" ماں جی ! نیا سال آگیا "
جب کوئی ہلچل کا دن آیا کرتا تھا . کچھ گہما گہمی ہوتی تھی . مجھے یاد ہے کہ آپ کو اسلامی تہواروں کے علاوہ کسی نئے سال , کسی ماں کے دن اور اسی طرح کے کسی بھی دن کا کوئی پتہ نہیں ہوتا تھا . مگر آپ مجھے فون ضرور کروایا کرتی تھیں . پوچھنے کیلئے کہ میں کیا کر رہا ہوں . کیا کھایا ہے , کیا پہنا ہے اور بہت سارے ایسے ہی سوال . مجھے یاد ہے میں جب بھی کوئی تصویر بھیجا کرتا تو آپ ہمیشہ یہی کیا کرتیں . کمزور کمزور لگ رہا ہوں . ایک بات بار بار کہا کرتیں
" اپنی صحت کا خیال رکھا کر . دوبارہ صحت مند ہو کر تصویر بھیجنا "
میں ہنسا کرتا کہ میرا وزن تو پہلے سے زیادہ ہے . پھر کمزور کیسے لگ رہا ہوں .. محبت کی زبان صرف ماں کے منہ میں ہوتی ہے . ایک ایک سوال میں مٹھاس , ایک ایک ڈانٹ میں سکون , ایک ایک لمحہ استراحت . باقی سب تصنع اور بناوٹ کی آمیزش والی محبت ہے .
پچھلے سال نئے سال کی آمد سے پہلے اپنے اصلی گھر کی طرف روانگی کر لی . ہم روتے رہ گئے , ایک لفظ نہیں بولا . کوئی وجہ نہیں پوچھی . کوئی تسلی نہیں دی اور اپنے خالق کی آواز پر لبیک کہہ کر چلی گئیں . نیا سال بھی آیا , شب برات بھی آئی , عیدیں بھی گذریں اور پھر سے نیا سال آگیا . جانتے ہوئے بھی کہ اب کوئی فون نہیں آئے گا . اب کوئی نہیں پوچھے گا کہ کیا کر رہا ہوں . کیا کھاتا ہوں , صحت کیسی ہے . کسی کو کمزور نظر نہیں آوں گا . پھر بھی فون کھولے بیٹھا ہوں . انتظار کر رہا ہوں . ماں جی سے بولنے کو بے قراری ہے کہ " ماں جی نیا سال آگیا "
ازاد ھاشمی
Thursday, 4 January 2018
ماں جی! نیا سال آگیا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment