Saturday, 6 January 2018

قران , واضع دستور

" قران , واضع دستور "
بنی اسرائیل کو اللہ تعالی نے کئی انعامات سے نوازا , ان گنت احسانات کئے , فرعون جیسے جابر حکمران سے بچانے کیلئے حضرت موسی علیہ السلام کو رسالت دی . مگر وہ اپنی لغزشوں اور چالبازیوں پر قائم رہے . قران پاک میں بہت استدلال کے ساتھ انکی فطری ہٹ دھرمی کا ذکر کیا گیا . وہ اللہ کے آئین , دستور , احکامات اور راستے پر چلنے کی بجائے اپنی اختراعات کرتے رہے . آج وہ سب , جو بنی اسرائیل کرنے پہ بضد تھے , وہ سب ہم کر رہے ہیں . بنی اسرائیل کے مذہنی قائدین نے جسطرح اپنی عقل کے تابع دین بنا لیا . اور امت کو سمجھ ہی نہیں آنے دی کہ احکامات ربی کیا تھے . کچھ ایسا ہی ہمارے ساتھ ہوا . ہمیں سمجھ ہی نہیں آنے دیا جا رہا کہ قران کی تعلیم کیا ہے . معاشی اور معاشرتی قواعد و ضوابط کیا ہیں . آخر اس عظیم کتاب میں کون کونسے علوم ہیں , جن سے ہم استفادہ کر سکتے ہیں . ہمیں اس سے زیادہ کوئی خبر ہی نہیں کہ قران میں ایک ایک لفظ کو پڑھنے کی کتنی نیکیاں ہیں . قران ہدایت کی کتاب تھی جس کا پورا استفادہ اس دنیا میں کرنا تھا , ہم نے اسے جنت تک پہنچنے کے پیغام کے علاوہ کچھ سمجھا ہی نہیں . ہمارے مذہبی قائدین نے بھی اسے مشکل اور نہ سمجھ آنے والی کتاب بنا کر , کتابوں پہ کتابیں لکھ ڈالیں . اللہ کے پیغام کو اپنی اپنی سوچ کے مطابق ڈھال لیا . جب ابہام مکمل طور پر قائم کر لیا تو انسانی دماغ کے مطابق اپنے اپنے دستور , اپنے اپنے عقائد اور اپنے اپنے فقہ کو لاگو کرنے لگے . آج ہم ایک ایسی بھول بھلیوں میں پھنس گئے ہیں کہ اپنے مرکز تک پہنچنے کی راہ ہی نظر نہیں آ رہی . کبھی سوشلزم , کبھی کیمونزم , کبھی فسطائیت اور کبھی جمہوریت کے پیچھے دوڑ لگائے بیٹھے ہیں . یہ باور کرایا جاتا ہے کہ سوشلزم والے , کیمونزم والے اور جمہوریت والے ہی صحیح راستے پر ہیں اسی سبب تمام ترقی کر رہے ہیں . گویا اسلام والے بن کر ترقی کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں . قران کی ایک ایک آیت , رب کی کوئی نہ کوئی نشانی ہے . کوئی نہ کوئی زندگی کی راہ ہے . سبق ہے , ہدایت ہے , دستور کی کوئی نہ کوئی شق ہے . اسطرف تحقیق کی ضرورت تھی , جو ہم نے چھوڑ دی اور اس تحقیق میں لگ گئے کہ اپنے اپنے فلسفے کو کیسے معتبر ثابت کرنا ہے . مجھے اور آپکو توجہ کرنا ہو گی . قران کو بار بار فکر کے ساتھ پڑھنا ہو گا . اسکے دستوری قواعد کو سمجھنا ہو گا . یہ فرض ہے , یہ عبادت ہے اور یہ جہاد ہے .
ازاد ھاشمی

مصلحت اور ایمان

" مصلحت اور ایمان "
اللہ پاک نے جتنے بھی انبیاء مبعوث فرمائے , سب کا ایک ہی مدعا تھا کہ اسوقت کے انسانوں کو ظلمت , گمراہی اور برائی سے نکال کر فلاح کی طرف لایا جائے . تمام انبیاء کی  ایک مخصوص ذمہ داری تھی . انبیاء کا عمومی ٹکراو مقتدر قوتوں سے رہا ہے . اکثریت ہدایت سے نا بلد ہوتی تھی . کوئی بھی نبی یا رسول ایسا نہیں گذرا جسے شدت کے ساتھ روکنے کی کوشش نہیں ہوئی . تاریخی حوالہ جات میں بالکل عیاں ہے کہ انبیاء نے ہدایت کو پھیلانے اور گمراہی کو روکنے میں کبھی مصلحت کا راستہ منتخب نہیں کیا .
اللہ کے حبیب صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چونکہ پوری کائنات کی اصلاح کی ذمہ داری سونپی گئی جو لا محدود وقت کیلئے ہے . اسلئے ایمان کی پختگی پر زیادہ توجہ دی گئی . ایسی بلیغ و مبین تعلیم دی گئی , قران پاک میں ایک ایک بات کو کھول کھول کر واضع کیا گیا کہ کوئی سوال باقی نہ رہ جائے . آپ کی تمام زندگی , تمام تعلیمات , تمام اسوہ حسنہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ آپ (ص)  نے ایمان پر قائم رہنے کو مصلحت پر ترجیح دی . ہم نے ایمان چھوڑ دیا اور ہر معاملے میں مصلحت کا سہارا ڈھونڈھنے لگے . اللہ کی ذات پر سے یقین اٹھا لیا اور دنیا کے خداوں کو ماننا شروع کر دیا . اللہ کی طاقت کو فراموش کر دیا اور دنیا کے فرعونوں کے سامنے گٹنے ٹیک دئیے . اگر ہم ایمان سے جڑے رہتے تو آج جس رسوائی سے دوچار ہیں , کبھی نہ ہوتے . ایمان اور مصلحت دو متضاد راستے ہیں , مگر ہم سوچے بیٹھے ہیں , کہ کہیں نہ کہیں ایک ہو جائیں گے . حتی کہ ہمارے علماء بھی مصلحت خیز ہو گئے . دین سے ہٹ کے فیصلوں پر فتوے دینے لگے . جسکی بد ترین مثال جمہوریت کی چھتری تلے اکٹھا ہونا ہے . یہ  بھی اقتدار حاصل کرنے کیلئے مصلحت کا راستہ ہے .
ازاد ھاشمی

Friday, 5 January 2018

نماز کا اہتمام

" نماز کا اہتمام "
کائنات میں واحد حاکم  , اللہ کی ذات ہے , جس کی حاکمیت کا دائرہ لا محدود ہے . جو شجر و حجر کا بھی حاکم ہے , آسمان کی وسعت اور سمندروں کی گہرائی پر بھی حاکم ہے . کائنات کا پورا نظام اسکے حکم کے تابع تھا , تابع ہے اور رہے گا . نماز اصل میں اس حاکم مطلق کے ہاں پیش ہونے کا عمل ہے . اسکی ذات کی عظمت ہے کہ ہمیں ہر حال میں اپنے سامنے قبول فرما لیتا ہے . حالانکہ دنیا کے چھوٹے سے چھوٹے حکمران بھی اپنے سامنے پیش ہونے والے سے مخصوص آداب کا تقاضا کرتے ہیں . ایک جج بھی عدالت کے احترام کے اصول مانگتا ہے کہ کیسے پیش ہوا جائے . ایک معمولی افسر بھی اپنی تعظیم کا پابند کرتا ہے . ہم سب کا خیال رکھتے ہیں . مگر اللہ کے ہاں پیش ہوتے وقت اہتمام پر فکر مند نہیں ہوتے . کیا خوب ہو کہ جب ہم اسکے ہاں حاضر ہونے کا قصد کریں تو اسکی شان کے مطابق اہتمام بھی کریں . وضو میں انہماک ہو , طہارت کا حتمی خیال رکھیں , لباس میں خصوصیت ہو کہ دیکھنے والا سمجھ جائے کہ ہم اللہ کی پاک ذات کے سامنے , رکوع و سجود کیلئے جا رہے ہوں . دل میں اللہ کی محبت اور حواس پہ اسکا خوف طاری ہو . جب پیش ہو جائیں تو دل اور دماغ کی پوری رغبت ہو . دنیا کی خواہشات غالب نہ ہوں . یہ وہ رکوع ہو گا , وہ قیام ہو گا اور وہ سجدہ ہو گا . جو قبولیت پائے گا . اگر ایک سجدہ بھی ایسا ہو جائے تو جنت بھی ملے گی اور اللہ کی رضا بھی . ایسی نماز کا اہتمام کرنے کی ہر ممکن کوشش ہماری فلاح ہے . جلدی جلدی کا وضو , رکوع و سجود اللہ کی شان کے مطابق نہیں. ازاد ھاشمی

کربلا والوں کی عبادت

" کربلا والوں کی عبادت "
اللہ کی عبادت ایک انعام ہے , جو ایک بندے کے دل کو دنیا کی چکا چوند کے باوجود اپنے خالق و مالک کیطرف راغب کئے رکھتا ہے . عبادت , چند سجدوں یا چند تسبیحات کا ہی نام نہیں . بلکہ اللہ کی عبدیت کا ہر عمل سے اظہار عبادت ہے . اللہ نے جس جس برائی سے روکا , ہر اس برائی سے اسلئے رک جانا کہ اللہ کا حکم ہے , عبدیت کا عملی اظہار ہے . یہ عبادت ہے . ہر اس عمل کیلئے تن , من , دھن  , تمام وسائل اور تمام تر استطاعت کے ساتھ ہمہ وقت تیار رہنا , جو اللہ کو پسند ہو . یہ عبادت ہے .
عبادت کا اصلی روپ , کربلا میں امام حسین علیہ السلام نے اور آپ کے تمام ساتھیوں نے جس طرح دکھایا . وہ چشم افلاک نے نہ کبھی پہلے دیکھا نہ بعد میں کبھی دکھائی دے گا . زندگی کی تمام ضروریات کو روک لیا گیا , صرف اسلئے کہ ایک جابر , اقتدار کا بھوکا , اللہ کے احکامات میں سے اکثر احکامات کی اطاعت سے باغی شخص کی بات مان لی جائے . اسکے سامنے سر جھکا لیا جائے . اسکا بندہ ہونے کا اقرار کر لیا جائے . جو وہ کرے اس کے سامنے سر خم رکھا جائے . گویا اللہ کی
نہیں , اسکی عبدیت قبول کر لی جائے . نادان اور غافل نہیں جانتا تھا کہ جس دل نے , جس دماغ نے , جس جسم نے  اور جس روح نے اللہ کی عبدیت قبول کر لی ہو , وہ کسی دوسرے کو مالک کیسے مان لے .
کربلا والوں نے بھوک , پیاس غرضیکہ ہر تکلیف برداشت کی . جانیں قربان کر ڈالیں , بندھے  ہاتھوں اور ننگے سروں سے سینکڑوں میل کی مسافت قبول کر لی . مگر عبدیت کیلئے سر اللہ کے سامنے ہی جھکائے . کبھی اس سجدے کی معراج پر غور کریں . جو تیروں سے چھلنی جسم کے باوجود , کربلا کی تپتی ریت پر آخری بار  شہید کربلا نے کیا . اللہ کی محبت کا اندازہ تو کریں کہ ملعون شمر کند خنجر سے سر قلم کرتا رہا . مگر امام نے سر سجدے سے نہیں اٹھایا . نہ جان کی فکر نہ سر کٹنے کی درد , اللہ کی عبادت میں حائل ہوئی . نہ زندگی کی تمنا نے سر بچانے پر آمادہ کیا . ایسا سجدہ , ایسی عبدیت بے مثل تھی , بے مثل ہے اور بے مثل رہے گی .
ازاد ھاشمی.

Thursday, 4 January 2018

علی کرم اللہ وجہہ کی شجاعت

" علی کرم اللہ وجہہ  کی شجاعت "
عمر کی پختگی کے ساتھ قدموں میں استقامت آ جانا کئی وجہ سے ممکن ہو جاتا ہے . شعور کئی ایک مصائب سے ٹکرانے کا از خود حوصلہ دے دیتا ہے . اسے بھی بہادری اور شجاعت کہہ لینا موزوں ہے .
جب اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اب آپ اپنے خاندان اور اقرباء میں اللہ کی توحید بیان کرنا شروع کریں . تو آپ نے حکم ربی کے تحت بنو ہاشم کو بلایا . پیشتر اس سے  کہ مدعا بیان ہوتا , ابولہب نے حسب عادت بے تکی باتیں شروع کردیں . جس وجہ سے مجلس برخاست کرنا پڑی . اگلے دن پھر آپ نے بنو ہاشم کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا مجھے کبھی جھوٹ بولتے کسی نے سنا . تو سب نے بیک زبان اقرار کیا .
" آپ سے کبھی کوئی جھوٹ بات نہیں سنی "
آپکی صداقت مسلمہ تھی , دشمنی کتنی بھی گہری کیوں نہ ہو , آپ کی صداقت پہ کبھی کوئی سوال نہیں اٹھا .
یہ سن کر آپ نے مدعا بیان فرمایا , اور سوال کیا کہ اللہ کی وحدانیت کیلئے اور  معاشرتی برائیوں کو روکنے پر کون کون میرا ساتھ دے گا . جو سب سے پہلے آواز آئی وہ چند سال کے  , بلوغت سے بہت دور بچے کی تھی . یہ وہ بچہ جو اسلام کے پیغام کو پہلے سے قبول کر چکا تھا . یہ  اس بچے کی تربیت  کا اظہار بھی تھا جو اس داعی حق کے سائے میں ہو رہی تھی . یہ  علی ابن ابوطالب تھے . جرات اور بہادری کا اظہار اس بات کا بین ثبوت تھا کہ یہ کسی شعور , کسی تجربے , کسی غرض کے تحت نہیں بلکہ اللہ کی عطا کردہ شجاعت  کا ثبوت تھی . بنو ہاشم کے تمام اکابرین پر اس ایک اعلان کی برتری نے علی کرم اللہ وجہہ کی اہمیت سنگ میل بنا دی . ابوطالب  بیٹے کی سبقت پر حیران بھی تھے , فخر بھی تھا اور پرسکون بھی کہ اب آپ صل اللہ علیہ وسلم کی ہر مشکل میں انکا بیٹا ساتھ  کھڑا رہے گا . تاریخ نے ثابت کیا کہ کٹھن سے کٹھن معرکے میں بھی اس علی کرم اللہ وجہہ نے اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کو فکر مند نہ ہونے دیا . حتی کہ یہ وعدہ اپنی سلب میں منتقل کر دیا , جسے علی زادوں نے نبھا کے دکھا دیا .
ازاد ھاشمی

شائد کہ اب نیا سال ہوگا

"شاید کہ اب نیا سال ہو گا "
سوچتا رہتا ہوں ,  لوگ کیوں کہتے ہیں کہ نیا سال آ گیا . جب سے ہوش سنبھالا ایک جیسے ہی دن ہیں ایک جیسی ہی راتیں . بارش بھی ویسی ہی برستی ہے اور دھوپ بھی اسی طرح سے نکلتی ہے . کبھی کچھ نیا نہیں ہوا . تاریخ تو روز بدلتی ہے اور دن اور رات بھی روز بدلتے رہتے ہیں .
میں انتظار کرتا رہتا ہوں کہ کبھی تو نیا دن آئے , کبھی تو نئے ماہ و سال دیکھوں . کبھی تو ایسا ہو کہ جب صبح اٹھوں تو امن ہی امن دیکھوں , کوئی چہرہ پژمردہ نظر نہ آئے . ہر ہاتھ میں محبت کے پھول ہوں . ہر آنکھ حیا سے جھکی نظر آئے . ہر کوئی عداوت سے نالاں دیکھوں .
شاید کہ اب کے , جب سال کی تاریخ بدلے , ظلم کرنے والے ہمدرد و مونس بن جائیں . نہ کوئی دولت کے نشے میں دھت ہو اور نہ کوئی غربت کے آزار سے گذرے . لوگ اپنی خوشیاں دے کر دکھ سمیٹتے نظر آئیں . اخوت کی ایسی جوت جاگ جائے کہ کینہ پروری کی ساری خلیجیں سوکھ جائیں . میری ساری متاع پر میرے بھائی کا حق ہو جائے اور منافقت کو لوگ بھول جائیں . انسانیت کی تباہی کا سامان کرنے والے انسان کی فکر میں لگ جائیں . دوسرے کی راہ کے کانٹے اٹھانے میں لوگ سبقت لینے لگیں . شیطان سوچنے لگے کہ ابن آدم اس سے بیزار کیوں ہو گیا .
شاید کہ اس سال , ایسا ہی نیا سال ہو . پھر میں بھی نئے سال کی مبارک دوں اور مبارکیں وصول کرتا پھروں . کاش کہ میری اور آپکی زندگی میں نیا سال آئے , نئی صبح ہو , نئے ارادے ہوں , نئی سوچ ہو اور بے نام سی راحت ملے .
ازاد ھاشمی

کردار اور انتخابات

" کردار اور انتخابات "
ایک محترم دوست کا حکم ہے
"میرا تعلق جماعت اسلامی سے ھے لیکن میں جماعت اسلامی پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام ف کے اتحاد سے خوش نہیں کیونکہ مولانافضل الرحمن ہمیشہ اقتدار اور کرسی کے پچھے بھاگ رہا ہےاور جماعت اسلامی آپنے اصولوں کے مطابق کوشش میں مصروف ھیں یعنی کہ زمین اور آسمان کا فرق ھے دونوں میں تو میرے لیے ایک مضمون چاہیے ان دونوں پر"
میں سوچ رہا ہوں کہ اس پر کیا لکھوں . میری سمجھ میں تو یہی آتا ہے , کہ کردار , اصول , نظریہ سب ماضی کی باتیں تھیں . جماعت کے بانی کا ایک خواب تھا , بھٹو جیسا لیڈر پورے پاکستان میں سیاسی قائدین میں سے صرف مولانا مودودی سے خوفزدہ تھا . یہی سبب تھا کہ ہر جلسے اور جلوس میں " مودودی ٹھاہ " مرکزی نعرہ تھا . جماعت کے ابتدائی قائدین ایک نظریہ پر جدوجہد کو فرض مانے بیٹھے تھے . پھر آہستہ آہستہ پوری تگ و دو انتخابات کی چند سیٹوں تک سمٹ گئی . آج حقیقت یہ ہے کہ جماعت کا نظریہ صرف اور صرف کسی نہ کسی طرح حکمرانی تک پہنچنا ہے . اسکے لئے بھلے مولانا فضل الرحمن سے اتحاد کرنا پڑے یا کوئی دوسرا غیر نظریاتی اقدام کیوں نہ کرنا پڑے . میں بہت حیران تھا جب چند بلدیاتی کامیابی پر شادیانے بجائے گئے . گو قومی سوچ کا یہ مظاہرہ خاص اہمیت کا قطعی حامل نہیں تھا . اور یہ ایک طفلانہ خوشی تھی . اگر جماعت نے نظریاتی سیاست چھوڑ دی , جو کہ  عملی طور پر چھوڑنے کے مترادف ہے . تو یہ کہنا غلط نہیں کہ جماعت اس اتحاد سے خودکشی کیلئے ایک گہرے گڑھے پر کھڑی ہو گئی ہے . بس انتخابات پر یہ خودکشی مکمل ہو جائے گی . مجھے مولانا فضل الرحمن میں ایک استقامت نظر آتی ہے کہ کچھ بھی کرنا پڑے اقتدار میں شامل رہنا ہے . اور اس میں گذشتہ کئی سالوں سے کامیاب بھی ہیں . انکا یہی نظریہ ہے . مگر جماعت کا یہ نظریہ اب بن رہا ہے .
ازاد ھاشمی 

ماں جی! نیا سال آگیا

" ماں جی ! نیا سال آگیا "
جب کوئی ہلچل کا دن آیا کرتا تھا . کچھ گہما گہمی ہوتی تھی . مجھے یاد ہے کہ آپ کو اسلامی تہواروں کے علاوہ کسی نئے سال , کسی ماں کے دن اور اسی طرح کے کسی بھی دن کا کوئی پتہ نہیں ہوتا تھا . مگر آپ مجھے فون ضرور کروایا کرتی تھیں . پوچھنے کیلئے کہ میں کیا کر رہا ہوں . کیا کھایا ہے , کیا پہنا ہے اور بہت سارے ایسے ہی سوال . مجھے یاد ہے میں جب بھی کوئی تصویر بھیجا کرتا تو آپ ہمیشہ یہی کیا کرتیں . کمزور کمزور لگ رہا ہوں . ایک بات بار بار کہا کرتیں
" اپنی صحت کا خیال رکھا کر . دوبارہ صحت مند ہو کر تصویر بھیجنا "
میں ہنسا کرتا کہ میرا وزن تو پہلے سے زیادہ ہے . پھر کمزور کیسے لگ رہا ہوں .. محبت کی زبان صرف ماں کے منہ  میں ہوتی ہے . ایک ایک سوال میں مٹھاس , ایک ایک ڈانٹ میں سکون  , ایک ایک لمحہ استراحت .  باقی سب تصنع اور بناوٹ کی آمیزش والی محبت ہے .
پچھلے سال نئے سال کی آمد سے پہلے اپنے اصلی گھر کی طرف روانگی کر لی . ہم روتے رہ گئے , ایک لفظ نہیں بولا . کوئی وجہ نہیں پوچھی . کوئی تسلی نہیں دی اور اپنے خالق کی آواز پر لبیک کہہ کر چلی گئیں . نیا سال بھی آیا , شب برات بھی آئی , عیدیں بھی گذریں اور پھر سے نیا سال آگیا . جانتے ہوئے بھی کہ اب کوئی فون نہیں آئے گا . اب کوئی نہیں پوچھے گا کہ کیا کر رہا ہوں . کیا کھاتا ہوں , صحت کیسی ہے . کسی کو کمزور نظر نہیں آوں گا . پھر بھی فون کھولے بیٹھا ہوں . انتظار کر رہا ہوں . ماں جی سے بولنے کو بے قراری ہے کہ " ماں جی نیا سال آگیا "
ازاد ھاشمی

