Thursday, 2 August 2018

لیاقت بلوچ کے نام

" محترم لیاقت بلوچ کے نام "
اللہ آپ کو بخیر و عافیت رکھے ۔ آپ نے سوشل میڈیا پہ لکھا ہے ۔
"انتخابات 2018ء ختم ہوگئے۔بہت ہی تلخ اور جانبدار انتخابات کا نیا باب تحریر ہوگیا۔جمہوری قوتوں اور قیادت کو آئین،جمہوریت اور شفاف و غیر جانبدارانہ انتخابات کے لیے ابھی طویل جدوجہد کرنا ہے۔داغدار جمہوریت کی بجائے باوقار جمہوریت کے لیے جمہوری قیادت اپنے آپکو اہل بنائے۔(لیاقت بلوچ )
اگر آپ غور فرمائیں تو پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ جس اسلامی نظام کی بات کرتے رہے ۔ جس نظام کیلئے آپ نے کارکنوں کی تربیت کے قصیدے سنائے ۔ جس نظام کے نام پر آپ چندہ اکٹھا کرتے ہیں ۔ جس نظام کیلئے آپ تربیتی اجلاس بلاتے رہتے ہیں ۔ جس نظام کی بناء پر آپ " جماعت اسلامی " کہلاتے ہیں ۔ اسکا کیا ہوا؟ عوام سے دہوکہ کیا تھا یا جمہوریت سے چال چلی تھی ؟ دونوں صورتوں میں ظاہر اور باطن مختلف نہیں ؟ جب ظاہر اور باطن مختلف ہوں تو اسے منافقت کہا جاتا ہے ۔
خیر اب تو آپ جمہوریت کی گود میں کلی طور پر بیٹھ گئے ہیں ۔ کیا اب بھی آپ کی جماعت کا نام " جماعت اسلامی " ہی رہے گا یا " جماعت جمہوری " ہو جائے گا ۔ محترم ! آپ کا دعویٰ قطعی جھوٹ پر مبنی ہے کہ آپ لوگ منظم ہیں ۔ آپ کو اور جماعت کے اکابرین کے پاس نہ کوئی " سٹیٹرجی " ہے اور نہ کوئی " سلوگن " کہ لوگ آپ کو ووٹ دیں ۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ جو رسوائی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے ۔ وہ اللہ کی پکڑ ہے ۔ کیونکہ آپ نے طویل عرصے سے اسلام کے نام پر سیاست کی ۔ اب کھل کر جمہوریت سے جڑ گئے ۔ رسوائی نہیں ملے گی تو کیا شاباشی ملے گی ؟ غور کریں کہ پہلے لوگ جماعت کے اکابرین کا عزت اور احترام سے نام لیتے تھے ۔ اب لوگ آپ کے امیر کو کیا کہہ رہے ہیں ۔ معلوم ہے یا نہیں ؟
خدا را توبہ کریں ۔ جمہوریت نہ ہمارا نظام تھا اور نہ ہو گا ۔ اسلام کی بات کریں ۔ اور اس پر اپنی " سٹیٹرجی " بنائیں ۔ نہیں تو " انڈے اور ٹماٹر " بھی نصیب میں لکھے جانے والے ہیں ۔
معذرت چاہتا ہوں کچھ الفاظ سخت ہوگئے ۔ یہ اس امید کے ٹوٹنے پر کہ اب کوئی ایک ایسا نہیں رہا جو اسلامی نظام کی بات کرے ۔
آزاد ھاشمی
٣١ جولائی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment