Wednesday, 25 January 2017

منصب شہادت


" منصب شہادت "
موت سے نہ انکار ممکن ہے اور نہ فرار ۔ اللہ کیطرف سے متعین وقت پر ہر ذی روح کو لبیک کہتے ہوئے یہ فانی دنیا چھوڑنی ہے ۔ مجھے بھی آپ کو بھی ۔ اعمال صالحہ کو اللہ کی رحمتوں کی بشارت ہے اور شیطان کے ساتھیوں کو عبرت ناک سزا کی خبر ۔ 
شہادت ایسی موت ، جو اللہ کیطرف سے انعام ہے ۔ اس درجے پر وہی سرفراز ہوتے ہیں جو اللہ کے نزدیک با وقار سمجھے جاتے ہیں ۔ یہ اصولی اور فکر انگیز حقیقت ہے کہ ہر شہید کو شہادت کا درجہ طاغوتی ہاتھوں سے ملتا ہے ۔ شہید کرنے والے ہاتھ کبھی بھی فلاح پانے والے نہیں ہو سکتے ۔ یقینی طور پر مغضوب اور معتوب ہی ہونگے ۔ دو شہادتیں ایسی ہیں جو اسلام کی تاریخ میں کینہ پروری میں بربریت کی مثال ہیں ۔ ایک جنگ احد میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ کی ۔ جسم اقدس کی بے حرمتی کی انتہا ، ناک کان کاٹنا اور لاش کی بے حرمتی اسلامی قوانین میں قطعی ممنوع ہے ، اور پھر دل نکال کر چبانا ، کینہ کا عروج ہے ۔ دوسری شہادت کربلا کی ۔ جس میں بربریت کی مثال نہیں ملے گی اور شائد الفاظ میں سفاکی کا بیان بھی ممکن نہ ہو ۔  گھوڑوں کے قدموں سے لاشوں کی پامالی کرنے والوں کا کیا مقام ہو گا ۔ اللہ کے ہاں انکی عبادات کا کیا درجہ ہو گا ۔
فکر کرنے سے کوئی ابہام نہیں رہ جاتا ۔
یہ دونوں سانحہ ایک ہی رشتے میں پروئے ہوئے ہاتھوں سر زد ہوئے ۔  اسے نہ تاریخ جھٹلا سکتی ہے اور نہ آج کا محقق ۔ 
عبادت گزار کی عبادت اسکی اپنی فلاح کی کوشش ہوتی ہے ۔ جنت کی تلاش میں ہوتی ہے ۔ مگر ایک شہید کی شہادت دین کی سربلندی کے لئے ہوتی ہے ، اللہ کی رضا کے لئے  ہوتی ہے ، کفر کا ہاتھ روکنے کے لئے ہوتی ہے ، امت کی بقا اور حیات کے لئے ہوتی ہے ۔
یہ منصب اللہ کی عطا ہوتا ہے ۔
کربلا کی شہادت ایک نفس کی شہادت سے کہیں ممتاز ہے ، یہ ایک گھر کی شہادت ہے ، پورے عرب سے چنیدہ بہتر لوگوں کی شہادت ہے ۔ سالار قافلہ کی ساری متاع کی قربانی ہے ۔
شکریہ
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment