Sunday, 6 January 2019

سود خوری فساد ہے( 8)

"سود خوری فساد ہے ( ٨ ) "
سود کو تجارت کا نام دینا اور اس پر معیشت کی بنیاد رکھنا ، اسلام کی تعلیم کے مطابق بدترین فعل ہے ۔ ایسا فعل جو اللہ اور اللہ کے رسولؐ سے اعلان جنگ کے مترادف ہے ۔ سوال ہے کہ سود کیسے فساد ہے ۔ پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ سود کا شکار فرد واحد نہیں بلکہ پورامعاشرہ ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر ایک صنعتکار سود پر کچھ سرمایہ لیتا ہے  تو اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمت پر سود کی رقم بھی جمع ہو جاتی ہے ۔ صنعتکار نہ صرف سود صارف پر ڈالتا ہے بلکہ اس سود پر بھی اپنا منافع وصول کرتا ہے ۔ گویا یہ ایسا بوجھ ہے جو ہر صارف پر پڑتا ہے ، جو کہ غلط اقدام ہے اور ہر غلط اقدام " فساد " ہوتا ہے ۔
بسا اوقات اگر کاروبار متوازن نہ ہو تو سود کی ادائیگی میں سود پر رقم لینے والا ، اپنے اثاثے تک گنوا بیٹھتا ہے ۔ جو نہ صرف ایک فرد کی زندگی کو غیر متوازن کرتا ہے بلکہ پورا خاندان متاثر ہوتا ہے ، اسکی آنے والی نسلوں کو بھی اس ناکردہ جرم کی سزا بھگتنی پڑتی ہے ۔ جن معاشروں میں انفرادی طور پر سود کا رواج ہوتا ہے ، ان معاشروں میں سود پر رقم لینے والے غریب سے غریب تر ہوتے جاتے ہیں اور سود خور ظالم اور بے حس ہو جاتے ہیں ۔ معاشرہ سکون سے خالی ہو جاتا ہے ۔ اور فساد کی بد ترین شکل بن جاتی ہے ۔
سود کی ایک خرابی یہ بھی ہے کہ سود خور آسان منافع کے حصول کیوجہ سے اکثر بد کردار ہو جاتے ہیں ۔ جس سے معاشرہ کے غرباء کی عزت و آبرو بے معنی سی ہو جاتی ہے ۔ گویا سود ، فائدہ نہیں بلکہ استحصال کا نام ہے ۔ اور استحصال ہر حال میں ، ہر شکل میں فساد ہے ۔
آزاد ھاشمی
٥ جنوری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment