معاویہ کے بعد کیا ہوا ( ٢ )"
یزید نے کربلا کے بعد ، درندگی کا وہ مظاہرہ کیا ، جو شیطان کو خوش کرنے کا اعلیٰ نمونہ تھا ۔ یزید اور اسکے لشکر نے ثابت کر دیا کہ وہ شیطنت کے اصل وارث ہیں ۔ لاشوں کو پامال کرنا ، سر کاٹ کے نیزوں پہ چڑھا دینا ، خواتین اور معصوم بچوں کو رسیوں سے باندھ کر بازاروں میں سے گذارنا ۔ اس سب کے پیچھے کینہ اور بغض تو تھا ہی ، اسکے ساتھ دہشت کا وہ سماں باندھنا بھی مقصود تھا کہ یزید کی حکمرانی کیخلاف کوئی آواز بلند نہ ہو سکے ۔ معاویہ نے جو ہم خیال لوگ جمع کر رکھے تھے ، جن کو مراعات سے نواز رکھا تھا ، وہ یزید کے ہر حکم کے تابع تھے ۔ یزید جو کہتا وہ کرنے میں پس و پیش نہیں کرتے ۔
جب خستہ حالت میں افرادِ اہلِ بیت کوفہ پہنچے تو ابن زیاد نے انتہائی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا ، امام حسین کا کٹا ہوا سر ابن زیاد کے سامنے پڑا تھا اور ہر خاص و عام کو محل میں داخل ہونے کی اجازت تھی۔ تاکہ لوگ دیکھ سکیں کہ اگر نبیؐ کے نواسے کا یہ حال کیا جا سکتا ہے تو دوسروں کے ساتھ کیا کیا ہو سکتا ہے ۔ ابن زیاد سر مبارک کو دیکھ کر آپ کے لبوں پر بار بار چھڑی مارتا اور مسکراتا۔ صحابی رسول زید بن ارقم وہاں ایک کونے میں موجود تھے ان سے رہا نہ گیا تو فرمایا "ان لبوں سے چھڑی ہٹا لو۔ اللّٰہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللّٰہ ان ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتے تھے۔" یہ کہہ کر وہ رونے لگے۔ یہ سن کر ابن زیاد کے غضب کی کوئی حد نہ رہی بولا۔ ’’اللہ تعالٰیٰ دونوں آنکھیں رلائے۔ واللہ ! اگر تو بوڑھا ہو کر سٹھیا نہ گیا ہوتا اور تیری عقل نہ ماری گئی ہوتی تو میں تیری گردن اڑا دیتا‘‘ یہ دیکھ کر زید بن ارقم مجلس سے اٹھتے ہوئے کہہ گئے کہ "اے لوگوں.! آج کے بعد تم غلام بن گئے کیونکہ تم نے رسول اللّٰہ کے لخت جگر کو قتل کیا اور ابن زیاد کو اپنا حاکم بنایا جو تمہارے نیک لوگوں کو قتل کرتا اور شریروں کو نوازتا ہے۔"
یہ غلامی کا وہ طوق تھا جو معاویہ نے اہل کوفہ کو پہنا دیا تھا ۔ حریت کو اسطرح پامال کیا کہ کسی کی جرات نہیں تھی کہ بنو امیہ کے خلاف سوچ بھی سکے ۔ اسلام صرف زبان تک محدود ہو گیا تھا ۔
کوفہ سے ابن زیاد نے حضرت امام حسین کا سر مبارک اور قافلہ اہل بیت کو دمشق بھجوا دیا۔ وہاں یزید نے بھی امام حسین کے سر مبارک کو چھڑی سے چھیڑا اور فخر کا اظہار کیا۔
گویا یزید اس زعم میں مبتلا تھا کہ اس نے اپنے اجداد کے قتل کا بدلہ لے لیا ۔
( جاری ہے ۔۔۔۔)
آزاد ھاشمی
اکتوبر ١١ ، ٢٠١٨
Sunday, 14 October 2018
معاویہ کے بعد کیا ہوا (2)
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment