Thursday, 4 January 2018

کردار اور انتخابات

" کردار اور انتخابات "
ایک محترم دوست کا حکم ہے
"میرا تعلق جماعت اسلامی سے ھے لیکن میں جماعت اسلامی پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام ف کے اتحاد سے خوش نہیں کیونکہ مولانافضل الرحمن ہمیشہ اقتدار اور کرسی کے پچھے بھاگ رہا ہےاور جماعت اسلامی آپنے اصولوں کے مطابق کوشش میں مصروف ھیں یعنی کہ زمین اور آسمان کا فرق ھے دونوں میں تو میرے لیے ایک مضمون چاہیے ان دونوں پر"
میں سوچ رہا ہوں کہ اس پر کیا لکھوں . میری سمجھ میں تو یہی آتا ہے , کہ کردار , اصول , نظریہ سب ماضی کی باتیں تھیں . جماعت کے بانی کا ایک خواب تھا , بھٹو جیسا لیڈر پورے پاکستان میں سیاسی قائدین میں سے صرف مولانا مودودی سے خوفزدہ تھا . یہی سبب تھا کہ ہر جلسے اور جلوس میں " مودودی ٹھاہ " مرکزی نعرہ تھا . جماعت کے ابتدائی قائدین ایک نظریہ پر جدوجہد کو فرض مانے بیٹھے تھے . پھر آہستہ آہستہ پوری تگ و دو انتخابات کی چند سیٹوں تک سمٹ گئی . آج حقیقت یہ ہے کہ جماعت کا نظریہ صرف اور صرف کسی نہ کسی طرح حکمرانی تک پہنچنا ہے . اسکے لئے بھلے مولانا فضل الرحمن سے اتحاد کرنا پڑے یا کوئی دوسرا غیر نظریاتی اقدام کیوں نہ کرنا پڑے . میں بہت حیران تھا جب چند بلدیاتی کامیابی پر شادیانے بجائے گئے . گو قومی سوچ کا یہ مظاہرہ خاص اہمیت کا قطعی حامل نہیں تھا . اور یہ ایک طفلانہ خوشی تھی . اگر جماعت نے نظریاتی سیاست چھوڑ دی , جو کہ  عملی طور پر چھوڑنے کے مترادف ہے . تو یہ کہنا غلط نہیں کہ جماعت اس اتحاد سے خودکشی کیلئے ایک گہرے گڑھے پر کھڑی ہو گئی ہے . بس انتخابات پر یہ خودکشی مکمل ہو جائے گی . مجھے مولانا فضل الرحمن میں ایک استقامت نظر آتی ہے کہ کچھ بھی کرنا پڑے اقتدار میں شامل رہنا ہے . اور اس میں گذشتہ کئی سالوں سے کامیاب بھی ہیں . انکا یہی نظریہ ہے . مگر جماعت کا یہ نظریہ اب بن رہا ہے .
ازاد ھاشمی 

No comments:

Post a Comment