Saturday, 6 January 2018

قران , واضع دستور

" قران , واضع دستور "
بنی اسرائیل کو اللہ تعالی نے کئی انعامات سے نوازا , ان گنت احسانات کئے , فرعون جیسے جابر حکمران سے بچانے کیلئے حضرت موسی علیہ السلام کو رسالت دی . مگر وہ اپنی لغزشوں اور چالبازیوں پر قائم رہے . قران پاک میں بہت استدلال کے ساتھ انکی فطری ہٹ دھرمی کا ذکر کیا گیا . وہ اللہ کے آئین , دستور , احکامات اور راستے پر چلنے کی بجائے اپنی اختراعات کرتے رہے . آج وہ سب , جو بنی اسرائیل کرنے پہ بضد تھے , وہ سب ہم کر رہے ہیں . بنی اسرائیل کے مذہنی قائدین نے جسطرح اپنی عقل کے تابع دین بنا لیا . اور امت کو سمجھ ہی نہیں آنے دی کہ احکامات ربی کیا تھے . کچھ ایسا ہی ہمارے ساتھ ہوا . ہمیں سمجھ ہی نہیں آنے دیا جا رہا کہ قران کی تعلیم کیا ہے . معاشی اور معاشرتی قواعد و ضوابط کیا ہیں . آخر اس عظیم کتاب میں کون کونسے علوم ہیں , جن سے ہم استفادہ کر سکتے ہیں . ہمیں اس سے زیادہ کوئی خبر ہی نہیں کہ قران میں ایک ایک لفظ کو پڑھنے کی کتنی نیکیاں ہیں . قران ہدایت کی کتاب تھی جس کا پورا استفادہ اس دنیا میں کرنا تھا , ہم نے اسے جنت تک پہنچنے کے پیغام کے علاوہ کچھ سمجھا ہی نہیں . ہمارے مذہبی قائدین نے بھی اسے مشکل اور نہ سمجھ آنے والی کتاب بنا کر , کتابوں پہ کتابیں لکھ ڈالیں . اللہ کے پیغام کو اپنی اپنی سوچ کے مطابق ڈھال لیا . جب ابہام مکمل طور پر قائم کر لیا تو انسانی دماغ کے مطابق اپنے اپنے دستور , اپنے اپنے عقائد اور اپنے اپنے فقہ کو لاگو کرنے لگے . آج ہم ایک ایسی بھول بھلیوں میں پھنس گئے ہیں کہ اپنے مرکز تک پہنچنے کی راہ ہی نظر نہیں آ رہی . کبھی سوشلزم , کبھی کیمونزم , کبھی فسطائیت اور کبھی جمہوریت کے پیچھے دوڑ لگائے بیٹھے ہیں . یہ باور کرایا جاتا ہے کہ سوشلزم والے , کیمونزم والے اور جمہوریت والے ہی صحیح راستے پر ہیں اسی سبب تمام ترقی کر رہے ہیں . گویا اسلام والے بن کر ترقی کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں . قران کی ایک ایک آیت , رب کی کوئی نہ کوئی نشانی ہے . کوئی نہ کوئی زندگی کی راہ ہے . سبق ہے , ہدایت ہے , دستور کی کوئی نہ کوئی شق ہے . اسطرف تحقیق کی ضرورت تھی , جو ہم نے چھوڑ دی اور اس تحقیق میں لگ گئے کہ اپنے اپنے فلسفے کو کیسے معتبر ثابت کرنا ہے . مجھے اور آپکو توجہ کرنا ہو گی . قران کو بار بار فکر کے ساتھ پڑھنا ہو گا . اسکے دستوری قواعد کو سمجھنا ہو گا . یہ فرض ہے , یہ عبادت ہے اور یہ جہاد ہے .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment