Sunday, 29 July 2018

خلائی مخلوق اور عوام

" خلائی مخلوق اور عوام "
شور ہے کہ انتخابات ووٹوں کیوجہ سے نہیں ہارے ، یہ شور کرنے میں صف اول میں متحدہ مجلس عمل ، مسلم لیگ ن ، عوامی نیشنل پارٹی ، محمود اچکزئی ہیں ۔ پورے انتخابات کے دوران ، پیپلز پارٹی واحد وہ سیاسی لوگ تھے ، جن کے لوگوں نے صحیح سیاسی سوجھ بوجھ سے اپنی کمپین چلائی ۔ سوشل میڈیا پر نہ تو بازاری لب و لہجہ اختیار کیا ، نہ بڑی بڑی ڈینگیں ماریں ۔ جو ہوتا رہا قوم دیکھتی رہی - معاشرے کے شرفاء بازاری لوگوں سے ٹکرانے سے ہمیشہ گریزاں رہتے ہیں ۔ اسلئے وہ صرف تماشا دیکھتے رہے ۔ رائے عامہ تبدیل ہوتی رہی ۔ عمران خان کی جیت کے پیچھے جو بھی عوامل ہیں ، قطع نظر وہ کیا ہیں ۔ یہ حقیقت ہے ان میں ایک وجہ پرانے تمام سیاستدانوں کے کردار سے بیزاری بھی ہے ۔ لوگ بیزار آگئے جھوٹ سنتے سنتے ۔ لوگ تھک گئے برائی کا ساتھ دیتے دیتے ۔ لوگوں کو نفرت ہوگئی مساجد کے منبروں پر سیاست کرنے والوں سے ۔ انہوں نے ایک " کاو بوائے " ایک " آزاد خیال " اور ایک " ضدی " شخص کو آزمانے کا فیصلہ کر لیا ۔ اب یہ شکست خوردہ ، عقل اور شعور کے دشمن نظر آ رہے ہیں ۔ لوگوں کے دلوں سے وہ عزت و احترام بھی نکالنے پر تلے بیٹھے ہیں ، جس کی بناء پر چند کرسیاں مل گئی ہیں ۔ یہ کہتے ہیں کہ انہیں " خلائی مخلوق " نے شکست دی ۔ یہ سچ ہے کہ جب تک اللہ رسوا نہ کرے کوئی انسان رسوا نہیں کر سکتا ۔ انکی شکست کے پیچھے یقینی طور پر " خلائی مخلوق " ہی ہے ۔  بلکہ " خدائی مخلوق " ہے ۔ اب توبہ کا وقت ہے ۔ مگر رعونت کی انتہا ہے کہ سبق سیکھنے کی بجائے سبق سکھانے کا اعلان کیا جا رہا ہے ۔
جب اللہ کیطرف کرسی کھینچ لی جائے تو دنیا کی کوئی طاقت کرسی پر بٹھا نہیں سکتی ۔ یہ کرسی اللہ نے تم لوگوں کے کردار کے باعث چھینی ہے ۔ کسی عمران میں یہ جرات نہیں تھی ۔
آزاد ھاشمی
٢٨ جولائی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment