ہمارے علماء
اگر ہمارے علماء کچھ عرصے کے لئے فرقہ واریت
کو چھوڑ کر نظام اسلام کی آگاہی کے لئے متحرک ہو جایں , اور قوم کو اسلام کا معاشی
, معاشرتی , عدالتی اور انتظامی نظام سمجھا دیں - تو پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے
کہ جمہوریت کی بساط لپٹنے میں کوئی دیر نہیں لگے گی -
صرف زکواتہ کا نظام سمجھ آ جاے تو معیشت کے
مسائل کا حل نکل آتا ہے - اسکا ایک فائدہ تو یہ ہو گا کہ کھربوں روپے کے اثاثوں پہ
ہی اتنا فنڈ ہو جاے گا , جو موجودہ ٹیکس نظام سے حاصل نہیں ہو رہا , دوسرا فائدہ
یہ ہو گا کہ مہنگائی مکمل کنٹرول میں آ جاۓگی کیونکہ اس طرز سے اشیاۓ صرف پر بوجھ
نہیں ہوتا , تیسرا یہ بوجھ بالواسطہ یا بلاواسطہ عام شہری پر نہیں ہوتا صرف صرف
امراء پر ہوتا ہے -
اسی طرح حکمرانوں کے انتظامی اخراجات کا بے
ہنگم پن کنٹرول ہو جاتا ہے -
معاشرتی خوف , دہشتگردی , نفاق اور باہمی
رنجشیں ختم ہو جایں گی -
عدل کی فضا قائم ہو جانے سے جرائم کا طوفان
رک جایگا -
یہ وہ شعور ہے , جس سے عوام کو آگاہی دینا
ہمارے مذہبی قائدین , ہمارے علماء , دانشوروں اور صاحبان بصیرت کا فرض ہے -
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جتنی مغز سوزی
سیاست اور دیگر معاملات پہ کرتے ہیں اسکا چوتھا حصہ اگر اسطرف کریں تو ہر طرف سکون
, امن اور خوشحالی نظر آئیگی - لبرل اور سیکولر آزم کی مالا جپنے والوں کو
بھی سمجھ آ جاۓگی کہ اسلامی نظام موجودہ تمام نظاموں سے بہتر ہے -
اسکے لئے علماء کو بھی فرقہ واریت سے ہٹ کر
اسلام کے طرز حکومت پر دسترس حاصل ہو جاۓگی -
الله کرے یہ گزارش قابل عمل سمجھی جاے
شکریہ
آزاد ہاشمی