Thursday, 4 January 2018

پندرہ سال کا حساب

" پندرہ سال کا حساب "
حیران ہوں کہ ٹرمپ نے پندرہ سال کا حساب مانگ لیا . پوری قوم کی ٹانگیں کانپنا شروع ہو گئی ہیں . دوسری حیرانی یہ ہے کہ ان پندرہ سال میں چپکے چپکے کون لوگ اس امداد پر ہاتھ صاف کرتے رہے . یہ بھی حیرانی ہے کہ جنگ تو ہم قرضے لیکر لڑتے ہیں . فوج کے سارے فنڈز تو جنگ کی نظر ہو رہے ہیں . ہم تو اس جنگ میں  کنگال ہوگئے ہیں , جو کہ ہماری جنگ تھی ہی نہیں . پھر یہ سب اربوں ڈالر گئے کہاں . یہ حساب تو قوم کو مانگنا ہے نہ کہ ٹرمپ کو .  دو اڑھائی ارب کی رقم سے تو سال بھر فوج کی نقل و حرکت اور چھوٹی چھوٹی ٹھس پھس پہ اڑ جاتا ہے . ٹرمپ کو حساب دو اور پورا حساب دو . پھر اسے انٹرنیشنل فورم پر لا کر اپنے بقایا جات مانگو . ڈرنے کی کیا بات ہے . ٹرمپ سے خود بھی پوچھو اور اقوام متحدہ والوں سے بھی کہو کہ وہ اسے پوچھیں کہ امریکہ دوسرے گھروں میں عدم استحکام کیلئے رقوم کیوں بانٹتا پھر رہا ہے . اس سے ڈیڑھ ارب مسلمان بھی پوچھیں کہ اس نے لیبیا , سوڈان , عراق اور افغانستان کو برباد کرنے کیلئے بے دریغ پیسے کیوں خرچ کئے .
یہ پندرہ سال میں لی گئی رقم یقینی طور پر جنگ پہ خرچ کرنے کو ملی تھیں . کیا اس سے ہماری قابل ترین ایجنسی اگاہ تھی یا نہیں . اگر نہیں تھی تو ان پندرہ سال کے حکمرانوں سے حساب لیا جائے . اگر تھی تو کیا ملکی مفاد میں تھا کہ اپنی حمیت کو بیچ دیا جاتا.
کیا ہماری اسمبلیاں اگاہ تھیں یا نہیں . اگر تھیں تو یہ غداری عوام سے کیوں , اگر اگاہ نہیں تھیں تو اسمبلیوں میں کیا آم چوسنے کیلئے بیٹھے ہوئے ہیں .
عوام کو پتہ نہیں تھا تو خاموشی سمجھ آتی ہے اب جب پتہ چل گیا تو رائے کیا ہونی چاہئے . کیا یونہی ہمیں بیچتے رہنے والا نظام اور لوگ آتے رہنے چاہئیں  .
اب ٹرمپ کو جو بھی حساب دینا ہے قوم کو اعتماد میں لیکر دو . اس سارے حساب کا استفسار قوم کا حق ہے . تم اقتدار والوں نے اپنے بچے نہیں بیچے , پوری قوم کو بیچا ہے . سہاگنوں کا سہاگ بیچا ہے , ماوں کے بیٹے بیچے ہیں . بچوں کے باپ بیچے ہیں . شہیدوں کا خون بیچا ہے . قوم کی غیرت بیچی ہے . حساب قوم مانگے گی اسکا قوم کو حق ہے .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment