" عمل کی ضرورت "
جن دوستوں کے امیدوار شکست سے دوچار ہوئے ہیں ، ان سے ہمدردی ہے ۔ اور جو سیاسی قائدین اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اقتدار کی کرسی پر نہیں بیٹھ سکے ، وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ اللہ نے انہیں مزید برائیوں سے محفوظ کر دیا ۔ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جانے سے بیشمار امتحان در پیش ہوتے ہیں ۔ بیشمار حق تلفیاں کرنی پڑتی ہیں ، ان گنت جھوٹ بولنے پڑتے ہیں ، کئی فرائض حقیقی ، فرائض منصبی کے نیچے دب جاتے ہیں ۔ غرور اور تکبر کا غلبہ ہو جاتا ہے ۔ اقتدار کانٹوں کا بستر ہے اگر اسکی ذمہ داریاں نبھآئی جائیں ۔ اللہ سے توبہ بھی کریں کہ آخر اللہ نے ان سے اقتدار چھین کر دوسروں کے حوالے کیوں کیا ۔ آخر کوئی تو ایسی وجہ تھی کہ جس رب نے سالہا سال اقتدار کا تاج انکے سروں پر رکھا تھا ، اچانک اٹھا کر دوسروں کے سر پہ کیوں رکھ دیا ۔ وقت ہے ، توبہ قبول ہو گئی تو شاید پھر موقع مل جائے ۔ احتجاج کیا تو شاید رسوائی میں اضافہ ہو جائے ۔ مذہبی جماعتوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ انہوں نے قوم کی جیسی تربیت کی ، ویسے نتائج مل گئے ۔ جز بز ہونے کی ضرورت نہیں کہ "جھرلو " پھر گیا ۔ جمہوریت کا حسن ہی " جھرلو " ہے ۔
جو جیت گئے ، ان سے بھی ہمدردی ہے کہ اللہ نے کڑا امتحان انکے کندھوں پر رکھ دیا ہے ۔ نبھا گئے تو فلاح ، نہ نبھا سکے تو رسوائی ۔ غور کریں کہ جو وعدے کر کے لوگوں کے ذہن قائل کئے تھے ، وہ وعدے پورے نہ ہوئے تو " بد عہدی " کا ارتکاب ہو گا ۔ اور بد عہدی اللہ تعالیٰ کے قہر کو بلاتی ہے ۔
وطن کی ضرورت ہے کہ ہارنے اور جیتنے والے ہم آہنگی کی فضا قائم کریں ۔ کارکن ، حوش و ہواس میں آ جائیں اور مثبت گفتگو کا آغاز کریں ۔ فساد کسی کے حق میں نہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٦ جولائی ٢٠١٨
Sunday, 29 July 2018
عمل کی ضرورت ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment