Tuesday, 19 February 2019

کسان کیا اگائے ؟

" کسان کیا اگائے ؟ "
زراعت وہ شعبہ ہے ، جو کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے ۔ پاکستان کو اللہ نے جہاں بیشمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے ، وہاں ایک محنتی کسان بھی ہے ۔ جو فصل کے ایک کونے پر کھڑا ہوکر ایک ایک پودے کی نبض چھو لیتا ہے ۔ چلچلاتی دھوپ میں بھی اس کا حوصلہ کمزور نہیں پڑتا اور نہ ہی لہو جما دینے والی سردی اسکی راہ روک پاتی ہے ۔ زمین کھودتے کھودتے زندگی گزار دینے والا کسان ،  اللہ کے فیصلوں پر کبھی شکایت نہیں کرتا ۔ مگر کسان تھکا ہوالگتا ہے ۔ اب اسکی محنت اسکا پیٹ نہیں بھرتی ۔ اب زمین سے ملنے والا انعام اسکی ضرورت پوری نہیں کرتا ۔ دل برداشتہ کسان سوچنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ وہ اپنے اباواجداد کے پیشے سے راہ فرار تلاش کر لے یا قسمت آزمائی کرتا رہا ۔ مگر اب اس نے اپنی آنے والی نسلوں کو دھرتی سے دور کر کے بیرون ملک بھیجنا شروع کر دیا ہے ۔ وہ اس تذبذب میں ہے کہ کیا اگائے ، جو اس کی ضرورت پوری کرے ۔ گنا اگاتا ہے تو مل والے دام نہیں دیتے ، گنا جلانے والی لکڑی سے سستا بکتا ہے ۔ کیوں نہ کھیتوں میں جھاڑیاں اگنے دے کہ اسکے خریدار موجود ہیں اور بہتر پیسے مل جاتے ہیں ۔ گندم پانچ سال پہلے ١٣ ڈالر میں من تھی ، جو کہ دنیا کے کسی خطے میں ممکن نہیں ۔ اس سال بارہ ڈالر من ہے ۔  کھاد اور زرعی ادویات میں اضافہ جبکہ پیداوار کی قیمت میں کمی ، اسکی حوصلہ شکنی کیلئے بہت کافی ہے ۔ رہی سہی کسر زمیندار توڑ دیتا ہے جب پیداوار کا زیادہ حصہ لے جاتا ہے ۔ حکمرانوں میں شہری بابو بیٹھے ہیں اور اگر کوئی دیہات سے ہے تو وہ یا تو جاگیر دار ہے یا صنعتکار ۔ اسے کسان کے درد کا احساس کیونکر ہوگا ۔ حکومت کو پاکستان کی اس ساٹھ فیصد آبادی کیطرف توجہ نہ دینے کا صاف مطلب ہے کہ حکمران ملک کی معیشت کو سدھارنا ہی نہیں چاہتے ۔
آزاد ھاشمی
١٧ اگست ٢٠١٩

Monday, 18 February 2019

کشمیر کا جھگڑا

" کشمیر کا جھگڑا "
کسی بھی معاملے کو اسکے اصلی تناظر میں پیش کر دیا جائے تو اسکا حل آسان ہو جاتا ہے ۔ جب پاکستان اور بھارت کی تقسیم ہوئی تو اسکے کچھ اصول اور قواعد و ضوابط وضع ہوئے ۔ جن میں ایک یہ تھا کہ مسلمان اکثریت کے علاقے پاکستان سے ملحق ہونگے اور ہندو اکثریت کے علاقے بھارت کا حصہ ہونگے ۔ مشرقی پاکستان اسی اصول کے تحت پاکستان کا حصہ بنا ۔ ایک رائے یہ بھی تھی کہ اگر کسی ریاست کے لوگ اکثریت سے چاہیں تو استصواب رائے کا حق ہو گا ۔ انہی اصولوں پر بر صغیر کی تقسیم ہوئی ۔ بھارت نے کشمیر کے راجہ سے ملکر معاملہ متنازعہ کر دیا ۔ سیاسی اور سفارتی طور پر ، یہ ایک معاملہ عالمی سطح کا ہے ، اور عالمی قانون کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق ہے ۔ ہندو کے شاطر ذہن نے اس ملک کو بھارت اور پاکستان کا متنازعہ معاملہ بنا کر رکھ دیا ۔ ہماری کم عقلی ہے کہ ہم نے بھی بھارت کی اس چالاکی میں اپنی ہاں شامل کر دی کہ یہ جھگڑا پاکستان اور بھارت کا ہے ۔ حالانکہ کہ یہ اصل چپقلش کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی ہے اور کشمیریوں کی آزادی کی ہے  ۔ اور عالمی قانون کے مطابق انہیں یہ حق ہے کہ وہ جیسے رہنا چاہیں ،  انہیں ویسی آزادی دے دی جائے ۔ ان پر کوئی جبر روا نہ رکھا جائے ۔ ان کو یہ حق دلوانے میں آسان ہو جاتا کہ اسے پاکستان اور بھارت کے تنازعہ کے تناظر سے نکال کر عالمی سطح کا تنازعہ بنا دیا جاتا ۔ ہماری سفارتی نا اہلی ہے کہ ہم نے گھسیٹ کر بال اپنے کورٹ میں ڈال رکھی ہے ،جبکہ آزاد کشمیر کا اپنا صدر ہے ،  اپنی پارلیمنٹ ہے ،  اپنا وزیر اعظم ہے گویا وہ ایک آزاد ریاست ہے ، پھر مقبوضہ کشمیر میں ایسی صورت حال کیوں نہیں ۔ اگر یہ عالمی تنازعہ بنا لیا جاتا  تو اقوام متحدہ اس معاملے کو اسقدر لٹکا  نہیں سکتی تھی اور اب تک حل ہو چکا ہوتا ۔  اگر اب بھی سفارتی طور پر رائے شماری کی راہ ہموار ہو جائے تو یہ رائے یقینی طور پر " استصواب رائے " کے حق میں ہوگی ۔  مسلم ممالک تو اسکے حق میں  ہی ہونگے اور بہت سارے دیگر ممالک بھی کشمیر کے بنیادی حق کو تسلیم کرنے میں معاونت کریں گے ۔ بغیر کسی مزید جنگ و جدل کے کشمیر کی آزادی یقینی ہے کیونکہ آدھا کشمیر پہلے ہی آزاد شکل سے اپنے سیاسی اور پارلیمانی معاملات میں خود مختار ہے ۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا صوبائی طرز حکومت ہے ۔ جو ہر حال میں غیر فطری ہے ۔ اسوقت جو صورت حال ہے اور جبر و تشدد کی جو لہر ہے ، کشمیری اپنی آزادی کیلئے جو بھی کر رہے ہیں ، بھارت حسب معمول اسے پاکستان سے مخاصمت کیطرف کھینچ رہا ہے تاکہ معاملات لٹکے رہیں ، اسے کشمیر کی حریت پسندی سے نکال کر سازش بنا دیا جائے ۔ اگر اس معاملے میں عرب ممالک اور دیگر مسلم ممالک اپنا سفارتی اثر و رسوخ استعمال کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ اقوام متحدہ اسے التوا میں ڈالے ۔
آزاد ھاشمی
١٧ فروری ٢٠١٩

عمران خان ہوش کے ناخن لو

" عمران خان ہوش کرو "
اے کاش ! کوئی یہ چند سطور عمران خان کی میز پر رکھ دے ۔
عمران خان صاحب ! آپ کہہ رہے ہو کہ " میں سمجھ رہا ہوں کہ جسطرح اللہ نے نبی پاک کو تیرہ سال مشکلات میں سے گزارا ، اسی طرح مجھے مشکلات میں سے گذار کر میری تیاری کی ۔ اور نبی پاک نے جسطرح ان تیرہ سال کے بعد اگلے دس سال میں دنیا بدل دی ، اسی طرح میں پاکستان کی تقدیر بدل دوں گا ۔ "
جناب آپ کی جماعتی اصلاحات اور اپنی پارٹی کی تشکیل کسی بھی لحاظ سے اللہ کے نبی سے مطابقت نہیں رکھتی ۔ آپ کی پارٹی کی اکثریت احکامات ربی کی منکر ہے ۔ اور ہر اس عیب سے لبریز ہے جو اللہ کے ہاں قابل تعزیر ہیں ۔ اللہ کے نبی کو دنیا سے ظلمت ، گمراہی ، بدکاری اور تمام عیوب سے پاک معاشرے کی تیاری کی  ذمہ داری دینا تھی اور آپ وہ سب کر رہے ہیں ، جس سے اللہ نے روکا ہے ۔ آپ نے چند سماجی کام کئے ہیں ، یہ اسی کا انعام ہے کہ آپ کو عزت ملی ہوئی ہے ۔ وگرنہ کوئی ایسی خوبی نہیں کہ آپ کو اسلام کی نمائیندگی کا حق ملے ۔ اللہ کے نبی کا ایک طائف کا سفر تمہاری پوری زندگی کی تکالیف سے آسمان اور زمین کے فرق پر ہے ۔ سیاست ، منافقت ہے اور نبی کبھی مصلحت اور سیاست نہیں کرتے ۔ انکے فیصلے دو ٹوک ہوتے ہیں ۔ لکھ لو ، اگر تم اسلامی نظام سے ہٹ کر کوئی کامیابی حاصل کرنے کا سوچ رہے ہو تو اس سے بڑی حماقت کوئی نہیں ۔ کبھی فرصت ملے تو اپنے ترازو کے باٹ دیکھ لینا ، سب کے سب جعلی اور بے وزن ہیں  ۔
اچھا ہے ، اپنی حدود کو سیاست تک محدود کر دو ۔ مذہب تک مت بڑھاو۔ اور اپنی عاقبت کیلئے کچھ بچائے رکھو ۔
آزاد ھاشمی ۔
١٦ فروری ٢٠١٨

کرکٹ اور حکومت دو الگ میدان ہیں

" کرکٹ اور حکومت دو الگ میدان ہیں "
ہمارے محترم وزیراعظم ابھی تک اسی زعم میں پھنسے ہوئے ہیں کہ انہوں نے مشکل ترین حالات میں ١٩٩٢  میں قوم کو ورلڈ کپ لا کر دیا ۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ورلڈ کپ میں انکے ساتھ ایک متوازن ٹیم تھی اور یہ ٹیم تیار کرنے میں بہت سارے دوسرے لوگ اور عوامل بھی شامل تھے ۔ اب حکومتی معاملات میں انکی ٹیم میں اکثریت مخبوط الحواس اور جھگڑالو لوگوں کی ہے ۔  انہیں معلوم ہی نہیں کہ دس بارہ کھلاڑیوں پر کنٹرول اور بیس بائیس کروڑ عوام پر کنٹرول میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ انہیں زعم ہے کہ وہ اپنی مرضی سے گیند گھمانے کے ماہر ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ معیشت کی گیند بہت مختلف ہے ، یہ دو انگلیوں سے نہیں گھومتی ، اس میں بہت جتن کرنے پڑتے ہیں ۔ وہ ایک ہسپتال اور ایک یونیورسٹی بنا کر سمجھ بیٹھے ہیں کہ حب الوطنی کیلئے یہ بہت کافی ہے ۔ اب انہیں پاکستان میں اپنے سے زیادہ کوئی حب الوطن دکھائی ہی نہیں دیتا ۔ ورلڈ کپ ، ہسپتال اور یونیورسٹی نے انہیں تکبر اور رعونت کا مریض بنا ڈالا ہے ۔ میاں برادران اور زرداری فوبیا انکے ذہن میں اسقدر سوار ہو گیا کہ انہیں  دوسرا کچھ یاد نہیں ۔ محترم بھول جاتے ہیں کہ کرپشن کرنے والے ثبوت نہیں چھوڑا کرتے ۔ رہی بیرون ملک جائیداد تو اس پر نہ ہمارا قانون لاگو ہے اور نہ دستور میں لکھا گیا ہے کہ کسی صاحب اقتدار کی اولاد جائیداد نہیں بنا سکتی ۔ یہ وقتی کھیل ہے جو ایک جسٹس نے شروع کیا اور کوئی دوسرا جسٹس اسے بند کر دے گا ۔ جیسے میمو گیٹ بند ہو گیا ہے ۔ اگر یہی روایت چلتی رہی تو جب دوسری حکومت آئی وہ بھی ایک فائل کھول دے گی کہ آپ نے یونیورسٹی اور ہسپتال کیسے بنایا ، پیسہ کہاں سے آیا اور کس نے دیا ۔ جب پنڈورا بکس کھلے گا تو یہ پیسہ کسی عیسائی یا یہودی سے جڑ جائے گا ۔ ثابت کیا جائے گا کہ آپ کسی عیسائی یا یہودی کے ایجنٹ تھے ۔ یہ دھما چوکڑی جاری رہے گی اور قوم آپ لیڈروں کی حماقتوں کی سزا بھگتتی رہے گی ۔
آپ کے پاس وقت نہیں کہ ملکی وسائل پر توجہ کریں ، اللہ نے معدنیات کی صورت میں جو خزانے عطا کر رکھے ہیں ، انکا استعمال سوچیں ۔ مہنگائی کا جن بے قابو ہے اس پر غور کریں ۔ کسان کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے ، اسکا حل نکالیں ، صنعت برباد ہے اسے کارآمد بنائیں ۔ فساد اور مخالفین کی شلواریں اتارنا ، وزیراعظم کو زیب نہیں دیتا ۔ دوسرے ممالک سے امداد مانگنے ، قرضہ لے لینے اور چندہ اکٹھا کرنے کا عمل ایک دن رک جائے گا ۔ یہ منصوبہ سازی کریں کہ اسوقت کیا ہوگا جب لوگ نہ چندہ دیں گے ، نہ امداد اور نہ قرض ۔ آپ اپنی کیبنٹ میں ، دوسرے ممالک کے دوروں پر اور میڈیا پر ایک ہی کہانی چھیڑے رکھتے ہیں کہ
" میں  ان سب کو نہیں چھوڑوں گا ۔ میرا قوم سے وعدہ ہے "
قوم سے اور بھی بہت سے وعدے تھے ، جو نہ آپ کو یاد رہے اور شاید ایک روز قوم بھی بھول جائے گی ۔ اب کرکٹ کھیلنا بند کردیں ۔ ملک کے وزیراعظم  اور قوم کے رہنما بن کر سوچیں ۔ زرداری اور میاں برادران کو بھی اپنی قوم کا حصہ سمجھ کر عدالتوں میں قانون کے مطابق برتاو کریں ۔
آزاد ھاشمی
١٥ فروری ٢٠١٩

دستور سے کھلواڑ

" دستور سے کھلواڑ "
دستور میں ایک وضاحت کا تذکرہ ہو چکا کہ ہر وہ شخص جو " نظریہ پاکستان " کا مخالف ہے وہ پارلیمنٹ کے اہل نہیں ۔ اس شرط کے ساتھ کتنے نا اہل ہیں جو ١٩٧٣ سے آج تک کی اسمبلیوں بیٹھتے بھی رہے ، مراعات سے استفادہ بھی کرتے رہے , نہ دستور نے پوچھا نہ عوام کو خبر ہوئی ۔  در اصل قوم کے مجرم وہ ہیں ، جو ان " نظریہ پاکستان " کے مخالفین کے ساتھ بیٹھتے بھی رہے اور انکو ملنے والی مراعات پر خاموش بھی رہے ۔ اسکے علاوہ اس جرم میں الیکشن کمیشن ،عدالت عالیہ اور دیگر تمام حکمران شامل ہیں ،  جنہوں نے دستور شکنی پر مصالحت کی ۔  دستور میں واضع طور پر لکھا ہے کہ ہر وہ شخص بھی نا اہل ہے جو
"  سمجھدار اور پارسا نہ ہو "
"فاسق ہو ، امین نہ ہو "
" اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم نہ رکھتا ہو "
"  اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند نہ ہو"
" کبیرہ گناہوں سے مجتنب نہ ہو "
" اچھے کردار کا حامل نہ ہو "
"احکام اسلام سے انحراف میں مشہور ہو "
یہ پیمانہ دستور نے بنا رکھا ہے اور اب اس پیمانے پر پرکھنے کا آغاز کیا جائے ، تو پارلیمنٹ کے تقدس کو برقرار رکھنا ،  کسی طور ممکن نہیں ۔ کسی ممبر کے سمجھدار ہونے  سے یہ مراد نہیں لی جا سکتی کہ وہ بہت عقلمند ہو ،  پارلیمنٹ میں سمجھداری کا مفہوم یہ ہے کہ وہ قانون سازی کے سارے تقاضوں سے کما حقہ آشنا ہو ۔ اگر اس شرط کو معیار بنا لیا جائے ، تو شاید سینکڑوں کی اس پٹاری میں دس بیس سے زیادہ نہیں نکلیں گے ، جن کو سمجھدار کہا جا سکتا ہو ۔ پارسائی کے حوالے سے گذشتہ کئی حکومتوں میں کردار پر ہونے والی بحث کو دیکھا جائے تو شاید یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ اکثریت پارسائی کی حدوں سے بہت دور ہے ۔ اس سے بڑی خیانت کیا ہو گی کہ دستور کے ساتھ جھوٹ بولا جائے تو ایسے لوگوں کو امین کیسے کہا جا سکتا ہے ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ دستور کی شرائط پر پورے نہیں اترتے ،  پھر بھی ہر انتخاب میں ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا جاتا ہے کہ سیٹ مل جائے اور سالہا سال پارلیمنٹ کی کرسیوں پر براجمان رہا جائے ۔ کتنے ہیں جو اسلام کی تعلیمات سے اگاہ ہیں ۔ کتنے ہیں جو گناہ کبیرہ کے مرتکب نہیں ۔ گناہ کبیرہ کو " زنا اور شراب " تک محدود نہیں کیا جا سکتا ۔ سود بھی گناہ کبیرہ ہے ، کسی کی حق تلفی بھی گناہ کبیرہ ہے ، نماز سے ارادی طور پر پہلو تہی کرنا بھی گناہ ہے ، تہمت اور بہتان بازی بھی گناہ ہے ۔  اسلام کے نافذ کردہ فرائض میں ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰة ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی شامل ہیں ۔ کتنے ہیں جو ان نافذ کردہ فرائض کو پابندی سے ادا کرتے ہیں ۔
جس جگہ پر دستور شکن اکٹھے ہو کر بیٹھ جائیں ، ایک محب وطن کیلئے وہ جگہ مقدس رہے گی ؟ ہر گز نہیں ۔ جہاں سب دستور شکن بیٹھے ہونگے ، ان سے کس مستند قانون سازی کی توقع کی جا سکتی ہے؟
کیا بڑے بڑے قانون دان ، بڑے بڑے دانشور ، بڑے بڑے علماء ، میڈیا کے شہنشاہ ، تجزیہ نگار ، دستور کی ان بنیادی شقوق سے اگاہ نہیں ؟ پھر دستور شکن کون ہے ؟
کونسا حکمران آیا ، جو دستور کی ان بنیادی شرائط پہ پورا اترا ؟ پھر انتہائی ڈھٹائی سے کہا جاتا ہے کہ ہم وہی کریں گے جو دستور کہتا ہے ۔ پھر یہ بھی تقاضا کیا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ کے فیصلوں اولیت دی جائے ۔ کیسے ممکن ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٤ فروری ٢٠١٨

دستور میں یہ بھی لکھا ہے

" دستور میں یہ بھی لکھا ہے (1)
دستور کی "مقدس کتاب " میں پارلیمنٹ کے تقدس کو قائم رکھنےکیلئے لکھا ہے کہ اس میں بیٹھنے کیلئے ہر وہ شخص نا اہل ہے ، جس نے کسی بھی انداز سے  " نظریہ پاکستان " کی مخالفت کی ہو۔ 
اگر ہم اس اصول کو بنیاد بنا لیں ، تو کتنے سیاستدان اسوقت اسمبلی میں موجود ہیں جو کھلم کھلا نظریہ پاکستان کی تضحیک کرتے ہیں ۔  کتنے ہیں جو اپنے مفادات پر زک پڑتی دیکھتے ہیں تو پاکستان کی سالمیت کی پرواہ کئے بغیر منہ سے جھاگ چھوڑنے لگتے ہیں ۔ اول تو ہمیں سمجھ ہی نہیں آنے دیا کہ پاکستان کا نظریہ " لا الہ الا اللہ " تھا یا سیکولر ۔ ہندو سے جنگ کس بات کی تھی ؟ اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو لڑائی سرحدوں کو قائم کرنے کیلئے شروع نہیں ہوئی تھی ۔ نظریہ یہی تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں ۔ دونوں کے مذہب ،  تہذیب اور روایات الگ الگ ہیں ۔ ایسی صورت میں کہ ایک قوم گائے کو پوجتی ہو ، ماں کا درجہ دیتی ہو اور دوسری اسکی قربانی کو مذہبی طور پر لازم قرار دیتی ہو ، کیسے اکٹھے رہ سکتے ہیں ۔ کیسے ممکن ہے کہ ہم " اللہ کی وحدانیت " کو ایمان سمجھیں اور دوسرا پتھر ، درخت ، سانپ اور بندر کو عبادت کے لائق سمجھ لے ۔ یہ خارج از امکان تھا کہ ایسے صورت میں دونوں اکٹھے رہیں ۔ یہی نظریہ تھا جس پر برصغیر کی تقسیم ہوئی ۔ قوم کو ابہام کا شکار کر دیا گیا کہ بانی پاکستان نے پاکستان کو سیکولر سٹیٹ بنانے کا کہا تھا ،  پاکستان کے معرض وجود میں آنے میں ہمارے اکابرین کی محنت شاقہ غیر متنازعہ ہے ۔ مگر اس میں وہ خون بھی شامل ہے جو ہمارے اجداد نے پاکستان کا مطلب کیا ؟ " لا الہ الا اللہ " کیلئے بہایا ۔  کیا اب ہماری جدوجہد کی بنیاد یہ نظریہ ہے ؟ یہ کیسے سبو تاژ ہوا ؟ کیا اسے بھول جانے والے اسوقت اسمبلی میں بیٹھے ہیں ؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو دستور پاکستان کی شرط کا کیا ہوا ؟
اگر کسی سیاسی پارٹی کے کلیدی رہنماء نظریہ پاکستان کے خلاف بولتے ہیں تو دستور کے مطابق اس پارٹی کے کسی بھی رکن کا اسمبلی میں بیٹھنا دستور کے خلاف ہے ۔ اپنے مذہبی حقوق کی بات کرنا ، اس پر سخت موقف اختیار کرنا اور اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرنا " نظریہ پاکستان " کی اساس ہے ۔ 
(جاری ہے )
آزاد ھاشمی
١٣ فروری ٢٠١٩

دستور میں کیا لکھا ہے؟

" دستور میں کیا لکھا ہے ؟ "
ایک دستور کی کتاب کے تحت ١٩٧١ میں ہم نے اپنے وطن کے دو ٹکڑے ہوتے دیکھے ۔ اسلئے کہ جو حدود متعین کی تھیں ان پر عمل نہیں کیا گیا تھا ۔ وہ لوگ جو پاکستان کے قیام میں ہراول دستہ تھے ، وہی لوگ پاکستان کے دشمن ہوگئے ۔
محبان وطن ، دشمنان وطن کیوں ہوئے ، اسی لئے کہ ہم نے اپنے حقوق لا متناہی کردئیے اور اپنے مخلص بھائیوں کے حق پر ڈاکے ڈالے ۔  پھر نئی کتاب کی ضرورت تھی ، وطن چلانے کیلئے نئی حدیں قائم کرنا مقصود تھیں ۔ دستور کے بغیر ملک کیسے چلے گا ، یہ اہم ضرورت تھی کیونکہ اب پاکستان کا دوسرا جنم تھا ۔ اور یہ بچہ دوسال کا ہو چکا تھا ۔ ١٩٧٣ میں پھر ، کچھ ذہین و فطین ، کچھ لچے لفنگے ، کچھ جاگیر دار ، کچھ ذانی شرابی ، کچھ پڑھے لکھے اور کچھ انگوٹھا چھاپ مل کر بیٹھ گئے کہ حدود قائم کر لی جائیں , دستور بنا لیا جائے ۔ ان میں کچھ علماء بھی تھے ۔ جو جانتے تھے کہ مسلمان کا دستور تو چودہ سو سال پہلے طے ہو چکا ۔ مگر وہ عالم کم اور سیاستدان زیادہ تھے ۔ بس اس پر ہی راضی ہوگئے کہ ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھ لو ۔ اسلام اور قرآن کی ایک آدھ شق شروع میں رکھ دو ۔ ملک کے سربراہ کیلئے مسلمان ہونا لازم قرار دے دو ، بس دستور اسلامی ہو گیا ۔ اور ملک اسلامی ہو گیا ۔ اس سے آگے نہ انکی سوچ تھی اور نہ دلچسپی ۔
پھر دستور لکھا گیا اور ہم نے نعرے لگائے کہ حاکم وقت نے وطن کی راہیں متعین کر دیں ۔ دستور کی کتاب متبرک کتاب بن گئی ، اب دستور کے خلاف ایک لفظ بھی بولنا ، جرم ہو گیا ۔
درست ہے کہ کسی بھی سفر سے پہلے راہ کا تعین ہو جائے تو سفر آسان ہو جاتا ہے ۔ دستور وہی راہ ہے جس پر ہم نے سفر جاری رکھنا تھا ۔ مگر وہی کچھ دوبارہ سے جاری ہو گیا کہ ہمارے کئی بھائی اپنے حقوق کیلئے چیخ چلا رہے ہیں مگر کوئی نہ سنتا ہے اور نہ توجہ دیتا ہے ۔ احساس محرومی کی وہی کیفیت پہلے کی طرح جنم لے چکی ہے ۔ عوام کو فرائض کا سبق پڑھایا جاتا ، حقوق کی بات نہیں ہوتی ۔ دستور میں جو لکھا ہے ، اس پر شاذ ہی عمل ہوتا ہو گا ،  اگر ہوتا ہے تو نظر نہیں آتا ۔  آئیے دستور کو ملاحظہ کرتے ہیں اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ :
دستور میں کہاں لکھا ہے کہ پولیس والا جسے چاہے مشق ستم بنا لے ۔
کہاں لکھا ہے کہ سیکورٹی ادارے جسے چاہیں گولیوں سے بھون ڈالیں ۔
کہاں لکھا ہے کہ عدالتیں قانون سے ہٹ کر صوابدیدی اختیارات کو اپنا شعار بنا لیں ۔ کہاں لکھا ہے کہ سرکاری لوگ ترقی کے نام پر لیا جانے والا ٹیکس اپنی عیاشیوں پر خرچ کریں ۔
کہاں لکھا ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر قانون سازی کی بجائے مفادات پر سودے کئے جائیں ۔ کہاں لکھا ہے وزیراعظم کو کروڑوں روپے کاپروٹوکول دیا جائے ۔
کہاں لکھا ہے کہ ملک کا حکمران اپنی سیاسی پارٹی کو مضبوط کرنے میں لگا رہے ۔ گویا دستور کی متبرک کتاب ، نہ پہلے کارآمد تھی اور نہ اب ہے ۔ اس میں درج ساری حدود محض طفل تسلی ہیں ۔ دستور شکنی وہی کرتے ہیں جو دستور کی حفاظت پر مامور تھے ۔ دستور کب اجازت دیتا ہے کہ حکمران وطن کے اثاثوں کو باپ کی جاگیر سمجھ کر جہاں اور جب چاہیں خرچ کرتے پھریں ۔
اگر ہم مسلمان ہیں اور ہمارا وطن " اسلامی مملکت " ہے تو اسلام کی کونسی حد اور کہاں پر لاگو ہے ۔ گویا دستور کی پہلی شق ہی " مذاق " سے شروع ہوئی ۔ اگر دستور بنایا ہے تو اسے من و عن لاگو کیوں نہیں کیا جاتا ۔ اسلام کے نام سے " الرجی " ہے تو کم از کم باقی دستور تو لاگو کیا جائے ۔
چلیں ، عوام کو یہ تو بتا دیا جائے کہ دستور آپ کو یہ یہ مراعات دیتا ہے ۔ دستور حکمرانی کے تحفظ سے آگے کچھ نظر کیوں نہیں آتا ۔
آزاد ھاشمی
١٢ فروری ٢٠١٩