Thursday, 2 August 2018

جماعت اسلامی کے اصل دشمن

"جماعت اسلامی کے اصل دشمن "
کہتے ہیں کہ بیوقوف  دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے ۔ کسی بھی جماعت کا اصل سرمایہ اسکے عقل و شعور والے کارکن ہوتے ہیں ، بھلے چند ہوں مگر " اوپر والی منزل " سے خالی نہ ہوں ۔ کسی کی تہذیب جاننے کیلئے اسکا اخلاق ، اسکی زبان ، اسکا لہجہ اور الفاظ کی ادئیگی بہت اہم ہے ۔ جماعت کے کارکنوں کا ایک وقار ہوا کرتا تھا ، تحمل سے بات کرنا اور دلیل سے جواب دینا ، ان لوگوں کا احسن قرینہ تھا ۔ مگر اب اگر کوئی جماعت پر تنقید لکھ بیٹھے تو جو بیہودگی جماعت کے کارکن کرتے ہیں ، دوسری ساری پارٹیاں ان سے بہت دور نظر آتی ہیں ۔ جماعت پچھلے ستر سال سے ایک ہی بات کر رہی تھی کہ ہم اسلام کے نظام کیلِئے جمہوریت کی سیڑھی اٹھائے پھر رہے ہیں ۔ اب اسلام کے نظام کی بات بعد میں ہوتی ہے اور جمہوریت کی پہلے ۔ اپنے نظرئیے سے فرار کیلئے ، ان لوگوں  نے کہاں کہاں اور کس کس سے اتحاد نہی کیا؟ کیا یہ سچ نہیں کہ اس انتخاب پر جماعت کے بہت سارے کارکن قائدین کے فیصلوں پر معترض بھی ہوئے اور جماعت میں یہ تاثر بھی جنم لے چکا ہے کہ بہت ساری سیٹوں پر ہارنے کا سبب ، کارکن تھے ۔ یہ تاثر جماعت کے لوگ دے رہے ہیں ۔ جماعت کے پاس اب دلیل نہیں ہوتی ، مگر ایک ہی بات کہے جاتے ہیں کہ جمہوریت کے بغیر اسلام کیسے آئے گا ۔ جمہوریت میں انہیں اقتدار کی امید اسلئے ہے کہ ایک روز اللہ انکی مدد کو لشکر بھیجے گا ۔ اللہ کے دین کے متبادل نظام کی آبیاری اور اللہ سے امید ۔ جماعت کے اصل دشمن انکے منصوبہ ساز اور بد اخلاق کارکن ہیں ۔ اپنے نظرئیے سے ہٹنے کے سبب کتنے زیرک لوگ ان سے الگ ہوئے ۔ مگر مجال ہے ، انکی شوریٰ متحرک ہوئی ہو ۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی ملک سے کھلواڑ کرے گی تو اس پر ہر شہری کو تنقید کا حق ہے ۔ اور اگر کوئی جماعت مذہب کے نام پر چندے لے گی اور جمہوریت پر خرچ کرے گی تو اس پر اعتراض کیوں نہ کیا جائے ؟ اعتراضات اصلاح کا باعث ہوتے ہیں مگر جماعت کے لوگ بد کلامی پر گھنٹوں خرچ کریں گے ، عقل سے دو لمحے بھی نہیں سوچیں گے ۔ یہ وہ اسباب ہیں جو جماعت کے دشمنوں میں اضافہ کرتے ہیں ۔ آپ خلوص سے لکھیں گے اور بیہودگی سے جواب ملے گا تو آپ کا رد عمل کبھی مثبت نہیں ہو گا ۔ اگر یہی حال رہا تو اگلے انتخاب پہ " انڈے اور ٹماٹر " سے سواگت ہونے لگے گا ۔
آزاد ھاشمی
یکم اگست ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment