Thursday, 25 April 2019

معاشی حماقتیں

"  معاشی حماقتیں "
بہت بڑے بڑے معیشت دان اپنی سر توڑ کوششوں کے باوجود ناکام ہی رہے اور اسوقت تک ناکام ہی رہیں گے ، جب تک معیشت میں رائج حماقتوں سے گریز نہیں کیا جاتا ہے ۔
کسی گھر کا بجٹ اسوقت تک بہتر نہیں ہوتا جب تک ذرائع آمدن ضروریات کے ساتھ متوازن نہ ہوں ۔ اگر آمدن کم ہے تو اخراجات کو کم رکھنا پڑتا ہے ، تعیش کو چھوڑ کر ضروریات اور پھر ضروریات کی درجہ بندی ضروری ہو جاتی ہے ۔ اگر ضروریات پر قابو نہ پایا جا سکے تو آمدن بڑھانا لازمی ہے ۔ یہ عام سا اصول ہر گھر کا سربراہ اچھی طرح سمجھتا ہے ۔
تعجب ہے کہ معاشیات کے" سقراط ، افلاطون ، بقراط " سب کے سب اس اصول کو کیوں نہیں سمجھتے ۔ بہت عام سا حل  نکال لیتے ہیں کہ ٹیکس کا کوئی نیا کھاتہ کھول لیا جائے اور شروع سے آج تک یہی ہوتا چلا آرہا ہے ۔ ٹیکس کی بھرمار ہے ، ذرائع اور وسائل جوں کے توں پڑے ہیں ۔  ان پر کبھی توجہ نہیں کی گئی ۔ کیوں ؟ اسکا جواب نہ پہلے حکمران دے سکے اور نہ موجودہ کے پاس اس کا جواب ہے ۔ سب حکمران یہی کہتے ہیں ۔
"پوری دنیا میں ٹیکس لیا جاتا ہے "
یہ وہ دلیل ہے جس سے قوم پر دباو برقرار رکھا ہوا ہے ۔ درست ہے کہ قومی ضروریات کیلئے پوری دنیا میں ٹیکس کا طریقہ نافذ ہے ، مگر یہ کبھی نہیں بتایا جاتا کہ پوری دنیا میں ٹیکس کا استعمال کیا ہے ؟ یہ تمام ٹیکس عوام کی سہولیات پر خرچ ہوتے ہیں یا ایسے ترقیاتی منصوبے بنائے جاتے ہیں جو عوام کیلئے از حد ضروری ہوں ۔ مگر ہمارے حکمران آج تک یہ ٹیکس " عیاشی " پر خرچ کر رہے ہیں اور ملکی ضروریات کیلئے قرضے کا کشکول گھماتے رہتے ہیں ۔ بے شرمی کی انتہا ہے کہ اگر بین الاقوامی مالیاتی ادارے قرض دے دیں تو بغلیں بجائی جاتی ہیں ، اسے وزارت خزانہ کی کامیابی کہا جاتا ہے ۔ یہ کبھی نہیں بتایا جاتا کہ یہ ملنے والا قرضہ کن شرائط پر ملتا ہے ۔ یہ قرضہ کبھی یکمشت نہیں ملتا ،  بلکہ کم از کم تین اقساط میں ملتا ۔ پہلی قسط پر سود کاٹ لیا جاتا ہے ۔ دوسری قسط کیلئے پرانے قرضوں کے سود کا تقاضا کیا جاتا ہے اور عام حالات میں وہ بھی کاٹ لیا جاتا ہے ۔ تیسری قسط میں شرائط رکھ دی جاتی ہیں کہ اگر ترقیاتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے تو کم از کم نصف انفرا سٹرکچر پر خرچ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ضروری اور غیر ضروری انفرا سٹرکچر بنانے پڑے ۔ قوم اسی دلدل میں رہی جس میں پہلے تھی ۔ یہ قرض خواہ ایک شرط یہ بھی لگاتے ہیں کہ بجلی ، پانی اور اہم اشیائے ضرورت پر ٹیکس بڑھائے جائیں ۔ یہ ٹیکس بڑھانے سے برآمدات کی قیمتیں بین الاقوامی منڈیوں میں پٹ جاتی ہیں ۔ اگر ہم بغور جائزہ لیں تو اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ قرضے کی اس دلدل نے ہمیں برآمدات کے میدان سے نکال باہر کیا ہے اور صنعت قریب  المرگ ہے ۔
کیا تعجب نہیں کی ملکی وسائل میں معدنیات ، زراعت ، صنعت ، تجارت ، ہنر مندی اور عوامی قابلیت کو استعمال کرنے کی طرف قطعی توجہ نہیں دی گئی اور نہ دی جا رہی ہے ۔
ہنر مندی اور تجارت سے بھارت کثیر زر مبادلہ کما رہا ہے ، جبکہ ہم ان دونوں میدان میں عدم توجہ کا شکار ہیں ۔ بھارت کی زرعی زمین اور ہماری زرعی زمیں دونوں ایک طرح کی ہیں ، وہ اپنی تمام خوردنی ضروریات پوری بھی کر رہے ہیں اور برآمد بھی ۔ ہم ٹماٹر ، پیاز ، آلو ، لہسن اور دالیں تک درآمد کرتے ہیں ۔ کیا ہمارا کسان بھارت کے کسان کا ہم پلہ نہیں ؟
ہماری درآمدات میں سامان تعیش پر بیشمار زر مبادلہ لٹا دیا جاتا ہے اور ملکی مصنوعات کو ناکام کرنے کا ہر حربہ اپنایا جاتا ہے ۔
ہماری معیشت پر ایک بڑا بوجھ ، بے ہنگم ادارے اور انکو دی جانے والی مراعات بھی ہیں ۔ ان اداروں میں سے بیشمار اہلیت کی بد ترین سطح پر ہیں ۔ جیسے پولیس اپنے فرائض پر کم اور رشوت پر زیادہ متوجہ ہے ۔ جیسے ہی امن و امان کی صورت پیدا ہوتی ہے ، پولیس بیکار نظر آتی ہے اور فوج کی مدد طلب کی جاتی ہے اگر پولیس امن و امان برقرار نہیں رکھ سکتی تو ایک ظفر فوج کی کیا ضرورت ہے ؟  ایسے اور بھی بیشمار ادارے ہیں ، جو کرپشن کی ابتداء کرتے ہیں اور یہ زہر قوم کی رگوں میں تسلسل سے اتارتے رہتے ہیں ۔
ان سب سے زیادہ اور بڑا بوجھ ہمارے حکمران ، پارلیمنٹ ، وزراء ، سفارتخانے اور انتخابی ڈھونگ ہے ۔ ہر پانچ سال بعد ، اربوں روپیہ انتخابات کی نظر ہو رہا ہے ۔ ہر پانچ سال بعد ، نئے وزراء کے بنگلوں کی نئی تزین و آرائش ہوتی ہے ۔ قصر صدارت میں گھوڑے رکھے جائیں ، بھینسیں پالی جائیں ، رقص و سرود کی محفلیں سجائی جائیں ، دوستوں کی دعوت کی جائے ، شعر وشاعری کا شوق پورا کیا جائے ۔ اسی طرح گورنرز ، وزراء اعلیٰ ، وزیراعظم ، دیگر وزراء سب کے سب یہ عیاشیاں قوم کے ٹیکس سے پوری کرتے ہیں ۔ یہ کروڑوں کی بات نہیں اربوں کی کہانی ہے ۔
حماقت کی عجیب شکل ہے کہ شاید ہی کوئی وزیر ایسا ہو ، جو اپنے محکمے کے بارے میں عبور رکھتا ہو ۔ پارلیمنٹ قانون سازی کیلئے ہوتی ہے ، پارلیمنٹ میں کتنے ہیں جو قانون اور قانونی پیچیدگیاں جانتے ہیں ؟
یہ سارا بوجھ ، ہمارے ٹیکس ہڑپ کرنے کیلئے کافی ہے ۔ اب وہ کونسا " معجزہ " ہے جو ہماری معیشت کو درست کر دے گا ۔
آزاد ھاشمی
٢٣ اپریل ٢٠١٩

کونسا اسلام ؟

" کون سا اسلام ؟ "
یہ وہ سوال ہے جو اسوقت سننے کو ملتا ہے ، جب کوئی اسلامی نظام کی بات کرتا ہے ۔ ایک ایسا ہی احمقانہ سوال  اور  بھی ہوتا ہے کہ "اسلامی نظام کس وقت کے حکمرانوں کی تقلید ہو گا "
اگر آپ کا واسطہ کسی لبرل سے پڑ جائے ، خاص طور پر اس لبرل سے جو یورپ کے کسی ملک میں اچھی نوکری پر ہو ، اور اسے کچھ گورے گھاس بھی ڈالتے ہوں تو اسلام کے خلاف نا قابل برداشت رویہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اگر ان لبرلز میں کچھ نے قرآن پڑھ لیا ہو ، کچھ احادیث بھی یاد ہوں ، تاریخ کے اوراق بھی الٹ رکھے ہوں تو سمجھ لو کہ اسلام پر ایسے ایسے دلائل دیں گے ، جس سے عام سطح کا علم رکھنے والا انکا مطیع ہو جائے گا ۔ ایسی ہی کیفیت میڈیائی دانشوروں کی ہے ۔
کونسا اسلام ؟
اسکا بہت سیدھا سا جواب ہے کہ ہم اس اسلام کی بات کرتے ہیں جو ،   دین ہے ، مذہب ہے ، نظام ہے ، شریعت ہے ، اللہ کی وحدانیت ہے اور نظام حیات ہے ۔
اس اسلام کی بات کرتے ہیں ، جو اللہ کی کتاب میں درج ہے ۔
اس اسلام کی بات کرتے ہیں جو انبیاء کا مذہب ہے ۔
اس اسلام کی بات کرتے ہیں جس پر اسوہ حسنہ قائم تھا ۔
اس اسلام کی بات کرتے ہیں جس کیلئے حسین علیہ السلام نے بیمثال قربانی دی ۔
وہ اسلام جو لاگو ہوا تو ہر کسی کو امان ملی ۔ جو لاگو ہوا تو قیصر و کسریٰ شکست ریز ہوئے ۔
اس اسلام کی بات کرتے ہیں جس کے سامنے بڑے سے بڑے طاغوت نے گھٹنے ٹیک دئیے ۔
اس اسلام کی بات کرتے ہیں جو یکجہتی کا نام ہے ، جس میں تفریق نہیں ، جس میں عدل ہے ، انصاف ہے ، امن ہے ۔
اس اسلام کی بات کرتے ہیں جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے ، قانون صرف قران ہے ، قرآن کی تشریح اسوہ حسنہ ہے ۔
آزاد ھاشمی 
٢٤ اپریل ٢٠١٨

Monday, 22 April 2019

تفرقات کا رسولؐ سے تعلق نہیں

" تفرقات کا رسولؐ سے تعلق  نہیں "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورہ انعام ١٥٩ میں  رسول پاک کو مخاطب کرتے ہوئےفرمایا کہ
" یقین جانو کہ جن لوگوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں ، ان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے ، انکا معاملہ اللہ کے حوالے ہے پھر وہ ان سے پوچھے گا کہ وہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں ۔ "
آیت کریمہ پر غور کیا جائے تو اس میں دو طرح کے لوگوں کا تذکرہ ہے ایک وہ جنہوں نے پھوٹ ( تفرقہ )  ڈالی اور دوسرے وہ جنہوں نے گروہ بنا لئے ۔ اللہ سبحانہ تعالی نے اس معاملے کو اپنے ذمہ لے لیا ہے ۔ نبیؐ پاک کو انکے کسی بھی تعلق سے الگ فرما دیا ۔ یہاں تخصیص کے ساتھ ذکر ہے کہ
جن لوگوں نے " دین " میں انتشار اور پھوٹ ڈالی ہے ۔ انکا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ۔
یاد رہے کہ ہر وہ عمل جو قرآن کے احکامات کی ضد میں ہے اور اسے درست ثابت کرنے کی ہر دلیل انتشار ہے ، فساد ہے اور شر ہے ۔ پھر ایسی متضاد تاویلات اور دلائل پر اپنے ہم رائے لوگ تیار کرنا تفرقہ ہے ، ملت اسلامیہ کی تقسیم ہے اور گروہ بندی ہے ۔
ایسے تمام معاملات میں معاونت بھی انتشار میں  براہ راست شامل ہونا ہی تصور ہو گا ۔ ایسے تمام لوگ ، جو دین میں نئے نئے ، من گھڑت قصے اور کہانیاں شامل کرتے ہیں وہ بھی اسی انتشار اور فساد کے حصہ دار ہیں ۔ دین میں صرف عبادات ہی شامل نہیں ہیں ، بلکہ ہر وہ عمل شامل ہے جسکا حکم قرآن میں ہوا اور جس کو اللہ کے نبیؐ نے اپنی زندگی میں خود بھی کیا اور کرنے کی تاکید بھی کی ۔ ہمارے پاس قرآن ایسی کسوٹی ہے جس سے کسی بھی حکم اور عمل کو پرکھا جاتا ہے ۔ اسکے علاوہ کوئی بھی دوسرا پیمانہ اسی صورت میں مستند ہے کہ وہ کسی قرآن کے حکم کا متضاد نہ ہو اور متصادم نہ ہو ۔
ایک عجیب سی سوچ پختہ ہو چکی ہے بلکہ پختہ کر دی گئی ہے کہ قرآن کو سمجھنا ،  نہایت مشکل ہے اور بغیر ثانوی کتب کے ممکن ہی نہیں ۔  یہ ثانوی کتب مسالک کی سوچ کو پروان چڑھاتی ہیں ۔
شائد مسالک کے پیش رو قران سے اسی لئے دور رکھنے کی کوشش میں رہے  کہ تفرقاتی اور گروہی سوچ آسانی سے پروان چڑھتی رہے ۔ یہ جان لینے کے بعد کہ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے ایسے فعل پر انتہائی سخت گرفت کا فرمایا ہے ۔ کم از کم ہمیں اس سے اجتناب کرنا ہو گا ۔
آزاد ھاشمی
٢٢ اپریل ٢٠١٩