Saturday, 28 January 2017

ہمارے علماء



ہمارے علماء
اگر ہمارے علماء کچھ عرصے کے لئے فرقہ واریت کو چھوڑ کر نظام اسلام کی آگاہی کے لئے متحرک ہو جایں , اور قوم کو اسلام کا معاشی , معاشرتی , عدالتی اور انتظامی نظام سمجھا دیں - تو پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ جمہوریت کی بساط لپٹنے میں کوئی دیر نہیں لگے گی -
صرف زکواتہ کا نظام سمجھ آ جاے تو معیشت کے مسائل کا حل نکل آتا ہے - اسکا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ کھربوں روپے کے اثاثوں پہ ہی اتنا فنڈ ہو جاے گا , جو موجودہ ٹیکس نظام سے حاصل نہیں ہو رہا , دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ مہنگائی مکمل کنٹرول میں آ جاۓگی کیونکہ اس طرز سے اشیاۓ صرف پر بوجھ نہیں ہوتا , تیسرا یہ بوجھ بالواسطہ یا بلاواسطہ عام شہری پر نہیں ہوتا صرف صرف امراء پر ہوتا ہے -
اسی طرح حکمرانوں کے انتظامی اخراجات کا بے ہنگم پن کنٹرول ہو جاتا ہے -
معاشرتی خوف , دہشتگردی , نفاق اور باہمی رنجشیں ختم ہو جایں گی -
عدل کی فضا قائم ہو جانے سے جرائم کا طوفان رک جایگا -
یہ وہ شعور ہے , جس سے عوام کو آگاہی دینا ہمارے مذہبی قائدین , ہمارے علماء , دانشوروں اور صاحبان بصیرت کا فرض ہے -
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جتنی مغز سوزی سیاست اور دیگر معاملات پہ کرتے ہیں اسکا چوتھا حصہ اگر اسطرف کریں تو ہر طرف سکون , امن اور خوشحالی نظر آئیگی  - لبرل اور سیکولر آزم کی مالا جپنے والوں کو بھی سمجھ آ جاۓگی کہ اسلامی نظام موجودہ تمام نظاموں سے بہتر ہے -
اسکے لئے علماء کو بھی فرقہ واریت سے ہٹ کر اسلام کے طرز حکومت پر دسترس حاصل ہو جاۓگی -
الله کرے  یہ گزارش قابل عمل سمجھی جاے
شکریہ
آزاد ہاشمی

اکمل عباس‎



اکمل عباس




وہ خوشی کے عالم میں نیم پاگل ہو گیا تھا - ہر کسی کی طرف دیکھتا اور توقع کرتا کہ ہر کوئی اسے مبارک کہے - اسکے بیٹے نے زندگی کی کامیابی کی پہلی سیڑھی پہ قدم رکھا تھا - وہ خواب جو اسنے اپنے لئے دیکھے تھے اسکی اولاد پورے کر رہی تھی - یہ الله کا وہ انعام تھا جو اسکی زندگی میں اسے مل رہا تھا - وہ لفظ اسکے دل کی آواز تھی جو وہ اپنے بچوں کو پہنچا رہا تھا -
" بیٹا میری زندگی کی کتاب کے آخری اوراق شروع ہو چکے ہیں , نہ جانے کب وقت کا بلاوا آ جاے - بیٹا میں تم سے کچھ قرض لینا چاہتا ہوں جو میری اگلی زندگی میں کام آئیگا - وہ قرض یہ ہے کہ اپنی زندگی میں کوئی فرض مت چھوڑنا , وہ فرض الله کی طرف سے ہو یا وطن کیطرف سے - اولاد کا ہو یا والدین کا , ماں کا ہو یا بیوی کا , بہن کا ہو یا بھائی کا , کسی غریب کا ہو یا کسی یتیم کا - الله نے جو جو صلاحیت سے نوازے اسے الله کی رضا کے مطابق استعمال کرنا - یہ سب انعامات تمہاری قابلیت کے طفیل نہیں- اترا مت جانا - مظلوم کی آواز  پہ کبھی پیٹھ مت پھیرنا اور ظالم کا ہاتھ مروڑنے پہ دیر مت کرنا - جو دروازے پہ سوال لے کے آ جاے اسے خالی مت لوٹانا - حقوق الله لازم ہیں تو حقوق العباد بھی مقدم ہیں - تمہارا یہ ادھار میری بخشش بنے گا "
نم آلود آنکھیں اور دھڑکنوں میں ہنگامہ اسکی خوشی کا غماز تھا - الله سے ملنے والے انعامات سب بے مول تھے -
شکریہ
آزاد ہاشمی




Friday, 27 January 2017

ماں اور جنت



" ماں اور جنت "
سنا کرتے تھے کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہوتی ہے ۔ یہی سمجھتے رہے کہ اسکا مطلب ماں کی خدمت ہے ۔ یعنی اگر اللہ کو راضی کرنا ہے تو ماں کو راضی کرنا ہوگا ۔ اگر کچھ مقام چاہئے تو ماں کے قدموں میں تلاش کرنا ہو گا ۔ ماں کی خدمت ایسی عبادت جس کی قبولیت کا ضامن اللّہ بھی اور اللہ کا حبیب بھی ۔ یہ ایک ایمانی حقیقت ، جس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ۔
چند روز پہلے اللہ نے یہ وجود ہم سے واپس لے لیا ۔ اب سمجھ آیا کہ جنت کا ماں کے وجود سے رشتہ کیا ہے ۔ ماں کی آغوش وہ پناہ گاہ ، جہاں دنیا کا ہر دکھ  ، ھر فکر ، ہر غم ، ہر پریشانی راستہ بدل لیتی ہے ۔ سکون اور اطمینان کی  جو دولت ماں کے قرب سے ملتی ہے ، دنیا کی ہر نعمت سے ممتاز اور منفرد ہوتی ہے ۔ ماں کے ہاتھ جو مٹھاس انسان کو عطا ہوتی ہے ، اسکا تصور دنیا کی ہر مٹھاس سے بالاتر ۔  جس کا الفاظ سے احاطہ ممکن نہیں ۔
پوری عمر کا رنج و غم ، بے سکونی اور اضطراب ، مایوسی اور ملال ،  ایک طرف ، ماں سے بچھڑنے کے یہ چند دن ایک طرف ۔ 
اب سمجھ آیا ان قدموں کا مقام ۔ اب پتہ چلا ماں کے وجود کی شان ۔ اللہ نے اپنی رحیمی کی صفت سے ہر ماں کو نواز رکھا ہے ۔ یہ اب سمجھا ہوں ۔
شکریه
ازاد ھاشمی

آنکھیں بھیگ لینے دو


" آنکھیں بھیگ لینے دو "
رونا کسی بھی دور میں نہ معیوب تھا نہ گناہ ۔ اللہ کو خشوع کی عبادت ، عمومی عبادت سے کہیں زیادہ پسندیدہ ہے ۔ اللہ کی رضا پانے کے لیے اللہ کے مقبول بندوں کا رونا معمول رہتا ہے ۔ 
یہ کبھی ممکن نہیں کہ جب تک دل اور روح میں احساس غم نہ ہو ، رویا جا سکے ۔ رونے سے انسان کے احساس کی نزاکت کا پتہ بھی چلتا ہے اور تعلق کی گہرائی بھی عیاں ھوتی ہے ۔ رشتوں کی لگن کے بغیر پلکیں کبھی نہیں بھیگا کرتیں ۔ 
کربلا کے ایک ایک لمحے کو اپنی ذات پر معکوس کر کے دیکھیں ، تو یقیناً ہر آنکھ برسنے لگے گی ۔
  شرط صرف اتنی ہے کہ دل ، دماغ اور روح حب اہل بیت سے خالی نہ ہو ۔
شرط صرف یہ ہے کہ دل حب یزید سے خالی ہو ۔
شرط صرف اتنی ہے کہ مسالک کی پٹی آنکھوں پہ نہ بندھی ہو ۔
شرط صرف اتنی ہے کہ تاریخ کے وہ حوالے از بر نہ ہوں جو اموی اور عباسی دور میں گھڑے گئے ۔
شرط صرف اتنی ہے کہ بے سود فلسفہ اور منطق آڑے نہ آئے .
شرط صرف اتنی ہے کہ آل رسول کے در پہ قبولیت ملے ۔
شرط صرف اتنی ہے کہ شیطنت سے وابستگی نہ ہو ۔
پھر کربلا کا دن بھی یاد آئے گا ۔ کربلا کے مظلوم بھی یاد آئیں گے ۔ پھر آنکھ اس غم میں بھیگے تو بھیگنے دو ۔
شکریہ 
آزاد ھاشمی




اجتماعی زیادتی کے واقعات



اجتماعی زیادتی کے واقعات
اجتماعی زیادتی کے واقعات ایک معمول سا بنتا جا رہا ہے - ایسے تمام سانحات کے پیچھے اکثر با اثر شخصیات کے , رزق حرام پہ پلے ہوۓ اوباش نوجوان ہوتے ہیں - جنہیں نہ قانون ہاتھ ڈالتا ہے اور نہ ہی حفظ و امان کے زمہدار ادارے -
جب سزا کا خوف ہی نہ ہو , تو ایسے گھناونے واقعات معمول بن جاتے ہیں - جب کبھی عوام کی طرف سے احتجاج کا خوف ہو تو حکمران  متاثرہ خاندان کی اشک شوئی کے لئے چلے جاتے ہیں - کڑی سے کڑی سزا کا اعلان ہو جاتا ہے کہانی ختم -
عوام کی عزت , جان اور مال کی حفاظت حکمرانوں کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے - جو حکمران یہ بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتا , اسے اخلاقی طور پر اپنا منصب چھوڑ دینا چاہیے - جو متعلقه اہلکار ہے- اسے ارتکاب جرم میں شریک قرار دے کر سزا ملنی چاہیے - اور  یہ سزا سر عام ہونی چاہیے - یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ایسے واقعات مکمل طور پر رک جایں گے - یہ معاشرتی مسلہ اگر سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو پھر آنے والے وقت میں کوئی عزت محفوظ نہیں رہے گی - جو ظلم آج امراء کے اوباش بچے کر رہے ہیں , وہی ظلم انتقام کی شکل میں  غریبوں کے بچے ان امراء کے محلوں میں کریں گے -
ظلم کی نگہبانی کرنے والے ہمیشہ خود اس سے بد تر ظلم کا شکار بنتے ہیں - اسکی تاریخ گواہی دیتی ہے -
 اور وہ دن دور نہیں -
ہمیں اپنی بہن بیٹیوں کی حفاظت کا فریضہ جہاد سمجھ کرنا چاہیے -
آزاد ہاشمی