یہ کانٹے بکھرے راہوں کے
یہ کون بچھا کے چلا گیا
وہ رہبر تھا ، کہ رہزن تھا
لوٹا جس نے دیس کو بھی
جو وطن کے ہر ایک بچے کو
رہن رکھا کے چلا گیا
ہم جاگتے ہوئے ، لٹ جاتے ہیں
ہم غافل ہیں کہ پاگل ہیں
ہم اندھے ہیں کہ جاہل ہیں
جو آیا اس نے لوٹا ہے
کوئی سب کچھ کھا کے چلا گیا
کچھ ڈاکو رستہ روکے ہیں
کچھ چور بیٹھے تاک میں ہیں
اب آنکھیں کھلی رکھ لینا
پھر رونا دھونا مت کرنا
سب وعدے قسمیں جھوٹی ہیں
یہ جمہور تماشا جھوٹا ہے
مت کہتے پھرنا اب کے تم
یہ بھی اک مداری تھا
جھوٹا تھا کھلاڑی تھا
نیا کھیل دکھا کے چلا گیا
آزاد ھاشمی
١٢ جولائی ٢٠١٨
No comments:
Post a Comment