Sunday, 29 July 2018

کیا یہ جھوٹ ہے؟

" کیا یہ جھوٹ ہے ؟"
کچھ محقق اس بات پر جز بز ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن ، سراج الحق کے بارے میں یہ کہنا جھوٹ ہے کہ انہوں نے مذہب کی آڑ میں سیاست کی ہے ۔ اور صرف مفادات کی سیاست کرتے رہے ہیں ۔ یہ جھوٹ ہو سکتا تھا ، غلط فہمی کا امکان باقی تھا ، اگر یہ بات میں یا میرے جیسا کوئی دوسرا شخص اپنے رائے پر کرتا ۔ یہ مولانا فضل الرحمٰن نے میڈیا کے سامنے ، پریس کانفرنس کے دوران ، سراج الحق ، لیاقت بلوچ اور ان مذہبی جماعتوں کے قائدین کی موجودگی میں کہیں جو متحدہ مجلس عمل کا حصہ تھے ۔ کسی نے اعتراض نہیں کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی ذاتی رائے ہے ۔ مولانا نے فرمایا
ہم نے ہمیشہ جمہوریت کیلئے قربانیاں دی ہیں اور بہت مشکل سے جمہوریت کو پٹڑی پر لائے ہیں ۔ اب کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ جمہوریت کو ڈی ریل کرے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ موجودہ انتخابات کے تحت آنے والی حکومت نہیں چلنے دیں گے ۔
انکی سیاسی بصیرت کا دیوالیہ پن   ہے کہ وہ اعتراض کر رہے ہیں ، جسکا تعلق جیتنے والی پارٹی سے ہے ہی نہیں  -  یہ اعتراض نگران حکومت ، الیکشن کمیشن اور جمہوری سسٹم کے ناقص ہونے پر ہے ۔ انہوں نے فوج کے انتظامی امور پر شکریہ کی بجائے ، شکایت ظاہر کی ، جو وطن دشمن لوگوں کی روایت ہوا کرتی ہے ۔ خیر انکے اعتراضات  میں کتنی صداقت ہے اور کتنی مبالغہ آرائی یہ ایک الگ بحث ہے ۔
اصل سوال یہ ہے کہ مذہب کا لبادے میں جمہوریت کی آبیاری کا اقرار درست ہے یا جھوٹ ؟ مولانا اور دیگر مولاناوں کے حواری اس سے انکار تو نہیں کر سکتے کہ اسلام اسلام کی رٹ لگانے والے ، دراصل شروع ہی سے جمہوریت کے ساتھ تھے ۔ یہ صرف قوم کو دھوکہ دے رکھا تھا ۔ سوال یہ ہے کہ اس کردار کے شخص پر یقین کر لینا چاہئیے کہ وہ سچ کہہ رہا ہوگا ، جو قوم کو اسلام کی جبے میں بیٹھ کر یہودی کے نظام کیلئے قربانی دیتا رہا ۔ کیا یہ جھوٹ ہے کہ کئی بار منتخب ہو کر آنے والے اس ملا نے قوم کے مفاد کیلئے کچھ نہیں کیا ۔ کیا اس کردار کے شخص کو قانون سازی میں ہونا چاہئیے ، جو فوج کے خلاف اور حکومتی اداروں کے خلاف اتنی نفرت رکھتا ہو ۔ کیا یہ جھوٹ ہے کہ اگر انتخابات کالعدم ہوتے ہیں تو قوم کو مزید پانچ سو ارب کا چونا لگے گا ۔ کیا مقروض قوم اس پوزیشن میں ہے کہ چند مولویوں کی ہٹ دھرمی پر یہ بوجھ اٹھا لے ۔ کیا یہ جھوٹ ہے کہ یہ قوم کے ٹیکس سے جائے گا ۔ جس میں اس ملا نے چند ہزار ٹیکس دیا ہوگا ۔
اگر سچ ہے تو اس جیسی بیماریوں کا علاج بہت ضروری ہے ۔
آزاد ھاشمی
٢٩ جولائی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment