" جمہوریت ، سیاست اور حکمرانی "
نظام حکومت کا اولین پہلو یہ ہوتا ہے کہ حکمران کسطرح عوام کے بنیادی حقوق کا اہتمام کرتے ہیں ، کسطرح ملکی مفادات کو بہتری کیطرف لاتے ہیں ۔ گویا اقتدار کی کرسی پہ بیٹھنے والا پوری قوم کے بچے بچے کی فلاحی ضروریات کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ وہ گھر کے سربراہ کی طرح ، گھر کا ، گھر کے ہر فرد کا اور گھر کی ہر ضرورت کا نہ صرف ذمہ دار بلکہ کفیل ہو تو گھر میں خوشحالی کے امکانات ہوتے ہیں ۔
مگر جمہوری نظام کے تحت آنے والا سربراہ اپنی پارٹی (جس کی بیساکھی پر وہ اقتدار کی کرسی تک پہنچتا ہے ) اور پارٹی کے لوگوں سے ہی مخلص رہتا ہے ۔ مخالف پارٹی کی ساکھ خراب کرنے کا ہر جتن ، اپنے فرائض کا حصہ بنا لیتا ہے تاکہ مخالف پارٹیاں اسکے اقتدار کی رکاوٹ نہ بن سکیں ۔ یہ وہ رحجان جو ہیجان اور نفاق کی صورت پیدا کر دیتا ہے ۔ ملک اور عوام کی ترقی ثانوی یا بالکل مفقود ہو کر رہ جاتی ہے ۔
بد قسمتی سے یہ تسلسل ہمارے سیاسی رہنماوں نے ہمیشہ جاری رکھا ۔ کوئی ایک بھی سیاسی حکمران ایسا نہیں آیا جس نے اقتدار سنبھالتے ہی پارٹی کو اسوقت تک خیر باد کہہ دیا ہو جب تک وہ اقتدار میں رہا ۔ رواج یہ رہا کہ ہر سیاسی رہنماء قوم کے خزانوں سے اپنی پارٹی کی تشہیر ہی کرتا رہا ۔
یہ وہ سوچ ہے جو جمہوری نظام قوم پر مسلط کر دیتا ہے ۔ قانون ساز اسمبلی میں بھی یہی پارٹیاں رسہ کشی کرتی رہتی ہیں ۔ ملکی اور قومی مفادات کے معاملات جیسے کے تیسے لٹکے رہتے ہیں ۔
تعجب یہ نہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ، تعجب یہ ہے کہ قوم کے دانشور اور مفکر بھی نہ اس اہم نقطے پر سوچتے ہیں اور نہ قوم کو شعور دینے کی جرات کرتے ہیں ۔ ہمیں مل جل کر اس مزاج کو بدلنے کی ہر ممکن سعی کرنا ہوگی ۔
اے کاش ! ایسا ہو جائے ۔
آزاد ھاشمی
١٠ جنوری ٢٠١٩
Thursday, 10 January 2019
جمہوریت ، سیاست اور حکمرانی
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment