غریبوں کو بیٹیاں
وہ دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاۓ ہوے مسلسل
رو رہا تھا - صاف لگ رہا تھا کہ پورے انہماک سے الله سے کچھ مانگ رہا ہے - ایسے
مانگی جانے والی دعائیں کبھی رد نہیں ہوتیں - یہ میرا یقین ہے -
" ما شا الله بھائی جو بھی مانگا ہو گا
ضرور ملے گا - کاش مجھے بھی تمہاری طرح الله سے مانگنے کا طریقه آ جاتا "
میں اسکے خشوع سے متاثر ہو کر اس سے مخاطب
تھا -
" الله نہ کرے بھائی تجھے بھی میری طرح
مانگنا پڑے "
رکے ہوۓ آنسو پھر بہنے لگے -
" کیا مطلب "
میں حیران تھا کہ وہ ایسے کیوں کہ رہا ہے -
" میں سمجھا نہیں "
میں اپنی حیرانی دور کرنا چاہتا تھا -
" میں اپنے رب سے اپنی بیٹی کے لئے گڑیا
مانگ رہا تھا صرف ایک گڑیا - میں روز جب گھر جاتا ہوں تو وہ دروازے پہ بھاگتے ہوۓ
آتے ہی پوچھتی ہے - ابا میری گڑیا نہیں لاے نا "
" باؤ جی ! یہ بیٹیاں بھی کیا ہوتی ہیں
- تھوڑی دیر روٹھ جاتی ہے پھر آ کے چپک جاتی ہے - جیسے کچھ ہوا ہی نہیں - اسے پتہ
ہی نہیں چلتا - باپ تو ایک پہاڑ کے نیچے دب گیا ہے "
" باؤ جی ! یہ الله غریبوں کو بیٹیاں
کیوں دے دیتا ہے "
میں اسکا دکھ سمجھ چکا تھا -
" رات بھر سوچتا رہتا ہوں کہ جس بیٹی کو
گڑیا نہیں دے سکا اسے جہیز کہاں سے دوں گا - نیند نہیں آتی بابو جی "
" نہیں سنتا الله بھی - روز ایک ہی سوال
کرتا ہوں , ایک ہی گڑیا مانگتا ہوں - مزدوری اتنی ہی ملتی ہے کہ پیٹ بھر سکوں - جس
دن گڑیا لوں گا اس دن ایک اور پہاڑ سر پہ ہو گا - بھوکا سونا پڑے گا - میں تو سو
جاؤں گا , اسکی ماں بھی سو جائیگی دو معصوم کیسے بھوکے سو سکیں گے "
" غربت کی آگ بہت ظالم ہوتی ہے , اندر
ہی اندر بھسم کر دیتی ہے - آج وعدہ کر کے آیا تھا , آج اگر گڑیا نہ لایا تو
گھر نہیں آؤں گا - اور مزدوری ہی نہیں ملی - اب کیا کروں "
میں اپنی جگہ سوچ رہا تھا کہ کتنے باپ ہوں گے
جو خالی ہاتھ گھر لوٹنے سے پہلے بیٹیوں کے سوالوں کے جواب سوچتے ہوں گے - کتنی
بیٹیاں گڑیوں کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہوں گی - کیا یہ روش کبھی بدل پاے گی -
کیا کبھی یہ احساس پیدا ہو گا کہ گڑیوں کی منتظر بیٹیوں کو ہم گڈیاں دلا سکیں گے ,
آخر غریب کی بیٹی بھی تو میری اور آپ کی بیٹی جیسی ہے - اے کاش ! کبھی ایسا بھی ہو
جاے -
آزاد ہاشمی
No comments:
Post a Comment