سکے ۔ اسلام صرف زبان تک محدود ہو گیا تھا ۔
کوفہ سے ابن زیاد نے حضرت امام حسین کا سر مبارک اور قافلہ اہل بیت کو دمشق بھجوا دیا۔ وہاں یزید نے بھی امام حسین کے سر مبارک کو چھڑی سے چھیڑا اور فخر کا اظہار کیا۔
گویا یزید اس زعم میں مبتلا تھا کہ اس نے اپنے اجداد کے قتل کا بدلہ لے لیا ۔
( جاری ہے ۔۔۔۔)
آزاد ھاشمی
اکتوبر ١١ ، ٢٠١٨