Monday, 15 October 2018

اللہ کے قانون سے بغاوت

" اللہ کے قانون سے بغاوت "
اللہ نے قرآن کو " دین " کی کتاب کہہ کر متعارف کرایا ۔ اس میں ہر علم کو کماحقہ بیان کیا اور انسان کو وہ راستہ دکھایا جو مکمل فلاح ہے ، امن ہے ، ہدایت ہے ۔ مگر انسان اپنے محدود علم ، متزلزل سوچ اور بے ہنگم خیالات کو اللہ کے قرآن سے متوازی قانون کی شکل میں لا کر اس پر بضد ہے کہ اسکا نظام ضرورت کے عین مطابق ہے اورانسانی حقوق کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے ۔ یہی وہ خرابی ہے جس سے معاشرے میں فلاح کی بجائے خرابی ہے ، امن کی بجائے بد امنی ہے ، زور آور معتبر ہے اور برائی کی جڑیں بہت گہرائی تک چلی گئی ہیں ۔ اللہ کا حکم ہے ۔
" ان کے درمیان اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے کرو "
وہ لوگ جو قرآن کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں ، ان پر یہ قانون لاگو ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے معاشرتی مسائل کے تمام فیصلے قرآن کے مطابق کریں ۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو حکم ربی ہے 
" پس جو کوئی اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی لوگ کافر ہیں."
اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے نہ کرنا ، معمولی لغزش نہیں ۔ اسے سہل لینا انتہائی سنگین جرم ہے ، ایسا نہ کرنے والا کفر کا مرتکب ہے ۔ حکم ربی ہے کہ جو لوگ اجتہاد کے نام پر ، منطق اور فلسفے کی بنیاد پر یا کسی بھی دوسری دلیل سے انسانی ذہن سے تشکیل دئیے جانے والے قانون کو لاگو کرتے ہیں ۔ یہ اللہ کے فیصلوں میں دخل اندازی ہے اور شرک تصور ہوتا ہے ۔
"اور اللہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا"
اب بحیثیت مسلمان ، ہمیں دیکھنا ہے اور فیصلہ کرنا ہے کہ ہم اللہ کے حکم سے کس حد سر کشی کے مرتکب ہیں؟
آزاد ھاشمی
١٦ اکتوبر ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment