" چائے فروش اور روساء حکمران "
سنا ہے کہ مودی مسلمانوں کا پکا دشمن , قاتل , متعصب اور کٹر ہندو ہے . بیچارہ ایک چائے بیچنے والا غریب آدمی تھا , بس ہندو تعصب کے باعث وزیر اعظم بن گیا . سب ٹھیک , سب پتھر پہ لکیر .
آج ایک دوست نے مودی کا کلپ بھیجا . مودی صاحب فرماتے ہیں .
" قرآن پاک میں سب سے زیادہ نام اللہ کا ہے اور اسکے بعد دوسرا نام ہے علم . جو آٹھ سو بار قران میں آیا ہے . جسے مسلمان بھول گئے اور جس پر توجہ نہیں کی گئی . اگر اس پر توجہ کر لی جاتی تو کوئی مسائل نہ ہوتے . "
پھر فرمایا .
" کہ اللہ نے جس پر سب سے زیادہ زور دیا وہ ہے ' گیان ' یعنی غور و فکر "
میری حیرانی کی انتہا نہیں رہی کہ یہ کافر , مشرک , بت پرست , مسلمانوں کا کٹر دشمن . اسلام کی تعلیمات سے کسقدر اگاہی رکھتا ہے اور ادھر ہمارے کتنے حکمران ایسے گزرے جن کو اس کی اگاہی تھی کہ علم کی کیا اہمیت ہے . کتنے ملا ایسے ہیں جو با خبر ہیں انہوں نے اللہ کی تاکید پر کیا جہاد کیا .
یہ تھا قران کا اصل پیغام کہ اسکی تعلیمات کو اچھی طرح سمجھا جاتا . اس سے اپنے راستے کا تعین کیا جاتا .
آج اگر ہم تعلیم , ٹیکنالوجی اور جدید علمی تحقیق کو دیکھتے ہیں تو قران کا منکر اس پر عمل کر رہا ہے اور ہم سے کوسوں آگے نکل چکا ہے .
یہ مودی کی تعریف نہیں , ہماری کم نگاہی کا ماتم ہے . قابل.شرم ہے کہ جو کافر جانتا ہے ہم نہیں جانتے . جو فکر وہ رکھتا ہے ہم نہیں رکھتے . جو گیان اس نے کیا , ہم نہیں کرتے . یہ قران تو ہمارا تھا . ہماری رہنمائی تھی اس میں . پھر ہندو کیوں یاد دلا رہا کہ مسلمانوں کا قران آٹھ سو بار علم علم کیوں پکار رہا ہے .
ازاد ھاشمی
3 اگست 2017
Friday, 3 August 2018
چائے فروش اور روساء حکمران
Thursday, 2 August 2018
لیاقت بلوچ کے نام
" محترم لیاقت بلوچ کے نام "
اللہ آپ کو بخیر و عافیت رکھے ۔ آپ نے سوشل میڈیا پہ لکھا ہے ۔
"انتخابات 2018ء ختم ہوگئے۔بہت ہی تلخ اور جانبدار انتخابات کا نیا باب تحریر ہوگیا۔جمہوری قوتوں اور قیادت کو آئین،جمہوریت اور شفاف و غیر جانبدارانہ انتخابات کے لیے ابھی طویل جدوجہد کرنا ہے۔داغدار جمہوریت کی بجائے باوقار جمہوریت کے لیے جمہوری قیادت اپنے آپکو اہل بنائے۔(لیاقت بلوچ )
اگر آپ غور فرمائیں تو پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ جس اسلامی نظام کی بات کرتے رہے ۔ جس نظام کیلئے آپ نے کارکنوں کی تربیت کے قصیدے سنائے ۔ جس نظام کے نام پر آپ چندہ اکٹھا کرتے ہیں ۔ جس نظام کیلئے آپ تربیتی اجلاس بلاتے رہتے ہیں ۔ جس نظام کی بناء پر آپ " جماعت اسلامی " کہلاتے ہیں ۔ اسکا کیا ہوا؟ عوام سے دہوکہ کیا تھا یا جمہوریت سے چال چلی تھی ؟ دونوں صورتوں میں ظاہر اور باطن مختلف نہیں ؟ جب ظاہر اور باطن مختلف ہوں تو اسے منافقت کہا جاتا ہے ۔
خیر اب تو آپ جمہوریت کی گود میں کلی طور پر بیٹھ گئے ہیں ۔ کیا اب بھی آپ کی جماعت کا نام " جماعت اسلامی " ہی رہے گا یا " جماعت جمہوری " ہو جائے گا ۔ محترم ! آپ کا دعویٰ قطعی جھوٹ پر مبنی ہے کہ آپ لوگ منظم ہیں ۔ آپ کو اور جماعت کے اکابرین کے پاس نہ کوئی " سٹیٹرجی " ہے اور نہ کوئی " سلوگن " کہ لوگ آپ کو ووٹ دیں ۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ جو رسوائی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے ۔ وہ اللہ کی پکڑ ہے ۔ کیونکہ آپ نے طویل عرصے سے اسلام کے نام پر سیاست کی ۔ اب کھل کر جمہوریت سے جڑ گئے ۔ رسوائی نہیں ملے گی تو کیا شاباشی ملے گی ؟ غور کریں کہ پہلے لوگ جماعت کے اکابرین کا عزت اور احترام سے نام لیتے تھے ۔ اب لوگ آپ کے امیر کو کیا کہہ رہے ہیں ۔ معلوم ہے یا نہیں ؟
خدا را توبہ کریں ۔ جمہوریت نہ ہمارا نظام تھا اور نہ ہو گا ۔ اسلام کی بات کریں ۔ اور اس پر اپنی " سٹیٹرجی " بنائیں ۔ نہیں تو " انڈے اور ٹماٹر " بھی نصیب میں لکھے جانے والے ہیں ۔
معذرت چاہتا ہوں کچھ الفاظ سخت ہوگئے ۔ یہ اس امید کے ٹوٹنے پر کہ اب کوئی ایک ایسا نہیں رہا جو اسلامی نظام کی بات کرے ۔
آزاد ھاشمی
٣١ جولائی ٢٠١٨
جماعت اسلامی کے اصل دشمن
"جماعت اسلامی کے اصل دشمن "
کہتے ہیں کہ بیوقوف دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے ۔ کسی بھی جماعت کا اصل سرمایہ اسکے عقل و شعور والے کارکن ہوتے ہیں ، بھلے چند ہوں مگر " اوپر والی منزل " سے خالی نہ ہوں ۔ کسی کی تہذیب جاننے کیلئے اسکا اخلاق ، اسکی زبان ، اسکا لہجہ اور الفاظ کی ادئیگی بہت اہم ہے ۔ جماعت کے کارکنوں کا ایک وقار ہوا کرتا تھا ، تحمل سے بات کرنا اور دلیل سے جواب دینا ، ان لوگوں کا احسن قرینہ تھا ۔ مگر اب اگر کوئی جماعت پر تنقید لکھ بیٹھے تو جو بیہودگی جماعت کے کارکن کرتے ہیں ، دوسری ساری پارٹیاں ان سے بہت دور نظر آتی ہیں ۔ جماعت پچھلے ستر سال سے ایک ہی بات کر رہی تھی کہ ہم اسلام کے نظام کیلِئے جمہوریت کی سیڑھی اٹھائے پھر رہے ہیں ۔ اب اسلام کے نظام کی بات بعد میں ہوتی ہے اور جمہوریت کی پہلے ۔ اپنے نظرئیے سے فرار کیلئے ، ان لوگوں نے کہاں کہاں اور کس کس سے اتحاد نہی کیا؟ کیا یہ سچ نہیں کہ اس انتخاب پر جماعت کے بہت سارے کارکن قائدین کے فیصلوں پر معترض بھی ہوئے اور جماعت میں یہ تاثر بھی جنم لے چکا ہے کہ بہت ساری سیٹوں پر ہارنے کا سبب ، کارکن تھے ۔ یہ تاثر جماعت کے لوگ دے رہے ہیں ۔ جماعت کے پاس اب دلیل نہیں ہوتی ، مگر ایک ہی بات کہے جاتے ہیں کہ جمہوریت کے بغیر اسلام کیسے آئے گا ۔ جمہوریت میں انہیں اقتدار کی امید اسلئے ہے کہ ایک روز اللہ انکی مدد کو لشکر بھیجے گا ۔ اللہ کے دین کے متبادل نظام کی آبیاری اور اللہ سے امید ۔ جماعت کے اصل دشمن انکے منصوبہ ساز اور بد اخلاق کارکن ہیں ۔ اپنے نظرئیے سے ہٹنے کے سبب کتنے زیرک لوگ ان سے الگ ہوئے ۔ مگر مجال ہے ، انکی شوریٰ متحرک ہوئی ہو ۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی ملک سے کھلواڑ کرے گی تو اس پر ہر شہری کو تنقید کا حق ہے ۔ اور اگر کوئی جماعت مذہب کے نام پر چندے لے گی اور جمہوریت پر خرچ کرے گی تو اس پر اعتراض کیوں نہ کیا جائے ؟ اعتراضات اصلاح کا باعث ہوتے ہیں مگر جماعت کے لوگ بد کلامی پر گھنٹوں خرچ کریں گے ، عقل سے دو لمحے بھی نہیں سوچیں گے ۔ یہ وہ اسباب ہیں جو جماعت کے دشمنوں میں اضافہ کرتے ہیں ۔ آپ خلوص سے لکھیں گے اور بیہودگی سے جواب ملے گا تو آپ کا رد عمل کبھی مثبت نہیں ہو گا ۔ اگر یہی حال رہا تو اگلے انتخاب پہ " انڈے اور ٹماٹر " سے سواگت ہونے لگے گا ۔
آزاد ھاشمی
یکم اگست ٢٠١٨
میراثی نہیں دانشور
" میراثی نہیں دانشور "
پرانے زمانے میں ہر گاوں میں ایک میراثی ہوا کرتا تھا ۔ وہ چوہدری کی تعریف ، میں ایسا رنگ بھر دیا کرتا تھا کہ چوہدری کو کبھی کبھی انعام میں اپنی عزیز ترین گائے بھینس بھی دینی پڑ جاتی تھی ۔ اسکی تعریف کا انداز نہ صرف چوہدری کی ذات اور اولاد ہوتا تھا ۔ بلکہ وہ اسکے کتے کی تعریف میں بھی کمال کر دیا کرتا تھا ۔ اب ہماری پوری قوم اس میراثی کو بہت پیچھے چھوڑ آئی ہے ۔ تعریف اور خوشامد میں فرق ہی بھول گیا ہے ۔ تعریف اس خوبی کی ہوتی ہے جو کسی میں موجود ہو ۔ اور جس خوبی کا دور دور تک وجود نہ ہو ، اس پر قصیدے پڑھنا خوشامد ہوتا ہے ۔ با شعور لوگ کسی کی تعریف کرنے میں کنجوسی بھی نہیں کرتے اور خوشامدی بھی نہیں ہوتے ۔ عمران خان کا ماضی بہت بہتر رہا ہے ، مگر جو چیلنج اس نے لیا ہے ، اسکے کیا نتائج نکلیں گے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے ۔ اللہ کرے کہ جو وہ کہہ رہا ، وہ کر گذرے ۔ قوم کو اسکا حوصلہ اور اعتماد بننا چاہئیے ، مگر ایسا بھی نہ ہو کہ گذشتہ حکمرانوں کیطرح قوم کے پیسے کو اپنا ذاتی حق بنا بیٹھے ۔ ایسا بھی نہ ہو کہ معاشرہ اپنی مذہبی روایات کھو بیٹھے ۔ اقتدار پر وہی سجتا ہے جس میں بردباری ہو ، عاجزی اور انکسار ہو ، ذاتی عناد سے دور رہے ، سب کو ایک آنکھ سے دیکھے ، درگذر کرے ، عدل میں سب کو برابر رکھے ۔ یہ سب مشکل اور بڑے دل گردے کے کام ہیں ۔ اقتدار کی کرسی پہ جب " میں " آ جاتی ہے تو ساری خوبیاں غارت ہو جاتی ہیں ۔ قوم کو خوشامدانہ رویہ ترک کرنا ہو گا ۔ وگرنہ نواز شریف کیطرح بادشاہ بننے میں دیر نہیں لگے گی ۔ زرداری کیطرح " اسکی کیا مجال ہے کہ مجھے عدالت میں بلائے " کہنے میں بھی تردد نہیں ہوگا ۔ حسن ظن کا تقاضا ہے کہ موصوف سے اچھی امید رکھی جائے ۔ مگر میراثی بن کر نہیں ۔ دانشور بن کر ۔
آزاد ھاشمی
٢ اگست ٢٠١٨
چریا ہونا آسان نہیں
" چریا ہونا آسان نہیں "
چند کھلنڈرے نوجوان ، چوک میں بیٹھے ہر آنے جانے والے کو تنگ کر رہے تھے ۔ بڑھاپا اور جوانی دونوں ایک دوسرے سے اٹھکیلیاں کرتے رہیں تو زندگی میں ایک ترنگ باقی رہتی ہے ۔
" بابا جی ! آپ کو لوگ بابا چریا کیوں کہتے ہیں؟ " لڑکوں نے بابا چریا کو پاس بٹھاتے ہوئے شرارت کی ۔
" اب تو مجھے میری بیگم بھی چریا ہی کہتی ہے ۔ میرے پوتے پوتیاں بھی مجھے دیکھ کر ہنستے ہیں "
بابا جی نہایت ظرافت سے جواب دیا
" اسکا مطلب ہے کہ اب تصدیق بھی ہوگئی ہے " لڑکوں نے پھر چوٹ کی ۔
" چریا ہونے میں بہت ریاضت کرنا پڑتی ہے ۔ من کو مارنا پڑتا ہے ۔ بہت مشکل کام ہے بہت مشکل "
بابا جی کی بات سن کر سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔ انکی آنکھوں کے اشارے بتا رہے تھے کہ بابا جی واقعی "چریا "ہو چکے ہیں ۔
" اللہ کا حکم ہے کہ "ورکعو مع الراکعین " جھکنے والوں کے ساتھ جھکو ۔ " واقیمو الصلوة" نماز قائم کرو ۔ میں چریا ہوں ھاتھ کھول کر نماز پڑھنے والوں کے ساتھ کھول لیتا ہوں ، باندھنے والوں کے ساتھ باندھ لیتا ہوں ۔ اسلئے فرقوں میں بٹے لوگ " چریا " کہتے ہیں "
بابا جی نے توقف کے بعد پھر بولنا شروع کیا
" دل کی نہیں مانتا ہوں دماغ کی مانتا ہوں ۔ دماغ کیوجہ سے انسان اشرف المخلوقات ہے ، دل تمناوں اور خواہشات کو جنم دیتا ہے ۔ شیطان جلدی سے یہاں بس جاتا ہے ۔ سب خرابیاں دل کی ماننے سے ہوتی ہیں ۔ اسلئے چریا ہوں "
" میں دفتر میں افسر تھا ، میرے دفتر میں پیسے برستے تھے ۔ سب اکٹھے کرتے تھے ۔ میں بچ بچ کر گذرتا رہا ۔ سب کے بڑے بڑے گھر بن گئے ، میری کوٹھڑی ہی رہی ۔ سب کاروں میں دفتر آتے تھے ، میں سائیکل پہ ۔ سارے " چریا " کہتے تھے "
بابا جی کے چہرے کا اطمینان دیدنی تھا ۔ نوجوان الجھ گئے کہ کسے چھیڑ بیٹھے ہیں ۔
" بیٹا ! چریا بن جانے میں جو راحت ہے ، اگر تم لوگوں کو اسکا ذائقہ معلوم ہو جائے تو پھر کبھی خواہشات کی غلامی نہیں کرو گے ۔ جب لوگ مجھے چریا کہتے ہیں ،ایسے لگتا ہے کہ میری زندگی کی ریاضت قبول ہوگئی ۔ "
" اس پورے شہر میں کتنے چریا ہیں ؟ کوئی نہیں ۔ سب دانا ہیں ۔ سب نے دنیا کا مال اکٹھا کیا ۔ سب کا مال انکے کام آنے والا نہیں ۔ مگر اصل احمق یہی ہیں ، جن کو پتہ ہی نہیں کہ دنیا میں جو کمایا یہاں ہی رہ جائے گا ۔ کتنے اگلے گھر کی فکر میں ہیں ؟ اس پورے شہر میں ، صرف میں ایک " بابا چریا " ہوں ۔ ہے نا اعزاز کی بات "
بابا جی اٹھے اور مسکراتے ہوئے چل دئیے ۔ نوجوان بت بنے بابا چریا کو دیکھتے رہے ۔
آزاد ھاشمی
٢ اگست ٢٠١٨
رحمنٰ کی نعمتیں 2
" رحمٰن کی نعمتیں ( ٢ )"
سورہ الرحمٰن میں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انسانوں پر کی جانے والی دوسری نعمت کا ذکر فرمایا ہے ۔
" انسان کو پیدا کیا اور اسے اپنا ما فی الضمیر کہنے کا علم دیا ۔ اسے بات کرنا سکھایا "
انسان کی تخلیق اور اسے اشرف المخلوقات کے درجے پہ بٹھا دینا ، اللہ کا عظیم احسان ہے ۔ انسان کی تخلیق ایک مکمل ضابطہ تقویم پر کی ۔ وہ تمام خوبیاں ایک ساتھ دے دیں ، جو کسی بھی دوسری مخلوق کو ایک ساتھ نہیں دیں گئیں ۔ یہ احسان ہے کہ ہم انسان پیدا ہوئے ، اگر وہ ہمیں کسی بھی دوسری مخلوق میں پیدا کر دیتا تو یقینی طور پر ہم اشرف المخلوقات کی درجے سے محروم ہو جاتے ۔ پھر فرمایا کہ ہم پر ایک اور احسان فرمایا کہ ہمیں بولنا سکھایا ۔ بولنے سے مراد اگر آواز نکالنا ہے تو یہ خوبی ہر ذی روح میں ہے ۔ مگر ہمیں بیان کرنے ، اپنا مافی الضمیر کہنے اور اپنی بات کا مفہوم سمجھانے کی خوبی ملی ۔ اپنے جذبات و احساسات کو کہنے میں جو آسانی حضرت انسان کو نصیب ہوئی وہ کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں ہے ۔ کیا ہمارے فرائض میں شامل نہیں ہو جاتا کہ جس " رحمٰن " نے یہ احسان کیا ہے ، ہم اسکی حمد و ثناء کر کے اس کا شکر کریں ۔ ہم وہ کہیں جو، وہ ہم سے سننا چاہتا ہے ۔ اور جو سن کر وہ راضی ہوتا ہے ۔
مگر ہم نے اللہ کے اس احسان اور نعمت کو ، دوسروں کی تضحیک ، بد گوئی اور بدکلامی ، انسانوں کی دل آزاری اور انسانوں کو نقصان پہنچانے کیلئے استعمال کر کے ، اللہ کے احسان سے سرکشی کر رکھی ہے ۔
اگر ہم ایسی گفتگو کریں ، جو دوسروں کو خوشی نصیب کرے تو ہمارے اشرف المخلوقات ہونے کا حق بھی ادا ہو گا اور اللہ کے احسان کا شکر بھی ۔
آزاد ھاشمی
٢٩ جولائی ٢٠١٨
کونسے مفکر
" کونسے مفکر "
علم و دانش کی باتیں مستعار لینے کی ضرورت ان لوگوں کو پڑتی ھے ، جو از خود کوئ رہنما نہیں رکھتے یا پھر انکے رہنما سے بہتر کوئی دوسرا ھوتا ھے - صرف امت مسلمہ کو اعزاز حاصل ھے کہ انکی رھنمائ کیلیے اللہ تعالیٰ کے حبیب صل الله علیہ وسلم جیسے رہنما کی رہنمائی حاصل ھے . پھر وہ کونسی مجبوری ھے کہ ھمارے اکثر دانشور اپنی دانشوری کا رعب جمانے کیلیے ارسطو ، لینن ، سقراط ، ابراھم لنکن وغیرہ وغیرہ کے قول سناتے ھیں . یہ اصل میں دانش نہیں بے خبری کی انتہا ھے . مسلمان اگر قرآن پاک کو سمجھ لیتے ، اسوہ حسنہ کی پیروی میں لگ جاتے - تو وہ کونسی کمی باقی رہ جاتی ، جس کی تشنگی پوری کرنے کےلیے دوسرے مفکرین کو پڑھنا ضروری تھا . ھم نے گم گشتہ راہ کو اپنا رھبر مان کر اپنی منزل بھی کھو دی ، اور فکر کی بلندی بھی ھمارے ھا تھ سے نکل گئی . اب سینکڑوں فلسفیوں ، دانشوروں ، نظریاتی لیڈروں کی آراء اکٹھی کرتے پھرتے ھیں کہ شاید کوئی راستہ مل جاے .
اگر چند لمحے فکر کریں تو یہ سب نظریاتی کشمکش ہر دور میں تبدیلی اور تنزل کا شکار رہی ھے. اگر دوام ملے گا تو صرف الله کی راہ کو -
پھر کیوں نہ اپنی راہ کا تعین اسی پر کر لیں-
شکریہ
آزاد ھاشمی
2 اگست 2016
Monday, 30 July 2018
اصلی کاروبار
" اصلی کاروبار "
بابا جی کونے میں خاموش بیٹھے , آنکھوں میں آنسووں کا ایک سیلاب لئے ہوۓ تھے - میری دوستی کو کئی سال ہو گئے ہیں ان سے - میں نے کبھی اس طرح پریشانی میں انہیں نہیں دیکھا -
" کیا ہوا بابا جی "
میں نے از راہ ہمدردی پوچھا -
" نقصان ہو گیا بیٹا "
بابا جی کی بات سن کر میری ہنسی چھوٹنے والی تھی - ایک کڑاہی , ایک چولہا , تھوڑا سا تیل اور تھوڑا سا پکوڑوں کا سامان - کیا نقصان ھوا ہو گا - مگر میں نے ضبط کرنا ہی مناسب جانا -
" پوری زندگی کی محنت بے سود ہو گئی بیٹا - نہ جیب بھری نہ جھولی - کام دھندھے کا گر ہی سمجھ نہیں آیا -
محنت محنت محنت , سب بے سود - کاروبار سمجھ بھی آیا تو اس عمر میں , جب زندگی کی ناؤ نے ہچکولے کھانے شروع کر دیے ہیں "
بابا جی کی باتیں اکثر میرے سر سے گزر جاتی ہیں - آج بھی ایسا ہی تھا-
"اتنا اچھا کاروبار تھا , ایک لگاؤ ستر کماؤ - یہاں بھی وہاں بھی - نقصان کا فکر نہ غم - یار کسی نے بتایا ہی نہیں - پکوڑے بنانے میں ہی عمر گزار دی میں نے "
" آج کون مسیحا آ گیا آپ کے پاس "
میں نے از راہ مذاق پوچھا -
" وہ سامنے دیکھ رہے ہو "
بابا جی نے سامنے بیٹھے خستہ حال فقیر کی طرف اشارہ کیا -
" ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ میرے پاس آیا - بھوکا تھا , میں نے اپنی روٹی دے دی - کہنے لگا - یار بانٹ کے کھانے میں برکت بھی ہے مزہ بھی - تھوڑی خود کھائی , تھوڑی مجھے دی , تھوڑی پرندوں کو ڈال دی - جاتے ہوۓ کہنے لگا - کاروبار کرو تو الله سے , اسکے نام پہ دو اور بے فکر ہو جاؤ - ستر گنا کا وعدہ ہے , بے شمار دینا اس کی شان ہے - دنیا چاہو دنیا لے لو , آخرت چاہو آخرت کا سودا کر لو "
جب سے میری سمجھ میں نہیں آ رہا , گیا وقت کیسے واپس لاؤں - میں نے تو منافع والا سودا ہی نہیں کیا "
"میں تو یہی سمجھتا رہا , یہی میرا نصیب ہے - اور اسی پہ زندگی بھر قناعت کیے رہا - ارے بیٹا ! آج پتہ چلا نصیب کیسے بدلا جاتا ہے - خود بھی الله کے ہو جاؤ اور جو کچھ پاس ہے وہ بھی الله کی رضا پہ دے ڈالو - بس نصیب آپ کے ہاتھ میں - مانگتے جاؤ وہ دیتا جایگا "
" پریشان ہوں اتنی دیر کیوں ہو گئی "
یہ کہتے ہی بابا جی نے زار و قطار رونا شروع کر دیا -
شکریہ
آزاد ہاشمی
30 جولائی 2016
صرف ایک راستہ
" صرف ایک راستہ "
اسوقت جو سیاسی ناکامی کا سامنا مذہبی اتحاد والی جماعتوں کو ہے ، شاید کسی دوسری پارٹی کو نہیں ۔ جماعت اسلامی بالخصوص اس نہج پہ آگئی ہے جہاں اسکی ساری عزت اور توقیر بھی داو پہ لگ گئی ہے ۔ جس جماعت کے امیر کیلئے ہمیشہ عزت اور احترام ہی رہا ، اب اسکے امیر کو " امیر المنافقین " جیسے القاب ملنے لگے ہیں ۔ ان مذہبی جماعتوں کے اکابرین کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ لوگ اس حد تک کیوں پہنچ گئے ہیں ۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ انکے پاس کوئی ایسا پیغام ہی نہیں ، جو مذہبی ذہن رکھنے والی عوام کی دلچسپی کا باعث ہو ۔ جمہوریت کا راگ تو سب ہی الاپتے ہیں ۔ وہ مذہبی جبہ پہن کر الاپا جائے یا انگریزی لباس پہن کر ، بات ایک ہی ہے ۔ سیٹوں کی حرص میں ہر جائز ناجائز میں کود جانے کی عادت میں انکی پارسائی داغدار ہو گئی ہے ۔ جمہوریت اور اسلام دو متضاد نظریات ہیں ۔ یہ مذہبی سیاستدان پوری تعدی سے دونوں کو جوڑنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ۔ کبھی اقبال کے اشعار سے اور کبھی خلفاء کے طرز سے ثابت کرنے کی بے سود سعی میں لگے رہتے ہیں ۔ عوام اس پر یقین کر چکی ہے کہ یہ لوگ اسلام کے نام پر دھوکہ دہی کر رہے ہیں ۔ اندر سے صرف اقتدار پرست ہیں ۔ اسلام اور اسلامی نظام سے انکا کوئی لینا دینا نہیں ۔ اس خیال کو یوں بھی تقویت ملتی ہے کہ اسمبلیوں میں بیٹھ کر اسلام کیلئے نہ کوئی بل لائے اور نہ کوئی آواز بلند کی ۔ عوام بھی بد دل ہوگئی اور اللہ سبحانہ تعالیٰ بھی راضی نہیں ۔
اب صرف ایک راستہ باقی بچا ہے کہ یہ جمہوریت کی کشتی سے نیچے اتر آئیں ۔ قوم کو اس طرف بلائیں کہ پہلے یہ فیصلہ ہو جائے کہ قوم اسلامی نظام چاہتی ہے یا جمہوریت ؟ اسکے لئے آئیندہ انتخابات سے پہلے ریفرنڈم کروا لیا جائے ۔
" جمہوریت یا نظام اسلام "
اور اگلی حکومت اسی ریفرنڈم کے حوالے سے بنانے پر حتمی رائے قائم کر لی جائے ۔
مجھے یقین واثق ہے کہ عوام کی اکثریت " اسلامی نظام " کے حق میں ہوگی ۔ پھر جو اسلام کی شرائط پہ پورا اترے گا ، وہ سربراہ مملکت بن جائے گا ۔ نہ انتخابات کا جھنجھٹ ، نہ ملکی وسائل کا ضیاع ، نہ قومی وحدت پر خدشات ۔
یہی آخری راستہ باقی بچا ہے ، جو پاکستان کا اساسی نظریہ بھی پورا کرے گا اور اسلام کیطرف عائد ذمہ داریاں بھی ۔ یہ شکایت بھی باقی نہیں رہے گی کہ " خلائی مخلوق " یا " غیبی ہاتھ " حکومت سازی کرتے ہیں ۔ موجودہ بے ہنگم سیاسی رحجان میں
" خلائی مخلوق " کے کردار کی اشد ضرورت ہے ۔ کیونکہ ہر طرف کرسی پر یلغار ہے ۔ ملک لوٹنے کا اس سے بہتر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔ جس وجہ سے ہر حریص ، اخلاقی ، قانونی حدود سے تجاوز کو اپنا حق سمجھتا ہے ۔ چور کو اکثریت کی " آشیر باد " مل جاتی ہے ، وہ ایماندار بن بیٹھتا ہے ۔ ملک روز بروز پستی کیطرف بڑھ رہا ہے ۔ قرضے لئے جاتے ہیں اور قومی وسائل پر توجہ نہیں دی جاتی ۔ ملکی وسائل ، ٹیکس اور دیگر آمدن حکمرانوں کی عیاشیوں کی نظر ہو جاتے ہیں ۔ غیر ملکی کمپنیوں کو کک بیک لیکر ٹھیکے دے دئیے جاتے ہیں ۔ گویا ملک کو ہر طرف سے نوچا جاتا ہے ۔ کوئی طاقت نہیں جو اسے روک سکے ۔ صرف اسلامی نظام ہے جو اس لوٹ مار کے سامنے رکاوٹ ہے ۔ قوم کو یہ اگاہی دینے کا کام ان مذہبی سیاستدانوں کا تھا ۔ جو وہ کر بھی نہیں سکے ، کرنا بھی نہیں چاہتے اور کرنے کی کوشش سے بھی گریزاں ہیں ۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ لوگوں نے اٹھا کر اسمبلیوں سے باہر پھینک دیا ۔
آزاد ھاشمی
٣٠ جولائی ٢٠١٨
Sunday, 29 July 2018
رحمٰن کی نعمتیں 1
" رحمٰن کی نعمتیں( ١ )"
سورہ الرحمٰن میں اللہ تعالیٰ نے جس پہلی رحمت کا ذکر فرمایا ہے ۔ وہ
" علم القرآن " ہے ۔ مشرکین مکہ اپنے اپنے اپنے بتوں سے کچھ مخصوص خوبیاں جوڑے بیٹھے تھے ۔ جن میں " علم و شعور " دینے کا کوئی بھی بت موجود نہیں تھا ۔ علم و آگہی انسان کی اولین ضرورت ہوتی ہے ، یہی وہ خوبی ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کرتی ہے ۔ اس وصف کو سب سے پہلے بیان کرتے ہوئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایا
" وہی ہے رحمٰن ہے جس نے قرآن کی تعلیم دی ، قرآن سکھایا "
قرآن کی تعلیم اولین نعمت ہے ، جسے آج ہم مسلمان بھلائے بیٹھے ہیں ۔ تعلیم رموز تحریر کو جاننے اور سمجھنے کا نام ہے ۔ پڑھ لینا ، دہرا لینا ، یاد کر لینا تعلیم کیطرف اٹھنے والے اقدام ہیں ، تعلیم نہیں ۔ اللہ کا یہ احسان کہ ہمیں قرآن عطا ہوا ، ہماری سرکشی ، حماقت اور نادانی کہ ہم نے اس نعمت سے استفادہ نہیں کیا ۔
آزاد ھاشمی
٢٥ جولائی ٢٠١٨
عمل کی ضرورت ہے
" عمل کی ضرورت "
جن دوستوں کے امیدوار شکست سے دوچار ہوئے ہیں ، ان سے ہمدردی ہے ۔ اور جو سیاسی قائدین اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اقتدار کی کرسی پر نہیں بیٹھ سکے ، وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ اللہ نے انہیں مزید برائیوں سے محفوظ کر دیا ۔ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جانے سے بیشمار امتحان در پیش ہوتے ہیں ۔ بیشمار حق تلفیاں کرنی پڑتی ہیں ، ان گنت جھوٹ بولنے پڑتے ہیں ، کئی فرائض حقیقی ، فرائض منصبی کے نیچے دب جاتے ہیں ۔ غرور اور تکبر کا غلبہ ہو جاتا ہے ۔ اقتدار کانٹوں کا بستر ہے اگر اسکی ذمہ داریاں نبھآئی جائیں ۔ اللہ سے توبہ بھی کریں کہ آخر اللہ نے ان سے اقتدار چھین کر دوسروں کے حوالے کیوں کیا ۔ آخر کوئی تو ایسی وجہ تھی کہ جس رب نے سالہا سال اقتدار کا تاج انکے سروں پر رکھا تھا ، اچانک اٹھا کر دوسروں کے سر پہ کیوں رکھ دیا ۔ وقت ہے ، توبہ قبول ہو گئی تو شاید پھر موقع مل جائے ۔ احتجاج کیا تو شاید رسوائی میں اضافہ ہو جائے ۔ مذہبی جماعتوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ انہوں نے قوم کی جیسی تربیت کی ، ویسے نتائج مل گئے ۔ جز بز ہونے کی ضرورت نہیں کہ "جھرلو " پھر گیا ۔ جمہوریت کا حسن ہی " جھرلو " ہے ۔
جو جیت گئے ، ان سے بھی ہمدردی ہے کہ اللہ نے کڑا امتحان انکے کندھوں پر رکھ دیا ہے ۔ نبھا گئے تو فلاح ، نہ نبھا سکے تو رسوائی ۔ غور کریں کہ جو وعدے کر کے لوگوں کے ذہن قائل کئے تھے ، وہ وعدے پورے نہ ہوئے تو " بد عہدی " کا ارتکاب ہو گا ۔ اور بد عہدی اللہ تعالیٰ کے قہر کو بلاتی ہے ۔
وطن کی ضرورت ہے کہ ہارنے اور جیتنے والے ہم آہنگی کی فضا قائم کریں ۔ کارکن ، حوش و ہواس میں آ جائیں اور مثبت گفتگو کا آغاز کریں ۔ فساد کسی کے حق میں نہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٦ جولائی ٢٠١٨