کسء کے بیٹے کسی کے بھائی

" کسی کے بیٹے , کسی کے بھائی "
عجیب سی رسم چل نکلی ہے کہ پولیس کے اہلکاروں کو سڑکوں پر بدقماش رئیس زادے , سیاسی غنڈے اور حرام کی کمائی پر پلنے والے نو دولتیئے گاڑیاں چڑھا دیتے ہیں . پولیس رشوت اور ناجائز طریقوں سے غریبوں کو تنگ کرتی ہے . یہ درست ہے . مگر کیوں کرتی ہے , اسکے محرکات کیا ہیں اور اسکی پشت پناہی کون کرتا ہے . اس پر نہ کبھی توجہ دی گئی اور نہ کوئی مثبت لائحہ عمل اختیار کیا گیا . میری نظر میں اس ساری خرابی کی پشت پر اعلی افسران ہیں . سیاستدان ہیں , راشی عدالتیں ہیں اور اس سب سے بڑھ کر انکی ضروریات زندگی کے مطابق انکی حلال آمدن  کا فقدان ہے . بد دیانتی اور کرپشن پر , چوری اور فراڈ پر اقتدار کے بڑے بڑے مشغول ہو جائیں تو ایک غریب اہلکار کو تقویت نہیں ملے گی تو کیا تعجب ہے . اس برائی کی بحث سے ہٹ کر سوچا جائے , تو کیاسڑک پہ راستے کی آسانیاں فراہم کرنے والے کو مار دینا انصاف ہے . وہ بیچارہ بھی معصوم بچوں کا باپ ہو گا , کسی ماں کا جگر گوشہ ہو گا , کسی بہن کا بھائی ہو گا . کسی سہاگن کا سہاگ ہو گا . کیا خبر بے چارہ کرپشن میں ملوث تھا بھی کہ نہیں . چوبیس گھنٹے کا ملازم , چلچلاتی دھوپ میں کھڑا ہو کر فرائض ادا کرنے والا , دیگر محکموں کے دفتری بابووں سے بڑا راشی تو نہیں ہوتا . اسکی خدمات کے اعتراف پر آنکھیں بند کر لینا بھی تو کرپشن ہے . انکی حفاظت , انکی ضروریات کا خیال رکھنا معاشرے کی ذمہ داری کیوں نہیں مانی جاتی . فوج کا سپاہی اور پولیس کا سپاہی  ایک جیسی عزت کا حقدار کیوں نہیں . دونوں کے احترام میں تفاوت کیوں . اس سپاہی کو بھی عزت کی روٹی دو , عزت کا مقام دو , اسکو بھی وہی مراعات دو , ہو سکتا ہے وہ رشوت لینے کو برائی سمجھنے لگے . گاڑیوں کے نیچے کچل کر اچھائی کی امید خام خیالی ہے . مقتدر لوگوں کو سخت نوٹس لینا ہو گا . اور پولیس کے سپاہی کو بھی.محافظ ماننا ہوگا .
ازاد ھاشمی

تینتیس ارب , پندرہ سال

" تنتیس ارب , پندرہ سال "
جاہل حکمران , احمق قوم , خبطی دانشور اور برائے فروخت سیاستدان ہمارا کل اثاثہ ہیں . رہ گئی عدالتیں اور ملکی سلامتی کے ادارے تو ان پر کیا امید رکھی جا سکتی ہے , جو سب دیکھتے یوئے پندرہ سال  بر سر پیکار بیٹھے ہیں . انکے نااہل ہونے میں کیا شک باقی رہ جاتا ہے . امریکہ بہادر نے پندرہ سال میں تینتیس ارب روپے دیکر کر ہماری ساری فکر , جذبہ اور ہماری جانوں کا سودا کیے رکھا . پہلا سوال تو یہ ہے کہ امریکہ بہادر نے جو یہ رقوم دیں , وہ کس لئے . اپنی جنگ لڑنے کیلئے اور ہم نے اسکی رقوم کے ساتھ ساتھ سینکڑوں ارب بھی اسکی جنگ میں جھونک دئے . اسکی سرمایہ کاری بھی اسے لوٹا دی اور اپنی جمع پونجی بھی اڑا دی . آج قوم کے زیرک لوگ انگشت بدندان ہیں کہ ہم نے اتنے پیسے امریکہ سے لئے تو وہ کون کھا گیا . وہ ساری رقوم ہم نے امریکہ کے مفادات کے تحفظ پر خرچ کیں  , اپنے ہزاروں سپوتوں  کا خون دیا , اپنی معیشت برباد کردی . کس لئے اور کیوں . آج مکار امریکن سوال بھی کر رہے ہیں کہ ہمارا تینتیس ارب ڈالر کہاں گیا . ساری قوم گونگی ہے . سارے سیاستدان گونگے ہیں . سارے دانشور گونگے ہیں . محتسب کی زبان بند ہے . میڈیا کے چرب زبان خاموش ہیں .
یہ سارے پیسے امریکہ کیلئے خرچ ہوئے . ہمارے حکمرانوں نے غداری کی قوم سے . اور قوم کو کنگال کر دیا . جنگوں پہ اربوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی . ہم نے امریکہ کا تحفظ کیا اور امریکہ کے پیسے اسی پر خرچ بھی کئے , آج مجرم بھی بنے بیٹھے ہیں . محافظوں سے پوچھئے کہ صاحب یہ جنگ کیسے لڑی . کیا خرچ ہوا , ضرب عصب کس کی ضرورت کیوں پڑی . ردالفساد کا جہاد کیوں لازم ہوا . اس سب پر کتنے ارب پھونک دئے گئے . کس نے دئے یہ اضافی پیسے . کون دے گا حساب . کون لوٹائے گا قوم کو .
آخر یہ جنگ لڑی کیوں . افغانستان کے لئے , روس کے لئے , امریکہ کے لئے . آخر اس جنگ کا پاکستان سے کیا تعلق تھا . یہ پاکستان سے معاملات کا جوڑ دینا تو محض قوم کو تسلی دینا ہے . اصل میں امریکہ کی خوشنودی مطلوب تھی . جو مل جاتی تو مقصد حل ہو جاتا . گاوں کا چوہدری خوش ہو جاتا . مگر چوہدری تو اب بھی منہ پھلائے بیٹھا ہے . آنکھیں دکھا رہا ہے . پوچھ رہا کہ میرے پیسے کہاں ہیں .
امریکہ کو پورے حساب کتاب کے ساتھ اکاونٹ بتا دینے میں کیا قباحت ہے . تم سب حکمرانوں نے صرف قوم کو لوٹا ہے امریکہ کو نہیں . بتاو کہ تم نے چوری کا سارا مال پاکستان میں نہیں , انہی کے بنکوں میں رکھا ہے . اور سارا چوری کا مال ملک کا ہے امریکہ کے ڈالروں میں سے نہیں لیا . جرات کرو . جہاد کرو اور سچ بول دو .
ازاد ھاشمی

پندرہ سال کا حساب

" پندرہ سال کا حساب "
حیران ہوں کہ ٹرمپ نے پندرہ سال کا حساب مانگ لیا . پوری قوم کی ٹانگیں کانپنا شروع ہو گئی ہیں . دوسری حیرانی یہ ہے کہ ان پندرہ سال میں چپکے چپکے کون لوگ اس امداد پر ہاتھ صاف کرتے رہے . یہ بھی حیرانی ہے کہ جنگ تو ہم قرضے لیکر لڑتے ہیں . فوج کے سارے فنڈز تو جنگ کی نظر ہو رہے ہیں . ہم تو اس جنگ میں  کنگال ہوگئے ہیں , جو کہ ہماری جنگ تھی ہی نہیں . پھر یہ سب اربوں ڈالر گئے کہاں . یہ حساب تو قوم کو مانگنا ہے نہ کہ ٹرمپ کو .  دو اڑھائی ارب کی رقم سے تو سال بھر فوج کی نقل و حرکت اور چھوٹی چھوٹی ٹھس پھس پہ اڑ جاتا ہے . ٹرمپ کو حساب دو اور پورا حساب دو . پھر اسے انٹرنیشنل فورم پر لا کر اپنے بقایا جات مانگو . ڈرنے کی کیا بات ہے . ٹرمپ سے خود بھی پوچھو اور اقوام متحدہ والوں سے بھی کہو کہ وہ اسے پوچھیں کہ امریکہ دوسرے گھروں میں عدم استحکام کیلئے رقوم کیوں بانٹتا پھر رہا ہے . اس سے ڈیڑھ ارب مسلمان بھی پوچھیں کہ اس نے لیبیا , سوڈان , عراق اور افغانستان کو برباد کرنے کیلئے بے دریغ پیسے کیوں خرچ کئے .
یہ پندرہ سال میں لی گئی رقم یقینی طور پر جنگ پہ خرچ کرنے کو ملی تھیں . کیا اس سے ہماری قابل ترین ایجنسی اگاہ تھی یا نہیں . اگر نہیں تھی تو ان پندرہ سال کے حکمرانوں سے حساب لیا جائے . اگر تھی تو کیا ملکی مفاد میں تھا کہ اپنی حمیت کو بیچ دیا جاتا.
کیا ہماری اسمبلیاں اگاہ تھیں یا نہیں . اگر تھیں تو یہ غداری عوام سے کیوں , اگر اگاہ نہیں تھیں تو اسمبلیوں میں کیا آم چوسنے کیلئے بیٹھے ہوئے ہیں .
عوام کو پتہ نہیں تھا تو خاموشی سمجھ آتی ہے اب جب پتہ چل گیا تو رائے کیا ہونی چاہئے . کیا یونہی ہمیں بیچتے رہنے والا نظام اور لوگ آتے رہنے چاہئیں  .
اب ٹرمپ کو جو بھی حساب دینا ہے قوم کو اعتماد میں لیکر دو . اس سارے حساب کا استفسار قوم کا حق ہے . تم اقتدار والوں نے اپنے بچے نہیں بیچے , پوری قوم کو بیچا ہے . سہاگنوں کا سہاگ بیچا ہے , ماوں کے بیٹے بیچے ہیں . بچوں کے باپ بیچے ہیں . شہیدوں کا خون بیچا ہے . قوم کی غیرت بیچی ہے . حساب قوم مانگے گی اسکا قوم کو حق ہے .
ازاد ھاشمی

