" بیوی "
اللہ نے بیوی کو شوہر کی مونس و غمخوار بنا کر بھیجا ۔ آدم ؐ کی اداسی اور تنہائی کا بہترین علاج بیوی تھا ۔ یہی سلسلہ چل رہا ہے اور قیامت تک چلتا رہے گا ۔
انسانی معاشرے کی روش کو سیدھا رکھنے میں مرد کا راست باز ہونا لازم تھا اور اسکی بےلگامی کو روکنا بھی ضروری تھا ۔ اسکا واحد کارآمد ، زود اثر اور تیر بحدف علاج بھی بیوی ہی تھا ۔ کتنا بھی بےلگام اور سرکش مرد کیوں نہ ہو ، بیوی سے اچھی لگام کوئی نہیں ہوتی ۔ اگر یقین نہ آئے تو بڑے سے بڑے طرم خان کو گھر میں دیکھیں ، یا بیوی کے ساتھ بازار میں گھومتے دیکھیں ۔ مجال ہے حسین سے حسین تر خاتون کی طرف سیدھی نظروں سے دیکھ لے ۔ ٹیڑھی ٹیڑھی نظر اور بہانے بہانے سے بھی دیکھنے کی جرات شاذ ہی ہوتی ہے ۔ اس وقتی شریف کو اکیلے بازار میں دیکھیں تو مجال کوئی عورت ایکسرے کے بغیر گذر جائے ۔
اللہ کی حکمت دیکھیں کہ بڑے سے بڑے زور آور کے ناک کی نکیل بیوی بنا دی جو ہر وقت موجود رہتی ہے ۔ احتساب برائی کے سدباب کا موثر ترین ہتھیار ہے ، بیوی سے بہتر محتسب آج تک دنیا میں پیدا ہی نہیں ہوا ۔ میں نے بڑے بڑے بہادروں کو بیوی کے سامنے کانپتے دیکھا ، اس شخص کی بہادری کو تو سلام ہے جو دو دو ، تین تین اور چار چار بیویوں کا سامنا کر لیتے ہیں ۔ ایسے بہادر مسلمانوں کے علاوہ کسی قوم میں نہیں ۔ جو لوگ شیر کی باچھیں پھاڑنے کے دعوے کرتے ہیں ، وہ گھر کی شیرنی سے پسینہ پسینہ ہوئے رہتے ہیں ۔ اللہ کی حکمت دیکھیں کیسا علاج کیا ابن آدم کا ، صرف ایک پڑیا سے ، جسکا نام " بیوی " رکھا
ازاد ھاشمی
13 جنوری 2018
Saturday, 12 January 2019
بیوی
کانٹے بکھرے راہوں کے
یہ کانٹے بکھرے راہوں کے
یہ کون بچھا کے چلا گیا
وہ رہبر تھا ، کہ رہزن تھا
لوٹا جس نے دیس کو بھی
جو وطن کے ہر ایک بچے کو
رہن رکھا کے چلا گیا
ہم جاگتے ہوئے ، لٹ جاتے ہیں
ہم غافل ہیں کہ پاگل ہیں
ہم اندھے ہیں کہ جاہل ہیں
جو آیا اس نے لوٹا ہے
کوئی سب کچھ کھا کے چلا گیا
کچھ ڈاکو رستہ روکے ہیں
کچھ چور بیٹھے تاک میں ہیں
اب آنکھیں کھلی رکھ لینا
پھر رونا دھونا مت کرنا
سب وعدے قسمیں جھوٹی ہیں
یہ جمہور تماشا جھوٹا ہے
مت کہتے پھرنا اب کے تم
یہ بھی اک مداری تھا
جھوٹا تھا کھلاڑی تھا
نیا کھیل دکھا کے چلا گیا
آزاد ھاشمی
١٢ جولائی ٢٠١٨
Friday, 11 January 2019
قید با مشقت
" قید با مشقت "
عجیب سی اداسی اسکی آنکھوں اور چہرے پر عیاں تھی ۔ میں نے بابا جی سے طویل رفاقت میں انہیں کبھی اس حال میں نہیں دیکھا ۔ آج نہ وہ طمانت تھی اور نہ وہ حوصلہ نظر آرہا تھا ۔ آزردگی اور مایوسی کی کیفیت نے میرا دل بھی بھوجل کر دیا ۔
" کیا ہوا بزرگو ! آج آپ بہت اداس نظر آ رہے ہیں "
بابا جی کا چولہا بھی بند تھا اور پکوڑوں کا سامان بھی تیار نہیں تھا ۔
" بیٹا ! ماضی میں جھانک بیٹھا ہوں ۔ اچھے دن یاد آگئے تھے ۔ انسان کتنا بھی حوصلہ کر لے ایک دن تھکن کا احساس ضرور ہوتا ہے ۔ تھک گیا ہوں بیٹا "
بابا جی کی آنکھیں بوجھل ہو گئیں ۔
" بہت سال پہلے میں نے ایک جرم کیا تھا ۔ پکڑنے والے نے عین موقع پر پکڑ لیا ۔ عین اسی وقت ایک لمبی سزا سنا دی ۔ سزا بھی " سزائے مشقت " ۔
میں ہکا بکا بابا جی کا چہرہ دیکھ رہا تھا ، اتنے سالوں میں ایک بار بھی احساس نہیں ہوا کہ وہ کوئی جرم بھی کر سکتا ہے ۔
" میری سزا کی جوبھی ممکن اپیل تھی ، میں نے کردی ۔ مگر سزا برقرار رہی ۔ آج تیس سال ہوگئے ہیں ۔ میں آج بھی اسی سزا کی مشقت کر رہا ہوں ۔ یہ آگ پر کھڑا رہنے کا کوئی شوق نہیں ہے ، بس سزا ہے جو بھگت رہا ہوں ۔ انسان جب خوشحال ہوتا ہے تو سمجھ بیٹھتا ہے کہ جو کچھ اسے ملا ہے اسکی محنت کا ثمر ہے ۔ اترانے لگتا ہے ۔ شیخیاں مارتا ہے ۔ میں نے بھی یہی جرم کیا تھا ۔ بس اللہ نے پکڑ لیا اور آج میں پکوڑے بناتا ہوں تو دو وقت کی روٹی ملتی ہے ۔ میری ساری قابلیت صرف اتنی تھی ، میری ساری تعلیم کنویں میں چلی گئی ۔ سمجھ بیٹھا تھا کہ میں نے دنیا کے سارے تعلیمی معیار عبور کر لئے ہیں ۔ اپنی قابلیت پر گھمنڈ کر بیٹھا تھا ۔ بس سزا ہوگئی اور آج اسی سزا کی مشقت پر کھڑا ہوں "
باباجی نے آنسو صاف کئے ۔ ایک ٹھنڈی سانس لی اور پھر بولے ۔
" بیٹا ! تکبر سے بڑا جرم کوئی نہیں ۔ یہ وہ جرم ہے جسے مالک کائنات کبھی معاف نہیں کرتا ۔ سزا ضرور ہوتی ہے ۔ مجھے یہی سزا ملی ہے ۔ اکیلے میں بہت روتا ہوں مگر ۔۔ "
بابا جی کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا ۔ آنسو آنکھوں سے گالوں پر اور پھر دامن پر تسلسل سے گر رہے تھے ۔
" بہت رویا ہوں ۔ مگر اللہ نہیں دیکھتا ۔ آج دل گبھرا گیا تو تیرے سامنے بھی رویا ہوں ۔ گواہی دینا بیٹا کہ میں اپنے جرم پر پشیمان ہوں ، گواہی ضرور دینا بیٹا "
میں کیا بولتا ، میں تو خود یہ جرم دن میں کئی بار کرتا ہوں ۔ اگر اللہ نے مجھے بھی پکڑ لیا تو ۔۔۔۔ میرے بھی آنسو بہہ نکلے ۔
آزاد ھاشمی
١٢ جنوری ٢٠١٩
قابل رحم مخلوق
" قابل رحم مخلوق "
دھرتی پہ ایک ایسی مخلوق بھی کثرت سے پائی جاتی ہے ۔ جسے شوہر کہا جاتا ہے ۔ ایک بھولی بھالی مخلوق ، جس کا شوہریت قبول کرتے ہی سب سے پہلے سوچنے والا پرزہ ، گروی ہو جاتا ہے ۔ آواز بھی دب جاتی ہے ۔ شوق بھی چھوٹ جاتے ہیں ، ذائقہ کی حس بھی مر جاتی ہے ۔ چلتا پھرتا پتلا ، شوہر کہلاتا ہے ۔ ھمارے ایک دیرینہ دوست جو ہر وقت قہقہے لگاتے دکھائی دیتے تھے ، پچھلے کئی سال سے مختصر سی مسکراہٹ پہ گذارا کئے بیٹھے ہیں ۔ آج سوچا کہ چلو ، یار سے چائے پیتے ہیں ۔ موصوف پہلے تو گبھرائے ، پھر ہمت کر کے بھابھی کو آواز دی ۔ ہمارا تجربہ ناکام ہو گیا ۔ پہلی آواز پہ " جی ڈارلنگ " سے جواب نے ہمیں حیران کر دیا ۔ چار سال شادی کے بعد بھی " جی " اور بھی " ڈارلنگ " کہہ کر ۔ ایسے لگا موصوف کی کوئی نیکی کام آگئی ، جو اللہ نے ایسی رفیق زندگی دے دی ۔ ادھر صاحب بہادر کی سانس رکی ہوئی محسوس ہوئی ۔
" کیا ہوا دوست ۔ طبیعت تو ٹھیک ہے "
ہم نے پوچھ لیا ۔
" کچھ نہیں ۔ تم لوگوں نے سنا نہیں ۔ جی ڈارلنگ ۔ شادی کے بعد سے تیسری بار یہ لفظ میں نے سنا ہے ۔ آج موڈ ٹھیک نہیں لگ رہا محترمہ کا ۔ چونکہ مجھے یہ لفظ کبھی راس نہیں آیا ، اسلئے گبراہٹ ہو رہی ہے "
اتنی دیر میں آواز آئی
" حضور چائے کے ساتھ کیا لیں گے ۔ سارا دن موج میلہ کر کے آگئے ہیں ۔ اب خادمہ پر حکومت شروع - تم مردوں کو ذرا سی ڈھیل دے دو ، پھر حکم پہ حکم "
صاحب اٹھے اور اندر چلے گئے ۔ آواز تھم گئی ۔ خاموشی اور سکوت ۔ مگر بیچارہ ابھی بھی سہما ہوا تھا ۔ ہمارے دلوں سے دعا نکل رہی تھی ۔
" اے مالک ، اس بیچارے کی مشکل آسان فرما ۔ اسکے ساتھ ہماری بھی "
شکریہ
آزاد ہاشمی
11 جنوری 2017
اشرف المخلوقات
" اشرف المخلوقات "
انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی اہم وجوہ یہ دکھائی دیتی ہیں کہ وہ تمام نفسانی خواہشات پر قابو پانے کا مکمل اختیار رکھتا ہے ۔ اسے عقل اور شعور سے برائی اور اچھائی کو پرکھنے کی صلاحیت میسر ہے ۔ وہ اپنے آج اور کل کی بہتر منصوبہ بندی کر سکتا ہے ۔
مگر کیا وہ ایسا کرتا ہے ؟ اگر ایسا نہیں کرتا تو کیا وہ اشرف المخلوقات ہے ؟
یہ وہ سوال ہیں ، جن کا جواب اگر نفی میں ہے تو انسان اشرف المخلوقات کی توہین کا مرتکب ہے ۔ اگر مثبت میں ہے تو دنیا میں فساد کی وجہ کیا ہے ؟
آج جن کو مہذب اقوام سمجھا جاتا ہے وہ اکثر اشرف المخلوقات ہونے کی اقدار سے بھی اگاہ نہیں ۔ حیوانی جبلت کا غلبہ ، بے حیائی شعور و فہم سے خالی ہونے کی دلیل ہے ۔ طاقت کا ہر ممکن اظہار اور دوسروں کے حقوق کی پامالی ، جنگل کے درندوں سے بھی بدتر ہے ۔ تو کیا یہ عیش و عشرت کی زندگی میں حقوق اللہ سے بھی غافل ، انسان کی تباہی کے تمام سامان تیار کئے بیٹھے لوگ ، اشرف المخلوقات کہلا سکتے ہیں ۔
آزاد ھاشمی
١١ جنوری ٢٠١٩
Thursday, 10 January 2019
جمہوریت ، سیاست اور حکمرانی
" جمہوریت ، سیاست اور حکمرانی "
نظام حکومت کا اولین پہلو یہ ہوتا ہے کہ حکمران کسطرح عوام کے بنیادی حقوق کا اہتمام کرتے ہیں ، کسطرح ملکی مفادات کو بہتری کیطرف لاتے ہیں ۔ گویا اقتدار کی کرسی پہ بیٹھنے والا پوری قوم کے بچے بچے کی فلاحی ضروریات کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ وہ گھر کے سربراہ کی طرح ، گھر کا ، گھر کے ہر فرد کا اور گھر کی ہر ضرورت کا نہ صرف ذمہ دار بلکہ کفیل ہو تو گھر میں خوشحالی کے امکانات ہوتے ہیں ۔
مگر جمہوری نظام کے تحت آنے والا سربراہ اپنی پارٹی (جس کی بیساکھی پر وہ اقتدار کی کرسی تک پہنچتا ہے ) اور پارٹی کے لوگوں سے ہی مخلص رہتا ہے ۔ مخالف پارٹی کی ساکھ خراب کرنے کا ہر جتن ، اپنے فرائض کا حصہ بنا لیتا ہے تاکہ مخالف پارٹیاں اسکے اقتدار کی رکاوٹ نہ بن سکیں ۔ یہ وہ رحجان جو ہیجان اور نفاق کی صورت پیدا کر دیتا ہے ۔ ملک اور عوام کی ترقی ثانوی یا بالکل مفقود ہو کر رہ جاتی ہے ۔
بد قسمتی سے یہ تسلسل ہمارے سیاسی رہنماوں نے ہمیشہ جاری رکھا ۔ کوئی ایک بھی سیاسی حکمران ایسا نہیں آیا جس نے اقتدار سنبھالتے ہی پارٹی کو اسوقت تک خیر باد کہہ دیا ہو جب تک وہ اقتدار میں رہا ۔ رواج یہ رہا کہ ہر سیاسی رہنماء قوم کے خزانوں سے اپنی پارٹی کی تشہیر ہی کرتا رہا ۔
یہ وہ سوچ ہے جو جمہوری نظام قوم پر مسلط کر دیتا ہے ۔ قانون ساز اسمبلی میں بھی یہی پارٹیاں رسہ کشی کرتی رہتی ہیں ۔ ملکی اور قومی مفادات کے معاملات جیسے کے تیسے لٹکے رہتے ہیں ۔
تعجب یہ نہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ، تعجب یہ ہے کہ قوم کے دانشور اور مفکر بھی نہ اس اہم نقطے پر سوچتے ہیں اور نہ قوم کو شعور دینے کی جرات کرتے ہیں ۔ ہمیں مل جل کر اس مزاج کو بدلنے کی ہر ممکن سعی کرنا ہوگی ۔
اے کاش ! ایسا ہو جائے ۔
آزاد ھاشمی
١٠ جنوری ٢٠١٩
Wednesday, 9 January 2019
قران اور کہانیاں
" قران اور کہانیاں "
اللہ پاک نے حضرت موسیؑ پر تورات نازل فرمائی ، جو مختصر احکامات تھے ، حضرت داود ؑ پر زبور نازل کی چند احکامات اور طرز حکومت کے معاملات ، حضرت عیسی ؑ پر انجیل نازل ہوئی تو یہود کی سرکشی اور امت کی رہنمائی کہ راہ راست اختیار کر لیا جائے ۔ عیسائیت کی دانشوروں نے انجیل ، زبور اور تورات کے احکامات میں سے چیدہ چیدہ احکامات اور ہدایات منتخب کئے " بائیبل " کا نام دیا ۔ بے شمار معاملات پر مواد جمع کیا ، تاریخ کے واقعات کو بھی ، سائینسی تحقیق کو بھی اسی بائیبل کا حصہ بنا ڈالا ۔ آج کوئی پادری ، کوئی یہودی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ انکے رسولوں پر نازل ہونے والی کون کونسی سطر اصلی ہے اور کون کون سی شامل کی گئی ۔ حکمت اور دانائی کا جتنا بھی مواد شامل کیا گیا ، سب انسانی ذہن کی اختراع ، سوچ اور تحقیق ہے ۔
قران پاک میں تمام ایسے واقعات ، جن کی تفصیل درکار نہیں تھی ، اللہ کی ذات نے انتہائی اختصار سے نازل فرمائے ۔ ایک ایک لفظ میں ، ایک ایک آیت میں حکمت اور دانائی ہے ۔ اب ہمارے علماء نے قصے اور کہانیوں کو موضوع بنا لیا اور حکمت کیطرف توجہ ہی نہیں کی ۔ لاکھوں احادیث پر مبنی کتابیں ، قصص القران کی کتابیں ، فقہ ، فلسفہ ، منطق اور تفاسیر کا لا متناہی سلسلہ جاری ہے ۔ قران میں تحریف تو ممکن نہ ہو سکی ، مگر کہانیوں اور روایات کو اتنا فروغ دیا گیا کہ قران کی حکمت کی طرف نظر ہی نہیں جانے دی گئی ۔ یہ سوچنے کا وقت ہی باقی نہیں بچتا کہ قران کے نزول کا اصل مقصد کیا تھا ۔ اگر ہم نے قران کے تدبر سے یونہی پہلو تہی رکھی تو اسلام صرف مسالک کا نام بن کر رہ جائے گا ۔
ازاد ھاشمی
9 جنوری 2018
Tuesday, 8 January 2019
اب دیپ جلائے رکھتی ہوں
اب دیپ جلائے رکھتی ہوں
آنگن کو سجائے رکھتی ہوں
کس دیس گئے ہو پیا جی تم
کب لوٹ کے گھر کو آو گے
ان بکھرے بکھرے بالوں میں
کب گجرے ، پھول سجاو گے
کنگن ، ہار وہ پھولوں کے
جووعدہ کر کے گئے تھے
کب لیکر وہ تم آوگے
کب میرے ہاتھ سجاو گے
کب میرے گلے پہناو گے
نم آنکھیں بھی اب سوکھ گئیں
اب سارے خواب ادھورے ہیں
اب ساری آسیں ٹوٹ گئیں
کچھ تم سے سننا چاہتی ہوں
کچھ تم سے کہنا چاہتی ہوں
گر لوٹ نہ آئے ساجن جی
میں تنہا رہ نہ پاوں گی
کیا کرنا سونی دنیا میں
کیا سجے گا آنگن تیرے بن
کیا کرنا کھلتے پھولوں کا
کیا سوچنا ساون جھولوں کا
اب لوٹ نہ آئے تو سمجھوں گی
سب وعدے تیرے جھوٹے تھے
سب پریت کی باتیں جھوٹی تھیں
تم جھوٹے تھے جو چھوڑ چلے
اب در کو دیکھتی رہتی ہوں
کب دستک در پہ دو گے تم
کب دوڑ کے در کو کھولوں گی
جانتی ہو تم نہیں آو گے
تم جھوٹے تھے تم جھوٹے تھے
آزاد ھاشمی
٤ جنوری ٢٠١٩
شادی معاشرتی فعل
" شادی ، معاشرتی فعل "
کثرت ازدواج کی اجازت ، معاشرے سے بے حیائی روکنے کا ایک فلسفہ ہے ۔ جسے اللہ کے نبی صل اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر اپنا کر ہمیں اس فلسفے کے نتائج سے اگاہ فرمایا ۔ اسی پر صحابہ کبار بھی عمل کرتے رہے ۔ اس کے پس منظر میں عربوں کی شہوت رانی تھی ۔ جس کے تحت معاشرہ پوری غلاظت سے متعفن تھا ۔ عورت ایک کھلونا تھی اور عیاش طبع کے لوگ کھلاڑی ۔ عورت کی تعظیم یہی تھی کہ اسے ایک محفوظ اور پاکیزہ ماحول دیا جائے ۔
آپ ( ص) کی تمام شادیوں میں کوئی نہ کوئی فلسفہ تھا ۔ کوئی نہ کوئی درس تھا ۔ کوئی نہ کوئی ہدایت تھی ۔
آج سیاست کے کرتا دھرتا ، اسے اپنی شہوت رانی کی غرض سے استعمال کر رہے ہیں ۔ آزدانہ اختلاط اور اسی دوران تعلقات کا استوار کر لینا ، یہ عمل یکے بعد دیگرے کرتے رہنا ، نہ کوئی فلسفہ ہے اور نہ کوئی ہدایت کی راہ ۔ اسے پاکیزگی سے مشروط بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ نکاح تو اعلان ہے ازدواج کے رشتے کا ۔ اسے پاکیزہ رہنا چاہئیے ۔ اسے تماشا نہیں بننا چاہئے ۔ عورت کی عزت نفس زندہ رہنی چاہئے اور اسے معاشرتی اشتہار نہیں بننا چاہئے ۔ نکاح رد ہے زنا کا ۔ اور حکم ہے کہ نکاح پاکیزگی کی نظر سے کیا جائے شہوت رانی کیلئے نہیں ۔ پاکیزگی کی نظر سے کیا جانے والا نکاح ایک مختصر مدت کیلئے نہیں ہوتا ، یہ وعدہ عمر کی طوالت کا ہوتا ہے ۔ اگر کوئی ٹھوس وجوہ نہ ہوں تو طلاق بد ترین فعل تصور کیا جاتا ہے ۔
یہاں کسی سیاسی نکاح اور طلاق کا قطعی تعلق نہیں ۔ لکھنے کا محض مقصد یہ ہے کہ ہمیں اسلامی اقدار کو اسکی روح کے ساتھ سمجھنا چاہئے ۔ یہ وہ معاشرتی معاملات ہیں ، جنہیں ذاتی کہہ کر ٹالنا درست سمت نہیں ۔
ازاد ھاشمی
Monday, 7 January 2019
سپریم لوگوں کی کورٹ
" سپریم لوگوں کی کورٹ "
سپریم کورٹ ایک ادارے کا نام ہے ، جس کے ذمے ان پیچیدہ مقدمات کے حتمی فیصلے کرنا ہے ، جو فیصلے دوسری عدالتوں کی سوچ سمجھ میں نہیں آتے ، یا جن فیصلوں پر متاثرین کو حتمی رائے بہتر معلوم ہوتی ہے وہ یہاں دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں ۔ مگر یہاں تک اسی کو رسائی ممکن ہے جو وکیل کو کروڑ دو کروڑ فیس دے سکے ۔ یہ ادارہ غریبوں کیلئے نہیں ہے ۔قانون کی پیچیدگیوں کو گرہ در گرہ کھول کر رکھ دینا ، صرف سپریم کورٹ کی اہلیت ہے ۔ یہ کام سپریم کورٹ کی وسیع و عالیشان عمارت نہیں کرتی بلکہ وہاں بیٹھنے والے ذہن کرتے ہیں ۔ جو عدل کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے یہاں پہنچتے ہیں ۔ یہ افراد پوری قوم کو کھنگالنے کے بعد نکلنے والی کریم ہوتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں ، جن کے سامنے کھانسنا بھی " پانچ چھ ماہ " کی قید بن سکتا ہے ۔ گویا بہت قیمتی لوگ ہیں ، بہت متبرک لوگ ہیں اور بہت حساس طبیعت کے لوگ ہیں ۔ چیف جسٹس ، جسے پرانے لوگ " قاضی القضاة " کہا کرتے تھے ۔ بہت باعمل اور قانون کا پابند شخص بنایا جاتا ہے ۔ اسے بنانے والا " حکمران " ہوتا ہے ، جو خود ایک نمبر کا لٹیرا اور قانون شکن بھی ہو سکتا ہے ۔ اسلئے قاضی القضاة کا باکردار ہونا مشکوک ہو جاتا ہے ۔
اس تمہید کا مطلب ، یہ تھا کہ ہم اسے معمولی نہ سمجھ لیں ۔ یہ قانون کی تشریح کرنے والی اتھارٹی ہے ۔
پچھلے ستر سال میں ، جتنا قانون کا کھلواڑ قاضی القضاة کرتے آئے ہیں اور جتنا پچھلے دو قاضی القضاة نے کیا ہے ، ایک عام با شعور شخص پریشان ہو کر رہ گیا ہے کہ اس سپریم کورٹ کی سیاستدانوں کو ضرورت ہے ، وزیروں کو ضرورت ہے یا عوام اور ملک کو ۔ کچھ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کونسا فیصلہ قانون کے مطابق ہوا ہے اور کونسا چیف کی اپنی مرضی سے ۔ عدالت کا کام ہوتا ہے کہ ہر شہری کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے ۔ کسی کی عزت نفس مجروح کرنے کا اختیار کسی عدالت کو بھی نہیں ۔ مجرم کیلئے سزا مقرر ہے ، اسکی عدالت کے اندر یا میڈیا پہ " شلوار " اتارنے کا حق اور اختیار قاضی القضاة کے پاس بھی نہیں ہوتا ۔ مگر اب کچھ رواج ایسا چل نکلا کہ سپریم کورٹ ایک سیاسی ادارے کا کام کرتی نظر آتی ہے ۔ پہلے فوج اور اب عدلیہ ، دو ایسی طاقتیں سامنے آگئی ہیں جو ہر وقت حکمران کے سر پر لٹکتی تلوار ہیں ۔ قوم اس صورت میں ایک ہیجان کا شکار ہوتی نظر آتی ہے اور مستقبل پریشانیوں سے مزین ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ اب ہر ادارہ ، چیف جسٹس کی قلم کی نوک پر ہے ، جب چاہے ، جس کو چاہے ، ہاتھ بندھے طلب کر لے ۔ جسکا چاہے دروازہ توڑ کر کتابیں اٹھا لائے ۔ آئین ، قانون اور دستور بے معنی سی باتیں ہو گئی ہیں ۔ کس کی کیا حدود ہیں ، کیا اختیارات ہیں ، اب قاضی القضاة کی صوابدید پر ہیں ۔
الامان الحفیظ
آزاد ھاشمی
٧ جنوری ٢٠١٩
مال و زر کا دکھاوا فساد ہے (9)
"مال و زر کا دکھاوا فساد ہے ( 9 )"
سورہ القصص میں قارون کیلئے حکم اللہ تعالیٰ ہے ۔
" ایک بار اس کی قوم نے کہا کہ اترا مت اللہ تعالیٰ اترانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔اور جو کچھ تجھے اللہ تعالیٰ نے دے رکھا ہے اس میں سے آخرت کے گھر کی تلاش بھی رکھ اور اپنے دنیاوی حصے کو نہ بھول جا جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اچھا سلوک کر اور ملک میں فساد کا خواہاں نہ ہو یقین مان کہ اللہ مفسدوں کو ناپسند رکھتا ہے"
قرآن پاک میں انسان کی اصلاح کیلئے ایک ایک پہلو کو مد نظر رکھا گیا ۔ کسی بھی شخص کا وہ پہلو ، جیسے وہ اپنے رتبے ، مال وزر کو اسطرح ظاہر کرے کہ دوسرے انسانوں کو آزار ملے ، قرآن نے اسے بھی فساد قرار دیا ،کیونکہ اس سے دوسرے انسانوں میں دو منفی جذبات جنم لے سکتے ہیں جو معاشرتی زندگی کیلئے برائی بن سکتے ہیں ۔ اول عام انسان کے اندر حسد کی آگ سلگ سکتی ہے ، دوم انسان وہی کچھ حاصل کرنے کیلئے منفی سرگرمی کا شکار ہو سکتا ہے ۔ گویا امراء کا اپنی دولت کی نمائش کرنا بھی فساد پیدا کرتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
٧ جنوری ٢٠١٩
Sunday, 6 January 2019
سود خوری فساد ہے( 8)
"سود خوری فساد ہے ( ٨ ) "
سود کو تجارت کا نام دینا اور اس پر معیشت کی بنیاد رکھنا ، اسلام کی تعلیم کے مطابق بدترین فعل ہے ۔ ایسا فعل جو اللہ اور اللہ کے رسولؐ سے اعلان جنگ کے مترادف ہے ۔ سوال ہے کہ سود کیسے فساد ہے ۔ پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ سود کا شکار فرد واحد نہیں بلکہ پورامعاشرہ ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر ایک صنعتکار سود پر کچھ سرمایہ لیتا ہے تو اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمت پر سود کی رقم بھی جمع ہو جاتی ہے ۔ صنعتکار نہ صرف سود صارف پر ڈالتا ہے بلکہ اس سود پر بھی اپنا منافع وصول کرتا ہے ۔ گویا یہ ایسا بوجھ ہے جو ہر صارف پر پڑتا ہے ، جو کہ غلط اقدام ہے اور ہر غلط اقدام " فساد " ہوتا ہے ۔
بسا اوقات اگر کاروبار متوازن نہ ہو تو سود کی ادائیگی میں سود پر رقم لینے والا ، اپنے اثاثے تک گنوا بیٹھتا ہے ۔ جو نہ صرف ایک فرد کی زندگی کو غیر متوازن کرتا ہے بلکہ پورا خاندان متاثر ہوتا ہے ، اسکی آنے والی نسلوں کو بھی اس ناکردہ جرم کی سزا بھگتنی پڑتی ہے ۔ جن معاشروں میں انفرادی طور پر سود کا رواج ہوتا ہے ، ان معاشروں میں سود پر رقم لینے والے غریب سے غریب تر ہوتے جاتے ہیں اور سود خور ظالم اور بے حس ہو جاتے ہیں ۔ معاشرہ سکون سے خالی ہو جاتا ہے ۔ اور فساد کی بد ترین شکل بن جاتی ہے ۔
سود کی ایک خرابی یہ بھی ہے کہ سود خور آسان منافع کے حصول کیوجہ سے اکثر بد کردار ہو جاتے ہیں ۔ جس سے معاشرہ کے غرباء کی عزت و آبرو بے معنی سی ہو جاتی ہے ۔ گویا سود ، فائدہ نہیں بلکہ استحصال کا نام ہے ۔ اور استحصال ہر حال میں ، ہر شکل میں فساد ہے ۔
آزاد ھاشمی
٥ جنوری ٢٠١٩
وقت ملے تو آ جانا
کبھی وقت ملے تو !
آجانا ۔
ان ٹوٹی پھوٹی قبروں میں
اک بے نام سی ڈھیری میری ہے
کبھی وقت ملے تو آ جانا ۔
کچھ گلے شکوے کر لینا
کچھ ٹھنڈی آہیں بھر لینا
کچھ سوکھے پھول بچھا دینا
ایک چھوٹا سا دیپ جلا دینا
ان ٹوٹی پھوٹی قبروں میں
اک بے نام سی ڈھیری میری ہے
کبھی وقت ملے تو آجانا
آزاد ھاشمی
٣ جنوری ٢٠١٩
اللہ کی پکڑ
"اللہ کی پکڑ "
ایک مسلمان دوست جو جمہوریت کی شہادت کے لئے بھی تیار رہتے ہیں ۔ جو یہ بھی کہنے میں عار نہیں سمجھتے کہ یورپ کی ساری ترقی کا راز ہی جمہوریت کی آشیر باد سے ہے ۔ جو اس تبلیغی مہم کو بھی اپنی بقا کا راستہ سمجھتے ہیں کہ چھوڑو اسلام کی باتیں ۔ یہ تو ناکام نظام ہے ۔ اسکا ثبوت بھی دنیا میں مسلمانوں کی رسوائی کو سمجھتے ہیں ۔ محترم کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ انگریزی پوری فراوانی سے بول لیتے ہیں ۔ بہت سارے گانے بھی گا لیتے ہیں ۔ غزل بھی گاتے ہیں ۔ اپنی وراثت میں ملی جائیداد پر اتراتے بھی ہیں ۔ اکثر کہتے ہیں کہ اسلام پرانے زمانوں کی بات ہے ۔ یہ نمازیں ، روزے ، حج ، سب بے جا مصروفیات ہیں ۔ بچوں کو قران پڑھانے سے کیا ملے گا ، زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے ۔ آج کے علوم پڑھاو ، یہی ترقی کا راستہ ہے ۔
سنا ہے ایسے لوگوں کی اصلاح کی کوشش بھی بے سود ہوتی ہے ۔
سنا ہے اگر کوئی اللہ کے نام پر بھیک مانگتا ہے تو صاحب طنزیہ فرماتے ہیں ۔
تیرے اللہ کو کیا ضرورت پڑ گئی
سرکشی کی حد ایک روز اپنے انجام کو ضرور پہنچتی ہے ۔ ایک روز اللہ کی قدرت پر یقین ضرور آتا ہے ۔ آنکھیں بھی پوری زندگی کے آنسو بہانے لگتی ہیں ۔ دنیا کی آسائشیں کاٹنے کو دوڑتی ہیں ۔ گنگناتے ہوئے اہل خانہ بھی برے لگتے ہیں ۔ پشیمانی ماتھے کا پسینہ سوکھنے نہیں دیتی ۔ خلاوں کی اڑان کرنے والے خاک چاٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ سائنس کی ترقی میں حماقتیں دکھائی دینے لگتی ہیں ۔
آج موصوف کی کچھ یہی کیفیت ہے ، ہر لمحہ کینسر کی درد موت کی اذیت سے بد تر ہے ۔ پوری سائنس میں ، یورپ کی ترقی میں ایسی دوائی نہیں جو اسے اس درد سے بچا لے ۔ جو زندگی کا ایک لمحہ بڑھا دے ۔ ڈاکٹر بھی یہی مشورہ دینے لگتے ہیں ۔
دعا کرو ، اس سے صرف اللہ نجات دے سکتا ہے ۔
آج موصوف کو یہی کہا جاتا ہے ۔ سارے سگے اور خونی رشتے ، دور دور ہیں ۔ یہ یورپ کی روایت ہے ۔ اسلام کی روایت سے دوری کا سبق مل رہا ہے ۔
کتنا اچھا ہو ، ہم پکڑ سے پہلے توبہ کی طرف لوٹ جائیں ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
6 جنوری 2017