نماز , احسان ہے رب کا

" نماز , احسان ہے رب کا "
اللہ کے احکامات میں , نماز کی تاکید سب سے زیادہ کیوں کی گئی . کسی بھی حال میں نماز کی فرضیت موقوف نہیں ہوتی . سوائے اسکے  کہ انسان پاگل نہ ہو جائے . نشے اور غلاظت کی حالت میں اجازت نہیں جب تک ان دونوں سے الگ نہ ہوا جائے . بیمار ہو , سفر میں ہو , سردی ہو گرمی ہو , کچھ بھی حال ہو نماز لازم ہے . یہ اسلئے نہیں کہ ہمارے سجدے , رکوع اور قیام کی اللہ کو ضرورت ہے . ان تمام رکوع سجود کی اصل ضرورت ہماری ہے . اللہ نے وہ راہ دکھائی ہے جس سے ہم اللہ کے قریب ہو سکتے ہیں . اللہ کی تمحید و تقدیس بیان کر سکتے ہیں . ایمان کو جلا دے سکتے ہیں اور براہ راست اللہ سے اپنی حاجات بیان کر سکتے ہیں .
اللہ اپنے بندے سے اسقدر پیار فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندے کو ہر حال میں اپنے سامنے دیکھنا چاہتا ہے . اس سے اسکے آزار اور خوشیاں اسکی زبانی سننا چاہتا ہے . اس لئے لازم کر دیا , فرض بنا دیا کہ بندہ دن اور رات میں وقفے وقفے سے پانچ بار تو حاضر ہو . یہ ہے نماز . ہم یہی سمجھ رہے ہیں کہ نماز پڑھنی ہے بس . کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ ہمیں بار بار اپنے سامنے بلاتا ہے . کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ ہم کتنے احمق ہیں , اسکے اس کرم کو بوجھ سمجھ کر ادھر ادھر بھاگنے کے بہانے تلاش کرتے ہیں . ہم اسکی محبت کو سمجھ ہی نہیں پاتے . اسکی محبت ہے کہ وہ ہماری توجہ اپنی طرف کرنے کی خاطر ہمیں چھوٹے بڑے مسائل سے دوچار کرتا ہے . اور پھر آواز دیتا کہ
" پریشانی یا دکھ میں ہو تو نماز اور صبر سے مدد مانگ لو "
دن میں بار بار اعلان کرتا ہے
" آو فلاح کیطرف آو فلاح کیطرف "
ہم کتنے احمق ہیں. اسکی نہیں سنتے جو قادر ہے , جو حاکم ہے اور کبھی جھوٹ نہیں کہتا , کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا . دن میں کئی کئی بار اعلان ہوتا ہے .
آئیے ! اپنے حلقہ ہائے دوستاں میں اللہ کی اس محبت کو آشکار کریں .
ازاد ھاشمی